Baaghi TV

Tag: مشیر

  • نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

    نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

    نیویارک کے 112ویں سالانہ نیو یارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایلکس بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کرتے ہوئے اچانک گر پڑے۔ بروسوِٹز 27 سالہ سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر ہیں، جو ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

    اتوار کی شام نیو یارک سٹی میں ہونے والی اس تقریب میں بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کر رہے تھے، اور ان کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیم کے دیگر اہم ارکان جیسے اسٹیو بینن اور ڈین اسکیوینو بھی موجود تھے۔ جب بروسوِٹز خطاب کر رہے تھے، تو اچانک ان کی آواز لڑکھڑانے لگی اور وہ واضح طور پر بے چینی کا شکار نظر آئے۔ انہوں نے کہا، "میرے الفاظ یاد نہیں آ رہے”، جس کے بعد وہ اسٹیج پر گر گئے۔ ان کی حالت بگڑتے ہوئے دیکھ کر حاضرین میں ہلچل مچ گئی، اور فوراً لوگوں نے ان کی مدد کے لیے دوڑ لگا دی۔واقعے کے فوراً بعد بروسوِٹز کو اسٹیج سے ہٹا کر بیک اسٹیج منتقل کیا گیا، جہاں انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس دوران، کنزرویٹو انفلوانسر جیک پوزوبیک نے ٹویٹ کیا کہ اس نے بروسوِٹز سے بیک اسٹیج بات کی تھی اور اس نے بتایا کہ یہ ایک "غشی کا حملہ” تھا۔ تاہم، ابھی تک بروسوِٹز کی حالت اور اس کے باعث ہونے والے طبی مسئلے کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔

    ایلکس بروسوِٹز، جو "ایکس اسٹریٹیجیز” کے سی ای او ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ ٹرمپ کے نوجوانوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے اور ان کے پیغامات کو بہتر طریقے سے پہنچانے میں مصروف تھے۔ بروسوِٹز کی حکمتِ عملی نے ٹرمپ کو نوجوان ووٹرز کے درمیان ایک نئی مقبولیت دلائی، اور انہوں نے ٹرمپ کو "کول” بنانے کی کوشش کی، خاص طور پر اس نئے میڈیا پلیٹ فارم کی مدد سے جو نوجوانوں میں مقبول تھا۔
    alex

    بروسوِٹز نے ٹرمپ کی مہم کے دوران "نئے میڈیا” کو اپنا ہتھیار بنایا، جس میں پوڈکاسٹروں اور انٹرٹینرز کے ساتھ کام کرنے کی حکمتِ عملی شامل تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو ان غیر روایتی میڈیا پلیٹ فارمز پر لانے کی کوشش کی جہاں نوجوان نسل کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بروسوِٹز نے بارون ٹرمپ، ٹرمپ کے 18 سالہ بیٹے، کے ساتھ مل کر مختلف انٹرویوز کے منصوبے تیار کیے اور اس کے ذریعے ٹرمپ کو ایک "عام انسان” کے طور پر پیش کیا جو عوام کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتا ہے اور زندگی اور سیاست پر کھل کر بات کرتا ہے۔

    بروسوِٹز نے ٹرمپ کے پیغام کو نوجوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ "امریکہ فرسٹ” تحریک کے ایک سرگرم حمایتی رہے ہیں۔ اپنے پروفائل میں بروسوِٹز نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ امریکی شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے والی پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے کام کرتے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کے حامیوں کی مدد سے مخالف ریپبلکن سیاستدانوں کو شکست دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کی حکمتِ عملی میں یہ بات شامل تھی کہ انہیں سیاسی پوڈکاسٹروں اور کامیڈینوں کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا تاکہ وہ اپنی سیاسی پیغامات کو مؤثر طریقے سے پھیلانے میں کامیاب ہو سکیں۔

    اس وقت تک بروسوِٹز کی طبی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ان کی طبی امداد کے حوالے سے روزنامہ "ڈیلی میل” نے ٹرمپ اور "ایکس اسٹریٹیجیز” سے رابطہ کیا ہے، لیکن کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ بروسوِٹز کی صحت کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور ان کے حامی اور سوشل میڈیا پر موجود افراد ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

  • امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر کو قتل کرنے کی سازش، ایرانی شہری پر فرد جرم عائد

    امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر کو قتل کرنے کی سازش، ایرانی شہری پر فرد جرم عائد

    امریکا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو قتل کرنے کی ناکام سازش میں ملوث ایرانی شہری پر فردجرم عائد کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق 45 سالہ شہرام پور صفی مبینہ طور پر جنرل قاسمی کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا تھا ایران کے جنرل قاسم سیلمانی کو امریکا نے جنوری 2020 میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا تھا، وہ ایران کے انقلابی گارڈ کے کمانڈر تھے۔

    روس نےایرانی سیٹلائٹ "خیام” خلا میں بھیج دیا

    امریکی میڈیا کے مطابق قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے شہرام پورصفی کا تعلق بھی ایران کے انقلابی گارڈ سے ہے۔

    امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ پورصفی نے امریکا میں ایک شہری کو بولٹن کے قتل کے عوض 3 لاکھ ڈالرز دینے کی پیشکش کی تھی امریکا نے ایرانی شہری پورصفی کو انتہائی مطلوب قرار دے کر پوسٹر بھی جاری کردیا۔

    سی این این کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے بدھ کو ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ایک رکن کے خلاف مبینہ طور پر ٹرمپ اور بش انتظامیہ کے دوران قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دینے والے جان بولٹن کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں مجرمانہ الزامات کا اعلان کیا-

    محکمہ انصاف نے کہا کہ مبینہ سازش جنوری 2020 کے امریکی فضائی حملے کے "انتقام کے طور پر” تھی جس میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا گیا تھا۔ حملے کے بعد، دہشت گرد تنظیم کے رہنماؤں نے سلیمانی کی موت کا "امریکیوں سے بدلہ” لینے کا عزم کیا اور اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف عوامی سطح پر کوڑے برسائے۔

    نیو میکسیکو میں پاکستانیوں سمیت 4 مسلمانوں کا قتل،مرکزی ملزم گرفتار

    استغاثہ نے کہا کہ 45 سالہ ایرانی شہری اور IRGC کے رکن شہرام پورصفی نے بولٹن کو قتل کرنے کے لیے امریکہ میں ایک فرد کو 300,000 ڈالر ادا کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اس کے پاس 1 ملین ڈالر کی "دوسری نوکری” تھی۔

    تحقیقات سے واقف وفاقی قانون نافذ کرنے والے ذرائع اور پومپیو کے قریبی ذرائع کے مطابق سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی ایرانی قتل کی سازش کا نشانہ تھے۔ پومپیو کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ "دوسرا کام” پومپیو کا حوالہ تھا۔

    ایران کی ایک مشہور پالیسی ہاک، پومپیو نے سلیمانی کی ہلاکت کے فضائی حملے کے وقت ٹرمپ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پومپیو کے قریبی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ انہیں گزشتہ بدھ کو محکمہ انصاف نے براہ راست مطلع کیا تھا کہ وہ IRGC کے قتل کی سازش کا دوسرا ہدف تھا۔

    پورسفی، جسے گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور وہ ابھی تک مفرور ہے، نے اصل میں امریکہ میں مقیم فرد سے رابطہ کیا جو خفیہ طور پر ایف بی آئی کے ایک مخبر کے طور پر کام کر رہا تھا، جسے "خفیہ انسانی ذریعہ” یا CHS کے نام سے بھی جانا جاتا ہے- اور ان سے تصاویر لینے کو کہا۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےگھر پر ایف بی آئی کا چھاپہ:اہم دستاویزات ساتھ لے گئے

    اس نے بعد میں پوچھا کہ کیا مخبر "کسی کو ختم کرنے” کے لیے کسی شخص کی خدمات حاصل کر سکتا ہے، جو بعد میں بولٹن ہونے کا انکشاف ہوا، اور اس نے CHS اور قاتل کے تحفظ کا وعدہ کیا، استغاثہ نے کہا۔ پورصفی نے مبینہ طور پر یہ بھی تجویز کیا کہ قتل کو "کار سے” کیا جانا چاہیے، CHS کو بولٹن کے دفتر کا پتہ فراہم کیا گیا، اور نوٹ کیا کہ بولٹن کو اکیلے چہل قدمی کرنے کی عادت تھی۔

    نومبر 2021 میں، مخبر نے واشنگٹن ڈی سی کا سفر کیا، اور بولٹن کے دفتر کی پورسفی تصاویر اور عمارت کی تفصیل بھیجی۔ پورصفی نے مبینہ طور پر کہا کہ قتل عمارت کے گیراج میں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ایک "زیادہ ٹریفک” کا علاقہ تھا۔

    پورصفی پر کرایہ کے لیے قتل کے کمیشن میں بین ریاستی تجارت کی سہولیات کے استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس میں 10 سال کی زیادہ سے زیادہ قید کی سزا ہے، اور ایک بین الاقوامی قتل کی سازش کو مادی مدد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں 15 سال تک کی قید ہے۔

    ایٹمی جنگ کےبادل منڈلا رہے ہیں،کسی بھی وقت کُچھ ہوسکتا ہے: سیکریٹری جنرل اقوام…

  • امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کورونا کا شکار ہو گئے

    امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کورونا کا شکار ہو گئے

    امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کورونا کا شکار ہو گئے-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیرکے ترجمان کا کہنا ہےکہ جیک سلیون ایک ہفتہ قبل امریکی صدر جوبائیڈن کے ہمراہ 7 ترقی یافتہ معیشتوں کے اجلاس میں شریک تھے تاہم اس دوران جیک سلیون کا بائیڈن سے کوئی قریبی رابطہ نہیں رہا اور نہ ہی اس دوران ان میں کوئی علامت ظاہر ہوئی تھی یہ جیک سلیون کا پہلا کورونا انفیکشن ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سلیون نے گزشتہ روز سینیگال کی وزیر خارجہ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی جب کہ اس سے قبل انھوں نے لکسمبرگ میں چین کے اعلیٰ سفارت کار سے ساڑھے 4 گھنٹے ذاتی طور پر بھی ملاقات کی تھی۔

    کورونا وائرس: وفاقی دارالحکومت میں بوسٹر ڈوز لگانے کی خصوصی مہم آج بھی جاری

    واضح رہے کہ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا تھا کہ وزیرخارجہ انٹونی بلنکن میں کورونا کی معمولی علامات ہیں انٹونی بلنکن نے مکمل ویکسین کے ساتھ بوسٹر شاٹس بھی لگوائے تھے نیڈ پرائس نے بتایا تھا کہ انٹونی بلنکن قرنطینہ میں ہیں اور گھر سے ہی کام سر انجام دیں گے-

    نیٹو سربراہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ اسٹولٹن برگ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے اسٹولٹن برگ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھاکہ نیٹو سربراہ مکمل ویکسینیشن کرواچکے ہیں، ان کا کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہےتاہم اسٹولٹن برگ میں کورونا کی معمولی علامات ہیں اور وہ ٹھیک ہیں۔

    کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

  • حنیف عباسی وزیراعظم کے معاون خصوصی مقرر

    حنیف عباسی وزیراعظم کے معاون خصوصی مقرر

    اسلام آباد:حنیف عباسی وزیراعظم کے معاون خصوصی مقرر،اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی تعینات کردئیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق حنیف عباسی کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کردیا گیا ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا ہے۔رہنما ن لیگ حنیف عباسی کا عہدہ وفاقی وزیر کے مساوی ہوگا۔

    خیال رہے کہ کچھ دیر قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے 37 ویں وزیر خارجہ کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 33 برس، سات ماہ اور چھ دن کی عمر میں حلف اٹھا کر پاکستان کے کم عمر ترین وزیرخارجہ بننے کا اعزاز حاصل کیا، ان کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے 12 ویں وزیر خارجہ تھے۔

    ذرائع کے مطابق گیارہ جماعتوں کے اتحاد سے تشکیل دئیے گئے حکومتی اتحاد کے باعث وفاقی کابینہ میں مزید توسیع کی جارہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مصدق ملک کو بھی وفاقی وزیر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، سینیٹر مصدق ملک کل بروز جمعرات حلف اٹھائیں گے، انہیں پیٹرولیم کی وزارت دی جائےگی۔

    اس سے قبل آج بلاول بھٹوزرداری نے وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، صدر مملکت عارف علوی نے بلاول بھٹو سے حلف لیا تھا، اسی کے ساتھ ہی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ملکی تاریخ کا کم عمر ترین وزیر خارجہ بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

    اس سے قبل کابینہ کی تشکیل کے پہلے مرحلے میں انیس اپریل کو تیس وفاقی وزرا اور تین وزرا مملکت نے حلف اٹھایا تھا۔

    دوسرے مرحلے میں بائیس اپریل کو وفاقی کابینہ میں توسیع کی گئی تھی اور کابینہ میں تین وفاقی وزرا اور ایک وزیر مملکت کو شامل کیا گیا تھا۔ کابینہ میں پہلے ہی تین مشیروں کو بھی شامل کیا جا چکا ہے۔

  • کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے:    احمد جواد

    کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے: احمد جواد

    لاہور:کرپٹ طارق محمود الحسن وزیراعظم کا مشیربن چکاہے،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سابق کارکن و رہنما اس وقت سخت غُصے میں آگئے ہیں اور انہوں نے پارٹی میں کرپٹ لوگوں کی موجودگی پرسوالات اٹھائے ہیں‌، ان کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے

    احمد جواد کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں اکثرلوگ جانتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کو پنجاب اورسیز انگلینڈ کا وائس چیرمین بنایا گیا جس پر انگلینڈ میں کرپشن کے الزام لگے، احمد جواد کہتے ہیں کہ اس تعیناتی کے خلاف پارٹی ورکرز نے سوشل میڈیا پر شور کیا تو اسے عہدے سے ہٹا دیا گیا

    پارٹی سے نکالے جانے والےاحمد جواد مزید کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اسی شخص یعنی طارق محمود الحسن کو پنجاب اورسیز کمیشن کا چیرمین بنا دیا گیا وہاں اس پر پیسے لینے کے الزام لگے میری فیس بک بھری ھے یورپ کے ورکروں نے سوشل میڈیا پر شور ڈالا تو اس کو ترقی دے کا وزیر اعظم پاکستان کا اورسیز کے لیے خصوصی مشیر لگا دیا گیا

    احمد جواد اس حوالے سے کہتےہیں کہ اس شخص کا نام طارق محمود الحسن ھے ،

    احمد جواد کہتے ہیں‌ پارٹی میں جس پرانگلی اٹھائی جاتی ہے اس کو عہدے سے نواز دیا جاتا ہےاورطارق محمود الحسن بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جو کرپشن بھی کرتے ہیں اور پاتے ہیں مقام

    احمد جواد کہتے ہیں کہ جب طارق محمود الحسن کو پہلی بار پنجاب اوورسیز انگلینڈ کا وائس چیئرمین بنایا گیا تو اس وقت بھی کارکنان نے احتجاج کیا تھا اور اب وہ مشیر وزیراعظم بن گئے اور پھراحتجاج ہوا لیکن اس احتجاج کی پرواہ تک نہ کی گئی