Baaghi TV

Tag: مصطفیٰ کمال

  • شرجیل میمن کا مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل

    شرجیل میمن کا مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل

    کراچی:سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ آج جو باتیں مصطفیٰ کمال نے کیں ان باتوں کا منہ توڑ جواب میرے پاس ہے لیکن ہم سیاسی بیان بازی میں جانا نہیں چاہتے، ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں

    کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آج ایک صاحب کی پریس کانفرنس سنی کہ 18ویں ترمیم خراب ہے لہٰذا کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، تو کیا اس سے ایسے واقعات رونما نہیں ہوں گے یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے کے چکر میں اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو جلایا ہے۔

    مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرس پر شرجیل میمن نے کہا کہ میں آپ کو جواب آپ کی باتوں سے دوں گا، بلدیہ فیکٹری کو بھتے کے چکر میں آگ لگائی گئی، 12 مئی کو انسانوں کا شکار کیا گیا اور معصوم جانیں لیں، آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتی،جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عاشورہ کے بعد بولٹن مارکیٹ میں جو آگ لگائی گئی آپ نے ان کا کاروبار چھینا، گل پلازہ کے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں اور آپ کیا بات کر رہے ہیں میں آپ کو ان کی ریکارڈنگ سناتا ہوں۔

    شرجیل میمن نے مصطفیٰ کمال کی ماضی کی پریس کانفرنس کے کلپ چلا دیے اور کہا آپ نے سنا کہ مصطفیٰ کمال نے اپنے قائد خالد مقبول کے بارے میں کیا کہا، انہوں نے اتحادی حکومت کے قائدین کو کیا کیا کہا وہ سب کے سامنے ہے، جب یہ کراچی کے میئر تھے ان کے لوگوں کے ساتھ رویے کیا تھے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ آج جو باتیں انہوں نے کیں ان باتوں کا منہ توڑ جواب میرے پاس ہے لیکن ہم سیاسی بیان بازی میں جانا نہیں چاہتے، ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں،یہ صاحب خود کو کراچی کا دعوے دار کہتا ہے اور وفاقی وزیر صحت ہے، کیا یہ ابھی تک جائے وقوع پر پہنچے؟ کیا انہوں نے اس حوالے سے کسی سے رابطہ کیا؟ ایم کیو ایم کی اصلیت سب کے سامنے ہے، یہ اسکور کی طرح گن گن کر لوگ مارتے تھے۔

  • ملک  میں  نئے صوبوں کا قیام   ناگزیر ہے،مصطفیٰ کمال

    ملک میں نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے،مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔

    کراچی کے علاقے جیکب لائن میں ہیلتھ کیئر ڈیجیٹل سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آج نہیں تو کل ملک میں انتظامی معاملات بہتر کرنے کے لیے صوبے بنانے ہی پڑیں گے، لیکن صوبے بنانے کے باوجود نچلی سطح تک اختیارات دینا بھی لازم ہوگا۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کا مسئلہ صرف علاج نہیں بلکہ ناقص نظام اور بڑھتی آبادی ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے پاکستان میں ہر سال 61 لاکھ سے زائد بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے مگر 4 لاکھ بچے آج بھی ویکسین سے محروم ہیں ماں اور بچے کی صحت پر توجہ نہ دینے کے باعث 40 فیصد بچے اسٹنٹڈ گروتھ کا شکار ہیں، جب تک ملک میں فرٹیلیٹی ریٹ 2 فیصد پر نہیں آئےگا تب تک ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

    قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، ایاز صادق

    بھارتی کرکٹر نے بالی ووڈ اداکارہ پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا

    غزہ بورڈ آف پیس میں کون کونسے اراکین شامل ؟نام سامنے آگئے

  • پاکستان میں  68 فیصد بیماریاں گندا پانی پینے سے پھیلتی ہیں،مصطفی کمال

    پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں گندا پانی پینے سے پھیلتی ہیں،مصطفی کمال

    وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں گندا پانی پینے سے پھیلتی ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت نے بنیادی مرکز صحت گولڑہ شریف میں بگ کیچ اپ راؤنڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ تقریب بچوں کو بارہ جان لیوا بیماریوں سے بچانے کیلئے ہے، جوبچے کوویڈ کے زمانے میں روٹین ویکسی نیشن سے محروم رہے یہ ان کیلئے ہے، مہم میں آئندہ بارہ دن تک بچوں کی ویکیسینیشن کریں گے۔

    مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان کا نظام صحت خود بیمار ہے، ہیلتھ کئیر سسٹم میں خرابیان ہیں، پمز اسپتال ہزاروں لوگوں کے لئے بنا تھا، اب لاکھوں لوگ آگئے تو مریض کہاں جائیں گے، اسپتال میں جائیں تو لگتا ہے ابھی جلسہ ختم ہوا ہے اربوں روپے لگا کر ہسپتال بنارہے ہیں ،مزیدکتنے ہسپتال بنائیں گے؟ 70 فیصد لوگ بڑے اسپتالوں میں غیر ضروری جاتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں صنم جاوید کی ضمانت منظور

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی 3.6 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے،پاکستان میں ہر سال آبادی میں 61 لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے، ایران اوربنگلہ دیش اسے 2 فیصد تک کرنے میں کامیاب ہوگئے پاکستان کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہیپاٹٹس کے مریضوں میں پاکستان سب سے آگے ہے، 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ پاکستان کے 40 فصد بچے غذائیت کی قلت کے باعث کمزور ہیں، ان کی نشوونما نہیں ہوپاتی۔

    عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی ڈیٹنگ کی افواہیں

  • صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، مصطفیٰ کمال

    صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لئے آبادی پر قابو پانا ضروری ہے۔

    مصطفیٰ کمال نے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ کبھی بھی کسی پاکستانی کو ضرورت کے تحت سہولت نہیں دے سکتے، ویسی مشینریاں میڈیکل سینٹر بنا ہی نہیں سکتے جو سب کو ٹریٹ کرے، اس کے لئے ہمیں اپنا فرٹیلیٹی ریٹ کم کرنا ہوگا، پاکستان میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا کوئی طریقہ نہیں ہے، 70 فیصد بیماریاں پانی کی وجہ سے ہیں، ہم گٹر ملا پانی پی رہے ہیں، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا ضروری ہے۔

    امریکا اور اسرائیل اسلامو فوبیا کے اصل ذمے دار ہیں،خواجہ سعد رفیق

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا نظام پہلے لوگوں کو پیدا کررہا ہے پھر بیمار کررہا ہے، ہم ہیپاٹائٹس اور پولیو میں پہلے نمبر پر ہیں، ہم کبھی بھی پاکستانیوں کو درکار صحت کی سہولیات نہیں دے سکتے، ہمیں ہر حال میں آبادی کو کنٹرول کرنا پڑے گاآپ اتنے میڈیکل سینٹر بنا ہی نہیں سکتے جو علاج مہیا کر سکیں، جیسے بجلی لگانا ضروری ہے ویسے ہی ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا ضروری ہے۔

    بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ خطے کے لئے بڑا خطرہ

  • وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے چین کے وزیر صحت سے ملاقات کی-

    تفصیلات کے مطابق ملاقات میں شعبے سے متعلق کئی اہم پیش رفتوں پر تبادلہ خیال کیا گیامصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں ویکسینز، میڈیکل ڈیوائسز اور تشخیصی آلات کی مقامی تیاری کی بھرپور صلاحیت موجود ہےاور اس کیلئے حکومت چین کی سرمایہ کاری کومکمل سہو لت فراہم کرے گی، روایتی چینی طب میں بھی چینی ماہرین کو ہر ممکن تعاون دیا جائے گا جبکہ قومی ادارہ صحت میں چینی کمپنیوں کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا جلد نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

    دوسری جانب چینی وزیر نے بھی پاکستان کے ساتھ رابطہ کاری کے لیے اپنے فوکل پرسن نامزد کرنے پر اتفاق کیا کہا کہ پاکستان میں جن اے پی آئیز اور ویکسینز کی قلت ہے، ان کی فراہمی کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔

    حکومتِ سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات دنیا بھر کیلئے مثال ہیں،شرجیل میمن

    اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، اسٹریٹجک تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

    آئی ایم ایف مذاکرات: پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی مزید بڑھانے پر اتفاق

  • جب  پاکستان  پر بحران آتا ہے تو سب یکجا ہو جاتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    جب پاکستان پر بحران آتا ہے تو سب یکجا ہو جاتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں رہا ہے لیکن بھارت نے اسرائیل کے اکسانے پر اشتعال انگیزی کی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت نے پہلگام کا حملہ خود کیا اور جب پاکستان نے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تو جواب میں بھارت نے ڈرون اور میزائل حملے کیے پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جس پر پوری قوم کو فخر ہے، پاکستان نے اللہ کے فضل سے عظیم الشان فتح حاصل کی ہے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے لوگ مختلف نظریات، زبانوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جب ملک پر بحران آتا ہے تو سب یکجا ہو جاتے ہیں ایسا نہیں کہ ہمارے اختلافات ختم ہو گئے ہیں لیکن کچھ ایسے اصول ہیں جن پر پوری قوم متفق ہے،میں مودی کا شکریہ ادا کروں گا کہ اس نے ایک ایڈونچر سے سب بدل دیا۔ 20 دن پہلے کا پاکستان اور آج کا پاکستان بالکل مختلف ہے۔

    وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ہم صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں اور ویکسین اور ادویات کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے کام جاری ہے معیاری مقامی ادویات کی تیار ی سے نہ صرف انحصار کم ہوگا بلکہ صحت کی سہولیات زیادہ قابلِ رسائی بنیں گی۔

  • پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین زندگی کے دشمن ہیں، مصطفی کمال

    پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین زندگی کے دشمن ہیں، مصطفی کمال

    وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اپیل کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں، قطرے پلانے سے انکار کرنے پر نا صرف وہ بچے خطرے میں رہیں گے بلکہ ارد گرد کے بچوں کی زندگیاں بھی خطرے میں رہیں گی کیونکہ پولیو کا کوئی علاج نہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپریل کی پولیو مہم سے قبل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) سندھ کے دورے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کو صوبے میں پولیو کی موجودہ صورتحال اور 21 اپریل 2025 سے کراچی بھر میں شروع ہونے والی پولیو ویکسینیشن مہم کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی کورڈینیٹر ارشاد علی سوڈھر، ٹیکنیکل فوکل پرسن ای او سی ڈاکٹر احمد علی شیخ، یونیسیف پروونشل ٹیم لیڈ ڈاکٹر عظیم خواجہ وہاں موجود تھے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دنیا کے صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس تاحال موجود ہے اور اس ماہ ان دونوں ممالک میں ہمہ وقت پولیو مہم کا آغاز اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ حالیہ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان بھر میں 85,000 خاندانوں نے گزشتہ مہمات میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا، جن میں سے 34,000 صرف کراچی اور 27,000 ضلع شرقی سے تھے۔ اسی سلسلے میں آج اتوار کے دن خصوصی ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ نیشنل کوآرڈینیٹر، صوبائی کوآرڈینیٹر، پانچ اراکین صوبائی اسمبلی اور دو اراکین قومی اسمبلی ضلع شرقی سے شریک ہوئے کیونکہ یہ چیلنج اتنا بڑا ہے کہ سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    وزیر صحت نے انفراسٹرکچر کے مسائل پر بھی بات کی اور مقامی سیوریج اور صفائی کے نظام کی بہتری کے لیے بلدیاتی اداروں کو گائیڈ لائنز جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آخر میں انہوں نے فرنٹ لائن ورکرز کی محنت کو سراہا اور بہتر تنخواہوں اور سہولیات کے لیے کوشش کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے تاکہ وہ اس قومی مہم میں ہمارا ساتھ دیں۔ پولیو کا خاتمہ کسی پارٹی کا ایجنڈا نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ویکسین کے خلاف افواہوں پر کان نہ دھریں، اور بتایا کہ پولیو ویکسین شریک تنظیمیں خریدتی ہیں اور اگر کوئی خوراک ایکسپائر ہو جائے تو اسے فوری طور پر ضائع کر دیا جاتا ہے۔یہ وہی ویکسین ہے جو بڑے نجی اسپتالوں میں دی جاتی ہے۔ یہ محفوظ، مؤثر اور عالمی سطح پر منظور شدہ ہے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ کراچی کے تمام اضلاع سے لیے گئے ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت آئے ہیں۔ اگرچہ وائرس کی منتقلی جاری ہے، لیکن کیسز کی تعداد ویکسینیشن کی کوششوں کی کامیابی کی وجہ سے کم ہے۔ فرنٹ لائن ورکرز وہی معیاری ویکسین دے رہے ہیں جو نجی اسپتالوں میں دستیاب ہے جبکہ پولیو کو دیگر صحت خدمات جیسے غذائیت اور ہیپاٹائٹس کی روک تھام سے جوڑنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

    اسرائیلی محاصرہ، غزہ کے 60 ہزار بچے فاقہ کشی کا شکار، یو این کا تشویش کا اظہار

    جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر خورشید احمد کا انتقال

  • مصطفی کمال کی میڈیکل ڈیوائسز  کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی

    مصطفی کمال کی میڈیکل ڈیوائسز کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی

    وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن سے متعلق دیرینہ مسئلہ آئندہ چند دنوں میں حل کر لیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مصطفی کمال نے یہ یقین دہانی کراچی میں واقع سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں وفاقی وزیر صحت اور HDAP کے وفد کے درمیان ایک اعلی سطحی ملاقات کے دوران کرائی۔ وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید عمر احمد نے کی، جب کہ سینئر وائس چیئرمین شاہن ارشاد، سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر ہاشمی، مسعود احمد اور سابق وائس چیئرمین عابد منیار بھی ملاقات میں شریک تھے۔وفد نے میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 کے تحت رجسٹریشن کی لازمی مدت میں توسیع کی فوری ضرورت سمیت متعدد ریگولیٹری چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ان کا مقف تھا کہ اگرچہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کا دعوی ہے کہ سینکڑوں رجسٹریشن درخواستوں پر کارروائی مکمل ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود سرٹیفکیٹس جاری نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث کسٹمز حکام درآمدی سامان کو روک رہے ہیں۔

    وفد نے نشاندہی کی کہ ماضی میں DRAP نے افرادی قوت کی کمی اور درخواستوں کی زیادہ تعداد کو جواز بنا کر کلاس اے اور بی میڈیکل ڈیوائسز کے لیے درخواستیں نہ دینے کا کہا تھا، اور یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ رجسٹریشن کی مدت میں توسیع دی جائے گی۔ تاہم اب ان یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹا جا رہا ہے، جس سے میڈیکل ڈیوائسز کے درآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔وفد نے خبردار کیا کہ اگر رجسٹریشن کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کی گئی تو ملک میں صحت کے شعبے کو ایک سنگین بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، کیوں کہ اس وقت بھی سات ہزار سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں۔مزید بتایا گیا کہ DRAP کی جانب سے رجسٹریشن کا عمل وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط کر کے معطل کر دیا گیا ہے، لیکن تاحال نہ منظوری ملی ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی واضح پالیسی سامنے آئی ہے، جس سے درآمد کنندگان اور صحت کے اداروں میں شدید غیر یقینی پیدا ہو گئی ہے۔

    افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 8 خوارج ہلاک

  • بنیادی مرکز صحت کمی کی وجہ سےلوگ بڑے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    بنیادی مرکز صحت کمی کی وجہ سےلوگ بڑے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ تمام آبادی کا علاج نہیں کرسکتے جدید دنیا کی طرح ٹیلی میڈیسن پر جانا چاہیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پمز اسپتال کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بنیادی مرکز صحت نہ ہونے کے باعث لوگ بڑے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ گھر کی دہلیز پر دوا اور ڈاکٹر مہیا کرنا ہے۔ تمام آبادی کا علاج نہیں کرسکتے جدید دنیا کو سامنے رکھ کر ٹیلی میڈیسن پرجانا چاہیے۔ 2.1 ارب کی لاگت سے 7 آپریشن تھیٹر بنائے گئے ہیں۔ جدید آپریشن تھیٹر میں اسٹیٹ آف دا آرٹ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ چیزیں آئیڈیل نہیں لیکن بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پمز کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پر دینے کا منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ ہیلتھ کارڈ پر آنے والے دنوں پر کام کریں گے۔

    وفاقی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ صحت کا شعبہ اللہ کی مخلوق سے منسلک ہے۔ انسان جب تکلیف میں ہوتا ہے تو اسپتالوں کی طرف آتا ہے۔ غریب سرکاری اسپتالوں میں آتا ہے جبکہ امیر پرائیوٹ اسپتال جا سکتے ہیں۔دوسری جانب پمز کے دورے میں مریضوں نے وزیر صحت کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیئے۔ ایک مریض نے کا کہنا تھا کہ یہاں میڈیسن نہیں مل رہی اور بیڈ میسر نہیں ہیں۔ گزشتہ ماہ ایکسرے کی فلمز ختم تھیں مریضوں کو پرائیویٹ لیبارٹریوں کے چکر لگوائے گئے۔

    فیصل آباد،مسافر وین اور کار کی ٹکر، 26 افراد زخمی

    ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے معلومات لیکر ڈکیتی اور اغوا ، 2 جعلی پولیس اہلکار گرفتار

    کراچی میں کل سے گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان

    غیر ملکیوں کے خلاف ایکشن، جڑواں شہروں سے 60 افغان گرفتار

    مارچ کے مہینے میں تجارتی خسارے میں کمی ریکارڈ کی گئی

  • مصطفی کمال کا آفاق احمد پر جرم ثابت ہونے تک ضمانت دینے کا مطالبہ

    مصطفی کمال کا آفاق احمد پر جرم ثابت ہونے تک ضمانت دینے کا مطالبہ

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنماء سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت سندھ سے کہتا ہوں آفاق احمد کو ضمانت دی جائے جب تک ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنماء سید مصطفی کمال نے کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ڈمپرز،ٹرالر اور ٹینکروں سے کچلے جانے سے متعدد شہریوں کے شہید ہونے پر اہل خانہ سے تعزیت و ہمدردی کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پچھلے ایک ماہ سے کراچی کے شہری روزانہ کی بنیاد پر ڈمپر سے ٹرالر سے واٹر ٹینکر سے کچل کر شہید ہورہے ہیں،اس دلخراش واقعات پر ہم نے وزیر اعلی سے بات کی، متعلقہ حکام سے ان واقعات پر بات کی، ایم کیو ایم کے نمائندوں نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر آواز اٹھائی کہ ان دلخراش واقعات پر ٹریفک پولیس حرکت میں آئے اور ان واقعات کو روکے لیکن چند دنوں سے کچھ شرپسندوں کی جانب سے اس کو لسانیت کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔مصطفی کمال نے مزید کہا کہ

    انکا کہنا تھا کہ یہ حکومت سندھ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ غلط گاڑی چلانے والوں کو روکے، گاڑیوں کی فٹنس چیک کروائی جائے ڈرائیوروں کے لائسنس کی جانچ پڑتال کروائی جائے ناکہ اس مسئلہ کو لسانیت کا رنگ دیکر اپنی غلطی پردہ ڈالا جائے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ہم نے بہت قربانیاں دے کر اس شہر میں امن قائم کیا ہے، اس شہر میں بسنے والے پختونوں نے سہراب گوٹھ اور کٹی پہاڑی سے ہمارے پختون نمائندوں کو ووٹ دیکر ایم کیو ایم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،تو ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ کو لسانیت کا رنگ نہیں دیا جائے کیونکہ یہ مسئلہ خالصتان انتظامیہ کی غفلت اور حکومت سندھ کی لاپرواہی کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے معصوم شہریوں کی جانیں جارہی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ڈمپر ایسوسی ایشن کے ذمہ داران بھی اس بات کو سمجھیں اور اس مسئلہ پر اپنے ڈرائیوروں اور ڈمپر مالکان کی سرزنش کریں کہ کیسے شہر میں بے وقت گاڑی چلا رہے ہیں اور مالکان نے ڈرائیوروں کو کیسے نااہل گاڑیاں دی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں یہ بات واضح کردوں کہ یہ مسئلہ پختونوں اور مہاجروں کا نہیں،پنجابی اور مہاجروں کا نہیں سندھی اور مہاجروں کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ غلط گاڑی چلانے والوں کا اور معصوم لوگوں کے کچلے جانے کا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ اس شہر میں بسنے والی تمام قومیتوں کا مسئلہ ہے۔

    شادی کی تقریب میں چیتا گھس گیا، باراتیوں کی دوڑیں

    کراچی: شب برات کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 2500 روپے کا اضافہ

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 13 خوارجی جہنم واصل

    ترک صدرپاکستان کا دورہ مکمل کر کے واپس وطن روانہ