Baaghi TV

Tag: مصطفی عامر قتل کیس

  • مصطفی عامر قتل کیس: ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر

    مصطفی عامر قتل کیس: ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مصطفی عامر قتل کیس میں ملزم ارمغان اور دیگر کے خلاف فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی۔

    عدالت میں مصطفی عامر قتل کیس سمیت 6 مقدمات کی سماعت ہوئی، جیل حکام نے ملزم ارمغان سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔ تاہم وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے مکمل دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے فرد جرم عائد کرنے سے قبل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔عدالت نے درخواست پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے اور تفتیشی افسر کو پولیس فائل سمیت پیش ہونے کا حکم دیا۔

    عدالت نے جیل حکام کو بھی ہدایت کی کہ ملزمان کو آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے۔ کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

    عراقی فضائیہ کے کمانڈر کا ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ایئر چیف سے ملاقات

    پاک بھارت میچ،بھارتی سپریم کورٹ نے انتہا پسندوں کی درخواست مسترد کردی

    برطانیہ میں ریکارڈ تعداد میں آجران کے ویزا اسپانسر لائسنس منسوخ

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس : ملزم ارمغان کو نفسیاتی مریض ثابت کرنے کی کوشش ناکام

    مصطفیٰ عامر قتل کیس : ملزم ارمغان کو نفسیاتی مریض ثابت کرنے کی کوشش ناکام

    کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے نفسیاتی علاج کی درخواست مسترد کر دی-

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ملزم ارمغان کو نفسیاتی مریض ثابت کرنے کے لیے ملزم کی والدہ نے نفسیاتی معائنے کی درخواست دائر کر دی،جس میں ارمغان کا نفسیاتی معائنہ کرانے کی درخواست کی گئی ہے-

    دوران سماعت سرکاری وکیل نے ملزم کے نفسیاتی علاج کی مخالفت کی، اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے پولیس سے کئی گھنٹے تک مقابلہ کیا تھا،ملزم کی فائرنگ سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) اور ایک اہلکار زخمی ہوا تھا،لزم کا دوران ریمانڈ کئی بار میڈیکل معائنہ ہو چکا ہے، میڈیکل ریکارڈ کے مطابق ملزم کو کسی قسم کا نفسیاتی عارضہ لا حق نہیں ہے۔

    عدالت نے ملزم ارمغان کے نفسیاتی علاج کی درخواست مسترد کر دی۔

    واضح رہے کہ 12 اگست کو پولیس نے مصطفیٰ عامر کے قتل کے کیس میں 2 ماہ کے وقفے کے بعد حتمی چالان (چارج شیٹ) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) میں جمع کروایا تھااس سے قبل مئی میں عبوری چالان جمع کروایا گیا تھا، جس میں مرکزی ملزم ارمغان قریشی اور شیراز عرف شاہ ویز بخاری کو نامزد کیا گیا تھا-

    حتمی چالان میں تفتیشی افسر (آئی او) محمد علی نے بتایا تھا کہ مقتول اور دونوں مشتبہ افراد کی آخری معلوم جگہ ارمغان کے گھر، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں تھی،مقتول مصطفیٰ نے مرکزی ملزم کے گھر جانے سے قبل اپنے دوست رفیع کو فون پر اطلاع دی تھی، رفیع کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے، ارمغان کے گھر سے جمع کیے گئے خون کے نمونے مبینہ طور پر حب کے علاقے میں کار سے برآمد کیے گئے لاش کے نمونوں سے میچ کرتے ہیں۔

  • مصطفی عامر قتل کیس،پولیس مقابلے، غیر قانونی اسلحے سے متعلق اہم انکشافات

    مصطفی عامر قتل کیس،پولیس مقابلے، غیر قانونی اسلحے سے متعلق اہم انکشافات

    مصطفی عامر اغوا و قتل کیس میں پولیس مقابلے کے مقدمے میں پیش رفت ، جب کہ مقابلے میں استعمال ہونے والا اسلحہ بیچنے والے ملزم کو عبوری چالان میں مفرور قرار دے دیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی افسر انسپکٹر محمد علی نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مرکزی ملزم کے والد ملزم کامران قریشی سے عدالتی حکم پر جیل میں تفتیش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ پشاور میں فرحت اللہ سے اسلحہ خریدا، تفتیشی افسر نے کہا کہ فرحت اللہ کیخلاف غیر قانونی اسلحہ کے مقدمے میں 512 کی کارروائی کی ہے، عبوری چالان میں فرحت اللہ کو مفرور قرار دیا ہے۔ٹیمیں تشکیل دی جارہی ہیں، تاکہ ملزم کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے کیس پراپرٹی اور فارنزک رپورٹ کے لیئے پنجاب بھی جانگا۔ روان ہفتے میں ملزم ارمغان عرف آرمی شریک ملزم شیراز اور کامران قریشی کیخلاف عبوری چالان خصوصی عدالت میں پیش کردیں گے۔

    انہوں نے بتایا کیس بلکل واضح ہے وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزم ارمغان نے کس طرح پولیس پر فائرنگ کی۔فائرنگ کے نتیجے میں اے وی سی سی افسر و اہلکار بھی زخمی ہوئے۔انسپکٹر محمد علی نے کہا کہ بلوچستان حب میں مصطفی عامر قتل کیس کا ایک مقدمہ درک ہے جو قانونی تقاضوں کو پورا کرنے بعد کراچی منتقل کردیا جائیگا۔عبوری چالان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر تفتیشی افسرر نے بتایا کہ اسکروٹنی کے لیئے عبوری چالان محکمہ پراسیکیوشن میں جمع کرائے تھے کچھ اعتراضات لگائے گئے ہیں جنہیں دور کرکے دوبارہ جمع کرائینگے۔

    انہوں نے کہاکہ امید ہے کہ ہفتے کو مقدمات کے عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیئے جائیں۔ملزمان ارمغان، شیراز اور کامران قریشی کے مقدمات کی تفتیش اور ٹرائل سے متعلق جواب دیتے ہوئے تفتیشی افسر نے نتایا کہ ہمارے پاس قتل پولیس مقابلے سمیت دیگر درج مقدمات میں ٹھوس شواہد موجود ہیں، اغوا و قتل میں ملوث ملزمان کو سزائیں دلوائیں گے۔

    فلسطین میں نسل کشی ، اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کیے،روسی قونصل جنرل

    کراچی میں شدید گرمی ،اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک وارڈز قائم

    وزیراعظم آج دورۂ ترکیہ کے لیے روانہ ہوں گے

    کینال منصوبے کے خلاف احتجاج، آلو، پیاز کی ترسیل متاثر

  • مصطفی عامر قتل کیس،ملزم ارمغان کیخلاف مزید اہم انکشافات

    مصطفی عامر قتل کیس،ملزم ارمغان کیخلاف مزید اہم انکشافات

    ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس کی رپورٹ انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں جمع کرا دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی سینٹرل کے انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان عرف آرمی کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ملزم ارمغان نے ملازمین کے نام پر کھولے گئے اکانٹس کے ذریعے 21 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کیں۔ دو آف لائن بٹ کوائن والٹ استعمال کر رہا تھا جن میں ممکنہ طور پر ہزاروں ڈالر کے بٹ کوائن موجود ہیں ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد علی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملزم ارمغان عرف آرمی کو پیش کیا۔ ملزم ارمغان کی جانب سے خرم عباس ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ پیش کیا۔ ملزم نے اپنی والدہ کے کہنے پر خرم عباس اعوان ایڈووکیٹ کے وکالت نامے پر دستخط کیے۔

    اب تک کی تحقیقات میں مزید سراغ ملے ہیں۔ وکیل صفائی خرم عباس اعوان ایڈووکیٹ نے مقف دیا کہ ارمغان کی میڈیکل رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں، ارمغان کے طبی معائنے کی رپورٹ کو چیلنج کریں گے۔تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد علی نے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ جس میں کہا گیا کہ ملزم ارمغان کے خلاف 2019 سے 2025 کے دوران دہشتگردی اور منشیات سمیت متعدد مقدمات درج ہیں۔ملزم کال سینٹر کے ذریعے غیر ملکیوں سے فراڈ کرتا تھا۔ ملزم نے غیر قانونی طریقے سے حاصل شدہ رقم مرچنٹ اکانٹ میں ٹرانسفر کی تھی۔ملزم سے جیل میں کی گئی تفتیش میں منی لانڈرنگ کے شواہد ملے۔ ملزم ارمغان نے ملازمین کے نام پر کھولے گئے 7 اکانٹس استعمال کیے۔ ملزم ارمغان نے ان اکانٹس کے ذریعے 21 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کیں۔ ملزم نے جنوری 2023 سے 23 ستمبر 2025 تک 15 کروڑ 50 لاکھ کی قیمتی گاڑیاں خریدیں۔

    ملزم ارمغان سے 11 کروڑ مالیت کی 2 گاڑیاں برآمد کی جا چکی ہیں۔ملزم ارمغان دو آف لائن بٹ کوائن والٹ استعمال کر رہا تھا۔ ایکسوڈس اور الیکٹرم نامی بٹ کوائن والٹ میں ممکنہ طور پر ہزاروں ڈالر مالیت کے بٹ کوائن موجود ہیں۔ ان والٹس کے پاسورڈ اور پرائیویٹ Key تک رسائی ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ملزم سے بے نامی ٹرانزیکشن اور بینک اکانٹس سے متعلق مزید تفتیش کرنی ہے۔
    ملزم سے مزید ایک بلیک ریو گاڑی بھی برآمد کرنی ہے۔ تفتیشی افسر نے پیش رفت رپورٹ میں کہا کہ ملزم کے 18 لیپ ٹاپ اور دیگر اشیا کی انکوائری جاری ہے۔ ملزم سے ملنے والے لیپ ٹاپ کا فرانزک کرانا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ پنجاب فرانزک ڈیپارٹمنٹ کو ڈائریکشن دی جائے کہ وہ اس معاملے کو فوری دیکھے۔تفتیشی افسر نے ملزم کے خلاف عبوری چالان پیش کرنے کی مہلت کی بھی درخواست جمع کرائی۔
    تفتیشی افسر نے رپورٹ میں مزید کہا کہ ملزم کا تعلق بین الاقوامی جعلساز گروپ سے ہے۔ ملزم نے اپنے والد کے ساتھ مل کر جعلسازی کے لیے آئی ٹی کمپنی بھی بنا رکھی تھی۔ کمپنی کی ماہانہ آمدن 3 سے 4 لاکھ امریکی ڈالر تھی۔ ملزمان کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقم امریکی بیس کمپنی میں منتقل کرتے تھے۔ملزم نے کہا کہ مجھے ایف آئی اے نے نہیں مارا۔ آپ کے حکم پر میرا میڈیکل بھی کرایا گیا ہے۔میری والدہ سے ملاقات ہو گئی ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم سے تفتیش مکمل کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔ ملزم کا مزید 9 دن کا ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے ملزم کے ریمانڈ میں 9 دن کی توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ملزم ارمغان کو اسپتال میں طبی معائنے کے بعد صحت مند قرار دے دیا گیا۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سماعت سے پہلے ارمغان عرف آرمی کا جناح اسپتال میں چیک اپ کروایا گیا تھا۔

    ملزم ارمغان کو سینے میں درد کی شکایت پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ارمغان کا چیسٹ اسکین کرایا، تمام تر چیزیں نارمل ہیں۔انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے منی لانڈرنگ کی آج سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ارمغان عرف آرمی کو ہیش کیا۔تفتیشی افسر نے کہا بہت سی معلومات حاصل کی ہیں، مزید معلومات کے لیئے لیئے 9 دن کا ریمانڈ دیا۔ملزم کی جانب سے خرم عباس اعوان نے وکالت نامہ جمع کرایا۔ ایف آئی اے نے ملزم کے طبی معائنے کی رپورٹ بھی پیش کی جس میں کہا گیا ملزم مکمل طور پر تندرست ہیں۔ عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ قانون کے مطابق ملزم کا حق ہے کہ اپنے وکیل اور اہلخانہ سے ملاقات کرسکتا ہے۔

  • ملزم ارمغان کے والد  پولیس مقابلے اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں گرفتار

    ملزم ارمغان کے والد پولیس مقابلے اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں گرفتار

    مصطفیٰ عامر قتل کیس ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی کو پولیس مقابلے اور غیر قانونی اسلحے کے کیس میں گرفتار کرلیاگیا،عدالت نے ملزم سے تفتیش کیلئے این او سی جاری کرتے ہوئے اے وی سی سی کو اجازت دیدی.

    باغی ٹی وی کے مطابق دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی کو نامزد کردیا گیا۔پولیس نے ملزم کامران قریشی سے جیل میں تفتیش کی اجازت طلب کرلی جس کی عدالت نے ملزم سے جیل میں تفتیش کی اجازت دیدی۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ارمغان عرف آرمی پہلے ہی اس مقدمے میں گرفتار ہے جبکہ پولیس مقابلہ و غیر قانونی اسلحہ کے مقدمے میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت ملزم کامران قریشی نامزد ہے ۔

    ایس ایس پی اے وی سی سی انیل حیدر کے مطابق پولیس نے خفیہ اطلاع پر بمقام اسٹریٹ 7، بنگلا نمبر 35، خیابان مومن فیز 5، گزری کراچی میں کارروائی کر کے ایک منشیات فروش کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتار ملزم کی شناخت کامران اصغر قریشی کے نام سے ہوئی جومصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے والد تھے۔ گرفتار ملزم کے قبضہ سے 200 گرام آئس اور ایک 9ایم ایم پسٹل مع 2 میگزین اور 10 گولیاں برآمد ہوئی تھیں۔

    ملزم اسلحہ پشاور سے خرید کے سندھ لایا۔انسپکٹر محمد علی نے کہا کہ یہی اسلحہ پولیس مقابلے میں استعمال ہوا۔ اے وی وی سی سی نے ملزم کامران قریشی سے مزید تفتیش کیلئے عدالت سے اجازت طلب کرلی۔بعدازاں عدالت نے ملزم کامران سے جیل میں تفتیش کی اجازت دیدی۔یاد رہے کہ اس سے قبل اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) اور کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) نے کامران اصغر قریشی کو 20 مارچ کو منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

    پاکستان کرکٹ کے لیے برطانیہ سے بری خبر آ گئی

    فلسطین کے لیے مظاہرہ، امریکہ نے 300 طلبا کے ویزے منسوخ کردیے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ایڈز کے سدباب کیلئے فوری اقدامات کا حکم

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ایک اور ملزم منظرعام پر آگیا

    مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ایک اور ملزم منظرعام پر آگیا

    مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیشرفت، بلال ٹینشن نامی کردار سامنے آگیا، ملزم نے عدالت سے حفاظت کے لیے رجوع کیا، بتایا اسکا نام بلا وجہ لیا جا رہا ہے تاہم عدالت نے درخواست مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بلال ٹینشن نے پولیس والوں سے تحفظ کی درخواست عدالت میں دائر کردی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں درخواست دائر کی گئی۔درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو دوسرے مقدمات میں 2 فروری کو گرفتار کیا گیا، درخواست گزار نے سیشن عدالت سے ضمانت حاصل کرلی،پھر سوشل میڈیا پر دیکھا ایک شخص میرا نام لے رہا ہے،وہ شخص اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے مجھے پھنسا رہا ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ میرا نا اس شخص سے کوئی واسطہ ہے نا اُس کے بیٹے سے کسی قسم کا تعلق ہے،خدشہ ہے مجھے کسی مقدمہ میں نامزد نا کردیا جائے، ملزم نے عدالت سے جانی و مالی تحفظ کی استدعا کی، عدالت نے ملزم کی عدم حاضری پر درخواست مسترد کردی۔بلال ٹینشن کا نام ملزم ارمغان کے والد کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیا تھا، بلال ٹینشن اور ارمغان تھانہ ساحل کے ایک مقدمہ میں دونوں ساتھ نامزد رہ چکے ہیں۔

    یہ مقدمہ آج سے چھ سال قبل بھتہ خوری کی دفعات کے تحت درج ہوا تھا، بلال ٹینشن پر مختلف تھانوں میں مجموعی طور پر 14 مقدمات درج ہیں۔پولیس رپورٹ کےمطابق بلال ٹینشن سے درخواست پر رابطہ کرنے کی کوشش کی پر رابطہ نہیں ہوا، ملزم بلال ٹینشن عادی جرائم پیشہ ہے، ملزم کے خلاف مقدمات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں، ملزم بچنے کے لئے ایسی درخواستیں دائر کرکے حربے استعمال کر رہا ہے۔

    افغان شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کیلئے 31 مارچ تک کی مہلت

    عالمی سظح پر خام تیل کی قیمتیں 3 سال کی کم ترین سطح پر آ گئیں

    بلاول سے امریکی ناظم الامور،فرانسیسی سفیر،برطانوی ہائی کمشنرکی ملاقات

  • ارمغان سے منشیات کے کاروبار اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع

    ارمغان سے منشیات کے کاروبار اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع

    محکمہ ایکسائز سندھ کے نارکوٹکس کنٹرول ونگ نے آرگنائزڈ منشیات کے کاروبار کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر ایکسائز سندھ مکیش کمار چالہ نے کہا کہ محکمہ ایکسائز سندھ کی 5 رکنی کمیٹی ڈیفنس میں قتل کیے گئے نوجوان مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے منشیات کے کاروبار کی تحقیقات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ایکسائز کی ٹیم ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی(ڈی ایچ ای)میں ارمغان سمیت دیگر نوجوانوں کے منشیات کے کاروبار کی بھی تحقیقات کرے گی۔صوبائی وزیر ایکسائز نے کہا کہ محکمہ ایکسائز سندھ کی ٹیم ملزم ارمغان سے منشیات کیس کے ہر پہلو پر تفتیش کرے گی، دیکھا جائے گا کہ اس گھنائونے کاروبار کو کس طرح چلایا جارہا تھا، اور کون کون اس میں ملوث رہا، تفتیش کے نتائج کی روشنی میں ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے مصطفی قتل کیس میں آئی جی سندھ کوجمعہ کوطلب کرلیا۔آئی جی سندھ کمیٹی کو کراچی سی پی او آفس میں کیس کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، کمیٹی نے ڈی جی ایف آئی اے،ڈی جی اینٹی نارکوٹکس کوبھی طلب کرلیا، ذیلی کمیٹی کے سامنے ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن سیکرٹری بھی پیش ہوں گے۔قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، کمیٹی کنوینئرعبدالقادرپٹیل اوردیگراراکین آئی جی سندھ سے کیس کے حوالے سے اب تک کی پیشرفت پرسوالات کریں گے۔

    امریکن سیکریٹری دفاع کا بھی افغان دہشتگرد پکڑنے پر پاکستان کا شکریہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ، 3 لاکھ 7 ہزار روپے تولہ

    ون ڈے پلیئرز رینکنگ جاری، روہت شرما، رضوان اور فخر کی تنزلی

    امریکی صدر کے بیان کے بعد جادو ٹونے زمین بوس ہوگئے، گورنر سندھ

    وزیراعظم کا مصر کے غزہ بحالی منصوبے کی منظوری کا خیر مقدم

  • مصطفٰی  کیس: ملزم ارمغان سے کرپٹو کرنسی کی اربوں روپے مالیت کی مشینیں برآمد

    مصطفٰی کیس: ملزم ارمغان سے کرپٹو کرنسی کی اربوں روپے مالیت کی مشینیں برآمد

    مصطفٰی عامر قتل کیس میں مرکزی ملزم ارمغان سے متعلق تفتیش میں مزید پیش رفت ہوئی ہے۔

    کیس کے تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کے ڈیفنس کےگھر سے کرپٹو کرنسی کی 2 مائنگ مشینیں برآمد ہوئی ہیں، برآمد دونوں مشینوں کی پاکستان میں مالیت 2 ارب روپے سے زائد ہے۔ملزم غیر قانونی کال سینٹر کی کمائی کو امریکا میں کزن کو بھیجتا تھا، ملزم کا کزن امریکی ڈالرکا ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈر ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کا کزن تمام رقم ملزم کےکرپٹو کرنسی کے اکاؤنٹ میں بھیجتا تھا، دھوکے بازی سے کمائی گئی رقم سے ملزم کرپٹو کرنسی خریدتا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ملزم ارمغان کے متعدد مرچنٹ اکاؤنٹس ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

    تفتیشی حکام کے مطابق یہ اکاؤنٹس جعل سازی سے حاصل رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتے تھے جب کہ ارمغان جعل سازی سے حاصل شدہ رقم کو ڈیجیٹل کرنسی میں منتقل کرتا تھا.تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ 2017 سے ملزم نے جعل سازی سے حاصل ملین ڈالرزکی رقم ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کی، جعل سازی سےحاصل رقم ڈیجیٹل اے ٹی ایم میں براہ راست منتقل کی جاتی تھی، ارمغان کی ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کردہ رقم کے شواہد حاصل کرنا ممکن نہیں ہیں۔

    دبئی کا گولڈن ویزا حاصل کرنے کا سب سے بہتر طریقہ سامنے آگیا

    ٹرمپ اور یوکرینی صدر کی ملاقات میں جھگڑا؟

    سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

    وزیراعظم رمضان پیکج؛ 5 ہزار روپے فی خاندان دینے کا اعلان

    جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

  • قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

    قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

    قائمہ کمیٹی داخلہ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ کیس میں اے این ایف، ایف آئی اے اور سائبر کرائم کو متحرک ہوجانا چاہیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس چئیرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی ممبران نے وزیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر اعتراض کر دیا۔ نبیل گبول نے کہا کہ کمیٹی میں پی ایس ڈی پی 2025-26 بجٹ کی منظوری ہونی ہے، کم از کم سیکریٹری داخلہ تو کمیٹی میں موجود ہوں۔ اس پر سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ہم دو ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ موجود ہیں۔کمیٹی میں مصطفیٰ عامر قتل کیس پر آئی جی سندھ کی بریفنگ کا معاملہ اٹھا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پہلے مصطفی عامر قتل کیس پر بریفنگ دی جائے۔ ایڈشنل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ کمیٹی نوٹس دیر سے موصول ہونے کی وجہ سے آج آئی جی سندھ نہیں آئے، آئندہ اجلاس تک بریفنگ کا وقت دیا جائے۔عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا مقدمہ ہے جس میں کم از کم آئی جی کو آنا چاہیے تھا۔

    رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ایک ڈی ایس پی کو دو گولیاں لگی ہیں۔ انہوں ںے انکشاف کیا کہ مصطفی عامر کیس میں ملزم کے خلاف تحقیقاتی ٹیم میں اس کا رشتہ دار موجود ہے، یہ انتہائی حساس مقدمہ ہے اس پر اب تو سنجیدہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔نبیل گبول نے کہا کہ مصطفی عامر کیس میں اے این ایف، ایف آئی اے سمیت اداروں کو متحرک ہو جانا چاہیے تھا۔عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ مصطفی عامر کیس میں اغوا اور قتل کی حد تک سندھ پولیس کا معاملہ ہے، ایک کال سینٹر اور 62 لیپ ٹاپ برآمد ہوئے اور کرپٹو کرنسی کا معاملہ ہے، مصطفی عامر کیس میں جعل ساز بینک اکاؤنٹ کھولے گئے، مصطفی عامر کیس میں نشہ اسلام آباد سے کراچی کورئیر کے ذریعے جاتا رہا، ڈارک ویب سے خرید و فروخت اور اسلحہ کی خریداری کیسے ہوئی؟ مصطفی عامر کیس اگر کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو ساری ایجنسیاں متحرک ہوجاتیں۔ ہماری ایف آئی اے سمیت وفاقی ایجنسیاں کہاں ہیں؟

    ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے وقار الدین سید نے کہا کہ ابھی سندھ پولیس تحقیقات کر رہی ہے جب ہمارے پاس آئے گا تو تحقیقات کریں گے۔ اس بیان پر چڑ کر رکن کمیٹی ایم این اے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کیس آپ کے پاس چل کر آئے گا؟ آپ کو خود اس پر تحقیق کرنی ہے۔قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ نے مصطفیٰ عامر کیس میں آئندہ اجلاس میں آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ نے وزارت داخلہ کو بذریعہ ایف آئی اے اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے ذریعے تحقیقات کی ہدایت کردی۔رکن کمیٹی جمشید دستی نے کہا کہ مجھ پر پیکا ایکٹ لگا دیا گیا، کمیٹی نے نوٹس کی یقین دہانی کروائی لیکن نوٹس نہ ہوا ایک ممبر پر اتنی زیادتی کی جا رہی ہے۔

    رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ چئیرمین صاحب آپ نے اس پر رپورٹ مانگی تھی، معزز ممبر پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ کیوں درج ہوا اگر آپ کا کوئی مطالبہ ہے وہ ویسے ہی مان لے گا۔دوسری جانب مصطفی عامر قتل کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پولیس کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ملزمان کے کرائم ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا اور ملزمان کے بیانات کی روشنی میں کیس سے جڑے تمام کرداروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مختلف کیسز میں ملزمان نامزد ہیں، ہر کیس کو الگ الگ دیکھا جا رہا ہے۔ جلد ہی حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔‘

    شازیہ مری کی وزراء کی فوج بھرتی کرنے پرحکومت پر تنقید

    سیکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان میں کارروائی، 6 خوارج ہلاک

    صدر اور وزیر اعظم کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے کی مذمت

    کراچی پولیس چیف نے ارمغان کیس میں نااہلی تسلیم کرلی

    گوادر پورٹ کے حوالے سے حکومت کا اہم فیصلہ

  • مصطفیٰ قتل کیس: معروف اینکر پرسن اور ڈرامہ آرٹسٹ ساجد حسن کا بیٹا گرفتار

    مصطفیٰ قتل کیس: معروف اینکر پرسن اور ڈرامہ آرٹسٹ ساجد حسن کا بیٹا گرفتار

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے دوران معروف اینکر پرسن اور ڈرامہ آرٹسٹ ساجد حسن کے بیٹے کو گرفتار کر لیا۔”

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ گرفتاری مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران عمل میں آئی، جہاں مرکزی ملزم ارمغان کی گرفتاری کے بعد حیران کن انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارمغان نہ صرف قتل کیس میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا بلکہ منشیات فروشی میں بھی ملوث پایا گیا۔ تفتیشی ٹیم کو اس کے ڈرگ ڈیلنگ میں ملوث ہونے کے واضح شواہد بھی ملے ہیں، جس کے بعد مزید کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    انگلینڈ آسٹریلیا میچ میں بھارتی ترانہ چل گیا، پی سی بی کا احتجاج، وضاحت طلب

    ذرائع کے مطابق، کراچی ڈیفنس کے پوش علاقوں میں بڑے گھروں کے رہائشی نوجوان منشیات کی خرید و فروخت میں سرگرم ہیں، جس پر پولیس نے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس آپریشن میں کئی اہم گرفتاریاں عمل میں لائی جا چکی ہیں، جن میں ساجد حسن کے بیٹے کی گرفتاری بھی شامل ہے.مصطفیٰ عامر قتل کیس ملک کی تاریخ کے ایک ہائی پروفائل کیس میں تبدیل ہو چکا ہے، اور اس کیس میں مزید بااثر شخصیات کے نام سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور تفتیشی ادارے مزید تفصیلات جلد منظر عام پر لانے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

    لاہور بار انتخابات، حامد خان گروپ کے آصف نسوانہ صدر منتخب

    9 مئی کے واقعات کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی ہے، شرجیل میمن

    امریکہ پھر پاکستان کے قریب، بڑی پیش رفت,آرمی چیف کا دورہ برطانیہ، بڑی سفارتی فتح!