Baaghi TV

Tag: مصطفی قریشی

  • اداکار مصطفی قریشی نے 5 لاکھ روپے میں قبر کی جگہ مختص کروالی

    اداکار مصطفی قریشی نے 5 لاکھ روپے میں قبر کی جگہ مختص کروالی

    کراچی: سینئیراداکار مصطفی قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنی قبرکے لیےجگہ مختص کروا لی ہے-

    باغی ٹی وی :ماضی کے معروف اداکار مصطفیٰ قریشی نے یہ انکشاف یو ٹیوب پر ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں کیا،اداکا نے بتایا کہ میری اہلیہ کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں مدفون ہیں اورمیری بھی خواہش ہے کہ میں مرنے کے بعد اپنی بیگم کے پاس دفن ہوں،اس مقصد کے لیے بیگم کی آخری آرام گاہ کے پہلو میں اپنی قبر کے لیے جگہ مختص کروالی ہے کیونکہ وہاں صرف ایک ہی قبرکی جگہ بچی تھی۔

    مصطفیٰ قریشی کے مطابق ا بھی میں نے وہاں پرایک پتھر رکھ دیا ہے جس پر ”مصطفی قریشی کے لیے جگہ مختص ہے“ لکھا ہے ابھی ادائیگی کرنا باقی ہے جو کہ 5 لاکھ روپے ہیں،انہوں نے بتایا کہ محکمہ اوقاف کی جانب سے انہیں قبرکے لیے مختص جگہ کا معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے انکارکردیا۔

    واضح رہے کہ مصطفیٰ قریشی نے کئی مقبول فلمیں دیں انہوں نے ’مولا جٹ‘ فلم میں نوری نت کا کردارنبھانے سمیت ایسے کئی شاندار کردارادا کیے ہیں جو آج بھی پاکستانی پنجابی فلموں کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں، مصطفیٰ قریشی کی اہلیہ روبینہ قریشی بھی گلوکاری کی دنیا میں نام بنا چکی ہیں ان کا 2022 میں انتقال ہوا۔

  • مصطفی قریشی کو کس بھارتی اداکار نے فون کرکے ملنے کے خواہش کی

    مصطفی قریشی کو کس بھارتی اداکار نے فون کرکے ملنے کے خواہش کی

    پاکستان کے سینئر اداکارہ مصطفی قریشی نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ 80 کی دہائی میں ان کی فلمیں سپر ہٹ جا رہی تھیں اور ان کی فلمیں نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی پسند کی جاتی تھیں. انہوں نے کہا کہ میں ایک بار لندن کسی کام سے گیا ، وہاں میں جس ہوٹل میں ٹھہرا تھا وہاں ایک کال آئی میں نے ریسیو کی میں نے ہیلو کہا تو آگے سے کسی نے کہا میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں تو میں نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ ہیں کون اس نے کہا کہ میں دھرمیندر ہوں. اور میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں. میں نے ان سے

    کہا کہ حکم کیجیے کہاں آنا ہے تو انہوں نے مجھے بلایا میں گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں دھرمیندر اپنے گھر کے فٹ پاتھ پر کھڑے میرا انتظار رہے تھے جیسے ہی گاڑی رکی میں‌نکلا تو دھرمیندر نے مجھے گلے لگا لیا اور میرا حال پوچھنے لگے حال پوچھ کر کہا اک واری فیر گلے ملو میرا دل ہلے رجیا نئیں. دھرمیندر نے بتایا کہ وہ مجھے بطور اداکار بہت پسند کرتے ہیں اور نوری نت کا کردار انہیں بہت پسند ہے. مجھے بہت خوشی ہوئی اس ملاقات میں بہت ساری باتیں ہوئیں اور دھرمیندر نے مجھے کھانا بھی کھلایا اور ہمارا بہت اچھا وقت گزرا.

  • مصطفی قریشی کی کہی ہوئی بات ہو گئی پوری

    مصطفی قریشی کی کہی ہوئی بات ہو گئی پوری

    سینئر اداکارہ مصطفی قریشی جنہوں نے 1979 میں ریلیز ہونے والی فلم مولا جٹ میں نوری نت کا کردار ادا کیا تھا. مصطفی قریشی نے اس کردار کو اس قدر خوبصورت انداز میں نبھایا کہ اج تک ان کے مداح انکی اس پرفارمنس کو یاد رکھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ آج کی نوجوان نسل بھی مصطفی قریشی کو نوری نت کے کردار میں سراہتی ہے. مولا جٹ میں سلطان راہی نے کردار ادا کیا تھا وہ اس دنیا میں نہیں‌ہیں لہذا دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے پریمئیر پر صرف مصطفی قریشی ہی شرکت کر سکے. مصطفی قریشی نے جب یہ فلم دیکھی تھی تو کہا تھا کہ فلم میں‌فواد خان اور حمزہ علی

    عباسی نے بہت اچھی پرفارمنس دی ہے.انہوں نے یہ بھی کہا کہ تھا کہ آج کے نوجوان آرٹسٹ خاصے باصلاحیت ہیں مجھے امید ہے کہ دا لیجنڈ‌آف مولا جٹ‌ سو کروڑ کا بزنس کریگی بلکہ انہوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ یہ فلم سو نہیں دو سو کروڑ کا بزنس کریگی. اور مصطفی قریشی کی یہ بات پوری ہو گئی ہے اور فلم نے دو سو کروڑ سے اوپر کا بزنس کر لیا ہے. یوں دا لیجنڈ‌آف مولا جٹ پاکستان کی پہلی دو کروڑ کرنے والی فلم بن گئی ہے. اور اس فلم کی ٹیم خاصی خوش ہے اور مزید کام کرنے کے لئے پرجوش ہے.

  • مصطفی قریشی نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھ کر کیا کہا؟

    مصطفی قریشی نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھ کر کیا کہا؟

    گزشتہ روز کراچی میں دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی سپیشل سکریننگ کروائی گئی اس فلم کو دیکھنے پہنچے مصطفی قریشی . انہوں نے فلم دیکھ کر کہا کہ حمزہ علی عباسی نے نوری نت کا کردار بہت اچھے انداز میں نبھایا ہے میری فلم میں بھی نوری نت حاوی تھا اور اس فلم میں بھی نوری نت حاوی ہے. حمزہ علی عباسی نے جاندار انداز میں ڈائیلاگ بولے ہیں. میں اس فلم کو دیکھ کر خوش ہوا ہوں کہ ہماری فلم مولا جٹ مزید فریش ہو گئی ہے. بلال لاشاری اور عمارہ حکمت نے یہ فلم بنا کر یقینا سلطان راہی اور مصطفی قریشی کو ٹریبیوٹ پیش کیا ہے میں ان کا شکر گزار

    ہوں کہ انہوں نے پرانی مولا جٹ کی یادوں کو تازہ کیا. مصطفی قریشی نے کہا کہ ہمارے دور میں سائونڈ سسٹم بہت اچھے نہیں تھے آج کی فلم کو یہ سپورٹ ضرور حاصل ہے. وقت بدل گیا ہے جدید ٹیکنالوجی آ چکی ہے لہذا کام کے انداز بھی بدل گئے ہیں.انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری فلم غریبانہ بنی تھی عوام نے اسے امیرانہ کر دیا ساڑھے چار سال چلی جبکہ یہ فلم بنی ہی امیرانہ ہے میری دعا ہے کہ یہ دو سو کروڑ کا بزنس کرے. ہماری فلم تیس بتیس لاکھ میں بنی تھی اور یہ چالیس پچاس کروڑ کی بنی ہے میری دعا ہے کہ اس فلم کو بے انتہا کامیابی ملے.

  • ہماری مولا جٹ غریبانہ تھی دا لیجنڈ آف مولا جٹ بنی ہی امیرانہ ہے مصطفی قریشی

    ہماری مولا جٹ غریبانہ تھی دا لیجنڈ آف مولا جٹ بنی ہی امیرانہ ہے مصطفی قریشی

    80 کی دہائی میں بننے والی فلم مولا جٹ میں مصطفی قریشی نے نوری نت کا کردار ادا کیا تھا جبکہ سلطان راہی نے مولا کا کردار ادا کیا تھا اس فلم نے شائقین کے دل جیت لئے تھے خوبصورت مکالمے اور بہترین اداکاری کی وجہ سے یہ فلم آج تک لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہے. اس فلم میں نوری نت کا کردار کرنے والے مصطفی قریشی نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہاہے کہ میں نے فلم کا ٹریلر دیکھا ہے یہ فلم کافی امیرانہ بنی ہے بہت پیسہ لگا ہے دوسری طرف ہماری فلم کی طرف دیکھیں تو وہ غریبانہ بنی تھی لیکن لوگوں نے اسکو امیرانہ کر دیا تھا. میری دعا ہے کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ جتنی امیرانہ بنی ہے اس سے بھی زیادہ امیر ہوجائے اور لوگ اس کو بہت زیادہ پسند کریں. مصطفی

    قریشی نے مزید کہا کہ نوری نت اور مولا کا کردار کرنے والے فواد خان اور حمزہ علی عباسی اپنی ٹائپ کے بہترین اداکار ہیں مجھے یقین ہے کہ انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہوگا.اس فلم کو بنانے والے اور جنہوں نے اس میں‌کام کیا ہے وہ سب میرے دوسرے ہیں ساتھی ہیں میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں. دا لیجنڈ آف مولا جٹ ہے تو پاکستانی فلم ہی اور پاکستانی فنکاروں نے ہی اس میں کام کیا ہے لہذا ہم سب کو اس فلم کو سپورٹ کرنا چاہیے. ایک سوال کے جواب میں مصطفی قریشی نے یہ بھی کہا ہے کہ میں نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا جو ٹریلر دیکھا ہے اس کو دیکھ کر ہالی وڈ کی رومن ایمپائر کی فلموں کی یاد آجاتی ہے .

  • مصطفی قریشی کی اہلیہ گلوکارہ روبینہ قریشی انتقال کر گئیں

    مصطفی قریشی کی اہلیہ گلوکارہ روبینہ قریشی انتقال کر گئیں

    پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف فنکار مصطفی قریشی کی اہلیہ گلوکارہ روبینہ قریشی انتقال کر گئی ہیں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں.رواں برس مارچ کے مہینے میں ان کی طبیعت خاصی خراب ہوجانے کے بعد ان کو تشویشناک حالت میں ہسپتال داخل کروایا گیا تھا ان کے شوہر مصطفی قریشی نے اس وقت اپنے پرستاروں سے روبینہ قریشی کی صحیتابی کے لئے بھی دعا کی تھی. اکیاسی سالہ روبینہ قریشی نے اردو اور سندھی گیت بڑی تعداد میں گائے ، سندھی زبان میں گانا انکی پہچان بنا.روبینہ قریشی نے اپنے فن کا آغاز1960 میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے کیا انہیں‌ ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اہمیت کے حامل ایوارڈز مل چکے ہیں۔

    یادرہے کہ روبینہ قریشی 19 اکتوبر 1940 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ان کا اصل نام عائشہ شیخ تھا وہ ایک گائیک گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں. ان کے بڑے بھائی عبدالغفور ایک بڑے گلوکار تھے. روبینہ قریشی ایک سماجی کارکن بھی تھیں۔ انہوں نے پاکستان کی بلائنڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن (لیڈیز ونگ) کے لئے بھی کام کیا. صوفی موسیقی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر، انھیں "قلندر شہباز” اور "خواجہ غلام فرید” ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے بھی ایوارڈ ملا ہے۔ روبینہ قریشی کو صدر پاکستان کی جانب سے ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا.

  • جمشید ظفر کا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے مصطفی قریشی

    جمشید ظفر کا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے مصطفی قریشی

    اداکار مصطفی قریشی نے کہا کہ ہے فلم انڈسٹری جب بہت بلندیوں پر تھی، فلمیں‌بہت زیادہ بزنس دے رہیں تھیں، کروڑ ہا روپے حکومت کے خزانے میں‌ ریونیو کی صورت میں دیتی تھی اس وقت سال میں دو سو فلمیں بنتی تھیں. جمشید ظفر اس وقت بہت بڑا نام تھے وہ ہر دوسری فلم کو پرڈیوس کر رہے تھے شمیم آراء نے بطور ڈائریکٹر جتنی بھی فلمیں‌ بنائیں ان کو فنانس جمشید ظفر نے ہی کیا تھا. جمشید ظفر کا شمار فلم انڈسٹری کے نامور پرڈیوسرز میں‌ہوتا تھا. ان کی بہت سلجھی ہوئی سوچ تھی اور یہی سوچ فلموں میں بھی نظر آتی تھی، بعض لوگوں نے گندی فلمیں بھی بنائیں لیکن جمشید ظفر کبھی بھی ان میں سے ایک نہیں‌ رہے. میں‌جمشید ظفر کی بہت ساری فلموں میں‌ کام کیا ان کے ساتھ کام کرنے بہت مزا آتا تھا نہایت ہی نفیس انسان تھے.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی پرڈیوسر کو پیسے کی کمی ہو جاتی تھی تو جمشید ظفر اسکی مدد کیا کرتے تھے اسکی مثال یہ ہے کہ ہم ایک فلم کی شوٹنگ کے

    لئے ترکی گئے ہوئے تھے تو وہاں اس فلم کے پرڈیوسر کے پاس پیسوں کی کمی ہو گئی ادائیگی کرنے کےلئے پیسے نہ تھے تو جمشید ظفر نے اس پرڈیوسر کی مدد کی تو یوں وہ دوسروں‌ کے کام بھی آیا کرتے تھے. پچانوے فیصد ڈائریکٹر اور فنانسرز تو انتقال کر چکے ہیں جمشید ظفر جیسے اکا دکا لوگ ہیں آج جمشید ظفر بھی چل بسے. فلم انڈسٹری پہلے ہی نقصان میں جا رہی تھی بلکہ انڈسٹری ہے ہی کہاں.بلکہ میں‌ تو یہ کہوں گا کہ جمشید ظفرکا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے .