Baaghi TV

Tag: مصنف

  • ہم جنس پرست یہودی صحافی، وکیل اور مصنف،گلن گرین والڈ

    ہم جنس پرست یہودی صحافی، وکیل اور مصنف،گلن گرین والڈ

    گلن گرین والڈ ، ہم جنس پرست یہودی صحافی، وکیل اور مصنف

    06 مارچ 1967ء کو پیدا ہونے والے گلن گرین‌والڈ امریکی صحافی، وکیل، ستون نگار، مدونہ نگار اور مصنف ہے۔ اگست 2012ء سے گارجین کے لیے شہری آزادی کے موضوعات پر لکھ رہا ہے۔ گلن یہودی نژاد، ہم جنس پرست ہے اور اپنے شریک کے ساتھ برازیل میں رہائش پذیر ہے۔

    گلن کو عالمی شہرت ایڈورڈ اسنوڈن کے بھانڈا پھوٹنے کے واقعہ میں مدد کے کردار کی وجہ سے ملی۔ 2013ء میں اسنوڈن نے گلن گرینوالڈ کو پیغام بھیجا کہ اس کے پاس امریکی جاسوسی کے بارے میں مواد ہے مگر وہ صرف پی جی پی کے ذریعہ صفریت طریقہ سے برقی رابط قائم کرنا چاہتا ہے۔

    گرینوالڈ اس ٹیکنالوجی سے نابلد تھا چنانچہ گرینوالڈ کی جہالت کی وجہ سے رابطہ میں بہت تاخیر ہوئی۔ تنگ آ کر اسنوڈن نے مواد صحافی لارا پوئیڑس کو بھیجا جو اس ٹیکنالوجی سے واقف تھی۔ پوئیٹرس کے ذریعہ مواد گرینوالڈ کو ملا۔ پھر گلن نے اس موضوع پر بہت سے انکشافی کہانیاں لکھیں اور شہرت پائی۔

    برطانوی اخبار گارجین میں لکھاری ہونے کے باوجو برطانوی سرکار نے گلن کے ہم جنس شریک کو ہوائی اڈا پر روک کر دہشت گردی قانون کی آڑ میں ہراساں کیا۔

  • انیسویں صدی کا امریکی افسانہ نگار، نقاد اورعظیم ناول نگار  ہنری جیمز

    انیسویں صدی کا امریکی افسانہ نگار، نقاد اورعظیم ناول نگار ہنری جیمز

    ہنری جیمز (انگریزی: Henry James) انیسویں صدی کا امریکی افسانہ نگار، نقاد اور انگریزی زبان کا وہ عظیم ناول نگار ہے جس نے اپنے تخلیقی عمل سے جدید ناول نگاری کی بنیادیں استوار کی ہیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پیدائش و خاندانی پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہنری جیمز 15 اپریل 1843ء میں نیویارک، ریاستہائے متحدہ امریکا میں پیدا ہوا۔[2] اُس کا باپ ہنری جیمز (سینئر) ایک مالدار شخص تھا اور مذہبی و سماجی اعتقادات میں انتہا پسندی کی حد تک آزاد خیال تھا۔ اس کے دو بیٹے تھے، ایک ولیم جیمز اور دوسرا اُس کا ہم نام ہنری جیمز۔ ہنری جیمز کا بھائی ولیم جیمز (1842ء – 1910ء) امریکا کا مشہور فلسفی ہے جس کے فلسفۂ عملیت (Pragmatism) نے امریکی قوم کے اندازِ فکر و عمل کو متاثر کیا۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    باپ نے دونوں بیٹوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام، مروجہ طریقۂ تعلیم سے مختلف انداز میں کیا۔ اُن کا باپ چاہتا تھا کہ اُس کے بیٹے آزاد خیال ہوں اور وہ بجائے کسی ایک ملک کے شہری بننے کے ساری دنیا کے شہری بنیں۔ پہلے اُس نے دونوں بیٹوں کے لیے اتالیق مقرر کیے، پھر جنیوا، پیرس اور نیوپورٹ کے مختلف اسکولوں میں تعلیم دلوائی۔ 1862ء میں ہنری جمز ہارورڈ لا اسکول میں داخل ہوا۔
    برطانوی شہریت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1915ء میں ہنری جیمز کو برطانوی شہریت اور برطانوی بادشاہ جارج پنجم سے "آرڈر آف میرٹ” کا خطاب ملا۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1864ء میں ہنری جیمز نے ادیب بننے کا فیصلہ کیا۔ 1865ء ہی سے "اٹلانٹک منتھلی” اور دوسرے رسائل میں اس کے افسانے اور تبصرے شائع ہونے لگے۔ ہنری جیمز کا نہ صرف پہلا ناول "واچ اینڈ وارڈ” (1871ء) میں اٹلانٹک منتھلی میں قسط وار شائع ہوا بلکہ اس کا پہلا قابلِ توجہ ناول "روڈ رک ہڈسن” (1875ء) بھی اسی رسالے میں شائع ہوا۔ اس عرصے میں ہنری جیمز نے کئی بار یورپ کا سفر کیا اور 1875ء میں وہ مستقل طور پر یورپ آگیا۔

    پیرس میں ترگنیف، فلائبر اور موپاساں وغیرہ سے اُس کے مراسم قائم ہوئے۔ ایک سال بعد وہ لندن آگیا اور یہیں رہنے لگا۔ لندن آکر اُس نے ناول نگاری پر پوری توجہ دی اور یہیں اُس نے ”روڈرک ہڈسن“ (1876ء)، ”دی امریکن“ 1877ء، ”ڈیسی مِلر“ (1879ء)، ”واشنگٹن اسکوائر“ (1881ء) اور ”دی پورٹریٹ آف اے لیڈی“ (1881ء) لکھا۔

    اس کے بعد ہنری جیمز نے تھیٹر پر توجہ دی لیکن وہاں حسبِ خواہش وہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس تجربے کے بعد وہ پھر ناول نگاری کی طرف آگیا اور اُس کے تین بڑے ناول ”دی وِنگس آف ڈوو“ (1902ء)، دی ایمبیسیڈر (1903ء) اور ”دی گولڈن باول“ (1904ء) اسی زمانے میں لکھے گئے جن میں عام طور پر امریکن اور یورپی زمانے کے فرق کو موضوع بنایا گیا ہے۔

    ناول ”دی ٹرن آف دی اِسکرو“ (1898ء) بھی اسی زمانے کی یادگار ہے۔ 5-1904ء میں وہ امریکا گیا اور وہاں سے واپسی پر اُس نے ”دی امریکن سین“ (1907ء) تصنیف کی۔ انگلستان واپس آ کر اُس نے اپنی تصانیف پر نظرثانی کا کام شروع کیا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ ہر تصنیف پر ایک مقدمہ لکھے گا اور اُن کے نئے ایڈیشن شائع کرے گا۔ ہنری جیمز نے جتنے ”مقدمات“ اپنی تصانیف پر لکھے ہیں اُن کے بارے میں ازرا پاونڈ (1885ء – 1972ء) کا خیال ہے کہ:

    ”ہنری جیمز کی یہ تحریریں انگریزی زبان میں ناول نگاری پر عظیم تنقیدی مقالات کی حیثیت رکھتی ہیں۔“
    ٍابھی وہ یہ کام کر ہی رہا تھا کہ پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ اسی سال اُس نے دو ناول ”دی آئیوری ٹاور“ اور ”دی سینس آف دی پاسٹ“ شروع کیے لیکن وہ انہیں پورا نہ کرسکا۔

    ہنری جیمز نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے صنف ناول کو وسیع کرتے ہوئے اپنے انفرادی انداز و نظر کے گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔ اس نے بیس ناول، سو سے زیادہ کہانیاں، بارہ اسٹیج ڈرامے، کئی سفرنامے اور متعدد تنقیدی مضامین لکھے جو کئی جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس نے اپنے فکشن کے ذریعے امریکی ثقافت و امریکی رنگ و مزاج کو یورپ میں متعارف کرایا اور پرانی دنیا اور نئی دنیا کے فرق کو نمایاں کیا۔ اس کے ہاں کہانی کی بجائے کرداروں پر زور ہے اور کرداروں کے عمل اور ردِ عمل ہی سے دلچسپ کہانی وجود میں آتی ہے۔

    ناولوں کی خصوصیت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہنری جیمز کے ناولوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان میں حقیقی زندگی کا گہرا مطالعہ پیش کرتا ہے اور کرداد کے ”عمل“ سے زیادہ کردار کے ”ردِ عمل“ پر توجہ دیتا ہے۔ نفسیاتی حقیقت نگاری میں وہ سب کا پیش رو ہے۔ ناول کی تکنیک میں بھی اُس نے نئے اور کامیاب تجربے کیے۔ بنیادی طور پر ان ناولوں میں امریکی زندگی پر یورپ کی پرانی تہذیب کے اثر کو موضوع بنایا گیا ہے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)واچ اینڈ وارڈ (1871ء)
    ۔ (2)روڈرک ہڈسن (1875ء)
    ۔ (3)دی امریکن (1877ء)
    ۔ (4)ڈیسی مِلر (1879ء)
    ۔ (5)واشنگٹن اسکوائر (1881ء)
    ۔ (6)دی پورٹریٹ آف اے لیڈی
    ۔ (1881ء)
    ۔ (7)اردو ترجمہ ایک خاتون کی تصویر
    ۔ (8)دی ٹرن آف دی اِسکرو (1898ء)
    ۔ (9)دی وِنگس آف ڈوو (1902ء)
    ۔ (10)دی ایمبیسیڈر (1903ء)
    ۔ (11)دی گولڈن باول (1904ء)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ہنری جیمز 28 فروری 1916ء کو جب موسمِ بہار آنے میں کچھ ہی دن باقی تھے، لندن، برطانیہ میں وفات پا گیا۔

    اصناف:ناول، افسانہ
    نمایاں کام:دی پورٹریٹ آف اے لیڈی
    دی ٹرن آف دی اِسکرو
    دی وِنگس آف ڈوو
    دی ایمبیسیڈر
    اہم اعزازات:آرڈر آف میرٹ

  • اگرکسی خاتون کو 4 شادیوں کی اجازت ہوتی تو  کیاہوتا؟خلیل الرحمان قمر کا نیا بیان وائرل

    اگرکسی خاتون کو 4 شادیوں کی اجازت ہوتی تو کیاہوتا؟خلیل الرحمان قمر کا نیا بیان وائرل

    لاہور: پاکستان کے معروف مصنف خلیل الرحمان قمر نے شادی کیلئے لڑکے اورلڑکی کی رضامندی کو لازمی قراردیا ہے، اسلام میں مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر خلیل الرحمان قمر کا ایک پوڈکاسٹ انٹرویو ویڈیو کلپ وائرل ہورہا ہے جس میں انہوں نے مرد و خواتین کی فطرت اور شادی سے متعلق اپنا نکتہ نظر پیش کیا ،خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ مردوں کی ایک فطرت ہوتی ہے جہاں وہ ایک یا دو بار محبت کرسکتے ہیں اسلام میں مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے،مردوں میں یہ ایک مینوفیکچرنگ ڈیفالٹ ہے، لیکن اگرکسی خاتون کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دی گئی ہوتی تو ہم گلیوں میں ڈی این اے میچنگ کلینک کھول کے بیٹھے ہوتے۔

    سیاسی ایلیٹ کے ہاتھوں نہیں کھیلا اس لیے سب بھگت رہا ہوں،جسٹس مظاہر علی اکبر …

    نامورمصنف نے خواتین سے متعلق کہا کہ ہاں ایک عورت دھوکہ ملنے پرمرد کو چھوڑسکتی ہے لیکن آخرمیں اسے دوبارہ کسی دوسرے مرد کے پاس جانا پڑے گا اور تمام مردوں کی فطرت ایک جیسی ہوتی ہے،انہوں نے شادی پررضامندی سے متعلق والدین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ شادی اگر لڑکے اور لڑکی کی مرضی سے ہو تو وہ خراب نہیں ہوتی۔

    پاکستان نے افغانستان سے ڈی آئی خان واقعہ پر احتجاج کیا ہے

  • خلیل جبران  لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

    خلیل جبران لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

    جبران خلیل جبران جو لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف تھے،خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہوئے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا، وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکا ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ جبران خلیل جبران اپنی کتاب The Prophet کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب 1923ء میں شائع ہوئی اور یہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی یہ فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب نہایت مشہور گردانی گئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب بن گئی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں

    اسے "غلیظ” کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی جلد سیاہ تھی، ذۃین نہیں تھا کیونکہ وہ بمشکل انگریزی بول سکتا تھا۔ جب وہ اس ملک میں پہنچے تو انہیں تارکین وطن کے لیے ایک خصوصی کلاس میں رکھا گیا لیکن، اس کے چند اساتذہ نے اس انداز میں کچھ دیکھا جس میں اس نے اپنے آپ کو ظاہر کیا، اپنی ڈرائنگ کے ذریعے، دنیا کے بارے میں اپنے نظریہ کے ذریعے وہ جلد ہی اپنی نئی زبان پر عبور حاصل کر لے گا۔

    جبران مسیحی اکثریتی شہر بشاری میں پیدا ہوئے، جبران کے والد ایک مسیحی پادری تھےجبکہ جبران کی ماں کملہ کی عمر 30 سال تھی جب جبران کی پیدائش ہوئی، والد جن کو خلیل کے نام سے جانا جاتا ہے کملہ کے تیسرے شوہر تھے غربت کی وجہ سے جبران نے ابتدائی اسکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن پادریوں کے پاس انھوں نے انجیل پڑھی، انھوں نے عربی اور شامی زبان میں انجیل کا مطالعہ کیا اور تفسیر پڑھی۔

    جبران کے والد پہلے مقامی طور پر نوکری بھی کرتے تھے، لیکن بے تحاشہ جوا کھیلنے کی وجہ سے قرض دار ہوئے اور پھر سلطنت عثمانیہ کی ریاست کی جانب سے مقامی طور پر انتظامی امور کی نوکری کی اس زمانے میں جس انتظامی عہدے پر وہ فائز ہوئے وہ ایک دستے کے سپہ سالار کی تھی، جسے جنگجو سردار بھی کہا جاتا تھا۔

    1891ء یا اسی دور میں جبران کے والد پر عوامی شکایات کا انبار لگ گیا اور ریاست کو انھیں معطل کرنا پڑا اور ساتھ ہی ان کی اپنے عملے سمیت احتسابی عمل سے گزرنا پڑا جبران کے والد قید کر لیے گئےاور ان کی خاندانی جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔ اسی وجہ سے کملہ اور جبران نے امریکا ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کملہ کے بھائی رہائش پزیر تھے۔گو جبران کے والد کو 1894ء میں رہا کر دیا گیا مگر کملہ نے جانے کا فیصلہ ترک نہ کیا اور 25 جون، 1895ء کو خلیل، اپنی بہنوں ماریانا اور سلطانہ، اپنے بھائی پیٹر اور جبران سمیت نیویارک ہجرت کی اس کی ماں نے اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ لے جانے کا ایک مشکل فیصلہ کیا تھا –

    جبران کا خاندان بوسٹن کے جنوبی حصے میں رہائش پزیر ہوا، اس حصے میں اس وقت شامی اور لبنانی نژاد امریکیوں کی کثیر تعداد رہائش پزیر تھی امریکا میں جبران کو اسکول میں داخل کروایا گیا اور اسکول کے رجسٹر میں ان کا نام غلطی سے خلیل جبران درج ہوا اور پھر یہی نام ان کا سرکاری کاغذات میں منتقل ہوتا رہا،ویسے ان کا نام جبران خلیل جبران تھا-

    جبران کی والدہ نے کپڑے کی سلائی کا کام شروع کیا اور لیس اور لینن کا کام کر کے گھر گھر جا کر بیچنا شروع کر دیا جبران نے 30 ستمبر 1895ء کو اسکول کی تعلیم شروع کی اسکول کی انتظامیہ نے انھیں ہجرت کرکے آنے والے طالب علموں کی مخصوص جماعت میں داخل کیا تاکہ وہ انگریزی زبان سیکھ سکیں اسکول کے ساتھ ساتھ جبران نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک فنون لطیفہ کے اسکول میں بھی داخلہ لے لیا۔

    فنون لطیفہ کے اسکول میں ان کے استاد نے انھیں بوسٹن کے مشہور فنکار، مصور اور ناشر فریڈ ہالینڈ ڈے سے متعارف کروایا،جنھوں نے جبران کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور جبران کے فن میں حوصلہ افزائی کی 1898ء میں پہلی بار جبران کی بنائی ہوئے مصوری کے نمونے ایک کتاب کے سرورق کے لیے استعمال کیے گئے۔

    جبران کی ماں اور ان کے بڑے بھائی پیٹر چاہتے تھے کہ جبران اپنی لبنانی ثقافت کا پرچار کرے اور مغربی ثقافت جس سے جبران متاثر تھے کو ترک کر دے، جبران کی مغربی ثقافت سے متاثر ہونے کی وجہ سے پندرہ سال کی عمر میں جبران کو واپس لبنان بجھوا دیا گیا جہاں انھوں نے مسیحی مارونات کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور بیروت میں اعلیٰ تعلیم کے لیے منتقل ہوئے۔ بیروت میں اپنے ایک ہم جماعت کے ہمراہ ایک ادبی رسالے کا اجرا کیا اور اپنے تعلیمی ادارے میں “کالج کے شاعر“ کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے اور 1902ء میں بوسٹن واپس چلے گئےان کی بوسٹن واپسی سے تقریباً دو ہفتے قبل ان کی بہن سلطانہ تپ دق میں مبتلا ہو کر چودہ سال کی عمر میں وفات پاگئی اور اس کے اگلے ہی سال ان کے بھائی پیٹر تپ دق کی وجہ سے اور ماں کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوئیں۔ جبران کی بہن ماریانہ نے جبران کی دیکھ بال کی اور ماریانہ ایک درزی کے پاس نوکری کرتی رہیں-

    انہوں نے لکھا کہ مصیبت سے مضبوط ترین روحیں نکلی ہیں، سب سے بڑے کردار داغوں سے بھرے ہوئے ہیں،وہ 6 جنوری 1883 کو آج کے لبنان میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا،وہ محبت ،امن اور افہام و تفہیم پر یقین پر یقین رکھتا تھا،ان کا نام خلیل جبران تھا، اور وہ بنیادی طور پر اپنی کتاب "دی پرافٹ” کے لیے جانا جاتا ہے-

    دنیا بھر کی 108 زبانوں میں شائع ہونے والے، دی پرافٹ ” کے حوالے شادیوں، سیاسی تقاریر اور جنازوں میں نقل کیے جاتے ہیں، جان ایف کینیڈی، اندرا گاندھی، ایلوس پریسلے، جان لینن اور ڈیوڈ بووی جیسی متاثر کن بااثر شخصیات بھی ان کی مداح ہیں، وہ بے حد بے باک تھے، منافقت اور بدعنوانی کے زدید خلاف تھے ان کی کتابیں بیروت میں جلا دی گئیں اور امریکہ میں اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں –

    جبران اپنے خاندان کے واحد فرد تھے جنہوں نے علمی تعلیم حاصل کی۔ اس کی بہنوں کو اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کی روایات کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کی وجہ سے۔ جبران، تاہم، اپنے خاندان کی خواتین، خاص طور پر اپنی والدہ کی طاقت سے متاثر تھا۔ ایک بہن، اس کی ماں اور اس کے سوتیلے بھائی کی موت کے بعد، اس کی دوسری بہن، ماریانہ جبران نے کپڑے کی دوکا پر کام کر کے انہیں اور خواد کو پالا-

    اپنی والدہ کے بارے میں خلیل جبران نے لکھا کہ انسانوں کے لبوں پر سب سے خوبصورت لفظ ‘ماں’ ہے، اور سب سے خوبصورت پکار ‘میری ماں’ ہے۔ یہ امید اور پیار سے بھرا ایک لفظ ہے، دل کی گہرائیوں سے نکلنے والا ایک میٹھا اور مہربان لفظ ہے۔ ماں ہی سب کچھ ہے، وہ غم میں ہماری تسلی، غم میں ہماری امید اور کمزوری میں ہماری طاقت ہے۔ محبت، رحم، ہمدردی اور معافی کا۔”

    جبران بعد ازاں خواتین کی آزادی اور تعلیم کی وجہ بنےاس کا ماننا تھا کہ "دوسروں کے حقوق کی حفاظت انسان کا سب سے عظیم اور خوبصورت انجام ہے،نئے تارکین وطن کے لیے ایک نظم میں، انہوں نے لکھا کہ ، "مجھے یقین ہے کہ آپ اس عظیم قوم کے بانیوں سے کہہ سکتے ہیں، ‘میں حاضر ہوں، ایک نوجوان، ایک جوان درخت، جس کی جڑیں لبنان کی پہاڑیوں سے اکھیڑ دی گئیں۔ یہاں بہت گہرائی سے جڑیں ہیں۔ اور میں نتیجہ خیز ہوں گا۔”

    انہوں نے اپنی کتان "دی پرافٹ” میں لکھا کہ آپ اتحاد میں خالی جگہیں ہونے دیں، اور آسمان کی ہوائیں آپ کے درمیان رقص کریں۔ ایک دوسرے سے محبت کرو لیکن محبت کا بندھن نہ بناؤ: اسے اپنی روحوں کے ساحلوں کے درمیان ایک چلتا ہوا سمندر بننے دو۔ ایک دوسرے کا پیالہ بھرو لیکن ایک پیالہ سے نہ پیو۔ اپنی روٹی ایک دوسرے کو دو لیکن ایک ہی روٹی سے مت کھاؤ۔ ایک ساتھ گاؤ اور رقص کرو اور خوش رہو، لیکن تم میں سے ہر ایک کو تنہا رہنے دو، جیسے کہ ایک تار کی تاریں ایک ہی موسیقی کے ساتھ کانپتی ہیں۔ اپنے دل دو، لیکن ایک دوسرے کی حفاظت میں نہیں۔ کیونکہ صرف زندگی کا ہاتھ ہی آپ کے دلوں کو سمیٹ سکتا ہے۔ اور ایک ساتھ کھڑے ہو جاؤ، لیکن ایک دوسرے کے قریب بھی نہیں: کیونکہ ہیکل کے ستون الگ الگ کھڑے ہیں، اور بلوط کا درخت اور صنوبر ایک دوسرے کے سائے میں نہیں بڑھتے ہیں۔

    جبران خلیل 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں وفات پا گئے۔ ان کی موت جگر کی خرابی اور تپ دق کی وجہ سے ہوئی۔ اپنی موت سے پہلے جبران نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں لبنان میں دفن کیا جائے ان کی یہ آخری خواہش 1932ء میں پوری ہوئی جب میری ہاسکل اور جبران کی بہن ماریانہ نے لبنان میں مارسرکاس نامی خانقاہ خرید کر وہاں ان کو دفن کیا اور جبران میوزیم قائم کیا جبران کی قبر کے کتبے پر جو الفاظ کشیدہ کیے گئے وہ کچھ اس طرح ہیں، “ایک جملہ جو میں اپنی قبر کے کتبے پر دیکھنا چاہوں گا میں زندہ ہوں تمھاری طرح اور میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کرو اور اردگرد مشاہدہ کرو، تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے-

    جبران نے اپنے سٹوڈیو کی تمام اشیاء اور فن پارے میری ہاسکل کے نام وصیت میں سپرد کر دیے اس سٹوڈیو میں ہاسکل کو 23 سال تک اپنے اور جبران کے بیچ ہوئی خط کتابت بھی ملی، جس کے بارے پہلے ہاسکل نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں جلا دیا جائے، لیکن ان کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر انھیں محفوظ کر دیا گیا۔ ان خطوط کو میری ہاسکل نے اس کو لکھے گئے جبران کے خطوط سمیت شمالی کیرولائنا کی جامعہ کی لائبریری کو اپنی 1964ء میں وفات سے پہلے سپرد کر دیے۔ بعد ازاں ان خطوط کا کچھ مواد 1972ء میں کتاب Beloved Prophet میں شائع ہوا۔

  • اپنی حقیقت نگاری، انسان دوستی اور طنزیہ انداز تحریر کی وجہ سے مشہور ،آرنلڈ زویگ

    اپنی حقیقت نگاری، انسان دوستی اور طنزیہ انداز تحریر کی وجہ سے مشہور ،آرنلڈ زویگ

    آرنلڈ زویگ

    پیدائش:10 نومبر 1887ء
    گلوگو، پولینڈ
    وفات:26 نومبر 1968ء
    مشرقی برلن
    اولاد: در زویگ

    آرنلڈ زویگ (Arnold Zweig) بیسویں صدی کے جرمن ناول نگارتھا جو پہلے سخت صیہونیت پرست تھا۔ ہٹلر جب جرمنی میں با اقتدار ہوا تو اس نے وطن چھوڑ دیا اور فلسطین میں آکر رہنے لگا۔ 1948ء میں وہ فلسطین سے مشرقی جرمنی میں منتقل ہوگیا۔ زویگ اپنی حقیقت نگاری، انسان دوستی اور طنزیہ انداز تحریر کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کا تین ناولوں کا ایک مجموعہ بہت مشہور ہے جو اس نے 1935 اور 1938 کے درمیان لکھا تھا۔ اس کے سب ناول انگریزی اور دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔

  • تہذیب کی کہانی Story of Civilization کے مصنف ول ڈیورانٹ

    تہذیب کی کہانی Story of Civilization کے مصنف ول ڈیورانٹ

    تہذیب کی کہانی Story of Civilization کے مصنف ول ڈیورانٹ

    باغی ٹی وی: امریکہ سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ تصنیف” تہذیب کی کہانی” Story of Civilization کے مصنف، فلسفی اور مورخ ول ڈیورانٹ 5 نومبر 1885 میں نارتھ ایڈمز میساچوسٹس میں پیدا ہوئے انہوں نے سینٹ پیٹرز کالج نیوجرسی سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں اسی کالج آف یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر ہوئے وہ وہاں لاطینی، فرانسیسی، انگریزی اور جیومیٹری پڑھاتے رہے ول ڈیورانٹ نے 1913 میں ایرئیل نامی 20 سالہ لڑکی سے پسند کی شادی کی جس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی کی سرکاری ملازمت چھوڑ دی اور اپنی اہلیہ کے ہمراہ یورپ کی سیاحت کیلئے روانہ ہو گئے ۔

    انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے 1917 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، ول ڈیورانٹ نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں سب سے زیادہ عالمی شہرت اور پذیرائی 11 جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب ” اسٹوری آف سولائیزیشن” (تہذیب کی کہانی)کو حاصل ہوئی تاہم ان کی دیگر تصانیف بھی بہت بڑی اہمیت کی حامل ہیں ، ول ڈیورانٹ کی 7 نومبر 1981 میں وفات ہوئی۔ ان کی تصانیف کی دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں جن میں اردو بھی شامل ہے ۔ ول ڈیورانٹ کی چند تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

    1. (Philosophy and the Social Problem)
    2. (The Story of Philosophy)
    3.(The Story of Civilization)
    4. (Transition)
    5. (The Mansions of Philosophy)
    6. (The Case for India)
    7. (The Pleasures of Philosophy)
    8. ( The Lessons of History)
    9. (Interpretations of Life)

  • صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    صدارتی ایوارڈ یافتہ سہ زبان شاعر، 30 سے زائد کتابوں کے مصنف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سندھی ، اردو اور سرائیکی زبان کے ممتاز ادیب، شاعر ، مصنف ، میزبان و کمپیئر اور ایم بی بی ایس و پی ایچ ڈی ڈاکٹر ذوالفقار سیال صاحب 28 مئی 1957 میں لاڑکانہ کے محمد خان سیال صاحب کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاڑکانہ میں حاصل کرنے کے بعد بی ایس سی، ایم اے سندھی ، سندھ یونیورسٹی جام شورو ، ایم بی بی ایس لیاقت میڈیکل کالج جام شورو، پی ایچ ڈی کراچی یونیورسٹی سے کی ان کو سندھی ادبی سنگت سندھ کے جنرل سیکرٹری و مرکزی فنانس سیکرٹری ، دوران ملازمت سندھ کے تمام میڈیکل کالجوں کے ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رہنے ، S A N A امریکہ کی جانب سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے کا کا قابل فخر اور تاریخی اعزاز حاصل ہوا ہے۔

    ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی شاعری کو 50 سے زائد ملک کے نامور گلوکاروں اور گلوکارائوں نے گایا ہے جن میں شہنشاہ غزل مہدی حسن ، استاد گلزار علی خان ، محمد یوسف ، زرینہ بلوچ ، حمیرا چنا، وحید علی ، گل بہار بانو، مہناز ، خلیل حیدر، محمد علی شہکی، عالمگیر، برکت علی، رجب علی ، سجاد یوسف، شہناز علی، ٹرپل ایس سسٹرز، بینجمن سسٹرز، ثمینہ کنول، کنول ابڑو، شہلا گل ، فرح خانم، ریشما، غلام علی سندیلو،غلام شبیر سمو ، عاشق نظامانی، شاہدہ پروین، استاد فیروز گل، منظور سخیرانی، شمن علی میرالی، دیبا سحر، ماسٹر منظور، قمر سومرو، غلام قادر لنجار، و دیگر شامل ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ، انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان ، انجمن ترقی اردو پاکستان اور پاکستانی زبانیں فورم اسلام آباد کے رکن بھی ہیں ۔ عالمی ادبی کانفرسز اور مشاعروں میں شرکت کے حوالے سے وہ امریکہ ، جرمنی، جاپان ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں ۔

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے نظم اور نثر لکھنے کا آغاز 1972 سے کیا ان کی اب تک 30 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور 2 کتب طباعت کے آخری مراحل میں ہیں ۔ ان کی شائع ہونے والی کتب کی تفصیل اس طرح ہے۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے کتابیں ، 1 مکھڑین مالھا 1979 ایوارڈ یافتہ 2 . منھنجی دیس جا بار 1982 ایوارڈ یافتہ 3 گیت کھیڈونا (اردو شاعری کا منظوم ترجمہ ) 4. گلن جہڑا گیت۔ 1986, ایوارڈ یافتہ 5 لفظن جا راندیکا 1989. ایوارڈ یافتہ 6 اکھر اکھر سرہان 2002 . 7_ گل ایں مکھڑیوں ۔ 2006 . 8_ دعائون ۔ 2010 . 9_ پنھنجی بولی پیاری بولی 10 _ ننڈھڑا فرشتا پیاریوں پریوں ۔ 2019 , 11 چنڈ بہ منھنجو راندیکو 2020 . 12 _ منھجو گڈڑو منھجو گڈڑی ۔ 13 _ پنھنجی دنیا دھار ۔ 14 اماں مونکھی کھیڈن ڈے ۔

    شعری مجموعے : 1. رن سجو رت پھڑا 2 _ گاڑھا ہتھ پیلا چہرا 3 ۔ چہرا چنڈ گلابن جہڑا . 4 ۔ بارش کھاں پوء 5 . ماٹھو اجرا رستا میرا . 6. لفظ لفظ خوشبو . 7 . الانگڑا ٹانڈا . 8. سرد ہوا جمیل گوڑھا –

    تحقیق: 1. سندھی شاعری کا سفر 2. میر علی نواز ناز کی شاعری کا تنقیدی ابھیاس (پی ایچ ڈی تھیسز) کالمز اور مضامین پر مشتمل کتاب”آئینہ ایں عکس ” ڈاکٹر ذوالفقار کے متعلق لکھی گئی کتب: ڈاکٹر ذوالفقار سیال، سوچ ایں ویچار، ڈاکٹر ذوالفقار سیال سہ زبان شاعر، ڈاکٹر ذوالفقار سیال ، ادب ایں شخصیت ، وادھو _ کٹ _ ضرب –

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال پچھلے 30 سال سے مختلف اخبارات میں کالم اور قطعات لکھتے رہے ہیں جن میں روزنامہ عبرت، ہلال پاکستان، خادم وطن، سندھ نیوز، عوامی آواز. و دیگر شامل ہیں ۔ وہ پی ٹی وی کے اسکرپٹ رائٹر بھی رہے ہیں جن میں پروگرامز ، روشن تارا، مہکار، سوال ھی آھی، میڈیکل فورم ، واء سواء، ادبی سنگت، مہران میگ شامل ہیں ۔ ڈاکٹر ذوالفقار سیال کے ریلیز شدہ آڈیو کیسٹس کی تعداد 12 ہے۔
    اسٹیج ڈرامے : سور کان سکون تائین، گر تو برا نہ مانے-

    ڈاکٹر صاحب میڈیکل آفیسر سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور آر ایم او وغیر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد 2017 میں رٹائر ہوئے اولاد کے حوالے سے ماشاء اللہ وہ 5 بچوں کے باپ ہیں اور وہ اس وقت کراچی میں رہائش پذیر ہیں ۔

  • اردو کے مصنف، شاعر، نقاد اور پروفیسرملک زادہ منظور احمد

    اردو کے مصنف، شاعر، نقاد اور پروفیسرملک زادہ منظور احمد

    دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
    ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا

    ملک زادہ منظور احمد

    ملک زادہ منظور احمد اردو کے مصنف، شاعر، نقاد، پروفیسر اور مشاعروں میں منفرد فن نظامت کے لیے شہرت رکھتے تھے ملک زادہ منظور احمد 17 اکتوبر، 1929ء کو بھارت کے فیض آباد ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کاخاندان ایک سادات گھرانہ تھا۔

    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    ملک زادہ نے تین مختلف شعبوں، یعنی انگریزی، تاریخ اور اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد: فکروفن کے عنوان سے مقالہ تحریر کرکے پی ایچ ڈی مکمل کی۔

    ملازمت
    ۔۔۔۔۔
    ملک زادہ 1951ء میں جی وی ایس کالج، مہاراج گنج میں تاریخ کے لیکچرر بنے۔ 1952ء میں وہ جارج اسلامیہ کالج، گورکھپور میں تاریخ کے لیکچرر بنے۔ اس کے بعد 1964ء تک وہ انگریزی ادبیات کے لیکچرر بنے۔ 1964ء سے 1968ء تک ریڈر، صدر شعبہ اور پروفیسر بنے۔ وہ 1990ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔

    مدیر، رسالہ امکان۔ یہ ایک ماہنامہ کی شکل میں شروع ہوا۔ اس میں منظور ایک کالم کسک کے عنوان سے لکھتے جو بہت مشہور ہوا۔ اسی کالم میں ایک بار منظور نے لکھا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ امکان ان کی زندگی میں بند نہ ہو صدر، آل انڈیا اردو رابطہ کمیٹی، صدر، فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی، لکھنو اور رکن، ایگزیکیٹیو کمیٹی، لکھنؤ یونیورسٹی رہے-

    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کالج گرل، 1954ء (ناول)
    ۔ (2)اردو کا مسئلہ (مقالہ)، 1957ء
    ۔ (3)سحر سخن 1961ء، (مجموعہ کلام)
    ۔ (4)ابوالکلام آزاد: فکرروفن، 1964ء
    (تحریروں کا تنقیدی جائزہ)
    ۔ (5)ابوالکلام آزاد الہلال کے آئینے میں
    ۔ (6)غبارخاطر کا تنقیدی جائزہ
    ۔ (7)سحر ستم (مجموعہ کلام)
    ۔ (8)رقص شرر، 2004ء
    (خود نوشت سوانح حیات)
    اس کتاب کے مطالعے سے اُس دور کی
    ادبی تہذیب کا اندازہ ہوتا ہے۔
    اس زمانے میں خاص شاعرات کے
    مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ اس طرح کا
    پہلا مشاعرہ منظور کی کوششوں سے
    گورکھپور میں منعقد ہوا تھا۔
    شاعرات بیوٹی پارلر سے تیار ہو کر
    مشاعرے میں آتی تھیں۔
    یہ لوگ دلکش ترنم سے سطحی اور
    غیر معیاری غزلیں پڑھا کرتی تھیں
    جن کا خالق کوئی اور ہوا کرتا تھا۔
    ۔ (9)انتخات غزلیات نظیر اکبر آبادی
    (منتخب غزلیں)
    ۔ 200 کتابوں کے پیش لفظ

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)زندگی بھر اردو ادب میں
    تعاون کرنے کے لیے
    اترپردیش اردو اکادمی کا اعزاز
    ۔ (2)اترپردیش اردو اکادمی کا ایوارڈ
    برائے فروغ اردو
    ۔ (3)زندگی بھر اردو ادب میں
    تعاون کرنے کے لیے
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا اعزاز
    ۔ (4)آل انڈیا میر اکیڈمی کی جانب سے
    امتیاز میراعزاز
    ۔ (5)آل انڈیا میر اکیڈمی کی جانب سے
    افتخاز میراعزاز
    ۔ (6)زندگی بھر اردو ادب میں
    تعاون کرنے کے لیے
    خدابخش کتب خانے کا اعزاز
    ۔ (7)مے کش اکبرآبادی ایوارڈ
    ۔ (8)ہری ونش رائے بچن ایوارڈ
    ۔ (9)صوفی جمیل اختر ایوارڈ
    ۔ (10)عالمی اردو کانفرنس، نئی دہلی
    کی جانب سے فراق سمان
    ۔ (11)زندگی بھر کی کامیابیوں کے لیے
    مومن خان مومن اعزاز
    ۔ (12)گریٹر شکاگو کی سابق عثمانیہ یونیورسٹی
    کے سابقہ طلبا کی جانب سے فخر اردو ایوارڈ
    ۔ (13)پریاگ کوی سمیلن کی جانب سے
    ساہتیہ سرسوت ایوارڈ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    شمع کی طرح شب غم میں پگھلتے رہئے
    صبح ہو جائے گی جلتے ہیں تو جلتے رہئے
    وقت چلتا ہے اڑاتا ہوا لمحات کی گرد
    پیرہن فکر کا ہر روز بدلتے رہئے
    آئنہ سامنے آئے گا تو سچ بولے گا
    آپ چہرے جو بدلتے ہیں بدلتے رہئے
    آئی منزل تو قدم آپ ہی رک جائیں گے
    زیست کو راہ سفر جان کے چلتے رہیے
    صبح ہو جائے گی ہاتھ آ نہ سکے گا مہتاب
    آپ اگر خواب میں چلتے ہیں تو چلتے رہئے
    عہد امروز ہو یا وعدۂ فردا منظورؔ
    ٹوٹنے والے کھلونے ہیں بہلتے رہئے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مرا ہی پر سکوں چہرا بہت تھا
    میں اپنے آپ میں بکھرا بہت تھا
    بہت تھی تشنگی دریا بہت تھا
    سرابوں سے ڈھکا صحرا بہت تھا
    سلامت تھا وہاں بھی میرا داماں
    بہاروں کا جہاں چرچا بہت تھا
    انہیں ٹھہرے سمندر نے ڈبویا
    جنہیں طوفاں کا اندازا بہت تھا
    اڑاتا خاک کیا میں دشت و در کی
    مرے اندر مرا صحرا بہت تھا
    زمیں قدموں تلے نیچی بہت تھی
    سروں پر آسماں اونچا بہت تھا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔
    دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
    ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا

    چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے
    جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے

    خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے
    آئینہ ہے اسے پتھر سے نہ توڑا جائے

    دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتی
    کشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا

    انہیں ٹھہرے سمندر نے ڈبویا
    جنہیں طوفاں کا اندازا بہت تھا

    عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
    کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے

    وہی قاتل وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہد
    بہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے

    رسم تعظیم نہ رسوا ہو جائے
    اتنا مت جھکئے کہ سجدہ ہو جائے

    جن سفینوں نے کبھی توڑا تھا موجوں کا غرور
    اس جگہ ڈوبے جہاں دریا میں طغیانی نہ تھی

    حال پریشاں سن کر میرا آنکھ میں اس کی آنسو ہیں
    میں نے اس سے جھوٹ کہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    روشن چہرہ بھیگی زلفیں دوں کس کو کس پر ترجیح
    ایک قصیدہ دھوپ کا لکھوں ایک غزل برسات کے نام

    دیوانہ ہر اک حال میں دیوانہ رہے گا
    فرزانہ کہا جائے کہ دیوانہ کہا جائے

    زندگی میں پہلے اتنی تو پریشانی نہ تھی
    تنگ دامانی تھی لیکن چاک دامانی نہ تھی

    کیا جانئے کیسی تھی وہ ہوا چونکا نہ شجر پتہ نہ ہلا
    بیٹھا تھا میں جس کے سائے میں منظورؔ وہی دیوار گری

    کھل اٹھے گل یا کھلے دست حنائی تیرے
    ہر طرف تو ہے تو پھر تیرا پتا کس سے کریں

    عرض طلب پر اس کی چپ سے ظاہر ہے انکار مگر
    شاید وہ کچھ سوچ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    اب دیکھ کے اپنی صورت کو اک چوٹ سی دل پر لگتی ہے
    گزرے ہوئے لمحے کہتے ہیں آئینہ بھی پتھر ہوتا ہے

    نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہے مجھے
    خود اپنے باغ کو پھولوں سے ڈر لگے ہے مجھے

    کچھ غم جاناں کچھ غم دوراں دونوں میری ذات کے نام
    ایک غزل منسوب ہے اس سے ایک غزل حالات کے نام

    وقت شاہد ہے کہ ہر دور میں عیسیٰ کی طرح
    ہم صلیبوں پہ لیے اپنی صداقت آئے

    بے چہرگی کی بھیڑ میں گم ہے مرا وجود
    میں خود کو ڈھونڈھتا ہوں مجھے خد و خال دے

    دور عشرت نے سنوارے ہیں غزل کے گیسو
    فکر کے پہلو مگر غم کی بدولت آئے

    کاش دولت غم ہی اپنے پاس بچ رہتی
    وہ بھی ان کو دے بیٹھے ایسی مات کھائی ہے

  • 4 سالہ بچے نے کتاب لکھ کر دنیا کے سب سے کم  عمر مصنف کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    4 سالہ بچے نے کتاب لکھ کر دنیا کے سب سے کم عمر مصنف کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    4 سالہ بچے نے رحم دلی پر کتاب لکھ کر دنیا کے سب سے کم عمر مصنف کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی: گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق 4 سالہ بچے کا نام سعید رشید المہیری ہے اور اس کا تعلق ابوظبی سے ہے سعید رشید کی اس وقت درست عمر 4 سال 218 دن ہے اور ننھا مصنف کتابیں لکھنے کا شوقین ہے، اس نے The Elephant Saeed and the Bear کے نام سے کتاب لکھی ہے۔


    گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق سعید نے اپنا عالمی ریکارڈ 9 مارچ 2023 کو بنایا تھا جس کے بعد سے سعید کی کتاب کی 1000کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں، یہ کہانی رحم دلی اور دو جانوروں کی لازوال دوستی پر مبنی ہے۔


    سعید خاندان میں واحد ریکارڈ توڑنے والا نہیں ہے سعید کی بڑی بہن الذہبی بھی 8 سال کی عمر میں کم عمر مصنفہ کا ریکارڈ اپنے نام کرچکی ہیں اور سعید بھی اپنی بہن کےکارنامے سےمتاثر ہوکر مصنف بنا الذہبی نےدنیا کی سب سےکم عمرشخص کا دولسانی کتاب (خاتون) شائع کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا اور، ایک سال سے بھی کم عرصے بعد، اس نے 8 سال کی عمر میں دو لسانی کتابوں کی سیریز (خواتین) شائع کرنے والے سب سے کم عمرمصنفہ کا ریکارڈ توڑ دیا۔

    مزید یہ کہ الذہبی نے بچوں سے بچوں تک کتابیں کے نام سے ایک منفرد اقدام شروع کیا۔ اس اقدام کا مقصد 4 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کو عربی یا انگریزی میں لکھنے کی ترغیب دینا ہے، تاکہ مصنف، مصور، پبلشر اور کتاب کے پڑھنے والے سبھی بچے ہوں۔

    سعید نے کہا کہ میں اپنی بہن سے بہت پیار کرتا ہوں اور مجھے ہر وقت اس کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا ہے”ہم ایک ساتھ بہت ساری سرگرمیاں پڑھتے، لکھتے، ڈرا کرتے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب (ان سے متاثر ہو کر) لکھی کیونکہ مجھے لگا کہ میری اپنی کتاب بھی ہو سکتی ہے-

  • ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ کے مصنف آرتھر ملر

    ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ کے مصنف آرتھر ملر

    17 اکتوبر 1915ء کو پیدا ہونے والے آرتھر ملر بیسویں صدی کے چند مشہور ترین امریکی مصنفین میں سے تھے جو اپنی تحریروں کے ذریعے امریکی اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرتے تھے۔

    آرتھر ملر17 اکتوبر 1915ء میں نیو یارک میں پیدا ہوئے اور ان کے والد اگرچہ ایک کپڑوں کی فیکٹری کے مالک تھے لیکن 1929 میں امریکی معیشت میں آنے والی بدحالی سے متاثر ہوئے۔

    آرتھر ملر نے ذاتی محنت سے صحافت کے شعبے میں اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے اور وہ ایک ریڈیکل مصنف کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ وہ اپنے لبرل خیالات کی وجہ سے جلد ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ملک میں شروع کی جانے والی کمیونسٹ مخالف مہم میں زیر اعتاب آئے لیکن تفتیش کے دوران اپنے کمیونسٹ دوستوں کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

    ان کی شہرت کی ایک اور وجہ 1956 میں مشہور امریکی اداکارہ مارلن منرو سے ان کی شادی بھی تھی۔ ایک سنجیدہ دانشور اور مصنف کے ایک فلمسٹار کے ساتھ اس ملاپ پر کئی لوگوں کو بہت حیرانی بھی ہوئی تھی آرتھر ملر کو 1949 میں تینتیس برس کی عمر میں ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ لکھنے پر ادب کا پلٹزر انعام ملا تھا۔

    آرتھر ملر کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’ اے ویو فرام اے برج‘ اور ’دی لاسٹ یانکی‘ شامل ہیں 10فروری 2005 کو ان کا انتقال ہوا۔ آرتھر ملر کی اسسٹنٹ جولیا بولس کے مطابق ان کا انتقال کنکٹیکٹ میں ان کی رہائشگاہ پر ہوا۔ ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی۔