Baaghi TV

Tag: مصنوعات

  • ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم  پر عملدرآمد میں خامیاں

    ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد میں خامیاں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو   کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم   پر عملدرآمد کے حوالے سے میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم گول میز مباحثہ منعقد کیا گیا۔ پلڈاٹ کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے زیر اہتمام اس مباحثے میں اہم سٹیک ہولڈر نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، صنعتی شعبے کے قائدین، پالیسی ماہرین اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے تازہ ترین تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا۔

    تقریب کا آغاز مامون بلال، ایڈوائزر پلڈاٹ کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جس کے بعد  انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  طارق جنید نے مذکورہ تحقیق کے کلیدی نتائج پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے صنعتی شعبے کے اندر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عدم تعمیل کے حوالے سے پریشان کن حالات پر روشنی ڈالی۔تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں 2021 میں تین دیگر شعبوں کے ساتھ شروع ہوئیں جن میں سیمنٹ، کھاد اور چینی کے شعبے شامل تھے۔ جولائی 2022 سے ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر کے بغیر سگریٹ کا پیک فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم، حتمی تاریخ گزرنے کے بعد سےاس سسٹم پر عملدرآمد صرف ایک خواب ہی رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ  نے پنجاب اور سندھ کے 11 شہروں میں مارکیٹ پر تحقیق کی جس میں 18 مارکیٹوں میں 40 پرچون فروشوں کی دکانوں  کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس میں کل 720 دکانیں شامل تھیں۔ اس تحقیق کے دو مقاصد تھے؛ فروخت کے وقت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کی صورت حال کا پتہ لگانا اور سگریٹ کے لیے کم از کم طے شدہ قانونی قیمت   پر عملدرآمد کا جائزہ لینا جو ایف بی آر کی طرف سے لازمی ہے۔رپورٹ کے مطابق سروے کیے گئے 264 سگریٹ برانڈ میں سے صرف 19 برانڈ نے اس سسٹم کے مطلوبہ تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جو کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ عملدرآمد نہ کرنے والے برانڈ مارکیٹ کے 58 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے   برانڈ 65 فیصد ہیں جبکہ سمگل شدہ برانڈ 35 فیصد ہیں جو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کی غیر موجودگی سے لے کر قیمتوں یا صحت سے متعلق انتباہ کے ضوابط پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ 197 برانڈ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے کم جبکہ 48 برانڈ اس طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے پائے گئے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر طے شدہ قانونی تقاضوں پر بھی عملدرآمد نہیں کر رہے تھے۔ 19 برانڈ تمام طے شدہ قانونی تقاضوں کے مطابق عملدرآمد کرتے پائے گئے مگر وہ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔

    اس گول میز مباحثے میں سٹیک ہولڈر کو اس سسٹم کے حوالے سے درپیش چیلنجز، پرچون کی سطح پر اس کے نفاذ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور صحت عامہ کی کوششوں پر عدم تعمیل کے مجموعی اثرات پر تفصیل سے تبادلہٴ خیال کرنے کا ایک موقع فراہم کیا گیا۔ کلیدی مقررین میں ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، محمد ظہیر قریشی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سسٹم کے نفاذ کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا۔ تقریب کی صدارت علی پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات نے کی جنہوں نے تمام شعبوں میں اس سسٹم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذکورہ سسٹم کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہتر ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    اس سسٹم پر عملدرآمد کو بڑھانے کے لیے اہم مجوزہ سفارشات:
    گول میز مباحثے کا اختتام قابل عمل سفارشات کے ساتھ ہوا جو مندرجہ ذیل ہیں،عدم تعمیل والے برانڈ تک رسائی کو روکنے کے لیے پرچون فروشوں کی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنایا جائے،خلاف ورزیوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے،صارفین کو تعمیل شدہ مصنوعات کی خریداری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی کی مہمات کا آغاز کیا جائے،

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان میں اس وقت ٹماٹر بے حد مہنگا بک رہا ہے۔ بڑے شہروں میں غالباً 500 روپے کلو سے بھی زیادہ۔ آئے روز ملک میں روزمرہ کی مختلف سبزیوں کی مارکیٹ میں شارٹیج یا کمی رہتی ہے جس سے انکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر رکیے ٹماٹر سبزی نہیں بلکہ ایک پھل ہے۔ ویسے بینگن بھی پھل ہے۔ ٹماٹر کا سائنسی نام Solanum lycopersicum L ہے۔ گھبرائے نہیں آپ اسے ٹماٹر ہی کہیئے۔

    یہ بات سن کر آپ شاید حیران ہوں کہ ہمارے آباؤ اجداد اور پُرکھوں کے کھانوں میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ زیادہ نہیں تین چار صدیاں پیچھے چلے جائیں تو برصغیر میں ٹماٹر تھا ہی نہیں۔ ٹماٹر دراصل لاطینی امریکہ اور میکسیکو میں اُگا کرتے تھے۔ پندرویں اور سولہویں صدی میں جب ہسپانویوں نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تو یہاں کے مقامی لوگ ٹماٹروں کو اپنے کھانوں میں استعمال کیا کرتے تھے مگر یہ ٹماٹر سائز میں آج کے ٹماٹروں سے بے حد چھوٹے اور مٹر کے دانوں جتنے ہوتے۔ سولویں صدی میں ٹماٹر یورپ آئے مگر انہیں کھانوں میں نہیں بلکہ زیادہ تر سجاوٹ کے طور پر اُگایا جاتا۔ برِ صغیر میں بھی ٹماٹر سولہویں صدی میں پرتگالیوں نے متعارف کرایا۔ پرتگالیوں نے ہی یہاں آلو اور مرچیں بھی متعارف کرائیں گویا برِ صغیر میں پہلے نہ ٹماٹر تھا، نہ آلو اور نہ مرچیں۔ یہ تصور کرنا کچھ مشکل ہے کہ ہمارے پّرکھوں کے کھانے ان تمام سبزیوں اور پھلوں کے بغیر کیسے ہوتے ہونگے۔

    مگر برِ صغیر کے کھانوں میں بھی سولہویں یا سترویں صدی میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ انیسویں صدی تک جب یورپ اور برطانیہ میں ٹماٹروں کو کھانوں میں استعمال کیا جانے لگا اور یہ مقبول ہوئے تو انگریزوں کو ٹماٹروں کی ضرورت پڑی۔ ایسے میں برِ صغیر کا موسم اور یہاں کی آب و ہوا ٹماٹر اُگانے کے لیے موافق تھی۔ لہذا انگریزوں نے بھارت میں ٹماٹر کو بڑے پیمانے پر کاشت کروانا شروع کیا جسے برطانیہ اور یورپ کی منڈیوں میں بھیجا جاتا۔ اُس زمانے میں بھی ہندوستانی کھانوں میں ٹماٹر محض ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا مگر آہستہ آہستہ یہ کھانوں کا بنُیادی جُز بنتا گیا۔

    آج بھارت اور پاکستان میں 8 ہزار سے بھی اوپر کی ورائٹی کے ٹماٹر اُگتے ہیں۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹماٹروں کی کل سالانہ پیداوار تقریباً 57 ہزار ٹن ہے اور اسکی کاشت ملک کے ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر کے رقبے پر ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی کل ٹماٹروں کی پیدوار میں پاکستان کا حصہ محض 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں ٹماٹروں کی تقریباً چالیس فیصد پیداور سندھ میں ہوتی ہے جسکے بعد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب شامل ہیں۔ پنجاب میں ٹماٹروں کی پیداوار دوسرے صوبوں کی نسبت کم ہے۔ ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار فی ایکڑ بلوچستان میں ہوتی ہے۔

    گو ٹماٹر ایک منافع بخش فصل ہے مگر کئی اہم مسائل کی وجہ سے کسانوں تک اسکا مناسب منافع نہیں پہنچتا۔ بلوچستان کے ٹماٹر اّگانے والا کاشتکار کو فی ایکڑ منافع پنجاب کے کاشتکار سے زیادہ ملتا ہے۔ اسکی ایک وجہ تو زیادہ پیداور فی ایکڑ جو سستی مزدوری اور مناسب موسم سے جّڑی ہے جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ پنجاب کا ٹماٹر مارکیٹ میں کٹائی کے سیزن کے عروج پر آتا ہے جس سے مارکیٹ میں زیادہ رسد ہونے کے باعث اسکی قیمت کم لگتی ہے۔ جبکہ بلوچستان اور سندھ کا ٹماٹر باقی موسموں میں بھی آتا ہے۔

    چونکہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہے لہذا سندھ اور بلوچستان سے آنے والے ٹماٹر کی ترسیل اور فاصلے کے باعث منڈیوں تک پہنچتے اسکی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ٹماٹر کی قیمت سارا سال بدلتی رہتی ہے کیونکہ مناسب سپلائی چین، سٹوریج اور منڈیوں میں حکومت کی جانب قیمتوں پر مناسب کنٹرول نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوری کے نتیجے میں اسکی قیمت عام شہری اور کسان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

    ٹماٹر کے کاشتکاروں کے مسائل دیکھیں جائیں تو بہتر کوالٹی کا بیج نہ ہونا، ہائیبریڈ یا امپورٹڈ بیج کا مقامی موسم کی تبدیلیوں کو برداشت نہ کرنا، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کے تدارک کی ادوایات کی خراب کوالٹی، کھاد کی خراب کوالٹی اور قیمتوں میں اضافہ، پیکجنگ کے مسائل، مناسب تربیت اور جدید طریقوں کا فقدان اور کٹائی کے دنوں میں مزدورں کی کمی جیسے اہم مسائل پاکستان میں ٹماٹر کی کاشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    ِان مسائل کا حل کیا ہے؟ حکومت کی کسان دوست پالیسیاں!!

    1. کاشتکاروں کو مناسب اور جدید تربیت فراہم کرنا جس میں بیج کے چناؤ سے لیکر پیکجنگ تک تمام عوامل شامل ہوں۔

    2.مقامی بیج پر تحقیق اور اسکی پیداوار کو مزید بہتر بنانا۔ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلوں سے مزاحمت کرنے والے بیج پر کام

    3. امپورٹڈ اور ہائبریڈ بیج کی کوالٹی کی حکومت کی جانب سے مناسب جانچ کے بعد ہی اسے مارکیٹ میں فروخت کی اجازت

    4. کھاد اور کیڑے مار ادوایات کی کوالٹی اور قیمت پر کنٹرول

    5. آڑھتی اور کمیشن ایجنٹوں پر کنٹرول اور اس حوالے واضح قانون سازی اور حکمتِ عملی جس سے کسانوں کے استحصال کو روکا جا سکے

    6. خوراک کی مصنوعات پیدا کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں مثال کے طور پر نیسلے یا اینگرو وغیرہ سے معاہدے جو کسانوں کو اُنکی فصل کی مناسب قیمت بلا تاخیر ادا کریں۔

    7. مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قیمت کے اُتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے اس بات پر غور کہ اگر بھارت سے ٹماٹر درآمد کیے جائیں تو اسکے کیا فوائد اور نقصان ہو سکتے ہیں؟

    پاکستان جیسے زرخیز اور زرعی ملک میں مقامی پیداوار ہونے کے باوجود سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کا غریب عوام کی پہنچ سے دور ہونا اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان اور ریاستی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  • بیکری مصنوعات کھانے والے ہو جائیں  ہوشیار

    بیکری مصنوعات کھانے والے ہو جائیں ہوشیار

    بیکری مصنوعات کھانے والے ہو جائیں ہوشیار

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بند روڈ پرواقع نعیم بیکرز پر چھاپہ مار کر130 کلوناقص بیکری مصنوعات تلف کر د یں ، گندے انڈوں کے استعمال پر بیکری کی پروڈکشن اصلاح تک بند رہے گی جبکہ مقدمہ بھی درج کر دیا گیا.

    ڈی جی فوڈ اتھارٹی شعیب جدون کے مطابق بیکری کے پروڈکشن ایریا میں کھلے رنگ، ممنوعہ ایکسپائرکیمیکلزکے استعمال سے بیکری مصنوعات کی تیار ی پر کارروائی کی گئی۔ پروڈکشن ایریا میں کاکروچ، مکڑیوں کے جالے اور حشرات کی بھرمار پائی گئی۔

    ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ زنگ آلود برتن،فنگس لگی شیلف،باسی کیک اورحشرات زدہ مٹھائی موجود پائی گئی۔ خراب گندے انڈوں سے تیار کیک رس،بریڈ اور کیک چھوٹے علاقوں میں سپلائی کے لیے تیار کیے جا رہے تھے۔

    شعیب جدون کا کہنا ہے کہ ممنوعہ اور زائدالمیعاد اجزاء سے تیار خوراک کا استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوتا ہے۔ شعیب جدون نےعوام سے گزارش کی کہ اپنی روزمرہ خوراک میں غذائیت سے بھرپور اشیاء خورو نوش کا انتخاب کریں۔ غذائیت سے بھر پور خوراک کے حوالے سے معلومات کے لیے غذاکی بات پروگرام پنجاب فوڈ اتھارٹی فیس بک پیج پر لازمی دیکھیں۔

    قبل ازیں پنجاب فوڈ اتھارٹی نےحاجی کیمپ میں سات روزہ خصوصی نیوٹریشن آگاہی سیل قائم کیا اور حاجیوں کی غذائی راہ نمائی کی،دارالحجاج میں نئے ماحول سے مطابقت اور بہترین غذا کے چناؤ کے حوالے سے آگاہی دی گئی،ڈی جی فوڈ اتھارٹی شعیب خان جدون کی کیمپ میں خصوصی شرکت کی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا جبکہ حجاج سے گفتگوبھی کی.انہوں نے کہا کہ کیمپ میں باڈی ماس انڈیکس،ویٹ،ہائٹ جیسے ٹیسٹ فری کیے جا رہے ہیں۔ماہر غذائیات کی ٹیم حاجیوں کو متوازن خوراک کی آگاہی اور مکمل ڈائیٹ پلان فراہم کر رہی ہیں۔

    شعیب جدون ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ دوران حج صحت کو برقرار رکھنے کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک کا چناؤ کی آگاہی دی جا رہی ہے۔ کیمپ دو دن کے لیے لگایا تھا، حاجیوں کے فیڈ بیک اور کیمپ انتظامیہ کی درخواست پر دورانیہ ساتھ سات دن کیا گیا۔ حج کے دوران غذائیت سے بھرپور پھلوں،سبزیوں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔سخت گرمی کے موسم میں حج کے دوران صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ڈائیٹ پلان دیے جا رہے ہیں۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے اضافے کو مسترد کرتے ہیں:  حافظ سعد رضوی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے اضافے کو مسترد کرتے ہیں: حافظ سعد رضوی

    لاہور:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے اضافے کو مسترد کرتے ہیں ،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ سعد حسین رضوی نے کہا ہے کہ عوام موجودہ حکومت سے تنگ اور حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کو مسترد کرتے ہیں ۔ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ہر لحاظ سے ناکام ہوئی ،

     

    https://twitter.com/TLPMarkaz22/status/1493982957392084994?t=2KuwVqx344ipSdTk35dFHQ&s=19

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کر بھرکس نکال دیا ہے ، اتنی زیادہ مہنگائی سے عوام تو بہت تنگ آچکے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ ناقابل قبول ہے

    پاکستان مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی قیادت نے سیاسی صورتحال میں فیصلوں کا اختیار چودھری پرویز الہیٰ کو دے دیا اور حکومتی اتحادی جماعت نے بھی پٹرول، بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امن و امان کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

  • بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لداخ میں چین کی جانب سے بھارتی زمین پر قبضے کے بعد بھارت میں چین کے خلاف بڑی مہم چلائی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے

    ہندو انتہا پسندوں نے چینی مصنوعات جلا کر بھی بائیکاٹ کا پیغام دیا تا ہم اب ایک حیران کن رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے سامنے آنے کے بعد بھارت کی سیاسی قیادت اور عوام مودی سرکار پر سیخ پا ہو چکے ہیں،مودی سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارتی مصنوعات کو ترک کیا جائے تا ہم بھارت پھنس چکا ہے اور چینی مصنوعات کے بائیکاٹ سے بھارت کا اپنا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران چین سے طبی درآمدات میں 75 فیصد اضافہ ہوا، چینی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم کے باوجود چینی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، یہ نہ صرف ان نعروں جو چین کی مصنوعات کی بائیکاٹ کے لئے لگائے گئے تھے پر سوالیہ نشان بلکہ بھارت کو خود کفیل بنانے کی مہم کے لئے بھی بہت بڑا جھٹکا ہے

    بھارت اور چین کے مابین لداخ تنازعہ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے، چین نے نہ صرف بھارتی زمین پر قبضہ کیا بلکہ بھارتی فوج کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں انکی تصاویر بھی وائرل کیں ، بھارتی سیاسی رہنما چین سے بائیکاٹ کا کہتے رہے اور مودی سرکار سے سچ پوچھتے رہے کہ مودی سرکار نے بھارتی فوجی کیوں مروائے؟ تا ہم اب یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد مودی سرکار خاموش ہے کہ چین کے ساتھ تنازعہ کے باوجود، جب چین بھارت کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھا چین سے طبی سامان کی درآمدات میں اتنا اضافہ کیوں ہوا،رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس سال 2020-21 میں بھارت نے سب سے زیادہ طبی سامان چین سے درآمد کیا اور چین کو بھارت میں سب سے زیادہ سامان درآمد کرنے کے حوالہ سے پہلا نمبر مل گیا، اس سے قبل امریکہ اور جرمنی سے بھارت زیادہ طبی مصنوعات درآمد کرتا تھا، اب چین نے امریکہ اور جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑدیا،

    خبر رساں ادارے کے مطابق چین سے میڈٹیک اور میڈیکل ڈیوائس کی درآمدات میں 75 فیصد اضافہ ہوا اس میں آکسی میٹر، ڈائگناسٹک انسٹرومنٹ، ڈیجیٹل تھرمامیٹر اور کیمیکل ریجنٹ کی تعداد بہت زیادہ ہے ،

    چین کے ساتھ تنازعہ کو لےکر بھارتی اپوزیشن جماعتیں مودی سرکار پر تنقید کرتی رہتی ہیں، گزشتہ دنوں کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد تنازعہ کے حوالہ سے مودی سرکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے تھا کہ چین نے ڈوکلام کے پاس تین گاؤں بنا لئے، مودی سرکار نے بھارت کی قومی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے، مودی کی خاموشی سے بھارت کی سالمیت خطرے میں ہے ،کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے بھارتی مسلح افواج کی حوصلہ افزائی کی بجائے ہمت کم کر دی، چین نے کیوں گاؤں بسائے، چینی دراندازی کے باوجود مودی سرکار خاموش ہے، مودی پردے کے پیچھے چھپنے کی بجائے جواب دیں چینی فوجی سرگرمیوں پر نئے سیٹلائٹ تصویر گزشتہ ایک سال میں بھوٹانی علاقہ میں چینی گاؤں کی مبینہ تعمیر کو دکھاتے ہیں، کئی نئے گاؤں کو تقریباً 100 اسکوائر کلومیٹر (25 ہزار ایکڑ) کے علاقہ میں پھیلا ہوا دیکھا جاتا ہے ان گاؤں کی تعمیر مئی 2020 اور نومبر 2021 کے درمیان کی گئی ہے

    کانگریس کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ مودی سرکار نے کبھی سچ نہیں بولا، اب پینٹا گون کی ایک رپورٹ نے بھی تصدیق کر دی ہے، پینٹا گون نے امریکی کانگریس کو ایک سالانہ رپورٹ دی ہے جس میں کہا گیا کہ بھارتی علاقے ارونا چل پردیش کے اندر چین نے دراندازی کی ہے، چین نے ایک گاؤں کی تعمیر کی ہے اور یہ گاؤں چین کے لئے فوجی جنگی چھاؤنی کے طور پر استعمال ہو گا ،چین نے کم از کم 100 سے زائد گھروں کی تعمیر کی جو کثیرالمنزلہ بھی ہیں

    دوسری جانب چین نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا، امریکہ بھی دیکھتا رہ گیا، چین دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا ،امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق عالمی دولت دو دہائیوں میں 156 کھرب سے بڑھ کر 514 کھرب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے جس میں سے چین کی دولت 120 کھرب ڈالرز اور امریکا کی دولت 90 کھرب ڈالرز ہے دنیا بھر کی دولت کا دوتہائی حصہ صرف 10 فیصد اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ عالمی دولت کا 68 فیصد حصہ رئیل اسٹیٹ سے منسلک ہے

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق دس ممالک کی قومی بیلنس شیٹس کا جائزہ لیا گیا ہے جو دنیا کی 60 فیصد سے زیادہ آمدنی کی نمائندگی کرتے ہیں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عالمی مجموعی مالیت میں چین کا تقریباً ایک تہائی فائدہ ہے۔دنیا بھر میں مجموعی مالیت 2020 میں 514 ٹریلین ڈالر تک بڑھ گئی، جو 2000 میں 156 ٹریلین ڈالر تھی۔ بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک میں دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں دو تہائی سے زیادہ دولت 10 فیصد امیر ترین گھرانوں کے پاس ہے، اور ان کا حصہ بڑھ رہا ہے۔

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی فوج پر بڑا حملہ

    قبل ازیں بھارت کے زیر انتظام لداخ میں کنٹرول لائن پر چین اور بھارت کی افواج کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ کے بعد چائنہ نے بھارتی فوجیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کردیں جس میں فوجیوں کو زخمی حالت میں دکھایا گیا ہے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

    چین اور بھارت کے مابین بھی لداخ کے حوالہ سے کشیدگی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، چین نے بھارتی کرنل سمیت 20 فوجیوں کو مار دیا تھا، بھارت چین کے معاملے پر خاموش رہا،کبھی دھمکیاں بھی دیتا رہا لیکن چین بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دیتا رہا،چین نے گھس کر بھارتی زمین پر لداخ میں قبضہ کیا جس کو تاحال بھارت چھڑا نہیں سکا،

    لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

    مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

    لداخ سے ذرائع کے مطابق گھس کر مارنے کی بھڑکیں مارنے والے بھارت کی آج کل بولتی بند ہے، اس کی وجہ سکم اور لداخ کی سرحد پر چینی فوج کی وہ نقل وحرکت ہے جس سے بھارتی فوج اور مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان

    چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت

    چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

    سرد موسم ،لداخ میں بھارتی فوج مشکل میں،بھارتی فوجی حکام نے چین کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے

    پاکستان اور چین کے دفاعی یونٹس پر سائبر حملے کرنے والا بھارتی گروہ بے نقاب

  • سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) ڈاکٹر فاروق ستار کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش

    سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) ڈاکٹر فاروق ستار کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش

    یکم فروری 2021:سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش۔ گذشتہ دو ماہ چوتھی مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ انتہائ قابل مذمت ہے, ڈاکٹر فاروق ستار۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ براہ راست غریب و متوسط طبقے کے عوام پر پڑا ہے۔ کاروباری حضرات و سرمایہ دار اشیائے ضروریہ مہنگی کرکے اپنا بوجھ کم کرلیتے ہیں, بدترین مہنگائی کا شکار بالخصوص تنخواہ دار و روزانہ اجرت کے غریب عوام بنتے ہیں۔انتہائ مہنگائ کرکے عوام سے جینے کا حق اور سفید پوشی کا بھرم چھینا جارہا ہے .
    عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ دِکھا کر وزیر اعظم مصنوعی ریلیف کا احسان کرتے ہیں.ماضی میں پی ٹی آئ کی قیادت مہنگائ میں اضافے کو حکمرانوں کی چوری جتاکر استعفے طلب کرتی تھی, آج مہنگائ اور بین الاقوامی قرضوں میں ہوشرُبا اضافہ ہوگیا ہے لیکن وفاقی وزرا روز ٹی وی پرصرف ماضی کے حکمرانوں کو قصوروار ٹھہراتے دِکھائ دیتے ہیں. محض احتساب کے نعروں سے غریب عوام کے گھر نہیں چل سکتے, اسکے لیے وفاقی حکومت کو عمل کام کرنے ہوں گے, وزیر اعظم عوام پر رحم کھائیں اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو فوری واپس لیں.