Baaghi TV

Tag: مصنوعی ذہانت

  • امریکا اور یو اے ای کے درمیان جدیداے آئی چپس کی فراہمی کا معاہدہ

    امریکا اور یو اے ای کے درمیان جدیداے آئی چپس کی فراہمی کا معاہدہ

    امریکا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت یو اے ای، امریکی کمپنی Nvidia سے سالانہ پانچ لاکھ جدید اے آئی چپس درآمد کرے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق معاہدے پر رواں سال سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔یہ معاہدہ مصنوعی ذہانت اے آئی کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی دوڑ کا حصہ ہے اور اس کا مقصد یو اے ای میں جدید ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کو فروغ دینا ہے تاکہ اے آئی ماڈلز کی ترقی میں تیزی لائی جا سکے۔تاہم، اس معاہدے نے امریکی حکومت کے بعض حلقوں میں قومی سلامتی کے حوالے سے تحفظات کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، معاہدے کی کچھ شرائط میں ممکنہ تبدیلیاں متوقع ہیں تاکہ حساس ٹیکنالوجی کی برآمد پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔

    ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکا اور یو اے ای نے تکنیکی فریم ورک معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے، جس پر جمعرات کی رات کو دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ کس طرح حساس ٹیکنالوجی تک دیگر ممالک کی رسائی کو توازن میں رکھتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ جاری ہے۔

    پی ایس ایل 10، غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے پر آمادگی ظاہر کر دی

    گوگل نے 10 سال بعد اپنے لوگو کے "G” حرف کا ڈیزائن تبدیل کر دیا

    پاکستان کی حمایت،بھارت نے ترک کمپنی کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی

    پیٹرول اور ڈیزل سستا نہیں، مہنگا ہونے کا امکان

    ہم جنگ نہیں چاہتے مگر دفاع کرنا جانتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

  • متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت  کی تعلیم لازمی قرار

    متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم لازمی قرار

    متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم لازمی قرار دے دی گئی ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے آئندہ تعلیمی سال سے ملک بھر کے تمام سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کو لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔

    یہ فیصلہ یو اے ای کابینہ نے کیا جس کا اعلان نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران، شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کیا۔

    شیخ محمد بن راشد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سابقہ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اُس وقت کے لیے تیار کریں جو ہمارے وقت سے بالکل مختلف ہوگا، یہ فیصلہ یو اے ای کے جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد نئی نسل کو بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔

    کےجی کلاس سے گریڈ 12 تک اے آئی کا نیا نصاب متعارف کرا دیا گیا،یہ نیا نصاب وزارت تعلیم کی جانب سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی نظریات جیسے کہ ڈیٹا، الگوردمز، مشین لرننگ، اور ایپلیکیشنز، مصنوعی ذہانت کا سماجی اثر، اخلاقی پہلو، ڈیٹا پرائیویسی، اور الگوردمک فیئرنس شامل کیے گئے ہیں،یہ کورس تمام تعلیمی درجات میں مرحلہ وار اور عمر کے لحاظ سے کنڈرگارٹن (KG) سے لے کر گریڈ 12 تک موزوں طریقے سے پڑھایا جائے گا-

  • آرٹیفشل انٹیلی جنس ، تصوراتی گرل فرینڈ نے لاکھوں کا چونا لگا دیا

    آرٹیفشل انٹیلی جنس ، تصوراتی گرل فرینڈ نے لاکھوں کا چونا لگا دیا

    چین میں مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ گرل فرینڈ چونا لگا کر 28 ہزار ڈالر لے اڑی۔

    رپورٹ کے مطابق چین میں آن لائن اسکیمرز نے آرٹیفیشل انٹیلی جینس (اے آئی) کا استعمال کرتے ہوئے ایک شخص سے 28 ہزار ڈالر ہتھیا لیے۔ شنگھائی کے شہری کو اے آئی سے تیار کی گئی گرل فرینڈ کے ساتھ ’تعلق‘ کے باعث 28 ہزار ڈالر سے ہاتھ دھونے پڑے۔چینی نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق اسکیمرز نے اے آئی سافٹ ویئر استعمال کرتے ہوئے ایک لڑکی کی حقیقت پسندانہ ویڈیوز اور تصاویر تیار کیں۔ جنریٹو اے آئی سافٹ ویئر سے تیار کی گئی اس لڑکی’مس جیاؤ’ کا فرضی نام دیا گیا تھا۔

    اسکیمرز نے جعلی تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو قائل کیا کہ اس کی ’ گرل فرینڈ’ یعنی مس جیاؤ کو کاروبار شروع کرنے اور ایک رشتے دار کے علاج میں مدد کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔اس کے بعد متاثرہ شخص نے تقریباً دو لاکھ یوآن (لگ بھگ 28 ہزار ڈالر) ایک بینک اکاؤںٹ میں ٹرانسفر کیے جو ان کے خیال میں ان کی آن لائن محبوبہ کا اکاؤنٹ تھا۔رپورٹ کے مطابق اسکیمرز نےاپنے بچھائے گئے جال کو مزید مضبوط کرنے کے لیے جعلی آئی ڈی اور میڈیکل رپورٹس تک تیار کی تھیں۔

    پولیس کی تفتیش میں سامنے آیا کہ ایک اسکیمر ٹیم ویڈیوز اور تصاویر بھیج رہی تھی جو تمام یا تو اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھیں یا بہت سی تصاویر کو ملا کر بنائی گئی تھیں۔اس پورے عرصے کے دوران متاثرہ شخص لیو کی اپنی گرل فرینڈ جیاؤ سے کبھی دو بدو ملاقات نہیں ہوئی تھی اور ہوتی بھی کیسے؟’سی سی ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک ویڈیو میں خاتون کی مختلف انداز اور پس منظر میں تصاویر دکھائی گئی ہیں۔

    بڑھتے ہوئے اے آئی ٹولز ٹیکسٹ، تصاویر اور یہاں تک کے لائیو ویڈیوز بنانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں جس نے دنیا بھر میں اسکیمز اور دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ کرد یا ہے۔رواں ماہ کے اوائل میں امریکی سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے انٹرنیٹ صارفین کو خبردار کیا تھا کہ وہ آن لائن تعلقات سے محتاط رہیں کیوں کہ جنریٹو اے آئی کے استعمال کے ذریعے فراڈ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    صطفی عامر قتل کیس: آئی جی سندھ اورکراچی پولیس چیف وزیراعلیٰ ہاؤس طلب

    سندھ میں 13 جعلی ادویات کمپنیوں کے ناموں سے فروخت ہونے کا انکشاف

    صدر آصف زرداری کی لاہور آمد، نواز شریف سے ملاقات کا امکان

    مسلم لیگ ن نے سیاسی جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

    مسلم لیگ ن نے سیاسی جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

  • مصنوعی ذہانت کس طرح سفری صنعت میں  انقلاب لا رہی ہے، رپورٹ

    مصنوعی ذہانت کس طرح سفری صنعت میں انقلاب لا رہی ہے، رپورٹ

    مصنوعی ذہانت (اے آئی) سیاحت اور سفری صنعت کو نئی جہت دے رہی ہے، جہاں یہ سفر کی منصوبہ بندی، بکنگ، اور تجربات کو بدل کر رکھ رہی ہے وہیں ذاتی تجربات کی فراہمی سے لے کر ڈائنامک پرائسنگ اور ورچوئل اسسٹنٹس تک، اے آئی ٹیکنالوجی کا انضمام سفری صنعت میں ایک نئے دور کی شروعات کر رہا ہے۔

    ذاتی تجربات: انفرادی ضروریات کے مطابق سفر کی تشکیل

    مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا کارنامہ سفری صنعت میں ذاتی تجربات فراہم کرنا ہے۔ جدید الگورتھمز صارفین کی براؤزنگ ہسٹری، بکنگ پیٹرنز، اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ ان کے لیے منفرد اور ذاتی نوعیت کی تجاویز دی جا سکیں۔
    مثال کے طور پر، KAYAK نے چیٹ جی پی ٹی کو اپنے سسٹم میں شامل کیا ہے تاکہ صارفین کو بہتر اور زیادہ قدرتی انداز میں تلاش کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    KAYAK کے چیف سائنٹسٹ میتھیاس کیلر کے مطابق، “یہ فیچر صارفین کو ہماری سرچ انجن کے ساتھ زیادہ قدرتی اور گفتگو پر مبنی انداز میں رابطہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔” صارفین اب ایسے سوالات کر سکتے ہیں جیسے، “لندن سے اپریل میں £300 سے کم میں کہاں کا سفر کیا جا سکتا ہے؟” اور فوری طور پر ڈیٹا پر مبنی جوابات حاصل کر سکتے ہیں۔

    ڈائنامک پرائسنگ: بچت اور آمدنی میں اضافہ

    مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈائنامک پرائسنگ سفر کی بکنگ کے انداز کو بدل رہی ہے۔ یہ الگورتھمز حقیقی وقت میں طلب، موسمی حالات، اور صارفین کی ترجیحات جیسے عوامل کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ قیمتوں کی حکمت عملی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف صارفین کو مناسب قیمتوں پر خدمات ملتی ہیں بلکہ کمپنیوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔KAYAK جیسے ٹولز کے ذریعے صارفین قیمتوں کا موازنہ کر سکتے ہیں اور سفر کے لیے بہترین وقت کی پیش گوئی کر سکتے ہیں، جس سے فیصلہ سازی آسان ہو جاتی ہے۔

    چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس: کسٹمر سروس کا مستقبل

    اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس سفری صنعت میں کسٹمر سروس کو بہتر بنا رہے ہیں۔ یہ نظام نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) کے ذریعے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے، ریزرویشن کرنے، اور متعدد زبانوں میں تجاویز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    Expedia کا اے آئی اسسٹنٹ “رومی” ایک ٹریول ایجنٹ، کنسیئر، اور ذاتی اسسٹنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ حقیقی وقت میں سفر کے شیڈول کی معلومات دیتا ہے اور موسم جیسی رکاوٹوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔KAYAK کے کیلر کے مطابق، “صارفین کو اب معلومات تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، انہیں درست جوابات فوری طور پر مل جائیں گے۔”

    اے آئی اور عالمی سفری صنعت

    مصنوعی ذہانت کے مسلسل ارتقا کے ساتھ، اس کی ایپلیکیشنز عالمی سفری صنعت کو بدل رہی ہیں۔ ذاتی تجربات، ڈائنامک پرائسنگ، اور اسمارٹ اسسٹنٹس کے انضمام سےاے آئی نہ صرف کارکردگی کو بڑھا رہا ہے بلکہ صارفین کے اطمینان میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔

    چیلنجز اور مستقبل کا راستہ

    اگرچہ مصنوعی ذہانت کے مواقع بے پناہ ہیں، لیکن یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا AI انسانی سفری ایجنٹس کے ذاتی لمس کی جگہ لے سکتا ہے؟ یا یہ ان کے تجربے کو مکمل کرے گا؟ امکان یہی ہے کہ ایک ہائبرڈ ماڈل اپنایا جائے گا، جہاں اے آئی معمول کے کام سنبھالے گا اور انسانی ایجنٹس پیچیدہ اور زیادہ اہم معاملات پر توجہ دیں گے۔

    اختتام

    مصنوعی ذہانت محض ایک رجحان نہیں بلکہ سفری صنعت میں ایک انقلاب ہے۔ ذاتی تجربات کو بہتر بنا کر، قیمتوں کو بہتر بنا کر، اور کسٹمر سروس کو آسان بنا کر اے آئی سفر کے تجربات کے نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اس کا سفری صنعت میں انضمام سفر کی منصوبہ بندی اور تجربے کو زیادہ بدیہی، موثر، اور دلچسپ بنائے گا۔

    پاک افغان شاہراہ پر حادثہ، 25 افراد زخمی، سیکورٹی فورسز کی بروقت امداد

    پاکستان کے موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تشویشناک ہے،وفاقی وزیر خزانہ

  • دنیا کے امیر ترین لوگوں کی آرٹیفشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی تصاویر وائرل

    دنیا کے امیر ترین لوگوں کی آرٹیفشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی گئی تصاویر وائرل

    دنیا کے امیر ترین لوگوں کی آرٹیفشل انٹیلی جنس کی مدد سے بنائی گئی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں-

    باغی ٹی وی: مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ایک نوجوان آرٹسٹ نے دنیا کے امیر ترین لوگوں کو غریب بنا کر دکھایا جسے سوشل میڈیا پر مقبول ہو گئیں اور صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کئے جا رہے ہیں-

    بل گیٹس کی نواسی کے ساتھ پہلی تصویر وائرل

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت سے تعلق رکھنے والے گوکل پیلے نامی آرٹسٹ کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر دنیا کے امیر ترین لوگوں کی آرٹیفشل انٹیلی جنس کی مدد سے بنائی گئی تصویروں نے سب کو حیران کردیا۔

    آرٹسٹ کی جانب سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک، امریکی بزنس مین بِل گیٹس، بھارتی بزنس مین مکیش امبانی اور فیس بک کے مالک مارک زکربرگ و دیگر کی تصاویر شیئر کی گئیں۔

    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت …

    ان تصاویر پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کئے زیادہ ترصارفین نے ایلون مسک پر تبصرے کئے ایک صارف نے لکھا کہ ایلون مسک غریبی میں بھی ہینڈسم دکھ رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ نریندر مودی رہ گیا ہےایک صارف نے لکھا کہ ایلون مسک تو ایسے لگ رہا ہے جیسے وزٹ کرنے آیا ہو ایک صارف نے لکھا کہ اگر میں غلط نہیں ہوں تو یہ سب کروڑ پتی ہیں-

    واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کو لےکر ایلون مسک اوربِل گیٹس مختلف رائےرکھتے ہیں۔ ایلون مسک کی جانب سے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے 1 ہزار ملازمین کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔ دوسری طرف بل گیٹس نے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کون لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روک دیا جائے۔

    گوگل سرچ انجن میں تبدیلی کا اعلان

  • مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹیکٹیکل طیارے کی کامیاب آزمائشی پرواز

    مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹیکٹیکل طیارے کی کامیاب آزمائشی پرواز

    کیلیفورنیا: مصنوعی ذہانت کی مدد سے 17 گھنٹے سے زائد کے دورانیے تک ایک ٹیکٹیکل تربیتی طیار ے کی کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی-

    باغی ٹی وی :ایرو اسپیس کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کیجانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز کےمطابق ایسا پہلی بار ہوا ہےکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹیکٹیکل طیارہ اڑایا گیا ہومصنوعی ذہانت نے ’ویری ایبل اِن-فلائٹ سِمیولیشن ٹیسٹ ایئرکرافٹ (VISTA)‘ چلایا جو دیگر طیاروں کی کارکردگی کی خصوصیات کی نقل کر سکتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ نے یہ طیارہ کیلیفورنیا میں یو ایس ایئر فورس ٹیسٹ پائلٹ اسکول میں قائم ایڈورڈز ایئر بیس میں ہونے والی ایک مشق میں اڑایا۔

    یہ طیارہ لاک ہیڈ مارٹن کے اسکنک ورکس ڈویژن نے یو ایس ایئر فورس اور کیلسپن کارپوریشن کے ساتھ مل کر تخلیق کیا ہے کمپنی کے مطابق یہ طیارہ آپریٹنگ اخراجات کو کم کرتا ہے اور تربیتی عمل کو بہتر بناتا ہے۔

    امریکی ایئر فورس کے ٹیسٹ پائلٹ اسکول کے ڈائریکٹر آف ریسرچ ڈاکٹر ایم کرسٹوفر کوٹنگ کا کہنا تھا کہ وسٹا کی مدد سے بغیر عملے والے نئے طیاروں میں مصنوعی ذہانت کی جدید تکنیک کے وجود میں آنے اور آزمائے جانے میں ہم آہنگی آئے گی۔

    انہوں نے کہا کہ نئے وہیکل سسٹمز کے بنتے ہی ساتھ یکسوئی سے آزمایا جانا اس فکر کے ساتھ مل کر بغیر عملے کے طیاروں کو تیزی سے خودمختار کرے گا اور ہمارے جنگی طیاروں کو نسبتاً بہتر صلاحیتیں فراہم کرے گا۔

  • مصنوعی ذہانت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مصنوعی ذہانت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ذہانت کیا ہے؟

    آج ہم جن روبوٹس کو اور کمپوٹرکے پروگرامز کو مصنوعی ذہانت دے رہیں وہ دراصل کیا ہے؟ ذہانت کی تعریف پیچدہ ہے مگر اس میں سب اہم جُز پیٹرن رکگنیشن ہے۔ یہ کیا ہے؟ فرض کریں آپکے سامنے ایک تصویر ہو جس میں ایک ہی قطار میں گلاب کے، چنبیلی کے اور ٹیولپ کے پھول پڑے ہوں مگر ایک خاص ترتیب میں۔

    اگر آپ میں یہ صلاحیت ہے کہ آپ یہ جان سکیں کہ یہ تمام پھول کونسے ہیں اور کس ترتیب میں پڑے ہیں اور اگر آپ اس بنیاد پر آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قطار کو لمبا کیا جائے تو باقی پھول کس ترتیب میں آئیں گے تو آپ پیٹرن رکگنیشن کر رہے ہیں۔

    انسان، جانور اور فطرت کے تمام جانداروں میں کسی نہ کسی درجے پر کسی نہ کسی عمل میں پیٹرن رکگنیشن پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور ایک بکری کے سامنے گوشت اور گھاس رکھی جائے تو وہ یہ بتا سکتی ہے کہ گوشت کونسا ہے اور گھاس کونسی۔ یہ سب وہ کس طرح سے کرتی ہے؟ سونگھ کر یا دیکھ کر یا چکھ کر۔

    مصنوعی ذہانت بھی دراصل پیڑن رکگنیشن پر قائم ہے۔ آپ ایک روبوٹ کو اس طرح سے پروگرام کرتے ہیں کہ وہ اپنے ماحول سے سیکھے، اس میں موجود پیڑنز کو پہچانے اور پھر اسکے مطابق کوئی فیصلہ کرے، خود کو ڈھالے، تبدیل کرے یا بہتر ہو۔ یعنی وہ اپنے اندر سیکھنے کے عمل سے خود تبدیلیاں رونما کر سکے۔ اسے مشین لرننگ کہتے ہیں۔

    بالکل ایسے ہی فیسبک یا یوٹیوب کے پیچھے کارفرما مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز آپکی کسی خاص طرح کی ویڈیوز کو دیکھنے، اُن پر وقت گزارنے یا اّن پر کمنٹس اور ری ایکشن کی بنیاد پر یہ سیکھتی ہے کہ آپ کس مزاج کے آدمی ہیں اور آپکو کونسی چیزیں متوجہ کرتی ہیں۔ لہذا ویڈیو ختم ہونے کے بعد وہ آپکے مزاج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپکو اگلی ویڈیو وہ تجویز کرے گا جسے دیکھنے کے آپکے قوی امکانات ہوں۔ یہ پیشنگوئی بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی جب آپ زیادہ سے زیادہ وقت ان پلیٹفرمز پر گزاریں گے۔

    جتنا زیادہ ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کے پاس آپکا ہو گا، وہ اّتنا صحیح اندازہ آپکے بارے میں لگائے گا۔ یہ سب کرنے کے پیچھے ان کمپنیوں کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ وقت فیسبک یا یوٹیوب پر گزار سکیں اور زیادہ سے زیادہ اشتہارات دیکھ سکیں تاکہ ان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو اشتہارات کی مد میں کمائی ہو۔ جسکی بنیاد پر یہ چل رہے ہوتے ہیں۔

    گویا مصنوعی ذہانت کسی نہ کسی شکل میں آپکے اردگرد موجود ہے اور آپکی زندگی اور سوچ پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ اور ایسے ہی اپ بھی اُسے انسانوں کے بارے میں سکھا رہے ہیں۔

    دنیا کا مستقبل اب مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے جڑا ہے۔ آسکا ایک مقصد تمام شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر انہیں خودکار اور مزید موثر بنانا ہے۔ مثال کے طور پر انکی بدولت ہم آج موسم کی صورتحال، سیلاب کی یا طوفان کی پیشنگوئیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں کہ یہ موسموں کے پیٹرنز کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔

    اسی طرح طب کے شعبے میں مختلف بیماریوں جیسے کہ کینسر می تشخیص میں بھی مریض کے اعضا کی لی گئی تصاویر کو دنیا بھر کے کینسر کے مریضوں کی تصاویر کے ڈیٹا سے موازنہ کر کے پیٹرن دیکھا جا سکتا ہے کہ کینسر ہے یا نہیں۔

    مصنوعی ذہانت کے کئی فوائد ہیں مگر اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت انسانوں سے بھی آگے نکل جائے اور ہم اسے قابو کرنے میں ناکام رہیں۔ اس حوالے سے سائنس کی کمیونٹی اور محققین میں مخلتف آرا پائی جاتی ہے مگر سب اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کی تحقیق اور استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے تاکہ ان خدشات کو دور کیا جا سکے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس مستقبل میں دنیا پر قبضہ کر لیں ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال آپ فیسبک کی وہ ویڈیوز دیکھئے جو مصنوعی ذہانت اپکو تجویز کر رہی ہے۔

  • ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    شکاگو: سائنس دانوں نے90 فیصد درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنے والے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی سائنس” کے مطابق امریکا کی شیکاگو یونیورسٹی کے محققین نے یہ ماڈل ماضی کے جرم کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 1000 مربع فٹ کے رقبے میں جرائم کی پیش گوئی کے لیے تیار کیا۔ یہ ٹیکنالوجی امریکا کے آٹھ بڑے شہروں میں آزمائی گئی جن میں شیکاگو، لاس اینجلس اور فلیڈیلفیا شامل ہیں۔

    چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

    مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت میں پیشرفت نے حکومتوں کی دلچسپی کو جنم دیا ہے جو جرائم کی روک تھام کے لیے پیشین گوئی کرنے والی پولیسنگ کے لیے ان ٹولز کو استعمال کرنا چاہیں گی۔ جرم کی پیشن گوئی کی ابتدائی کوششیں متنازعہ رہی ہیں، تاہم، کیونکہ وہ پولیس کے نفاذ میں نظامی تعصبات اور جرائم اور معاشرے کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔

    شکاگو یونیورسٹی کے ڈیٹا اور سماجی سائنسدانوں نے ایک نیا الگورتھم تیار کیا ہے جو پرتشدد اور املاک کے جرائم پر عوامی ڈیٹا سے وقت اور جغرافیائی مقامات کے نمونوں کو سیکھ کر جرائم کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ماڈل تقریباً 90% درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے مستقبل کے جرائم کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    ایک الگ ماڈل میں، تحقیقاتی ٹیم نے واقعات کے بعد گرفتاریوں کی تعداد کا تجزیہ کرکے اور مختلف سماجی اقتصادی حیثیت کے ساتھ محلوں کے درمیان ان شرحوں کا موازنہ کرکے جرائم کے خلاف پولیس کے ردعمل کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ امیر علاقوں میں جرائم کے نتیجے میں زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ پسماندہ علاقوں میں گرفتاریاں کم ہوئیں۔ غریب محلوں میں جرم زیادہ گرفتاریوں کا باعث نہیں بنتا، تاہم، پولیس کے ردعمل اور نفاذ میں تعصب کی نشاندہی کرتا ہے۔

    یونیورسٹی آف شیکاگو کے پروفیسر اِشانو کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے شہری ماحول کا ایک ڈیجیٹل جڑواں بنایا ہے۔ اگر اس میں ماضی میں ہونے والے وقوعات کا ڈیٹا ڈالا جائے تو یہ آپ کو بتادے گا کہ مستبقل میں کیا ہونے جارہا ہے۔ یہ جادوئی نہیں ہے، اس کی حدود ہیں تاہم سائنس دانوں نے اس کی تصدیق کردی ہے۔

    یہ آلہ 2002 کی فل مائناریٹی رپورٹ میں دِکھائی گئی ایک ٹکنالوجی کی یاد تازہ کرتا ہے، ایسی ہی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی جاپان میں شہریوں کو ان علاقوں کے متعلق بتانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے جہاں جرائم کا تناسب زیادہ ہے۔

    تازہ ترین تحقیق کی تفصیلات سائنسی جرنل نیچر ہیومن بیہیویئر میں شائع کی گئیں ہیں۔

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

  • انسٹاگرام پرعمر کی جانچ کے لئے مصنوعی ذہانت کا آپشن پیش

    انسٹاگرام پرعمر کی جانچ کے لئے مصنوعی ذہانت کا آپشن پیش

    کیلیفورنیا:انسٹاگرام صارفین کے لیے ان کی عمر کی تصدیق کے لیے نئے طریقوں کی جانچ کر رہا ہے، جس میں ایک تھرڈ پارٹی کمپنی یوٹی کا بنایا ہوا اے آئی ٹول بھی شامل ہے، جو صرف اپنے چہرے کو اسکین کرکے اندازہ لگاتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا کمپنی نے بالخصوص چھوٹے بچوں کو ناخوشگوار آن لائن تجربات سے بچانے کے لیے عمر کی شناخت کے نئے آپشن اور ٹول پیش کئے ہیں ان میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو بھی استعمال کیا جائے گا فی الحال میٹا نے کسی شخص کی عمر معلوم کرنے کیلئے دو طریقوں کا انکشاف کیا ہے جس کے ساتھ صارفین کو آن لائن اپنی شناخت کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔

    واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    سرکاری طور پر، انسٹاگرام اکاؤنٹ کے لیے سائن اپ کرنے کے لیے آپ کی عمر کم از کم 13 سال ہونی چاہیے، لیکن برسوں تک کمپنی نے اس اصول کو نافذ کرنے کے لیے بہت کم کوشش کی۔ 2019 تک، اس نے نئے صارفین سے ان کی تاریخ پیدائش پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کی-

    اس معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کرنے دیں۔ پرائیویسی اور چائلڈ سیفٹی ماہرین کی جانب سے انگاروں پر تنقید کرنے کے بعد، اگرچہ، انسٹاگرام نے زیادہ سے زیادہ عمر کی توثیق کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ کم عمر صارفین کو بڑوں سے الگ کرنے کے طریقے متعارف کرائے ہیں-

    میٹا میں ڈیٹا گورنسس کی سربراہ ایریکا فنِکل نے بتایا کہ جب ہمیں13 سے 17 برس کے صارفین کا پتا چلتا ہے تو ہم مناسب اقدامات کے تحت ان کا دائرہ مختصر کرتے ہیں، ان میں اکاؤنٹ کو پرائیوٹ رکھنے، بالغان سے غیرضروری گفتگو میں کمی اور اشتہارات تک رسائی میں احتیاط کی جاتی ہے-

    فی الحال، انسٹاگرام صارفین سے اپنی عمر کی تصدیق صرف اس وقت کرنے کے لیے کہتا ہے جب نوجوان اپنی تاریخ پیدائش میں ترمیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انھیں 18 سال یا اس سے زیادہ دکھایا جائے۔ اپنی عمر کی تصدیق کے لیے، صارفین مختلف شناختی کارڈز کی تصاویر بھیج سکتے ہیں تاہم یہ تجربہ امریکا میں ہی جاری کیا گیا ہے اور شاید بعد میں اسے دیگر ممالک تک وسیع کیا جائے گا۔

    ایپل اور گوگل معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    انسٹاگرام نے یوٹی نامی کمپنی سے رابطہ کیا ہے جو آن لائن صارفین کی عمر کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ اسی طرح جب 18 برس سے کم عمر کے صارفین انسٹاگرام پر اپنی ویڈیو یا سیلفی اپ لوڈ کریں گے یوٹی کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگرام چہرے کے خدوخال دیکھ کر عمر کا اندازہ کرے گا۔ اس عمل میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ لرننگ بھی شامل ہوگی۔ اگر صارف کی عمر 18 برس سے کم ہوگی تو یوٹی اور میٹا اس عکس یا ویڈیو کو ازخود ہٹادیں گے۔

    دوسرا آپشن یہ ہے کہ صارف تین مشترکہ دوستوں کی عمر معلوم کرے گا اور اس کا نگراں کم ازکم 18 برس کا کوئی فرد ہوگا۔

    گزشتہ برس انسٹاگرام نے بچوں کے لیے اپنی منفرد ایپ پیش کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر بہت شدید تنقید کی گئی تھی۔ انسٹاگرام نے بتایا کہ انسٹاگرام کڈزکے لیےوالدین کی رضامندی لازمی تھی اوراس میں اشتہارات سےپاک صاف ستھرا مواد ہی دکھایا جاتا تھالیکن اس کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر شدید تنقید کی تھی-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

  • انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    برسلز: ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد شہابیے یا آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں جتنے شہابیے ہیں ان کی 66 فیصد تعداد انٹارکٹیکا سے ہی اٹھائی گئی ہے سفید برف میں دبے گہرے رنگ کے پتھر آسانی سے شناخت کئے جاسکتے ہیں اب مصنوعی ذہانت سے پتا چلا ہے کہ شہابی پتھر کہیں بھی گریں ان پر مزید برف پڑتی رہتی ہے اور وہ خود برف کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن اس پر وہ رکتے نہیں اور کھسک کر براعظم کے کناروں تک پہنچتے رہتے ہیں اور وہاں جمع ہوجاتے ہیں اب انہیں تلاش کرنا قدرے آسان ہوگا-

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    اس مقام کو ’نیلی برف‘ کہا گیا ہے کیونکہ ہوا کے دوش پر برف ہلکی ہوتی ہے اور اس میں نیلی رنگت نمایاں ہوتی ہے اس سے پہلے بھی نیلی برف سے ہی شہابی پتھرملتے رہے ہیں۔

    جامعہ برسلز میں گلیشیئر کی ماہر ڈاکٹر ویرونیکا ٹولے نار اور ان کے ساتھیوں نے سیٹلائٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت سے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں شہابی پتھر موجود ہوسکتے ہیں سافٹ ویئر نے 83 فیصد درستگی سے 600 ایسے مقامات کی نشاندہی کی جہاں شہابئے موجود ہوسکتے ہیں ڈرون اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے وہاں شہابیوں کی شناخت کرکے انہیں با ہرنکالا جاسکتا ہے اس پورے نقشے کو خزانے کا نقشہ کہا گیا ہے۔

    پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    شہابی پتھر ہمارے نظامِ شمسی میں گھوم رہے ہیں اور ان کے ٹکڑے زمین کے پاس سے گزرتے ہوئےثقلی قوت سے زمین کی جانب لپکتے ہیں یہ اکثر فضا سے رگڑ کھاکر بھڑک اٹھتے ہیں اور روشنی کی ایک لکیر کی شکل میں بھسم ہوجاتے ہیں لیکن بعض پتھر زمین پر آگرتے ہیں ان کے مطالعے سے نظامِ شمسی کے ماضی اور خود اس کی تشکیل کی معلومات مل سکتی ہیں۔

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی