Baaghi TV

Tag: مصنوعی گوشت

  • مصنوعی گوشت !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مصنوعی گوشت !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آج سے کم و بیش دس سے گیارہ ہزار سال پہلے انسانوں نے کھیتی باڑی کرنا شروع کی۔ اس سے پہلے انسان شکار کئے جانور یا جنگلی پھل وغیرہ کھا کر اپنی بھوک مٹاتے۔ اس وجہ سے انسانی آبادی کم تھی۔ خوراک کے ذرائع محدود تھے۔ آج سے بارہ ہزار سال پہلے جب آئس ایج کا دور ختم ہوا تو گندم اور دیگر اناج کے پودے شدید موسم سے بچ کر زیادہ بہتر طور پر اُگنے کے قابل ہوئے۔ انسانوں نے کھیتی باڑی کر کے مستقل آبادیاں بنائیں۔ اب کھانے کے لیے شکار کی ضرورت کم ہو گئی مگر گوشت کھانا انسان نے نہ چھوڑا۔ جانوروں کو پالنا شروع کیا گیا۔ بکریاں، گائے، سور ان سب کو گوشت، دودھ, اُون وغیرہ کے لئے رکھا گیا۔ خوراک کے بہتر ذرائع سے انسان کی نشو و نما بہتر ہونے لگی۔ آبادی بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے انسانی آبادی چند ہزار سالوں میں لاکھوں سے اربوں میں چلی گئی۔

    آج جانوروں کا گوشت وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانوں نے مصنوعی چناؤ سے جانوروں کی ایسی نسلیں تیار کی ہیں جو کم وقت میں زیادہ گوشت اور زیادہ دودھ دیتی ہیں۔ مگر گوشت کی اس انڈسٹری سے ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ رہا یے۔ سائنسی جریدے نیچر کے مطابق محض جانوروں سے حاصل کردہ ایک کلوگرام بیف کے لئے اوسطاً 15 ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح گوشت کی انڈسٹری عالمی خوراک کی سالانہ کی پیداوار سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں میں 60 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔

    ماحولیاتی اثرات کے اس تناظر میں اور گوشت کی بڑھتی ہوئی کھپت کے پیشِ نظر اب جدید طریقوں سے گوشت بنانے کا سوچا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت لیبارٹری میں تیار کردا گوشت کے حوالے سے ہے۔
    اسے عرف عام میں Lab Grown Meat یا مصنوعی گوشت بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جسے گوشت کہتے ہیں وہ دراصل جانور کے پٹھے ہوتے ہیں۔ اس میں مسل ٹشوز اور چربی ہوتی ہے۔ مصنوعی گوشت کی تیاری کے عمل میں جانور کو مارے بغیر اسکے کچھ خلیے پٹری ڈش میں نکال کر اُنہیں خاص حالات اور خوراک مہیا کی جاتی ہے جس سے وہ بڑھتے ہیں اور کچھ وقت میں گوشت کا ٹکڑا بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے مصنوعی گوشت کا تصور 21 ویں صدی کے اوائل میں پیش کیا گیا۔ اس طرح سے لیبارٹری میں گوشت بنانے کے اور اسکے ذائقے کا موازنہ جانور سے حاصل کئے گئے گوشت سے کیا گیا۔ پہلے تجربوں میں اسے بنانا بے حد مشکل اور مہنگا تھا۔ لیب میں بنایا گیا ایک پاؤنڈ گوشت 3 لاکھ اور 30 ہزار ڈالر کا۔۔مگر وقت کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں بہتری کے باعث اسے بنانا سستا ہوتا گیا ۔ آج اسکی قیمت تقریباً 7 سے 8 ڈالر فی پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے۔ بہت سی نئی کمپنیاں آج اس طرح سے بنے مصنوعی گوشت کو سستا سے سستا اور کھانے کے لیے محفوظ بنا کر مارکیٹوں میں لانے کی کوشش میں ہیں۔ سنگاپور پہلا ملک ہے جہاں ایک امریکی کمپنی "جسٹ ایٹ”. کا تیار کردہ مصنوعی چکن مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ دیگر ممالک بھی عنقریب اس روش کو اپنائیں گے۔

    مصنوعی گوشت کی پیداوار سے ماحول پر برے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے کہ یہ طریقہ کار موثر ہے اور اس میں وسائل کا استعمال روایتی گوشت حاصل کرنے کے طریقے سے کم ہے۔ اسکے علاوہ بہت سے لوگ مستقبل میں یہ گوشت کھانا بھی چاہیں گے کیونکہ بقول اُنکے اس میں کسی جانور کی ہلاکت یا اس پر ظلم شامل نہیں۔

  • سپر مارکیٹ میں مصنوعی گوشت ، تیار خلا میں فروخت زمین پر

    سپر مارکیٹ میں مصنوعی گوشت ، تیار خلا میں فروخت زمین پر

    ماسکو: سپر مارکیٹ میں مصنوعی گوشت ، تیار خلا میں فروخت زمین پر ، اطلاعات کے مطابق روسی ماہرین نے نئی ٹیکنالوجی ایجاد کی جس کے ذریعے مصنوعی گوشت تیار کیا جائے گا اور یہ سپر مارکیٹ میں دستیاب بھی ہوگا۔روسی ماہرین کی طرف سے اس حوالے سے یہ کہا گیا ہےکہ خلا میں کیے جانے والے تجربے کے نتیجے میں خرگوش، مچھلی کے گوشت کی پیداوار تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے کی گئی تھی اور اب اسے زمین پر فروخت کرنے کا ارادہ ہے۔

    مقبوضہ کشمیربدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 68 واں دن ، ظلم جاری مگر کب تک؟

    ایلف فارم کے سربراہ ڈیڈیئر ٹوبیا نے مصنوعی گوشت کے تجربے کے لیے خلیات فراہم کیے، اس سے قبل مصنوعی گوشت سے پہلا برگر ہالینڈ کے سائنسدان نے 2013 میں بنایا تھا۔اس کی لاگت بہت زیادہ بتائی گئی ہے ، اس مصنوعی گوشت کو چکھنے کا کام ہوچکا ہے اور ماہرین کی خواہش ہے کہ جتنا جلد ہوسکے اسے مارکیٹ میں بھیجا جاسکے۔

    ہیروں سے مزین،کروڑوں روپے کی مالیت کی گھڑی چوری ہوگئی

    روسی ادارے کے سی ای او فورک اینڈ گڈی نیا گپتا نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اسے کس قیمت پر فروخت کرنا چاہیں گے، جس کے جواب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ سپر مارکیٹ کے شیلفوں میں تیار گوشت کی آمد مناسب قیمتوں میں ہوگی۔جبکہ اس مصنوعی گوشت پر تبصرہ کرتے ہوئے متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ اس میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پیش آئے گی کیونکہ اس شعبے نے 2018 میں مجموعی طور پر 73 ملین ڈالر میں راغب کیا تھا۔

    بیت الخلاء میں‌سیلفی لوانعام پاو، نئی سکیم متعارف کروادی گئی