Baaghi TV

Tag: مظاہرین

  • سندھ حکومت کا کراچی میں مظاہرین کی ہلاکت پر جے آئی ٹی بنانے کا اعلان

    سندھ حکومت کا کراچی میں مظاہرین کی ہلاکت پر جے آئی ٹی بنانے کا اعلان

    کراچی : سندھ حکومت نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ کے واقعے پر جے آئی ٹی بنانے کا اعلان کردیا۔

    سندھ حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جے آئی ٹی اس امر کا تعین کرے گی کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا، اس کے اسباب کیا تھے،حکومت سندھ امریکی قونصل خانے میں مظاہرین کے داخلے اور تصادم میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے بیرونی سیکیورٹی حصار کو عبور کرتے ہوئے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔ افسوسناک صورتحال میں چھ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے حکومت شہریوں کے جمہوری اور آئینی حق احتجاج کا احترام کرتی ہے، پر امن ماحول کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ، تشدد یا قانون ہاتھ میں لینا مناسب عمل نہیں-

    ایران کی عبوری قیادت کونسل تشکیل ، آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار صرف پر امن اور قانو نی طریقے سے کریں، جے آئی ٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ واقعہ کس طرح پیش آیا، محرکات کیا تھے اور ذمہ دار کون ہے، حکومت حالات کو کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے، تمام شہریوں کو پرامن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کروانے کا حق حاصل ہے، قانون کو کسی بھی صورت ہاتھ میں نہ لیا جائے۔

    واضح رہے کہ راچ میں امریکی قونصل خانے کے قریب ہنگامہ آرائی کے دروان فائرنگ کے نیتجے میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت پر کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والا احتجاج اس وقت کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے، مظاہرین کی امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس سے جھڑپوں میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    ایران نے وزیر دفاع آرمی چیف کی موت کی تصدیق کردی

    مائی کولاچی روڈ پر امریکن قونصلیٹ کے قریب ہنگامہ آرائی اور ایم ٹی خان روڈ پر مظاہرین کے پتھراؤ کے بعد پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی، سلطان آباد پُل کے نیچے ٹریفک پولیس چوکی کو بھی آگ لگا دی گئی پولیس کی جانب سے مجمع کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا، تاہم صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب مظاہرین مبینہ طور پر قونصل خانے کا دروازہ توڑ کر احاطے کے اندر داخل ہو گئے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے اور قونصلیٹ کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ اب بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    دوسری جانب کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے باعث شہر کے اہم ترین تجارتی و سفارتی زون میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہےٹریفک پولیس کے مطابق احتجاج کے پیشِ نظر سلطان آباد سے مائی کولاچی جانے والی سڑک دونوں اطراف سے بند کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہے۔

    شہادت کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے خصوصی پیغام جاری

    شہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک پولیس نے متبادل روٹس جاری کیے ہیں، جناح برج سے آنے والی ٹریفک کو آئی آئی چندریگر روڈ کی طرف موڑ دیا گیا ہے بوٹ بیسن سے آنے والی ٹریفک کو مائی کولاچی پھاٹک سے یوٹرن کروایا جا رہا ہے، پی آئی ڈی سی سے آنے والی ٹریفک کو پارک کٹ سے واپس بھیجا جا رہا ہے، پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متبادل راستوں کا انتخاب کریں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

  • عظیم ریلیوں نے غیر ملکی دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا،خامنہ ای

    عظیم ریلیوں نے غیر ملکی دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا،خامنہ ای

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں پر قوم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عظیم ایرانی قوم نے آج ایک تاریخی دن رقم کیا ہے آج کی عظیم ریلیوں نے غیر ملکی دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمن قوتیں ایران کے خلاف سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اندرونی کرائے کے ایجنٹوں کو استعمال کرنا چاہتی تھیں، تاہم ایرانی عوام نے بھرپور شعور، اتحاد اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا، عظیم ایرانی قوم نے دشمنوں کے مقابلے میں نہ صرف اپنے مضبوط ارادے بلکہ اپنی قومی شناخت کا بھی بھرپور اظہار کیا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ آج کے یہ مظاہرے دراصل امریکی سیاست دانوں کے لیے ایک واضح پیغام اور انتباہ ہیں۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف اپنے اقدامات فوری طور پر روکے اور خطے میں اپنے آلہ کاروں پر بھروسہ کرنا ترک کرے،ایرانی قوم مضبوط، طاقتور اور باخبر ہے، دشمن کو اچھی طرح پہچانتی ہے اور اس کے عزائم سے مکمل آگاہ ہےایرانی عوام دشمن کے خلاف ہمیشہ میدان میں موجود رہی ہے اور آئندہ بھی اپنی خودمختاری، آزادی اور قومی وقار کے دفاع کے لیے ہر محاذ پر ڈٹی رہے گی۔

    واضح ر ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں ایرانی حکومت کے حق میں بڑا عوامی مظاہرہ ہوا جس میں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی، امریکی ممکنہ حملے کے خدشات کے پیش نظر ایرانی عوام یک زبان ہو گئے، ملک بھر میں حکومت کی حمایت میں ریلیوں کا آغاز ہو گیا۔ دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

    ریلیوں میں شریک مظاہرین نے حکومت کے حق میں نعرے لگائے جبکہ امریکا مخالف نعروں سے فضائیں گونج اٹھیں۔ عوام نے کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف ملکی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا مختلف شہروں میں ہونے والی ان ریلیوں میں عوام کی بڑی تعداد نے شر کت کی، جبکہ سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کیے گئے تھے،مظاہرے میں شریک مرد و خواتین نے ایرانی پرچم اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

  • ایرانی صدر کا مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم ٰ

    ایرانی صدر کا مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم ٰ

    تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک بھر میں جاری مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کو شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے باز رہنے کی ہدایت جاری کر دی کہا کہ پُرامن مظاہرین اور مسلح شرپسند عناصر کے درمیان فرق کیا جائے۔

    کابینہ اجلاس کے بعد ایرانی نائب صدر محمد جعفر نے بتایا کہ صدر پزشکیان نے سیکیورٹی اداروں کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم جو افراد اسلحہ، چاقو یا دیگر ہتھیاروں کے ساتھ پولیس اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات پر حملے کرتے ہیں، انہیں مظاہرین نہیں بلکہ شرپسند سمجھا جائے حکومت عوام کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے، تاہم ریاستی اداروں اور عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لےلیا ۔

    واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئی شہروں میں جاری ہیں اور ان مظاہروں کے دوران مختلف مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 تک پہنچ چکی ہے تہران میں پولیس نے بعض علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    
برطانیہ کی سائیکلنگ ٹیم مکہ سے مدینہ تک دل کے مریض بچوں کے لیے سفر کرے گی

    دوسری جانب ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کی مبینہ حمایت پر خاموش نہیں رہے گا، ملک کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین مسلح اور ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا،زخمی ایس ایچ او

    پی ٹی آئی مظاہرین کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے ایس ایچ او طاہر اقبال کا کہنا ہے کہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایس ایچ او تھانہ نیو ائیرپورٹ طاہر اقبال کا کہنا تھا کہ 24 نومبر 2024 کو میں لا اینڈ آرڈر کیلئے موٹروے پر تعینات تھا، رات تقریباً 11 بجے پرتشدد مظاہرین سے ہمارا سامنا ہوا یہ تمام مظاہرین آتشی اسلحہ سے لیس تھے جبکہ ہم انہیں بغیر اسلحہ کے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسی دوران آس پاس کی پہاڑیوں پر موجود شرپسند جن کے پاس آتشی اسلحہ تھا وہ ہم پر حملہ آور ہوئے اور ان تمام شرپسندوں کے پاس تیس بور رائفل اور پسٹل تھے۔ ان شرپسندوں نے پہاڑوں پر آگ لگائی اور فائرنگ کرتے ہوئے ہماری جانب بڑھنے لگے،شرپسندوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کھائی میں پھینک دیا جس سے میرا بازو فریکچر ہو گیا اور دیگر چوٹیں بھی آئیں اسی دوران ڈی پی او کے اسکواڈ نے مجھے کھائی سے ریسکیو کیا، اگر ایسا بروقت نہ کیا جاتا تو شاید آج میں یہاں موجود نہ ہوتا آج میں نے ایک بار پھر اپنی ڈیوٹی کو جوائن کرلیا ہے اور میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پرعزم ہوں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو پی ٹی آئی کی فائنل کال احتجاج کے دوران اسلام آباد میں پی ٹی آئی مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ شرپسندوں کے حملوں کے نتیجے میں تین رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا تھا۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • اڑھائی ہزار مظاہرین حراست میں، قانون کے مطابق سزا دی جائیگی

    اڑھائی ہزار مظاہرین حراست میں، قانون کے مطابق سزا دی جائیگی

    پرامن جلسہ یا احتجاج ہر جماعت کا جمہوری حق ہے۔ احتجاج کے دوران پر تشدد واقعات سے دہشتگردی کا عنصر شامل ہو گیا جس کی ہر پاکستانی مذمت کرتا ہے۔ پاکستانی قوم ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عسکری قیادت یا پاک فوج کے کسی اہلکار کو برا بھلا کہے۔

    یہ بات صوبائی وزیر ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ، اوقاف و مذہبی امور بیرسٹر سید اظفر علی ناصر نے گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کی۔ انھوں نے کہاکہ جناح ہاؤس،جی ایچ کیو، جوڈیشل اور عسکری کمپلیکس پرحملے کیے گئے۔ کون سی سیاسی جماعت احتجاج کے دوران ایمبولینس اور پولیس کی وین کو آگ لگاتی ہیں۔ تحریک طالبان کی طرح انھوں نے بھی فوجی ٹارگیٹس کو فوکس کیا۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ اڑھائی ہزار کے قریب مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن کے قانون کے مطابق سزا دی جائیگی۔ اب دیکھنا ہوگا کہ کن لوگوں نے مظاہرین کو اکسا کر اپنی ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ان کی ہمت کیسے ہوئی کے آپ سرکاری املاک کو چھْو بھی سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہاکہ ہمارے آئین میں نگران حکومت کو نوے دن میں الیکشن کا کہا گیا ہے لیکن نگران حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تابع ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن کی تاریخ کا تعین کرنا ہوتا ہے جس پر نگران حکومت کا کام شفاف الیکشن کروانا ہوتا ہے۔ لیکن آئین میں نوے دن کے بعد حکومت کا کوئی ذکر نہیں، اس پر آئین خاموش ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جس دن الیکشن ہوتا ہے نگران حکومت چلی جاتی ہے۔ ایسا بلکل بھی نہیں ہے، جب تک قائد ایوان کا انتخاب نہیں کر لیا جاتا نگران حکومت قائم رہتی ہے۔ جب تک الیکشن نہیں ہوجاتے اور اگلی حکومت نہیں آجاتی نگران حکومت کام کرتی رہتی ہے

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

  • ایران:مزید 2 مظاہرین کو پھانسی دیدی گئی

    ایران:مزید 2 مظاہرین کو پھانسی دیدی گئی

    تہران: ایران میں مھسا امینی کی پولیس کی زیر حراست ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 2 مظاہرین کو سیکیورٹی فورسز کے قتل کے الزام میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی عدلیہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم پر دو افراد محمد مہدی کرامی اور سید محمد حسینی کو پھانسی دیدی گئی۔

    رینجرز کو اسٹریٹ کرائم روکنے کے اختیارات ملنے چاہیے،حافظ نعیم

    بیان کے مطابق ان دونوں نے ایک نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر احتجاج کے دوران پیرا ملٹری فورس کے اہلکار کو برہنہ کرکے بہیمانہ تشدد کیا تھا جس سے اہلکار کی موت واقع ہوگئی تھی۔عدالت نے ان دونوں کو شفاف تحقیقات اور تمام تر قانونی چارہ جوئی مکمل کرنے کے بعد اکتوبر میں ہونے والی سماعت میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران پیرا ملٹری فورس کے ایک اہلکار روح اللہ عجمیان کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا تھا۔

    میرے ایک دوست کو 2 کالے ویگو میں کچھ لوگوں نے لاہور میں اٹھا لیا،مونس الہیٰ کا…

    بیان میں مزید کہا گیا کہ بعد ازاں ملک کی سپریم کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی لہذا آج صبح سزا پر عمل درآمد کردیا گیا اور میتیں ضروری کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کردی گئیں۔

     

    خیال رہے کہ رواں برس 8 دسمبر کو ہی محسن شکاری نامی سوشل ورکر کو عدالت کے حکم پر ’خدا کے ساتھ دشمنی‘ کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔ انھیں مھسا امینی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ایران میں گزشتہ برس 18 ستمبر کو کرد نوجوان لڑکی مھسا امینی کو حجاب درست طریقے سے نہ لینے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ دوران حراست مبینہ تشدد کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی تھی تاہم پولیس نے تشدد کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکی کی ہلاکت کی وجہ دل کا دورہ پڑنا تھا۔

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی اجلاس میں اعتماد کا ووٹ نہ لینے کا فیصلہ

    مھسا امینی کی ہلاکت پر ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جو پوری دنیا میں پھیل گئے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے مغربی قوتیں ہیں جو ایران کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کرگئی ہے جن میں 46 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں جب کہ 14 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

  • پیرو میں صدر کی معزولی کے بعد پرتشدد مظاہرے،نئی حکومت کا 30 روزہ ہنگامی حالت نافذ کر نے کا اعلان

    پیرو میں صدر کی معزولی کے بعد پرتشدد مظاہرے،نئی حکومت کا 30 روزہ ہنگامی حالت نافذ کر نے کا اعلان

    صدر پیڈرو کاسٹیلو کی معزولی کے بعد پیرو کی نئی حکومت نے پرتشدد مظاہروں سے نمٹنے کے لیے 30 روزہ ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی دی گارجئین کے مطابق وزیر دفاع نےاعلان کیا ہے کہ پولیس، مسلح افواج کے تعاون سے، ذاتی املاک، اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور تمام پیرو باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گی ہنگامی حالت کے دوران شہری ایک جگہ جمع یا نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔

    کیمبرج ڈکشنری نے "مرد” اور "عورت” کی تعریف بدل دی

    اعلامیہ میں پولیس کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ بغیر اجازت یا عدالتی حکم کے لوگوں کے گھروں کی تلاشی لے۔ اوتارولا نے کہا کہ رات کا کرفیو بھی لگایا جا سکتا ہے۔

    پیرو کے وزیر دفاع لوئس اوٹرولا نے کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ آنے کے بعد ٹویٹ کیا کہ اس اقدام کے ساتھ، ہم نظم و ضبط، اقتصادی سرگرمیوں کے تسلسل اور لاکھوں خاندانوں کے تحفظ کی ضمانت چاہتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کرفیو لگایا جائے گا یا نہیں۔

    مظاہرین نے پیرو کے دارالحکومت اور بہت سی دیہی علاقوں میں راستوں کو بند کر دیا ہےمظاہرین نے سابق صدر پیڈرو کاسٹیلو کی آزادی، نئی صدر ڈینا بولوارتے کے استعفے، نئے صدر کے انتخاب اور کانگریس کے تمام اراکین کو تبدیل کرنے کے لیے عام انتخابات کے فوری شیڈولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔

    پیرو کی نئی صدر دینا بولوارتے نے مظاہرین سے پرسکون رہنے کی التجا کی ہے۔ انہوں نے فوری انتخابات کے مطالبے سے متعلق کہا ہے کہ انتخابات ایک سال بعد ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے تعاون سےقومی پولیس ذاتی املاک اور سب سے بڑھ کر، سٹریٹجک انفراسٹرکچر اور تمام پیرو باشندوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے قومی سرزمین پر کنٹرول کو یقینی بنائے گی۔

    چینی حکومت نے مانچسٹر قونصل جنرل سمیت 6 اہلکاروں کو ہٹا دیا

    یہ اقدام پیرو کے نئے صدر دینا بولارتے کے خلاف ایک ہفتے کی مہلک بدامنی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں مظاہرین نے تمام قانون سازوں کی تبدیلی اور کاسٹیلو کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا، جنہیں کانگریس کو تحلیل کرنے اور حکم نامے کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کے بعد جبری طور پر نکال دیا گیا تھا۔ کرپشن کے الزامات پر مواخذے سے گریز کریں۔

    پیرو کے وسطی اینڈیس کے شہر جنین سے دارالحکومت لیما میں مظاہرے کیلئے آنے والے 32 سالہ تعمیراتی کارکن رونال کیریرا نے کہا کہ سب سے پہلے، ہم دینا بولوارٹ کو نہیں پہچانتے وہ ایک بغاوت کی رہنما ہیں، آج تک ہمارے صدر پیڈرو کاسٹیلو ہیں اب ہم ان کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پہلے ہفتے میں کم از کم آٹھ افراد جن میں سے پانچ نوعمر تھے پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے قومی گروپوں کی جانب سے پولیس کے جبر کے الزامات کے درمیان ان سب کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔

    امریکا کی شہریت لینے کے امتحان کا طریقہ تبدیل کرنے کا منصوبہ

    "پیرو خون سے بہہ نہیں سکتا،” بولوارتے نے بدھ کو کہا کہ ہم پہلے ہی 80 اور 90 کی دہائیوں میں اس تجربے سے گزر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ ہم اس تکلیف دہ تاریخ کی طرف واپس نہیں جانا چاہتے ہیں۔” وہ شائننگ پاتھ گوریلوں کے ساتھ ملک کے خونریز اندرونی تنازعہ کا حوالہ دے رہی تھیں جس میں پیرو کے لگ بھگ 70,000 شہری مارے گئے تھے۔

    بولوارتے نے مزید کہا کہ عام انتخابات دسمبر 2023 میں ہو سکتے ہیں۔ ایک سابقہ ​​اعلان کہ انتخابات دو سال آگے اپریل 2024 تک کرائے جائیں گے، پیر کے روز ہونے والے مظاہروں کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا، جس نے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے درمیان ملک بھر میں سڑکیں اور ہوائی اڈے مفلوج کر دیے، جس میں تھانوں، ریجنل پراسیکیوٹرز اور ٹیکس دفاتر کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

  • عراقی مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گئے

    عراقی مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گئے

    بغداد:عراق کے دارالحکومت بغداد میں شیعہ سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامیوں نے ایران کے حمایت یافتہ امیدوار کی بطور وزیراعطم نامزدگی کے خلاف پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔

    جس وقت مظاہرین بغداد کے ہائی سیکیورٹی والے علاقے گرین زون میں پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہوئے اُس وقت وہاں اسمبلی کا کوئی رکن موجود نہیں تھا، پولیس نے مظاہرین کو روکنے کیلے واٹر کینن اور اور سیمنٹ کے بلاکس کا استعمال کیا لیکن اسکے باوجود مظاہرین عمارت میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے۔

    مظاہرین کی جانب سے محمد شیعہ السوڈانی کی بطور وزیراعظم کے امیدوارنامزدگی پر احتجاج کیا جارہا ہے جو ایران کے حمایت یافتہ امیدوار ہیں، عراق میں اکتوبر 2021 میں ہونے والے الیکشن میں مقتدیٰ الصدر 73 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے 329 رکنی پارلیمنٹ میں سب سے بڑے گروپ کی حیثیت سے سامنے آئے تھے۔

    عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الخادمی نے مظاہرین سے فوری طور پر گرین زور خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں اور غیر ملکی سفارتخانوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

    پارلیمنٹ میں مظاہرین کے داخل ہونے کے کچھ دیر بعد مقتدیٰ الصدر نے اپنے حامیوں سے کہا کہ انہوں نے اپنے احتجاج کے ذریعے اپنا پیغام پہنچادیا ہے لہٰذا اب وہ پارلیمنٹ سے نکل جائیں جس کے بعد مظاہرین وہاں سے چلے گئے۔

  • سری لنکا: صدارتی محل سے سونے کی اشیاء چرانے والے3 مظاہرین گرفتار

    سری لنکا: صدارتی محل سے سونے کی اشیاء چرانے والے3 مظاہرین گرفتار

    کولمبو: سری لنکن پولیس نے صدارتی محل سے چوری کیے گئے سونے کی اشیاء کو فروخت کرنے والے 3 مظاہرین کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کی پولیس نے 3 مظاہرین کو حراست میں لے لیا گرفتار ہونے والوں پر صدارتی محل سے سونے کی قیمتی اشیاء کی چوری اور انھیں فروخت کرنے کا الزام ہے۔

    سری لنکا:سیاسی بحران جاری، نئے صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ

    پولیس کے مطابق ان افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے 40 سے زائد قیمتی اشیاء برآمد کی گئی ہیں۔ ملزمان کو کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کردیا گیا۔

    واضح رہے کہ 19 جولائی کو ہزاروں مظاہرین نے صدارتی محل اور وزیراعظم کی نجی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا تھا اور آگ لگادی تھی جس کے بعد صدر نے استعفیٰ دیدیا تھا۔

    رانیل وکرما سنگھے سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    بعد ازاں انتخابات میں رانیل وکرماسنگھے نئے صدر منتخب ہوئے تھے تاہم اب سری لنکا میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین نے نومنتخب صدر رانیل وکرماسنگھے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہےمظاہرین کی جانب سے صدر وکرما سنگھے پر معزول صدر کے ساتھیوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں دارالحکومت کولمبو میں سکیورٹی فورسز نے ایوانِ صدر کے باہر موجود حکومت مخالف مظاہرین کے کیمپ اکھاڑ پھینکے تھے اور ایک طرح سے مظاہرین کی سرکوبی کا عمل شروع کر دیا تھا جبکہ پولیس ترجمان نے 9 افراد کی گرفتاری کی بھی تصدیق کردی ہے۔

    سری لنکا نے ایشیا کپ 2022 کی میزبانی کرنے سے معذرت کر لی

  • قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

    قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

    الماتی:قازقستان میں کابینہ کی برطرفی کے باوجود پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ حالات کشیدہ ہیں، مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں 16 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

    قازقستان میں سیاسی انتشار اور دنگے فساد جاری ہیں، کابینہ کی برطرفی کے باوجود عوامی غصہ کم نہ ہوسکا، مظاہرین نے سرکاری دفاتر اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ کئی علاقوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑیں بھی ہوئیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں درجنوں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں زخمیوں کے تعداد سینکڑوں میں ہے۔

    قازق پولیس چیف کا کہنا ہے کہ انتہا پسند مظاہروں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں، صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج پولیس کی مدد کے لیے پہنچ چکی ہے۔

    مظاہروں پر قابو پانے کے لیے صدر قاسم جمارت توکایوف نے ملک بھر ایمرجنسی نافذ کردی، حالات معمول پر آنے تک ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پربھی پابندی لگا دی گئی۔

    دوسری طرف روس کے زیرقیادت فوجی اتحاد نے پہلا فوجی دستہ قازقستان بجھوا دیا،روس کے زیرقیادت فوجی اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قازقستان میں جاری بدامنی پرقابوپانے میں مدد دینے کے لئے فوجیوں کا پہلا دستہ بھیج دیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق قازقستان میں صورتحال معمول پرآنے تک قازقستان میں رہیں گے۔ قازقستان کی حکومت نے ملک میں جاری بدامنی روکنے کے لئے مدد کی درخواست کی تھی۔

    دوسری جانب قازقستان کی پولیس نے گزشتہ رات پارلیمنٹ کی عمارت پردھاوا بولنے والے درجنوں مظاہرین کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔قازقستان کی وزارت صحت کے مطابق ہنگاموں میں اب تک 1000سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 62 کی حالت تشویشناک ہے۔

    قازقستان میں پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ملک گیراحتجاج کیا جارہا ہے۔مظاہروں پرقابو پانے کے لئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔