Baaghi TV

Tag: معاشرت

  • رشتوں کی آس، زندگی میں مٹھاس – جویریہ بتول

    رشتوں کی آس، زندگی میں مٹھاس – جویریہ بتول

    انسان کی اس دنیا میں آمد ہی رشتوں کے توسط سے ہوتی ہے…انسان پیدا ہوتے ہی مختلف رشتوں کے حسین بندھن میں بندھا ہوتا ہے…ماں باپ،بہن بھائی،ددھیال،ننھیال پھر زندگی کے مدارج طے کرتے ہوئے سسرال،میکہ غرض یہ سارے رشتے زندگی کا حُسن ہیں…
    ہمارے دین اسلام نے ان کی قدر،ہر حال میں جوڑنے اور حقوق کی ادائیگی کی بڑی تاکید کی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں:
    "اللّٰہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو…!!!”(النسآء:1).
    ارحامٌ رَحِمٌ کی جمع ہے مراد رشتے داریاں ہیں…
    رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک یعنی اچھے اخلاق،مالی اعانت،ضروریات کا خیال،ہمدردی و خیر خواہی کو صلہ رحمی کہا گیا ہے…
    اور پھر صلہ رحمی کی بھی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صلہ رحمی بدلے کا نام نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی وہ ہے کہ جب تمہیں کاٹا جائے اور تم اُسے جوڑو…
    سوشل دور میں جیتے ہوئے ہم جہاں دیگر برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں وہی ایک بڑی خرابی رشتہ داری کی اہمیت کی کمی بھی دکھائی دیتی ہے…
    آج ہم روابط،تعلقات اور معاملات میں مشاورت کے لیئے غیر رشتہ داروں کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں اور رشتہ داروں سے دوریاں اور حقوق سے غفلت ہمارا معاشرتی رویہ بنتا جا رہا ہے…
    ہم دور کے امیر دوستوں سے تعلقات کے قلابے ملانا فخر سمجھتے ہیں جبکہ قریب کے غریب رشتہ داروں کو پوچھتے تک نہیں…
    یہی ذہنی پستی کی عکاسی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
    "رشتے ناتے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللّٰہ کے حکم میں…”(الانفال 75).
    رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
    "قیامت سے پہلے رشتہ داری ٹوٹ سی جائے،جھوٹی گواہی عام اور سچی گواہی نایاب سی ہو جائے گی…”
    (مسند احمد).
    ہمارے رشتے دار ہر لحاظ ہماری توجہ اور ذمہ داری کے پہلے حقدار ہیں…یہاں عقائد و نظریات کا اختلاف بھی معنی نہیں رکھتا…اور اُن کی دنیاوی معاملات میں مدد اور خیال و عزت والا معاملہ ضرور کرنا چاہیئے…
    حضرت اسماء رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں آئی ہے میں اس کے ساتھ کچھ سلوک کر سکتی ہوں؟
    آپﷺ نے فرمایا:
    صلی امک…!!! ہاں تو اپنی ماں سے صلہ رحمی کر…(صحیح بخاری)…
    جہاں ہمیں اسراف سے بچنے کا حکم ملا وہیں پہلے فرمایا:
    ‘اور رشتہ داروں کا،مسکینوں کا اور مسافروں کا حق اَدا کرتے رہوہ…(بنی اسرائیل:26).
    رشتہ داری کا حق ہم یوں بھی اَدا کر سکتے ہیں کہ اپنے سے کم تر رشتہ داروں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کر دیں…روزگار کاروبار میں مدد کر دیں اور پھر احسان نہ رکھیں…ذہنی اذیت نہ پہنچائیں…
    بڑی بڑی تقاریب منعقد کرتے وقت وہ دینی ہوں یا دنیاوی پہلے حقدار رشتہ دار ہی ہیں…
    چاہے وہ ہم سے متفق ہوں یا نہیں لیکن بالاولٰی وہ مستحق ہیں…
    رسول اللّٰہ ﷺ کو کھلے عام دعوت اور انذار و تبشیر کا حکم ملا تو اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا دیں…”(الشعرآء:216).
    یعنی رشتہ داروں کی آخرت کی فکر بھی ہماری پہلی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اصلاح کر کے حُسنِ عمل اختیار کریں اور ہم سب جنتوں میں بھی قربتوں کے حقدار بنیں…
    آج صورت حال یہ ہے کہ شادی بیاہ کا موقع آ جائے تو انوائیٹنگ لسٹ میں خاندان کے متعدد گھرانے بلیک لسٹ ہوتے ہیں…جبکہ دور کہیں گلی میں سے گزرتے ہوئے صرف سلام ہو جانے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے…
    ہم کوئی چیز خرید لیتے ہیں تو رشتہ داروں سے چھپاتے ہیں کہ وہ حسد کرتے ہیں…
    جبکہ سوشل میڈیا پر اس کی تشہیری مہم چلاتے ہیں…؟
    کئی ایسے واقعات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں کہ لوگ اپنے رشتہ داروں کو برابری پر آتے دیکھنا پسند نہیں کرتے،انہیں سادہ مزاج اور کم تر سمجھتے ہیں…انہیں کچھ راز و امور نہیں بتاتے اور دور کہیں بہت متاثر کن شخصیت بنے ہوتے ہیں…
    اپنوں کو دھوکہ دیتے ہیں…مالی حق تلفیاں کرتے ہیں اور باہر کی دنیا میں امین بنے ہوتے ہیں…
    تو اصل میں یہی چیزیں معاشرتی بگاڑ کی وجہ بنتی رہتی ہیں…
    اور ہم ایک دوسرے کی قدر و اہمیت اور حقوق و فرائض سمجھنے سے محروم رہ جاتے ہیں…!!!
    خاندان میں کوئی اچھا کمانے یا پہننے لگ جائے تو غلط توجیہات جبکہ باقی لوگوں کے لیئے نرم گوشہ…
    کوئی خوشی غمی کا مرحلہ آ گیا تو رشتہ داروں سے چھپاتے ہیں اور سکرین پر سات سمندر پار بھی ہمدرد نظر آ جاتے ہیں…
    یہاں مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم دوستوں اور دوستی کو خیر باد کہہ دیں،ہر گز نہیں…!!!
    لیکن ہر حق کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے…
    تبدیلی تبھی نہیں آتی جب ہم ایک دوسرے کو قربت،اپنائیت اور احساس دلائیں گے تو کوئی حسد بھی نہیں کرے گا…
    وہ کامیابی پر خوش اور دکھ پر غم ناک ہو گا…آپ کے قریب رہنا اور بیٹھنا پسند کرے گا…
    مسائل تب جنم لیتے ہیں جب ہم خود ساختہ وجوہات کے کانٹے دار درخت کو ہوا اور پانی کی فراہمی شروع کر دیتے ہیں تو پھر غلط فہمیوں کے سلسلے تھمتے نہیں…
    بغض و حسد کے طوفان اُمڈتے چلے آتے ہیں اور پھر کسی کا دُکھ ہماری خوشی بننے لگتا ہے یہی انسانیت کی پستی کا عالم ہے…!!!
    لیکن یہ ساری بات سمجھ وہی سکتا ہے جسے اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کی سمجھ آئے گی…
    پھر وہ اپنے پاس سے شمع جلانا شروع کرے گا…
    وہ موٹیویشنل بن کر دھواں دار انداز میں سات سمندر پار روشنیاں پھیلانے میں جذباتی نہیں ہو گا…
    بلکہ پہلے گھر،خاندان،ملک،اور پھر دنیا تک اپنا پیغام اور عمل پہنچائے گا…!!!
    اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم مخلص ہو کر زندگی میں توازن کی اہمیت کو سمجھ لیں گے…انسانیت کے تقاضوں سے آگہی حاصل کریں گے…
    اپنے گھر،آس پاس تقریب و مجلس میں ہر ایک کا حق اور دلجوئی کا راز سمجھ پائیں گے…
    تب ہم ایک کامیاب اور اثر انگیز شخصیت کے طور پر نکھر سکتے ہیں…ورنہ خرابیاں یونہی پیدا نہیں ہوتیں…شکوے عبث نہیں جنم لیتے…اور دوریاں بے وجہ نہیں ہوا کرتیں…
    بلکہ وہ اکثر اوقات چند الفاظ،ایک احساس،اپنے ازلی حق اور بے لوث محبّت کے متقاضی ہوتے ہیں…!!!
    لا ریب رشتوں میں قربت اور مٹھاس اس سفرِ زندگی میں ایک آس ہے اور اِسی لیئے ہمیں اس خوب صورت سرکل میں جوڑا گیا ہے تاکہ احساس کی زندگی باقی رہے…
    لیکن اگر یہاں ہی احساس دَم توڑ دے تو یہ زندگی پھیکی،ادھوری اور بوجھ و تنہائی کا شکار کرنے لگتی ہے اور یہ چیزیں صرف یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں…!!!
    ہمیشہ اپنی قسمت پر راضی رہتے ہوئے کسی رشتے دار سے موازنہ بھی نہ کریں،تبھی حسد اور انتقام جیسی بیماری سے بچا جا سکتا ہے…خود کو ملی نعمتوں کی قدر اور شکر اَدا کریں کیوں کہ آپ اُن کے مکلف اور جوابدہ ہیں…دوسروں کی نعمتوں یا غلطیوں کی باز پرس ہم سے نہیں ہونے والی،تو ہم کیوں خود کو فضول میں جلائیں؟
    اور کیوں نہ ایک اچھے اور احساس رکھنے والے ذمہ دار رشتے کا کردار اَدا کریں…!!!
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنے احکامات کو سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی توفیق دے تاکہ کل ہم اُس کے سامنے سرخرو ہو سکیں…آمین.

    جویریہ بتول اردو نظم و نثر لکھنے میں یگانہ روزگار ہیں ۔ ان کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    لفظ عورت کا معنی ڈھکی ہوئی یا چھپی ہوئی چیز ہے یعنی سر سے لے کر پاؤں تک چھپی ہوئی چیز کو عورت کہا جاتا ہے.

    پردہ اسلامی معاشرے کا لازمی جزو ہے جس کا حکم رب العالمین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تاکہ عورت معاشرے کے لیے فتنہ کی بجاۓ تعمیر و ترقی کا باعث بنے اور اس کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ دین کی سربلندی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوۓ اسلام دشمنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرے اور اسلام کا عَلم پوری دنیا میں اونچا کرے لیکن آج کل کے معاشرے میں سب کچھ الٹ چل رہا ہے۔ یہاں تو پردے کو دل کا پردہ کہہ کے اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عورت آج درندوں کی ہوس کا شکار ہے اور جابجا عصمت دری کا شکار ہے.

    پردے سے عورت محفوظ رہتی ہے جس کی مثال میں کچھ یوں گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ جب بھی آپ قصاب کی دوکان پہ تشریف لے جاتے ہیں تو آپ اس کو اچھی طرح لفافے سے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ کوئی جانور یا پرندہ اس کو نقصان نہ پہنچا دے اور اگر آپ اسے کھلا چھوڑیں گے تو شاید آپ گھر تک بھی بحفاظت نہ پہنچ پائیں.

    میں نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہ معاشرہ الحمدللہ اسلامی احکامات اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا اور اللہ کے فضل سے پردہ بھی اس کا بہترین شعار تھا جس کی برکتیں میں ابھی تک سمیٹ رہا ہوں. ہمارے بڑے گھر میں ٹی وی نہیں رکھنے دیتے تھے کیونکہ ان کا یہ مؤقف تھا کہ یہی فساد کی جڑ ہے اور یہی عورت کو اس کے مقصد سے ہٹا کے اسے بے پردگی اور گمراہی کے رستے پر لے جاتا ہے. تب ہمیں بہت عجیب سا لگتا تھا کہ ہمیں گھر والے ٹی وی کیوں نہیں دیکھنے دیتے ہم کوئی بچے ہیں جو بگڑ جائیں گے۔ بھلا ٹی وی دیکھ کے بھی کوئی گمراہ ہوا ہے..

    اس سوال کا جواب ہمیں آج معلوم ہوا جب آج کے والدین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو اس لیے گلوکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اسے فلاں گلوکار بہت اچھا لگتا ہے اور وہ بہت اچھا گاتا ہے یہ اس کی نقل بھی بہت اچھی کر لیتا ہے اس کا آئیڈیل فلاں اداکار یا اداکارہ ہے اس کو شوبز کا فلاں سٹار بہت اچھا لگتا ہے میری بیٹی نے جینز اور ٹی شرٹ پہننی ہے کیونکہ ہم نے ایک ڈرامہ میں دیکھا تھا کہ اس لڑکی کو بہت خوبصورت لگ رہی تھی فلاں فلاں..

    آج کبھی ٹی وی چینل پہ لڑکی بھگانے کے اشتہار تو کبھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں کی آڑ میں ہونے والی فحاشی تو کبھی گھر کی چار دیواری کو داغ قرار دے کے معاشرے کو فحاشی و عریانی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور کئی ایسے اشتہارات ہیں جو یہاں زیربحث لانا بھی مناسب نہیں ہے ان کا مقصد صرف اور صرف عورت کو اسلام اور پردہ سے دور کرنا ہے اور یہی سازشوں کی جنگ ہے جس میں ہمیں دھکیل کے ہم پر کافر مسلط ہونا چاہتے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں.

    یہی وجہ ہے کہ آج ٹی وی ڈراموں اور فحش اشتہارات کی آڑ میں کفار ہماری اسلامی تہذیب میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور ہمارے بچے بگڑتے جا رہے ہیں اور اسلامی تہذیب سے کنارہ کشی اختیار کرتے جا رہے ہیں ہماری عورتوں کو پردہ کرنے سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور طرح طرح کے بہانے بناۓ جاتے ہیں یہاں تک کہ مائیں بچوں کو ترغیب دینے کی بجاۓ اپنے بچوں کے ذہن میں ڈالنا شروع کر دیتی ہیں کہ اگر ابھی سے پردہ کرو گی تو لوگ ولون کہیں گے اور کسی نے دیکھنا تک نہیں ہے تمہیں اور کون تجھ سے شادی کرے گا جیسے طعنے مار مار کے اس کو اسلام سے دور کر لیتے ہیں.

    افسوس ہوتا ہے ان ماؤں پہ جنہوں نے عائشہ رضی اللہ عنھا و فاطمتہ الزھرا رضی اللہ عنہا کی مثالیں دینی تھی آج وہ اداکاراؤں کے نقش قدم پہ چل پڑی ہیں اور فحاشی و عریانی کو فیشن کا نام دے کر اپنی آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کر رہی ہیں.

    آج بچے بچے کو اداکاراؤں کے نام آتے ہیں اور ان کے کپڑے اور اسٹائل تک زیر بحث آتے ہیں لیکن مجال ہے کسی کو آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور ان کی قربانیوں کے متعلق بھی علم ہو آج جو بچی بھی دوپٹہ یا اسکارف لینے کی کوشش بھی کرتی ہے تو اسے اپنے گھر والے بھی طعنے مارنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ابھی سے بوڑھی بننا ہے اتارو تمہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا جب بڑی ہوگی تب پہن لینا اور پھر جب وہ بڑی ہوتی ہے تو اسے یہ عادت ہی نہیں ہوتی کہ دوپٹہ بھی سر پہ لینا ہوتا ہے یا یہ صرف گلے کی حد تک ہی رکھنا ہے..

    خدارا اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اسلام سے محبت سکھائیں اور انہیں اداکاروں کی بجاۓ اصحاب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی بہادری کے قصے سنایا کریں اور ٹی وی جیسی لعنت سے ان کو کوسوں دور رکھیں تاکہ آپ کا بچہ اس جاہلیت کا شکار ہو کر درندوں کی درندگی کا نشانہ نہ بن جاۓ..
    اللہ ہمیں اللہ کے احکامات کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین..

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.