Baaghi TV

Tag: معاشرہ

  • زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ….

    کبھی اپنا وقت بھی آ ئے گا…. یہ کہنے کو تو ایک تسلی ہے مگر اس ایک جملے میں ہم نہیں جانتے کتنے ہی لوگ اپنی امیدوں کے پورا ہونے کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور پھر اپنی حسرتوں اپنی امیدوں کو اپنے ساتھ لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ,
    البتہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی بجائے ایک چھوٹی سی کوشش بھی کی ہوتی تو شاید ان کی تکلیفیں کم ہوجاتیں,
    اور جو لوگ اپنی حیثیت کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں مگر اس کے اردگرد کے لوگ اس کو support نہیں کرتے اگر ایسے وقت اسے تھوڑی سی بھی support مل جائے تو کئی لوگ اپنے رویوں میں نہ صرف تبدیلی لے آئیں گے بلکہ اس انسان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ بھی کریں گے
    ہم زندگی میں کئی لوگوں سے ملتے ہیں ان کے مسکراتے چہرے دیکھ کر اکثر غلط اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ بھرپور زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کئی راز ہوتے ہیں جو نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ وہ کسی پر ظاہر ہونے دیتے ہیں.
    مانتی ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا مگر جس انسان نے اپنے بھلے وقت میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی, اپنوں کا خیال رکھا مگر جب اس انسان پر برا وقت آتا ہے ناں تو یقین کریں جس پر ان کو پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے وہی اس انسان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور وہ انسان ان کے سامنے ڈوب رہا ہوتا ہے مگر وہ دور سے تماشائی بنے اس کا تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں.
    کیا اپنوں کا ایسا طرز عمل اس انسان کو ہمت دے گا ؟؟؟
    اس کو تو اوع دلبرداشتہ کردے گا کہ میں کیا کرتا رہا اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے….
    آ ج یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوالات امڈ رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اپنے ہی لوگ اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں…
    وہ مجھے بتا رہی تھی کہ اب گھر میں بیچنے کو کچھ بھی نہیں بچا, گاڑی خالہ کو بیچ دی اب ایک چھت رہ گئی ہے وہ بھی جیٹھانی کہہ رہی کہ اگر بیچنا ہوا تو مجھے بتا دینا میں خرید لونگی….
    یہ اس عورت کو کہا جا رہا ہے جو انہی لوگوں کا اس وقت سہارا بنی جب اس کی جیٹھانی بیوہ ہوئی تھی اور اس کے گھر کے اخراجات بچوں کی پڑھائی کا زمہ اس عورت نے اٹھایا تھا اور آخر کار اسکے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے…
    کہتے ہیں ناں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا کسی کو اللہ دے کر آ زماتا ہے اور کسی کو اس سے محروم رکھ کر,
    اس عورت کے شوہر کی جاب چار پانچ سال پہلے کسی وجہ سے چلی گئی اور تب سے یہ عورت کسی کے آ گے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود گھر سے باہر کام کرنے جانے لگی اور وہی ہوا جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے کہ اسے کئی طرح کی باتوں کا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
    آ ج وہ کسی کام سے میرے گھر آئی تو میری زرا سی تسلی سے اس کی آنکھیں بھر آ ئیں
    میرے چپ کروانے پر بولی کہ کاش میرے گھر والوں کو میری تکلیفوں کا احساس ہو کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں, وہ روتے روتے کہنے لگی کہ آپا میں بہت حساس ہوں شاید…. میری ماں بھی نہیں رہی کہ اس کی گود میں سر رکھ کر رو لوں, میں اپنے بچوں میں اپنی ماں کا پیار ڈھونڈتی ہوں کہ مجھے وہ سہارا دیں مگر آپا ان کو بھی میری تکلیفیں نظر نہیں آرہی…
    میں کیسے ان کی ضرورتیں پوری کررہی ہوں یہ ان کو نہیں پتا…
    بس دعا کرتی ہوں کہ اللہ کسی کو سب کچھ دے کر پھر تنگدستی نہ دے کیونکہ عیش و آرام کے بعد تنگدستی کی زندگی جینا بہت کٹھن ہے.
    میں نے اسے حوصلہ دیا کہ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اللہ پر بھروسہ رکھو تو آ نسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی اور ساتھ گویا ہوئی آپا میں اپنے شوہر کو کہتی ہوں کوئی کام تلاش کرے تو کہتا ہے کوئی کام ملتا ہی نہیں تو کیا کروں کہاں جا کے کام کروں تم کام کررہی ہو ناں… اور جب جواب میں اسے کہتی ہوں میرے میں ہمت نہیں رہی ہے گھر میں بیٹھنے سے کام تمھیں نہیں ملے گا ڈھونڈنا شروع کروگے تو ملے گا تو کہتا ہے ساری زندگی میں نے عیش کروائی ہے کیا ہوگیا جو اب تم کام کر رہی ہو.
    آپا کیا وہ عیش کی زندگی میں نے اکیلے گزاری تھی کہ اب سارا بوجھ مجھے اٹھانا پڑ رہا ہے ؟ اس عیش میں اس کے اپنے گھر والے بھی تو تھے ناں

    یہ کہتے وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مگر میرے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہیں تھا سوائے تسلی دینے کے کہ حوصلہ رکھو سب بہتر ہوجائے گا تو جواب میں اس کا جواب آیا کہ جب میں ہی نہ رہی تو سب ٹھیک ہوگا بھی تو مجھے کیا….

    اس کی اس بات پر میں نے حیرانگی سے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہی ہو تو وہ بولی آ پا میں سوچتی تھی کہ خودکشی کرنے والوں کو ڈر کیوں نہیں لگتا مگر اب سمجھ آرہی ہے کہ لوگ خودکشی کو کیوں اتنا آ سان سمجھتے ہیں ایک بار کی تکلیف ہوتی ہے ناں, روز روز کی تکلیفوں سے کم از کم نجات تو پالیتے ہیں,
    میں نے اس کی پوری بات سن کر اس کو ڈانٹا کہ اپنے ذہن سے منفی سوچ نکالو کہ خودکشی کرنے سے سب تکلیفیں ختم ہوجائیں گی تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو کر ایسی باتیں کررہی ہو مجھے حیرت ہے, اپنے آپ کو مضبوط بناؤ جیسے دکھاتی ہو کہ تم ہمت والی ہو, اور خودکشی بزدل لوگ کرتے ہیں جو حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے. خیر میرے ڈانٹنے پر وہ تھوڑا مسکرا دی اور میرے گلے لگ گئی یہ کہتے ہوئے کہ آپا کبھی تو اپنا وقت بھی آئے گا ناں ؟اس کی بات سن کر میں نے مصنوعی ہنسی سے کہا ہاں انشاءاللہ ضرور آئے گا بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہیے.

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ،اس کے برے حالات سے زیادہ میرے خیال میں اسے اس کے اپنوں کے رویے اذیت دے رہے تھے کیونکہ بقول اس کے کہ اس کی تکلیفوں کا کسی کو بھی احساس نہیں ،وہ اپنی استطاعت کے مطابق مشکل حالات کا اکیلے مقابلہ کررہی تھی کیونکہ اسے مشکل حالات کے ساتھ ساتھ اپنوں کے منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہوگئی تھی

    یہ سچ ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آ تے رہتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی انسان کو سبق سیکھا دیتے ہیں,
    اس کڑے وقت میں وہ گھر داری کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو بہت سی باتیں اور تنقید بھی سننے کو ملتی ہے اسکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا ہے عورت جتنا مرضی کام کر لے اس کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے.

    یہاں اس اکیلی کی زمہ داری نہیں تھی, ان حالات میں اسے اسکے شوہر کی زیادہ support کی ضرورت تھی مگر جو نظر نہیں آتی, اگر اس کا ساتھ ان حالات میں شوہر بھی دیتا تو کم از کم وہ زندگی سے مایوس نہ ہوتی, وہ آ ج خود کو اکیلا محسوس نہ کرتی, شوہر کا یہ کہنا کہ ساری زندگی عیش کروائی ہے تو کیا ہوا اب جو تمھیں کام کرنا پڑ رہا ہے یہ ہر لحاظ سے غلط سوچ ہے
    ہمیں اس معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کا عزت دینا ہوگی ان کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا اور یہ تبھی ہوگا جب ہم منفی کی بجائے مثبت سوچ رکھیں گے جب دوسروں کی تکالیف کا احساس کریں گے جزاک اللہ
    @Rehna_7

  • معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    انسان کا جسم اس کے دماغ کے تابع ہے جبکہ دماغ رہنمائی لیتا ہے قوت بصارت اور قوت سماعت سے یعنی کانوں اور آنکھوں سے ۔ انسان جو کچھ کانوں سے سنتا ہے اور آنکھوں سے جو د کچھ دیکھتا ہے دماغ اس کااثر قبول کرتا ہے ۔جبکہ دماغ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا میڈیا ہے ، چاہے وہ الیکڑانک ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ امر واقعی یہ ہے کہ میڈیامعلومات فراہم کرنے اور ذہنوں کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ترین ہتھیا ر بن چکا ہے ۔اسی لیے میڈیا کو ریاست کے پانچویں ستون کا درجہ قرار دیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ریاست کا ایک یہ ستون نہ صرف دیگر اداروں اور ان کی پالیسیوں پر مسلسل نظر انداز ہورہا ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا چشمہ ہے جو تمام دیگر اداروں کو اپنی رو میں بہا لے جارہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ریاست کے دیگر ستونوں میں حکومت مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں تاہم اپنی اثر انگیزی کی بنا پر میڈیا ان کے درمیان اپنی حیثیت کو منوا چکا ہے ۔ آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ میڈیا کس حد تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہا ہے اور اس کا ضابطہ اخلاق کیا ہے ؟ یا پھر یہ کہ میڈیا طاقت کے اندھے گھوڑے پر سوار سب کو روندے جا رہا ہے ۔ اس کی چکا چوند ہرچھوٹے بڑے ، مرد عورت کو متاثر کررہی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا معاشرتی نظریاتی اصلاح اس کے پیش نظر ہے یا نہیں ؟ اور خصوصاََ نوجوانوں کے کردار پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔

    پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کی اساس اسلام کے وہ سنہرے اصول ہیں جو زندگی کو متوازن بناتے ہیں اور افراد کی تربیت کا ایسا نظام مہیا کرتے ہیں جو نہ صرف معاشرے بلکہ تمام اداروں کے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ سر انجام دہتے ہیں تاکہ زندگی کا حقیقی حسن برقرار رہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر چینلز دین کے نام پر ایسے پروگرام کررہے ہیں جو دین کی تعلیمات اور روایات سے بالکل متصادم ہیں ۔ پروگرام میں شریک خواتین کا لباس بھی پروگرام کی روح کے منافی ہوتا ہے ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی پروگرامز میں ایسے علماءکو بلایاجائے اور ایسے اینکرز کا انتخاب کیا جائے جو خود بھی دین کو سمجھتے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کردار کے حامل بھی ہوں ۔ کیونکہ اسلام سب سے زیادہ کردار کی اصلاح پر زور دیتا ہے کردار میں تبدیلی در حقیقت معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے اس لئے کہ انسان اپنے کردار سے ہی پہچانا جاتا ہے ۔

    اسی طرح چینلز پر دکھائے جانے والے ڈرامے نوجوانوں کے اخلاق وکردار کو تباہ کررہے ہیں، نام نہاد ماڈرن ازم کے چکر میں نئی نسل کو اپنی دینی اور معاشرتی روایات کا باغی بنا رہے ہیں نوجوان نسل کو سست اور آرام طلب بنا رہے ہیں ۔ ہمیں اس سیلاب کے آگے بند باندھنے ہونگے بصورت دیگر حالات بے قابو ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ جرائم سے بھرے ہوئے معاشرے میں میڈیا ایسے پروگرام پیش کررہا ہے جن میں تشدد اور جرائم میں ملوث افراد کو جرم کرنے کے نئے نئے انداز مل جاتے ہیںاور وہ اپنے حالات اور مواقع کے مطابق ان کا استعمال بھی کرتے ہیں جس سے جرائم میں اضافہ ہورہاہے ۔ اکثر مجرم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم فلموں کو دیکھ کر کیے ہیں ۔ کیونکہ ان پروگراموں میں اکثر یہ دکھایا جاتا ہے کہ مجرم یا تو فرار ہوگئے یا انصاف نہیں ملا ۔ ان حالات میں یہ جاننا مشکل نہیں کہ جرم کی تشہیر کوئی مثبت نتائج نہیں دیتی ہے ۔ یہ پروگرام بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی برے اثر ات ڈالتے ہیں جس سے بچے عدم تحفظ ، بے اعتمادی اور خوف کا شکا ر ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں جو قوم میں کنفیوژن پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے ایک چینل پر پروگرام دیکھا گیا کہ پاکستان کا قومی ترانہ وہ نہیں جو قائد اعظم نے پاس کیا تھا ۔ ظاہر بات ہے کہ اب اس طرح کے ایشو اٹھانے اور ان پر بحث کرنے سے کنفیوژن ہی پیدا ہوگی ۔

    اس میں شک نہیں کہ میڈیا کی اپنی ترجیحات اور مقاصد ہیں ۔ کاروباری دنیا میں سرمایہ کار صرف اپنے منافع کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے ۔ نقصان اسے کسی طور پر برداشت نہیں ۔سرمایہ کار چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنایا جائے اس کےلئے چاہے انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے ۔ ریٹنگ کے لئے ایک بری خبریں بار با ر پیش کرکے سنسنی پھیلائی جاتی ہے تاکہ لوگ ان کے چینلز کو دیکھیں اور ان کی ریٹنگ بڑھے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس عمل سے چینلز کی ریٹنگ بڑھتی ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے معاشرے میں جرائم بڑھ رہے ہیں، نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں ، جنسی بے راہ روی ، تشدد ، ڈکیتی ، چوری ، مستقبل کا خوف ، بے اعتمادی ، نافرمانی ا ور بے صبری و خوف و ہراس جیسے نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں جو کسی طور خوش آئند نہیں ۔ بلکہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہمارا مستقبل ایسے ہی ضائع ہوگا ؟ اس کے تدارک اور اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک بنایا جائے جس میں میڈیا کے اہم سر کردہ لوگ ، دانشور ، صحافی ، سکالرز ، ججز ، حکومتی نمائندے ، والدین ، چینلز کے مالکان اور اساتذہ شامل ہوں ۔۔۔جو میڈیا کےلئے کی تر جیحات اور ضابطہ اخلا ق طے کرے ۔آخر میں ہم میڈیا مالکان سے پھر یہ کہنا چاہئیں گے کہ خدا ۔۔۔را اپنے چینلز پر ایسے پروگرام پیش کریں جو نظریہ پاکستان اور ہماری اخلاقی روایات واقدار سے ہم آہنگ ہوںجن میں نوجوانوں کو محنت اور لگن کاسبق ملے ۔ اپنی ثقافت کو پروان چڑھایاجائے تاکہ اپنی مذہبی و معاشرتی روایات ، ثقافت کو بچایاجاسکے اور پاکستانی ہونے پر فخر کیا جا سکے ۔ ۔ کھیلوں کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے اور ان پروگرام میں نوجوانوں کو شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔ بچوں کے پروگرام پیش کیے جائیں ۔ اخلاقیات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے پیغامات مختصر وقفوں میں پیش کئے جائیں تاکہ بچوں کی تربیت کی جاسکے ۔ ہر چینل کے لیے لازمی ہوکہ وہ اس طرح کے پیغامات لازمی نشر کرےں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا عمل شروع ہوسکے ۔ ہمارا میڈیا تنقید تو کرتا ہے لیکن تربیت کا اہتمام نہیں کرتا لہذا ضروری ہے کہ تربیتی پرگروام پیش کئے جائیں ۔ تعلیمی پروگراموں کو اپنی نشریات کا مستقل حصہ بنایا جائے ۔ اسلامی ممالک کا تعارف ، ثقافت و کلچر پیش کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کا تصور راسخ کیا جاسکے ۔ انٹرنیشنل ایشوز پر پروگرام کئے جائیں اور ڈاکومنٹریز پیش کی جائےں تاکہ انٹرنیشنل افئیر ز سے لوگ آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت ہمارا ملک بہت سے مسائل کا شکار ہے جن میں سے ایک اہم ترین مسئلہ معاشرتی تفریق اور خیلج ہے ۔ ان حالات میں میڈیا کو اداروں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ، یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور ہمارا قومی مفاد بھی ہے ۔ میڈیا کو اپنا مثبت رول ادا کرنے کے لئے اپنا لائحہ عمل ضرور ترتیب دینا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کاا مستقبل محفوظ ہوسکے ۔

  • نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبی کریم ص کی نبوی زندگی مبارکہ کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی دور ۔۔۔

    مکی زندگی میں نظام تعلیم اتنے موثر انداز میں نہیں تھا تاہم درسگاہ ابی بکر ، درس گاہ فاطمہ ، درسگاہ دار ارقم اور شعب ابی طالب میں آپ ص نے اپنے اصحاب اور دیگر لوگوں کی تربیت کا خوب اہتمام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد آپ ص نے جب مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو ایک حصہ ایسے لوگوں کے لیے مختص کیا گیا جو بے گھر مسلمان تھے ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نہ صرف بے گھروں کو گھر میسر آیا بلکہ اصحاب صفہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    چنانچہ اصحاب صفہ کی تعمیر کے ساتھ ہی منظم تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا ۔اور یہ وہ تربیت تھی جس کے ایسے شاندار اثرات نمایاں ہوئے کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آگیا ۔

    ایسے عظیم لوگوں کی جماعت قائم ہوئی جن کی نظیر زمانے میں ملنا مشکل ہے ۔ ان کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے اور آج کا عقل و شعور رکھنے والا انسان دنگ رہ جاتا یے کہ ایسے زمانے اور حالات میں اس طرح کی قوم کا منصہ شہود پر آنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔
    اور یہ حیرت انگیز کام نبوی نظام تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ۔

    یہ وہی تربیت ہے جس نے کہیں عمر رض جیسے عادل کہیں ابو طلحہ انصاری جیسے ایثار پسند کہیں مال و دولت کو راہ خدا میں لٹانے والے عثمان غنی کہیں بہادری و شجاعت کے علمبردار حضرت علی اور جری و مجاہد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنھم پیدا کیے ۔

    اس کے برعکس موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو کھوکھلی عمارت نظر آتی ہے ۔ کہیں الحاد کے شاخسانے کہیں بے حیائی کے فسانے کہیں لبرل ازم کے افکار کہیں سیکولرازم کے انظار کہیں احساس کمتری کے شکار اور کہیں بے دینی کے مینار نظر آئیں گے ۔

    دن بدن بڑھتی ہوئی نشہ آوری کہیں چوٹی پر چڑھتی ہوئی بے حیائی اور کہیں خودکشیوں کے گھناونے ارتکاب کرتے ہوئے طلباء موجودہ نظام تعلیم کے کھوکھلے پن کو ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ۔

    ڈگریوں کو لیے دربدر تلاش نوکری کے ستائے لوگ مایوسیوں کی وادی میں نظر آئیں گے ۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم علم نہیں بلکہ معلومات ہے یہ تربیت نہیں بلکہ پیسے کمانے کے بہانے ہیں ۔

    جب نظام تعلیم نبوی اصولوں پر مبنی نہیں ہوگا تو اس معاشرہ فلاح و بہبود کی طرف جانے کی بجائے ہلاکت و تباہی کے طرف جائے گا۔

    موجودہ معاشرے میں نظام تعلیم اسی صورت موثر ہوسکتا ہے جب نسل کے اذہان و قلوب میں ایمان کے چراغ اللہ کا خوف و تقوی اور اسلام کی بالادستی کو راسخ کیا جائے گا ۔

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.

  • یہ معاشرہ ہے یا جنگل،تین ہولناک واقعات اور ہو گئے

    یہ معاشرہ ہے یا جنگل،تین ہولناک واقعات اور ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

  • "زندگی تین دہائیاں قبل، جدت یا کچھ اور” تحریر: محمد حمزہ حیدر

    آج ارادہ کیا کہ تین دہائیوں پہلے کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو بیٹھا لکھنے ورنہ پہلے سستی رہی ہے ایسے کاموں میں.
    تو جی بات کچھ یوں ہے کہ "جدت” لفظ بڑا ظالم و تکلیف دہ ہے. جدت ہمارے نظریات اور روایات کا قاتل ہے. اسی جدت کے پیچھے لگ کر ہم اپنا آپ کھو چکے.
    تین دہائیوں قبل جب انسان صحیح معنوں میں انسان تھا تو زندگی بڑی پر مسرت اور شیریں ہوا کرتی تھی. لوگ ملنسار، اعلیٰ اخلاق و روایات کے مالک تھے. ہمدردی اور نیک سیرتی کی مثال آج انکی نسبت ناپید ہے. ان جیسا اخلاص، ان جیسی شفقت اور ان جیسا احساس آج شاید ہی کسی کو دکھے وگرنہ یہ ناپید ہے. لوگ چاہے شہری تھے یا دیہاتی لیکن وہ ایک مکمل اور بہترین زندگی گزارتے تھے ایکدوسرے کے دکھ سکھ اور شادی یا وفات کے وقت ان کے سانجھی ہوتے گویا انہی کے گھر کے باسی ہوں. اسی طرح رہنے کو اپنے لیے ترقی اور خوشحالی گردانتے تھے. ان میں کوئی لالچ اور ہوس نہ تھی. الغرض ایک بہترین معاشرت کی تصویر تھے.
    وقت پر لگا کر اڑا اور تیزی سے اڑتا چلا گیا، چونکہ وقت نے تو سفر کرتے رہنے ہے اور رکنا صرف اس مالک کے حکم سے ہے، لوگوں میں بدلاؤ آنا شروع ہوگیا لوگوں نے اپنا اقدار بدل لیا اور رہن سہن میں بدلاؤ آیا، لوگ سٹیٹس کی دوڑ میں شامل ہوگئے. پرانے لوگوں کے طریقوں کو تنگ نظری اور گھٹن زدہ قرار دیا. ان سے ہر ممکن کوشش کر کے جان چھڑانے لگے. ایکدوسرے سے ملنا ملانا تو دور دیکھنے کا وقت ختم ہوگیا. زندگی کے طور اطوار یکسر بدل گئے. حالات بدلے تو لوگ بدلے لوگ بدلے تو تہذیب بدلی یوں پورا معاشرہ بدل گیا.
    گزشتہ تین دہائیوں کو دیکھیں تو آج کا یہ دور مادیت پرستی اور خود پسندی کا دور لگتا ہے جہاں ہر شخص گویا میراتھن ریس میں ہو اور اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لا کر ایک پرسکون روح و جسم کی بجائے ایک مشین کی مانند ہو جائے اور ایک ایسی دوڑ جس کا کوئی دوسرا سرا نہیں اس میں شامل ہو. یہ جانتے ہوئے کہ کچھ باقی نہیں بعد میں یہ کچھ میرا نہیں رہنا.
    گزشتہ دور کو جتنا پڑھا اور سنا تو اس کو ایک انمول اور مکمل پرسکون معاشرہ پایا. اب جب بھی کبھی اس پر سوچتا ہوں تو بس یہی سوچتا ہوں کہ آج میں اور اُس وقت میں صرف تین دہائیوں کا ہی تو فرق اور وقفہ ہے.
    ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
      احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

  • اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    اصلاح معاشرہ اور ہم :علی چاند

    ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ اور ہم سب مسلمان ہیں ۔ حج کرنے ، عمرہ کرنے ، خیرات دینے میں پاکستانیوں کا دنیا میں اور کوٸی ثانی نہیں اور الحَمْدُ ِلله ہمیں اس بات پر فخر ہے ۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر انسان پریشانیوں ، دکھوں ، اور تکیلفوں میں کیوں گھرا ہوا ہے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک اللہ کو ماننے والے ، سارے اختیارات کا مالک صرف اللہ پاک کو ماننے والے ، حاجت روا صرف ایک اللہ کو ماننے والے ، ہم لوگ آخر بے چینیوں اور تکلیفوں کا شکار ہیں کیوں ؟

    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاٸیں اور اپنی معاشرتی زندگی پر غور کریں تو ہمیں اپنے اردگرد جھوٹ ، بددیانتی ، بد لحاظی ، منافقت ، نفرت ، فساد ، رشتوں سے الجھاٶ ہر جگہ کثرت سے نظر آٸے گا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اسلام کو ماننے والے ، ایک اللہ کو قادر مطلق سمجھنے والے ، خود کو مسلمان کہنے والے اس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں کہ ہم جھوٹ بولنا حق سمجھتے ہیں ،ڈاکہ زنی لوٹ مار ، کسی مسلمان کا حق کھانا ، ناپ تول میں کمی کرنا ، والدین کی گستاخی کرنا ، کسی مسلمان کی چغلی اور غیبت کرنا ، کسی بھولے بھالے مسلمان پر بہتان لگانا ، الزام تراشی کرنا معیوب نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ ہمیں ہمارا اسلام ان سب باتوں سے سختی سے منع کرتا ہے ۔ اسلام میں چغل خور کو شیطان کا بھاٸی کہا گیا ہے تو کہیں غیبت کو اپنے مردہ بھاٸی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے ۔ کہیں دکھاوے کی مذمت کی گٸی ہے تو کہیں مسلمان کا راز فاش کرنے والے کو یہ کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان کے کسی راز کو فاش کرے گا تو اللہ بھی اسے ذلیل و رسوا کر دے گا ، کہیں فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے تو کہیں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے واقعات بتا کر عبرت حاصل کرنے کی تنبیہ کی گٸی ہے ۔ کہیں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا رکھی گٸی ہے تو کہیں زنا اور شراب پر حد مقرر کی گٸی ہے ۔ اور بات مختصرا یہ کہہ دی گٸی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا ۔ قصور وار کون ؟ کیا ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی اصل وجہ ہم خود تو نہیں ؟ کیا ہم صرف نام کے مسلمان تو نہیں ؟ کیا ہم نے اسلام کا صرف نام سنا ہے یا اسلام کو پڑھا بھی ہے کہ اسلام کہتا کیا ہے ؟ اگر ہم ان چند سوالوں پر غور کریں توبات سامنے یہ آتی ہے کہ ہم صرف پیداٸشی مسلمان ہیں جنہوں نے اسلام کا صرف نام ہی سن رکھا ہے ۔ اگر ہم نے اسلام پڑھا ہوتا تو ہمیں پتہ ہوتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اور اللہ نے ہمیں چغلی ، غیبت ، بے حیاٸی ، شراب جوٸے ،چوری ، جھوٹ ، بہتان سے نا صرف منع کیا ہے بلکہ اس پر سخت وعیدیں بھی آٸی ہیں ۔ ہم لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ہمارے کیا حقوق ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا کہ ہمارے فراٸض کیا ہیں ۔ والدین اولاد کا حق دینے کو تیار نہیں تو اولاد والدین کو بوجھ سمجھ رہی ہے ، سسرالی رشتوں کے ساتھ جو ہمارا رویہ ہوتا ہے وہ تو اللہ کی پناہ ۔ ساس یہ تو چاہتی ہے کہ بہو بیٹی بنے لیکن خود بہو کو بیٹی سمجنے کو تیار نہیں ۔ اسی طرح بہو یہ تو چاہتی ہے کہ ساس سسر اپنی بیٹی سے زیادہ بہو کا خیال رکھیں لیکن بہو خود اپنے ساس سسر کو والدین کا درجہ دینے کو تیار نہیں ، عورتیں صرف اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے دلوں میں ان کی دادی ، پھوپھو ، چچا جیسے مقدس رشتوں کے لیے نفرت ڈال رہی ہیں جبکہ مرد اپنے بچوں کے سامنے اپنے بچوں کی امی ، اس کے والدین اور بہن بھاٸیوں کو برا بھلا کہتے ہیں جس کی وجہ سے اولاد کے دل میں ماں کے مقدس رشتوں کے لیے بغض اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس طرح جب مرد اور عورت اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے لڑاٸی جھگڑا کرتے ہیں تو بچے بھی والدین کی عزت و احترام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ جب والدین بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں تو بچے بھی ایسی ہی تربیت پاتے ہیں ۔ ہم اپنی خود غرضی اور لالچ کی بنا پر اپنے خون پسینے کی کماٸی کو جھوٹی قسم اٹھا کر ، ناپ تول میں کمی کر کے ، اپنے ڈیوٹی کے گھنٹوں میں کمی بیشی کر کے حلال سے حرام میں بدل دیتے ہیں ۔ اور جب ہمارا کھاناپینا حرام ہوجاتے ہیں تو پھر ہمارے گھروں میں نااتفاقی ، ناچاکی اور نفرتیں جنم لیتی ہیں ۔ بیوی کو یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ جس ساس کے خلاف وہ اپنے شوہر کے کان بھر رہی ہے وہ اس کے شوہر کی جنت ہے ایسی عورتیں اپنے ہم سفر اپنے مزاجی خدا کی جنت خود اپنے ہاتھوں برباد کر رہی ہوتی ہیں ۔ استاد اپنے فراٸض بھول کر بس اپنی تنخواہ کے چکروں میں پڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے آج کے طالب علم کے پاس علم کا تو ذخیرہ ہوگا لیکن وہ تربیت سے بالکل خالی ہوگا ۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں اعلی مقام حاصل کر سکیں ۔ اپنے غموں اور پریشانیوں کا خاتمہ کر سکیںتو ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کا مطالعہ کر کے سچے پکے مسلمان بنیں اور پھر اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کریں ۔ ہماری مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی تعلیمات پر عمل سے ہی ممکن ہے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے پہلے اسلامی تعلیمات کو جاننا ضروری ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اسلام کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔
    آمین

  • میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    کشمیر میں آج کرفیو لگے چھیالیس روز ہو چکے ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ۔وہ جس وادی کو ہم جنت نظیر کہتے تھے- وہاں خون کی ندیاں بہتے آج کئی برس بیت گئے۔ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اپنی آزادی کی جنگ اکیلے لڑ رہے ہیں۔ حق خوارادیت کے لیے جان دے رہے ہیں۔ہماری مائیں روز اپنے بیٹوں کو قربان کر رہی ہیں۔
    بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ۔بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    پچھلے 72 سال سے مسلسل آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی آزادی کا وقت آ ہی گیا۔
    وہ مسلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ٹیبل کے کسی دراز میں پڑا تھا ۔
    وہ جس کو قرار داد کے طور پر فائل سے نکال کے چائے کے ٹیبل پے رکھ کر ایک دفعہ اسپیکر میں پڑھ لیا گیا تھا۔
    اس مسلے کو پچھلے چھیالیس روز سے بھارت ہوا دے رہا ہے۔ اب اگر ہوا دے ہی دی گئی تو اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ۔

    اب تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا سے اٹھنے والی ایک ہی آواز ہے کہ

    ایک نعرہ ایک آواز۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔
    کشمیر سے پنجاب تک ۔۔۔
    سب بنے گا پاکستان۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔

    اب ہم کیوں انتظار کریں کسی اور مسیحا کا؟؟؟
    کیوں انتظار کریں بڑی عالمی برادری کا؟؟؟

    ہم کمزور نہیں ۔۔۔۔
    اور جن کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت ساتھ ہو ۔۔۔
    وُہ کمزور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ہمیں بھروسہ ہے اپنی طاقت ور فوج پے ۔ہمیں بھروسہ ہے اپنے مجاہدوں پر۔۔۔
    وہ فوج جس نے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی۔
    جو نا کسی سے ڈرنے والے نا کسی کے آگے جھکنے والے۔
    جن کی اڑان کو آج تک کوئی اور طاقت شکست نا دے پائی۔

    راستے کٹھن بھی ہوں تو سینہ تان کے چلتے ہیں

    ہماری عادت نہیں مشکل راستوں سے منہ موڑنا

    پوری دنیا سن لے کہ ہم ایسی بہادر نڈر فوج کے مالک ہیں جو پہلے کئی طوفانوں کا رخ موڑ چکی ہے۔
    اب بھارت کی باری ہے ۔بھارت سن لے کے ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔پاک فوج کے جوان ہر پل جام شہادت کے لیے تیار ہیں۔ہمارے مجاہد تیار ہیں اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔

    اب ہمارے کشمیری مسلمان اکیلے نہیں اُن کے ساتھ پاکستان کی مصلح افواج کھڑی ہے۔
    پورا پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔
    اب اگر دنیا کی بڑی طاقتیں انڈیا کو نہیں روک سکتیں ۔تو ہم خود اب اس طوفان کا رُخ موڑیں گے۔
    اب وہ ہی طریقہ اپنائیں گے جس کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے
    جس کی اجازت ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔
    جس کا حکم ہماری دو جہاں کی مقدس کتاب قرآن مجید میں ہے ۔
    ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی مددّ کرو۔۔۔

    اب ہمیں کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
    اب ہم جائیں گے کشمیر میں ۔۔۔۔جہاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا رہی ہیں۔خون سے تر وادی ہمیں بولا رہی ہے کہ کوئی تو آئے ہمیں ان درندوں سے نجات دلائے۔۔

    اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ اپنی فوج اور مجاہدوں کو اِک بار کشمیر کے لیے لڑنے کی اجازت دے۔
    پھر ہمیں کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں کشمیر ان شاء اللہ آزاد ہو گا۔
    یہ خواب جلد پورا ہو گا
    ہمارے خواب کی تعبیر ہماری پاک فوج کی صورت میں آئے گی۔

    اور پھر کشمیر بنے گا پاکستان۔۔
    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • پاکستان کا امیر طبقہ ٹیکس نہیں دینا چاہتا ، خفیظ شیخ

    پاکستان کا امیر طبقہ ٹیکس نہیں دینا چاہتا ، خفیظ شیخ

    وزیر اعطم عمران کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا امیر طبقہ ٹیکس دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکس کے معاملے کسی سے کوئی سودے بازی نہیں ہوگی
    مشیر خزانہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو ملکی معشیت کے اشارے مثبت نہ تھے لیکن حکومت نے جلد از جلد اصلاحات ایجنڈا متعارف کروا کروا کر معیشت کو ڈی ریل ہونے سے بچا لیا ، حکومت کے اخراجات کم اور دفاعی بجٹ منجمد کیا ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 فیصد کمی کی گئی،
    عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ہم عوام کی فلاح کیلئے کام کر رہے ہیں ، عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے ، پاکستان کے عوام کیلئے ہم دنیا کی ہر طاقت کے بسامنے کھڑے ہونے کیلئے تیار ہیں ، ملک کے اندر سے ریونیو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہمیں عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ نہ لینا پرے، رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں 580 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا ، امپورٹ میں واضع کمی اور ایکسپورٹ میں اضافہ کیا گیا ، ابھی بہتری مزید لانے میں وقت لگے گا لیکن وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی معشیت اپنے پیروں پر کھڑی ہو گی،

  • موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    مشرق خصوصاً انڈو پاک میں موروثیت ہر شعبۂ زندگی میں نفوذ کرگئی ہے۔ موروثیت صرف سیاست میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں موجود ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف نہیں۔ ہم عموما سنتے ہیں کہ آباؤ اجدا کی روایات اور نقش قدم نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ مولوی کا بیٹا مولوی، کلرک کا بیٹا کلرک، استاد کا بیٹا استاد، چوکیدار کا بیٹا چوکیدار، پیر کا بیٹا پیر، چیئرمین کا بیٹا چیئرمین ،سیاست دان کا بیٹا سیاست دان یہ سب موروثیت کی مثالیں ہیں۔ جن کو عام زبان میں خاندانی پیشہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں سوچ وفکر کی کمی ہے۔ لہذا ہم ہر شعبۂ زندگی میں روایات پسند واقع ہوئے ہیں۔ روایات کو آگے بڑھاتے ہیں۔اور یہ سب سے آسان کام ہے۔ کیونکہ ہر کردار نے روابط پیدا کیے ہیں۔ ان آسانیوں کی وجہ سے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو ایڈجسٹ کرنا آسان ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر چوکیدار ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو با آسانی اپنی جگہ ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔ بیٹے کے لیے بھی چوکیداری آسان ہوتی ہے۔ مولوی صاحب اپنی جگہ بیٹے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں تاکہ یہ سیٹ کسی اور کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ اسی طرح سیاست دان بھی اپنے بچوں کو سیاسی میدان میں اتارتے ہیں۔ تاکہ جانشین کا کردار ادا کریں۔ اس وقت پاکستان کی اسمبلیوں میں 53 فیصد موروثی سیاست دان موجود ہیں۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا تعلق عوام سے نہیں۔ بلکہ یہ اسلام آباد ، پشاور ، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے پوش علاقوں کے بنگلوں میں عالی شان زندگی گزارتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں فصلی بٹیروں کی طرح نازل ہوتےہیں۔ مقامی لوگوں اور مسائل سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ پہلے زمانے میں ہر گاؤں میں چند کرائے کے ایجنٹ ملتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا نے آسانی پیدا کردی۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے سیاست اور سیاسی پارٹیاں فروغ نہیں پاتیں۔ یوں یہ موروثی سیاست دان ہر پارٹی کی ضرورت بن جاتے ہے۔ یہ موروثی سیاست دان الیکشن سے پہلے پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں۔ عوام بھی ذہنی طور پر موروثیت کی شکار ہوتی ہیں لہذا موروثیت جیت جاتی ہے۔ موروثیت ہمارا موروثی مسئلہ ہے۔ موروثیت کی شکست اس صورت ممکن ہے جب معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف ہو اور سوچنے کے زاویوں کو بدل کر کے رکھ دے۔