Baaghi TV

Tag: معاشی

  • معاشی استحکام خطرے میں ڈالنے پر برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے معافی مانگ لی

    معاشی استحکام خطرے میں ڈالنے پر برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے معافی مانگ لی

    لندن:برطانیہ کی وزیراعظم لزٹرس نے معاشی استحکام کو خطرے میں ڈالنے پر معافی مانگ لی، انہیں ٹیکسوں میں بڑے پیمانے پر کمی کے فیصلے کو مجبوراً ختم کرنا پڑا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے حکومتی بانڈز اور پاؤنڈ ڈمپنگ کے لیے منڈیوں اور عالمی عناصر کو ذمہ دار ٹھہرانے کے کئی ہفتوں بعد لزٹرس نے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کئی برسوں سے جاری جمود کو ختم کرکے معاشی بحالی کے لیے یہ ’بہت دور اور بہت تیزقدم‘ تھا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    23 ستمبر کو ’منی بجٹ‘ کے بعد مارکیٹ میں افراتفری پھیل گئی تھی، لزٹرس کے وزیر خزانہ جیریمی ہنٹ کی جانب سے وہ منصوبہ ختم کرنے کے باوجود منڈیاں دباؤ کا شکار ہیں جبکہ لزٹرس وزیراعظم بننے کے صرف 6 ہفتے بعد کرسی بچانے کی جدوجہد کررہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہے کہ لزٹرس کی معافی کے بعد ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی میں ان کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت ختم ہو جائے گی یا نہیں، متعدد ممبران اسمبلی انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے زور دے رہے ہیں، سیکڑوں لوگوں کو خدشات ہیں کہ وہ اگلے عام انتخابات تک اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

    ان کی ایک وزیر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی وزیراعظم مزید کوئی غلطی کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتیں، یہ بہت مشکل کام ہے اگر ان کی حکومت زیادہ بچتوں کی طرف جاتی ہے تو متوقع کساد بازاری میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔جبکہ وزیر خزانہ جیریمی ہنٹ پہلے ہی صحت اور دفاع جیسے محکموں کو بجٹ دینے کی گارنٹی کو مسترد کرچکے ہیں۔

    نئے ’یوگوو‘ پول کے مطابق حتیٰ کہ کنزرویٹو پارٹی کے وہ اراکین جنہوں نے لزٹرس کی بطور وزیراعظم حمایت کی تھی، اب وہ بھی مختلف سوچ رہے ہیں۔اس میں بتایا گیا کہ ایسے نصف سے زائد اراکین کہتے ہیں کہ انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے جبکہ ایک تہائی لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی جگہ بورس جانسن کو آنا چاہیے۔

    لزٹرس کا کہنا تھا کہ میں اپنی ذمہ داری کو تسلیم کرتی ہوں، اور جو غلطیاں ہوئی ہیں ان پر معافی مانگتی ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ میں لوگوں کی توانائی کے بلوں اور بُلند ٹیکسوں کے مسئلے میں مدد کرنا چاہتی تھی لیکن ہم بہت دور اور بہت جلدی چلے گئے۔

  • سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا،شہباز شریف

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آ سکتا، برآمدات پر مبنی صنعت، زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگری انڈسٹریل انویسٹمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافہ اور قابل تجدید توانائی کا حصول ہماری ترجیحات ہیں، قومی ایکسپورٹ صنعتی زونز کے قیام کیلئے سرمایہ کاروں کو مفت اراضی فراہم کریں گے، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے، ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقہ سے رہنمائی لی جائے گی۔

    پری بجٹ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء کے شکرگزار ہیں، ان کی طرف سے دی جانے والی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں، ملکی ترقی کیلئے تاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل تحسین ہیں، ان کی طرف سے دی گئی اچھی تجاویز پر حکومت عمل کرے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 90ء کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی کرنسی سے بہتر تھی، ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، دیہات میں شہروں جیسی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے وہاں پر شہر کی طرز پر ترقی کی جا سکتی ہے، دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقلی سے شہروں پر بوجھ میں اضافہ ہو گا، پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد علاقہ دیہی ہے،

    ہم نے یہاں زراعت کو ترقی دینی ہے، دیہات کو ترقی یافتہ پاکستان کا حصہ بنانا ہے، وہاں پر اعلیٰ تعلیم سے یہ ممکن ہے، دانش سکول دیہی علاقوں میں قائم ہوئے جن کا معیار تعلیم ایچی سن کالج کے برابر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو ترقی دے سکتا ہے، ہم ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کر ر ہے ہیں ، کیا اس کی پیداوار ہمارے ملک میں نہیں ہو سکتی، ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے، ہم نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنی اجناس بڑھانی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقہ سے رہنمائی لی جائے گی، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملکی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وسائل کا زیادہ حصہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے جبکہ وفاق کے پاس کم حصہ رہ گیا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، اس کیلئے ہر قدم پر بزنس کمیونٹی کی رہنمائی کی ضرورت ہو گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ زراعت، صنعت اور دیگر شعبہ جات میں ٹاسک فورسز قائم کریں گے تاکہ ایک جامع منصوبہ لے کر آگے بڑھیں، ہم نے ایک سال تین ماہ کی رہ جانے والی حکومتی مدت کیلئے قلیل اور وسط مدتی منصوبے بنانے ہیں، اسی لئے میثاق معیشت کی دعوت دیتے ہیں تاکہ میثاق معیشت کے تحت ایسے اہداف طے کئے جائیں جنہیں تبدیل نہ کیا جا سکے، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کپاس درآمد کرکے ویلیو ایڈیشن سے زرمبادلہ کما رہا ہے، ہمارے ملک میں 2014ء میں کپاس کی 14 ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی، بنگلہ دیش کو ہم سے پہلے جی ایس پی پلس کا درجہ ملا، ہمیں اپنی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ دن رات ان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں، ایسی جامع منصوبہ بندی کی جائے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی قرضوں اور خسارے پر بات ہوتی رہے گی، ہم یہاں ایسی بات نہیں کریں گے کہ جس سے پوائنٹ سکورنگ کا تاثر ملے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گوادر میں تمام ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں، شہریوں کوپینے کا صاف پانی نہیں مل رہا، وہاں بجلی نہیں، ایئرپورٹ پانچ سال بعد بھی 36 فیصد مکمل ہوا ہے،

    پانی کی اب نئی سکیم بنائی گئی ہے، اس طرح قومیں نہیں بنتیں، بطور قوم باتوں کی بجائے عملی طور پر کام کرنا ہو گا، ہمارے پڑوسی دوست ملک نے اس کے سامنے بندرگاہ بنا لی لیکن ہماری ڈیپ پورٹ ہونے کے باوجود بڑے جہاز یہاں لنگر انداز نہیں ہو سکتے، ہم نے بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ منصوبے بنا کر ان پر عمل کرنا ہے، ہم مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، پاکستان کو اﷲ نے بہت کچھ دیا ہے۔

    انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ اپنے وقت، صلاحیتوں اور تجربہ سے اس منصوبہ بندی میں مدد کریں، ہمارا مقصد برآمدات بڑھانا ہے، رواں سال 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑی، ایک ارب ڈالر اس پر خرچ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کیلئے استفادہ نہیں کیا جا سکا، ہمارے پاس زرخیز زمینیں ہیں، باصلاحیت اور ہنرمند محنت کش طبقہ ہے، برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر حکمت عملی سے ملکی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں لگنے والے چار پاور پلانٹس میں سے 1250 میگاواٹ کا سستا ترین پاور پلانٹ 2020ء میں فعال ہو جانا چاہئے تھا تاہم یہ منصوبہ ابھی تک فعال نہیں ہو سکا، اس کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے، قوم کو اس کا حساب کون دے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جتنے اچھے منصوبے بنائیں اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو گا تو بے سود ہیں، افسر شاہی کا یہ رونا جائز ہے کہ انہوں نے کام کیا اور انہیں پکڑ کر نیب کے عقوبت خانوں میں ڈالا گیا، ان بیورو کریٹس نے پاکستان کے اربوں روپے بچائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس میں شرکاء کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو حقیقت کا روپ دیں گے۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کی ترجیحات بتاتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی صنعت جس میں ٹیکسٹائل کا اہم کردار ہے وہ اولین ترجیحات میں شامل ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگری انڈسٹریل انویسٹنمٹ کی طرف جائیں گے،

    گلف میں ٹیولپ کے بھرے جہاز پڑوسی ملک سے آتے ہیں، ہمارے پاس انڈسٹری اور ٹیکنالوجی ہو تو ہمارے پھل دنیا کی مارکیٹوں میں بہترین جگہ بنا سکتے ہیں، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں،

    اس کیلئے ترکی، چین اور جاپان سے بات کی ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہشمند کمپنیوں کے چھوٹے چھوٹے کاموں کی وجہ سے رکاوٹیں ہیں، اگر نگرانی اور تڑپ ہو تو پاکستان آگے بڑھے گا، آج ترکی، چین اور جاپان ہم سے ناراض ہیں، گذشتہ حکومت نے دوست ممالک اور سرمایہ کاروں کو ناراض کیا، دوست ممالک سے تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ دے کر برآمدات کو 15 ارب ڈالر زتک لے جانے کا وزارت آئی ٹی کو ہدف دیا ہے اس کیلئے میں بھی وزیر آئی ٹی کے ساتھ بیٹھوں گا، بھارت کی آئی ٹی کی برآمدات 200 ارب ڈالرز ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں ہماری برآمدات 4 ارب ڈالرز سے بھی کم ہیں، بھارت میں بھی بیورو کریسی کیلئے ہم سے زیادہ سرخ فیتہ ہے تاہم اتنی زیادہ برآمدات کیسے ممکن ہوئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں خصوصی صنعتی زونز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،

    ہمیں اس طرف جانا ہو گا، اس کیلئے ہر چیز مکمل میرٹ پر ہو گی، کوئی سٹہ بازی نہیں ہو گی ۔ ماضی میں بنائے گئے صنعتی زونز میں لینڈ مافیا آ گیا، وہاں کوئی انڈسٹری نہیں لگی، جس طرح ہم نے بہاولپور میں سولر انرجی کیلئے اراضی فراہم کی اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز کیلئے سرمایہ کاروں کو زمین ڈویلپ کرکے دیں گے اس حوالہ سے مفتاح اسماعیل کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، یہ کاروباری طبقہ پر احسان نہیں بلکہ سرمایہ کاری کیلئے مراعات ہیں، ہمیں اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے انہیں مراعات دینا ہوں گی، اہداف متعین کرتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا،

    اگر ہم ایٹمی قوت بن سکتے ہیں تو زرعی اور صنعتی قوت کیوں نہیں بن سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ داسو اور بھاشا ڈیم اگر حکومتی وسائل سے بن جائیں تو یہ بڑی بات ہے، ہمیں قومی مفاد کے منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنانا ہو گا، ہمیں قابل تجدید توانائی کے حصول پر توجہ دینا ہو گی، تھر اور بلوچستان میں کوئلہ سے فائدہ اٹھانا ہو گا، اس کیلئے سرمایہ کار تجاویز دیں، شیل اور ٹائٹ گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں، تیل و گیس کی درآمد کیلئے سالانہ 20 ارب ڈالر پاکستان صرف کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگا کر سالانہ اڑھائی ارب روپے بچت کی، غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے نجکاری کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی حکومت نے اختلاف رائے کے باوجود قومی مفاد میں کئے جانے والے مشکل فیصلوں کی حمایت کی، انشاء اﷲ یہ دوڑ جیتیں گے، سخت اور مشکل وقت ضرور ہے،

    اس ملک میں ہمیشہ غریب طبقہ نے سختی برداشت کی، عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے غریب آدمی کی قسمت بدل دیں گے، ہم 7 کروڑ افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جذبہ ایثار کے تحت ہمیں غریب آدمی کا احساس کرنا ہو گا، رئیل اسٹیٹ کے پاس جو نان پروڈکٹیو اثاثے ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اراضی محدود ہے اس کو ہم بڑھا نہیں سکتے، بدقسمتی سے ہمارے شہر پھیلتے جا رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں یورپ، چین، ترکی سمیت دیگر ممالک کثیر المنزلہ عمارات کی طرف جا رہے ہیں، ہم نے اس طرف جانا ہے، ہمیں زرعی مقاصد کیلئے اراضی چاہئے،

    سیاسی مفادات اور مقاصد کیلئے انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف مؤقف دیں گے، ہم نے ہمیشہ ایک دائرہ میں رہ کر سیاست کی ہے، دوست ممالک کی ناراضگی اور داغ مٹانے ہیں، انہیں اعتماد میں لینے کیلئے کوشش کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ جلد پاکستان امریکن بزنس کونسل سے ملیں گے، پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے بڑے مواقع موجود ہیں، وزیرستان سے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، اس کو جنگی بنیادوں پر پائپ لائن کے ذریعے قومی گرڈ میں لانے کی ہدایت کر دی ہے اس سے 26 لاکھ ڈالر ماہانہ بچت ہو گی۔

  • ڈالرکی پھراونچی پرواز،معاشی حالات پریشانی کا سبب بننے لگے

    ڈالرکی پھراونچی پرواز،معاشی حالات پریشانی کا سبب بننے لگے

    کراچی: انٹربینک / ڈالر مزید مہنگا اور روپیہ کمزور، ڈالر کی قدر میں مزید 2 روپے 44 پیسے کا اضافہ ہو گیا۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 202 روپے کی سطح سے تجاوز کرگیا، ڈالر 200.06 سے بڑھ کر 202.50 روپے کا ہوگیا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 204.50 سے زائد کا ہو گیا ہے۔

    گزشتہ روز پیٹرول کی ڈبل سنچری کے بعد ڈالر کی بھی دوبارہ ڈبل سنچری ہو گئی تھی، انٹربینک میں ڈالر 2.38 پیسے مہنگا ہونے کے بعد انٹربینک میں ڈالر 200.30 کا ہوگیا تھا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 201 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔

    سات جون بروز منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں بھونچال آگیا اور ڈالر3روپے 94پیسے مہنگا ہوا تاہم دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 202.83 روپے کا ہوگیا۔

    اس سےقبل انٹربینک میں ڈالر تاریخ میں پہلی بار204روپے کا ہوا۔اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 3.50 روپے کے اضافے سے 204.50 روپے کی سطح پر پہنچ گیا جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

    اس سے قبل 6 جون کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 2 روپے 14پیسے اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 200 روپے 6 پیسے ہوگئی تھی۔

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی قدر اور سونے پر سرمایہ کاری بڑھنے کی وجہ سے ملک میں سونے کے بھاؤ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    منگل کے روز بین الاقومی مارکیٹ میں فی اونس سونا 5 ڈالر کمی کے بعد ایک ہزار 849 ڈالر ہوگیا تاہم عالمی مارکیٹ کے برعکس مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا مزید ایک ہزار 250 روپے مہنگا ہوکر ایک لاکھ 43 ہزار 250 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 72 روپے بڑھ کر ایک لاکھ 22 ہزار 814 روپے ہوگئی.

    ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر،اوپن مارکیٹ میں ڈالر205 روپے کا ہو گیا

    سونے کے مقابلے میں چاندی کے بھاؤ میں استحکام دیکھا گیا اور منگل کو فی تولہ چاندی ایک ہزار 570 جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت ایک ہزار 346 روپے رہی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر پاکستانی روپے پر دباؤ برقرار رکھے گا۔ آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے قرض کی وصولی کی واضح صورت حال تک ڈالر کی قدر میں نمایاں گراوٹ مشکل نظرآرہی ہے۔

    وفاقی کابینہ کی چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری

    ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالرکے بڑھنے اورروپے کی قدر گرنے میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ امپورٹس کی وجہ سے بہت دباو ہے،دوسری وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ایک بڑی وجہ ہے

    ماہرین معیشت کا کہنا ہےکہ تیل کےلیے ایڈوانس پے منٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ماہ جون میں ادائیگیوں کا حجم بھی بڑھ گیا ہے جوپاکستانی روپے پر بہت دباوکی صورت حال اختیار کرگیا ہے

    چین نے دوستی کا حق ادا کر دیا، پاکستان کا 2 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض ری فنانس

    اس کے ساتھ ساتھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ عالمی کساد بازی بھی پاکستان معاشی بدحالی کا سبب بن رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈالراب پھربڑی تیزی کے ساتھ اوپر کو جارہا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے لیے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے کی بے قدری بھی پاکستانی معیشت کے لیے ایک خطرناک مسئلہ ہے

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑی تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے

    یہ بھی کہا جارہاہے کہ عالمی سطح پر سفرکرنے کے حوالے سے ڈالرکا استعمال بھی ایک وجہ ہے اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور چین سے ملنے والی رقم کی تاخیر ہے جس کے ملنے کی صورت میں‌معاملات میں وقتی طور پرحالات کے بہتر ہونے کی امید ہے

  • پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے کیا تشویش کا اظہار

    پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے کیا تشویش کا اظہار

    پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے کیا تشویش کا اظہار

    وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر اعلی سطح کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیرِ اعظم کو وزارتِ خزانہ کی طرف سے موجودہ ملکی معیشت کی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے تشویش کا اظہار کیا، اجلاس میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مفتاح اسماعیل، مریم اورنگزیب، زبیر عمر، عائشہ غوث پاشا، طارق محمود پاشا، بلال کیانی اور متعلقہ اعلی افسران نے شرکت کی،

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو معاشی لحاظ سے مستحکم بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے جا رہی ہے. وزیرِ اعظم نے معاشی ٹیم کو ہنگامی بنیادوں پر معیشت کی بہتری کیلئے اصلاحات کا جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایات جاری کر دیں. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہر صورت عام آدمی کی معاشی حالت بہتر کرنے کیلئے اقدمات اٹھائے جائیں. وزیرِ اعظم نے ملکی مجموعی معاشی صورتحال کی بہتری کے ساتھ ساتھ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا عمران خان کے خطاب پر ردعمل آیا ہے، مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ عمران صاحب آپ نے وہ سنگین جرم کیا جسے آئین پر حملہ اور آئین شکنی کہتے ہیں آپ نے بائیس کروڑ عوام اور آئین کو یرغمال بنایا جس کی سزا آرٹیکل 6 ہے عدالتیں اس لئے کھلیں تاکہ آئین اور قانون پر عمل ہوعدالتیں اس لئے کھلیں کیونکہ آپ نے عدالت سے جھوٹ بولا عدالتیں اس لئے کھلیں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ ملک آئین کے تحت چلے گا آپ کے حکم اور خواہش پر نہیں عدالتیں اس لئے کھلیں کیونکہ آپ نے آئین اور پارلیمنٹ کو یرغمال بنایا ہوا تھاعمران صاحب یہ ملک بائیس کروڑ لوگوں کی امانت ہے، وہ آپ کے غلام نہیں، اس لئے عدالتیں نصف شب کو کھلیں دھمکیاں دینے، سوال کرنے سے زیادہ بہتر ہوگا کہ آپ قوم سے اپنے جرائم کی معافی مانگیں ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ کی حقیقت، کرپشن اور لوٹ مار بے نقاب ہورہی ہے اور مزید عیاں ہوگی پونے چار سال عوام کا آٹا، چینی، گھی، دوائی، بجلی، گیس، کھاد چوری کی، عوام کا پیسہ تباہ کیا، یہ ہے آپ کا جرم عوام مہنگائی،بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے مررہی تھی، آپ کے لیکچرز جاری تھے، یہ ہے آپکا جرم احتساب کےنعرے لگا کر سیاسی مخالفین اور میڈیا کوناحق جیلوں میں ڈالا،یہ ہے آپکا جرم ،ریاست مدینہ، امر بالمعروف کی مقدس اصطلاحات کو اپنی کرپشن اور ناہلی چھپانے کے لئے استعمال کیا، یہ ہے آپ کا جرم ،فارن فنڈنگ کی آپ کی سازش پکڑی گئی ، یہ ہے آپ کا جرم ،لاکھوں ڈالر اور اربوں روپے الیکشن کمشن سے چھپائے، یہ ہے آپ کا جرم

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    استعفوں کے بعد اگلا لائحہ عمل، شیخ رشید نے بڑا اعلان کر دیا

    پی ٹی آئی کا بھی لانگ مارچ کا اعلان،کب ہو سکتا ہے،تاریخ بھی سامنے آ گئی

    قومی اسمبلی کی طرف سے مراسلہ سپریم کورٹ کو بھیج رہے ہیں،ڈپٹی سپیکر

    اسپیکر قومی اسمبلی کی خالی عہدے پر انتخاب کے لیے شیڈول جاری

  • کورونا،مہنگائی کے باوجود پاکستان میں کارو ں کی فروخت 62 فیصد بڑھ گئی

    کورونا،مہنگائی کے باوجود پاکستان میں کارو ں کی فروخت 62 فیصد بڑھ گئی

    کراچی :کورونا،مہنگائی کے باوجود پاکستان میں کارو ں کی فروخت 62 فیصد بڑھ گئی،اطلاعات کے مطابق ملک میں ایک طرف کورونا اور مہنگائی نے سب کوہلا کررکھ دیا ہے تو دوسری طرف ملک میں معاشی سرگرمیوں کے بڑھنے کی بھی اطلاعات ہیں ، اسی حوالے سے معاشی معاملات سے جڑے ایک پہلو میں میں بہت زیادہ تیزی دیکھنے کو ملی ہے ،

    معاشی سرگرمیوں کا سروے کرنے والے اداروں کی رپورٹ کے مطابق نومبر میں آٹو سیکٹر کے بعض شعبوں میں فروخت میں منفی رجحان کے باوجود جولائی سے نومبر تک رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران آٹوسیکٹر میں مجموعی طورپر مثبت رجحان دیکھا گیا۔

    پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پانچ ماہ کے دوران آٹو سیکٹر میں مثبت رجحان رہا، ٹرکوں کی فروخت میں سال بہ سال 84.2 فیصد اضافہ ہوا، جیپوں کی فروخت میں 82 فیصد، لائٹ کمرشل گاڑیوں میں 78.2 فیصد، کاروں کی فروخت میں 62 فیصد، فارم ٹریکٹر کی فروخت میں 19 فیصد اور دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا۔

    موٹرسائیکل بنانے والی کمپنی اٹلس ہونڈا لمیٹڈ نے نومبر میں 128,503 موٹر سائیکلیں فروخت کرکے اکتوبر میں فروخت ہونے والے 125,031 موٹر سائیکلوں کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔ جولائی-نومبر میں کمپنی کی فروخت 563,575 یونٹس تک پہنچ گئی جو ایک سال پہلے 512,010 تھی۔

    اعداد و شمار کے مطابق پانچ ماہ کے دوران کاروں کی کل فروخت بڑھ کر 90,303 تک پہنچ گئی جو کہ گذشتہ سال تک 55,779 تھی ، نومبر میں گاڑیوں کی فروخت میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی تاہم اکتوبر میں 17,413 سے 15,351 یونٹس تک پہنچ گئی۔