اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے عالمی مالیاتی و سرمایہ کاری اداروں کے سینئر ایگزیکٹوز سے ملاقات کی-
ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کے اہم معاشی اشاریے مالی سال کے آغاز پر کی گئی توقعات سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں، اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے نئے خطرات پیدا کیے ہیں اور معاشی منظرنامے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال بڑھا دی ہے، تاہم معیشت ماضی کے بحرانوں کے مقابلے میں اب ان ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس میں رہا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، بنیادی طور پر انٹربینک فاریکس مارکیٹ سے اسٹیٹ بینک کی خریداری کی وجہ سے 16.4 ارب ڈالر تک مستحکم ہو گئے اسٹیٹ بینک کی مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی وصولی، بشمول نئے دوطرفہ معاہدوں کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 تک مزید مضبوط ہو کر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
گورنر نے وضاحت کی کہ بہتر معاشی استحکام نے اقتصادی ترقی میں بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد بحالی میں مدد دی ہے، مالی سال 2026کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 3.8 فیصد کا وسیع البنیاد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں یہ شرح 1.8 فیصد تھی محتاط پالیسی کے رخ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ابتدائی حالات آج 2022 کے اوائل میں روس-یوکرین تنازع جیسے بیرونی جھٹکوں کے پچھلے ادوار کے مقابلے میں نمایاں طور پر مضبوط ہیں۔
تقریب میں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن، فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں بھی شریک تھیں، یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 تک عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے موسم بہار کے اجلاس کے موقع پر ہوئیں۔
