Baaghi TV

Tag: معاشی بحران

  • اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر مسلم لیگ (ن) کا اظہارِ تعجب

    اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے پر مسلم لیگ (ن) کا اظہارِ تعجب

    مسلم لیگ (ن) کے ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات زاہد خان نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں بڑے اضافے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    زاہد خان کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت معاشی بحران سمیت کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں، ایسے حالات میں پارلیمانی عہدوں کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کرنا ناقابل فہم ہے۔انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت آئی ایم ایف سے قرض حاصل کر رہی ہے، دوسری جانب سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    زاہد خان نے یاد دلایا کہ حکومت پہلے ہی اراکینِ پارلیمنٹ اور ججز کی تنخواہوں میں اضافہ کر چکی ہے، اب اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے دو روز قبل جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 13 لاکھ روپے مقرر کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق یکم جنوری 2025 سے ہو گا۔

    سکندر رضا کی حریف کوچ کے خلاف نسلی تعصب کی شکایت، ایسوسی ایشن کو خط

    عید کے دوران ملک بھر میں حادثات، 16 افراد جاں بحق، 62 زخمی

    وزیر اعلیٰ پنجاب کہیں گئی نہیں، مگر صاف ستھرا پنجاب نظر آ رہا ہے: میئر کراچی

  • پاکستان  نے مہنگائی میں سری لنکا کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاکستان نے مہنگائی میں سری لنکا کو پیچھے چھوڑ دیا

    امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باعث پاکستان نے مہنگائی میں مالیاتی بحران کے شکار سری لنکا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : بلوم برگ کے مطابق پاکستانی روپیہ 2023 میں عالمی سطح پر اب تک کی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں سے ایک ہے، جو ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوئی، اور درآمدی اشیا مزید مہنگی ہو گئیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اپریل میں ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں 56.8 فیصد اضافہ ہوا جب کہ کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی ایک سال پہلے کے مقابلے میں 48.1 فیصد بڑھ گئی کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں 21.6 فیصد اور رہائش، پانی اور بجلی کے بلوں میں 16.9 فیصد اضافہ ہوا-

    حکومت کو بڑا دھچکا،پاکستان ایل این جی عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ ہار گئی

    محکمہ شماریات کی طرف سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، صارفین کی قیمتوں میں اپریل میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 36.4 فیصد اضافہ ہوا،جو 1964 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس کا موازنہ بلومبرگ سروے میں 37.2% اضافے اور مارچ میں 35.4% اضافے کے درمیانی تخمینہ سے ہے-

    امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سری لنکا معاشی بحران پر قابو پاتا بھی دکھائی دے رہا ہے جبکہ رواں سال پاکستانی کرنسی بدترین گراوٹ کا شکار رہی ، جو ڈالر کے مقابلے میں20 فیصد گری ہے اور دنیا کی کم زور ترین کرنسی میں شمار ہوئی ۔

    امریکی جریدے کے مطابق اپریل میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 36 فیصد سے تجاوز کر گئی جو 1964 کے بعد سب سے زیادہ ہے اپریل میں سری لنکا میں مہنگائی کی شرح 35 فیصد رہی جو پاکستان سے کم ہے ،پاکستان میں مئی میں بھی مہنگائی کی شرح عروج پر رہے گی۔

    کراس بارڈر ادائیگیوں میں چینی کرنسی نے پہلی بارامریکی ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیا

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے 6.5 بلین ڈالر کے قرض کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکسوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک کی افراط زر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ پاکستان کے لیے اہم درآمدات برداشت کرنے اور ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے بیل آؤٹ فنڈز ضروری ہیں، لیکن آئی ایم ایف امداد دوبارہ شروع کرنے سے پہلے مالیاتی یقین دہانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔

    ماہر اقتصادیات انکر شکلا نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافہ کا امکان نہیں ہے، کیونکہ حقیقی شرحیں 12 ماہ کی مستقبل کی بنیاد پر مثبت ہو گئی ہیں۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ مہنگائی مئی میں عروج پر ہو گی اور خوراک کی قیمتیں آہستہ آہستہ کم ہو جائیں گی اور سال کے اوائل کے بنیادی اثرات شروع ہو جائیں گے۔

    سوزوکی گاڑیوں کی قیمتوں میں چوتھی باراضافہ

    گزشتہ ماہ، اسٹیٹ بینک نے قیمتوں کے دباؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں اپنی بینچ مارک سود کی شرح کو 21 فیصد تک بڑھا دیا، جو 1956 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے آئندہ مانیٹری پالیسی کا جائزہ 12 جون کو ہونا ہے۔

    اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر عزیر یونس نے بلومبرگ کو بتایا کہ حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ افراط زر کی سطح کے بارے میں مرکزی بینک کی امید غلط ہو سکتی ہے۔

    یونس نے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چالیس لاکھ سے زائد شہری خط غربت سے نیچے جا چکے ہیں، اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ مزید غربت کا سبب بنے گا۔

    مئی میں ڈالر 300 جب کہ جون میں 310 روپے کا ہوجائے گا۔ پیشنگوئی

    دوسری جانب جہاں وزیر اعظم شہباز شریف کو سیاسی بحران سے نبردآزما ہوتے ہوئے مہنگائی کی وجہ سے اضافی دباؤ کا سامنا ہے وہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

  • سری لنکامعاشی بحران :’فرار ہونے والے‘ سابق صدر نے واپس آکرپھرسیاست شروع کردی

    سری لنکامعاشی بحران :’فرار ہونے والے‘ سابق صدر نے واپس آکرپھرسیاست شروع کردی

    کولمبو:سری لنکامعاشی بحران :’فرار ہونے والے‘ سابق صدر نے واپس آکرپھرسیاست شروع کردی،جو سیاستدان ملک چھوڑ کر فرار ہوئے تھے ان کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے _سری لنکا میں معاشی بحران کے رد عمل میں صدارتی محل پر ہزاروں مظاہرین کے دھاوا بولنے کے بعد ملک سے فرار ہونے والے سابق صدر گوتابایا راجا پکشے سات ہفتوں کے بعد وطن واپس آ گئے ہیں۔

    سابق صدرگوتابایا راجا پکشے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کو بینگکاک سے کولمبو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترے تھے جہاں پارٹی کے ارکان نے ان کا استقبال کیا۔ ایئر پورٹ سے گوتابایا راجا پکشے کو مسلح فوجیوں کے حصار میں دارالحکومت کولمبو میں واقع سرکاری رہائش گاہ پر پہنچایا گیا جو ان کے لیے بطور سابق صدر مختص کی گئی ہے۔

    جولائی کو گوتابایا راجا پکشے اپنی اہلیہ اور دو گارڈز کے ہمراہ ایئر فورس کے جہاز میں مالدیپ کے لیے روانہ ہو گئے تھے جہاں سے وہ سنگاپور گئے اور وہیں سے انہوں نے ای میل کے ذریعے سپیکر پارلیمنٹ کو استعفٰی بھجوا دیا تھا۔

    سابق صدر کے ملک سے فرار ہو جانے کے بعد بھی مظاہرین صدارتی محل میں موجود رہے تھے اور ان کے استعفے کی خبر سامنے آنے کے بعد انہوں نے جشن بھی منایا تھا۔ خیال رہے کہ سابق صدر کے خلاف کوئی عدالتی مقدمہ یا وارنٹ گرفتاری زیر التوا نہیں ہے۔ ان کے خلاف بطور وزارت دفاع کے سیکرٹری مبینہ بدعنوانی کا واحد عدالتی مقدمہ درج تھا جو 2019 میں صدر منتخب ہونے کے بعد آئینی استثنیٰ کے باعث واپس لے لیا گیا تھا۔

    کئی ماہ سے سری لنکا بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے جس کے ردعمل میں ملک بھر میں غیر معمولی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دیوالیہ ہونے والے ملک سری لنکا میں معاشی بدحالی کا ذمہ دارگوتابایا راجا پکشے اور ان کے اہل خانہ کو ٹھہرایا جاتا ہے

    سری لنکا کی حکومت نے اپنے 51 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کے باعث خود کو دیوالیہ قرار دیا تھا۔ قرض کی کُل رقم میں سے سری لنکا کو 27 ارب ڈالر سنہ 2027 تک واپس کرنا ہیں۔ گوتابایا راجا پکشے کے مستعفی ہونے کے بعد قائم مقام صدر رانیل وکرما سنگھے نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی تاہم 20 جولائی کو پارلیمان میں ووٹنگ سے انہیں صدر منتخب کر لیا گیا تھا۔

    جمعرات کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سری لنکا کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے دو ارب 90 کروڑ ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی ۔ آئی ایم ایف نے دارالحکومت کولمبو میں نو دن تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ ’سری لنکا کو شدید بحران کا سامنا ہے۔

    سری لنکا کے لیے نئے پروگرام کا مقصد معاشی استحکام اور قرض کی پائیداری کو بحال کرنا ہے۔‘ صدر رانیل وکرما سنگھے نے رواں ہفتے قرضوں پر قابو پانے کی کوشش کے طور پر ٹیکسوں میں مزید اضافے اور وسیع اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔

    ان کی حکومت پہلے ہی ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں تین گنا سے زیادہ اضافہ کر چکی ہے اور توانائی کی سبسڈی کو ختم کر چکی ہے، جو آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ کے لیے ایک اہم شرط ہے۔ سری لنکا غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے باعث ضروری اشیا بھی درآمد کرنے کے قابل نہیں ہے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • لبنان میں خوراک کا بحران سنگین،مشتعل مظاہرین نے بیکریوں اورپیسٹریوں کی دکانوں پردھاوا بول دیا

    لبنان میں خوراک کا بحران سنگین،مشتعل مظاہرین نے بیکریوں اورپیسٹریوں کی دکانوں پردھاوا بول دیا

    بیروت: لبنان میں خوراک کا بحران سنگین، مشتعل مظاہرین نے بیکریوں اورپیسٹریوں کی دکانوں پردھاوا بول دیا۔

    باغی ٹی وی : عرب نیوز کے مطابق لبنان میں معاشی بحران سنگین ہوگیا ہے۔ مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالرکی قیمت میں غیرمعمولی اضافے، پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے اورآٹے سمیت غذائی اشیا کی قلت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پرنکل آئے اورحکومت کے خلاف احتجاج کیا۔

    مشتعل مظاہرین نے بیکریوں اورپیسٹریوں کی دکانوں پردھاوا بول دیا اورکھانے کی اشیا لوٹ لیں ملک میں آٹے کی شدید قلت کا ذمہ دار آٹے کی شام کو اسمگلنگ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

    کچھ شہریوں نے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جا کر اپنی مایوسی کا اظہار کیا، اس مسئلے کا ذمہ دار سیاستدانوں اور بیکریوں کو ٹھہرایا جبکہ مافیا تنظیموں کو بلیک مارکیٹ میں سبسڈی والے آٹے کی فروخت اور اسے شام اسمگل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

    کچھ جگہوں پر، فوج کو مداخلت کرنے پر مجبور کیا گیا، مظاہرین کو دکانوں سے ہٹا دیا گیا، اور قطار میں کھڑے صارفین کے درمیان گرما گرم بحث کو ختم کیا۔

    لبنان کے وزیر اقتصادیات امین سلام نے کہا: "اس ہفتے کے آخر تک تقریباً 49,000 ٹن گندم لبنان پہنچنے کی توقع ہے۔ امید ہے کہ جہاز تیزی سے پہنچیں گے۔ بحران ہمارے ملک سے آٹا چوری ہونے کا نتیجہ ہے۔

    "وزارت معیشت کی سربراہی میں ایک کرائسس سیل تشکیل دیا جائے گا اور گندم اور آٹے کی منصفانہ تقسیم اور بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایک نیا طریقہ کار تشکیل دیا جائے گا۔”

    لبنان کی جانب سے ادویات، گندم اور ایندھن پر سبسڈی جاری رکھنے کے لیے امریکی ڈالر حاصل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں بدھ کو 20 لیٹر پیٹرول کی قیمت 14 ہزار لبنانی پاؤنڈ سے بڑھ کر 6 لاکھ 17 ہزار لبنانی پاؤنڈ ہوگئی ہے-

    گیس اسٹیشن مالکان کے سنڈیکیٹ کے ایک رکن جارجس بریکس نے کہا کہ مرکزی بینک اپنے سیرافہ پلیٹ فارم کی شرح کے مطابق، ایندھن کی درآمد کے لیے درکار 100 فیصد امریکی ڈالر محفوظ کرتا تھا۔ اب یہ صرف 85 فیصد فراہم کرتا ہے۔ باقی 15 فیصد کو بلیک مارکیٹ ریٹ کی بنیاد پر محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔

    لبنان میں ایندھن کے تقسیم کاروں اور گیس سٹیشنوں کی یونین کے نمائندے فادی ابو شکرا نے کہا: "ہم مسلسل پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر مسئلہ حل نہیں ہوا تو مجھے نہیں معلوم کہ ہم کس طرف جا سکتے ہیں۔

    بدھ کے روز ہونے والے اپنے اجلاس میں، نگران وزیر اعظم نجیب میکاتی کی سربراہی میں عوامی سہولیات پر مالی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے قائم کردہ ایک وزارتی کمیٹی نے، سرکاری شعبے کے ملازمین کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے اپنی سابقہ ​​سفارشات کا اعادہ کیا، جو مزید ہڑتال پر ہیں۔ ایک ماہ سے زیادہ، 2022 کے بجٹ کی منظوری کے لیے زیر التوا اور ریاستی خزانے پر کسی قسم کے بوجھ سے گریز۔

    کمیٹی نے مکمل تنخواہ اور یومیہ ٹرانسپورٹ الاؤنس 95,000 پاؤنڈز کے برابر اضافی مالی امداد دینے کی منظوری دی، بشرطیکہ ملازمین ہفتے میں کم از کم دنوں کے لیے کام پر حاضر ہوں۔

  • جرمنی معاشی بحرانوں میں پھنس گیا:جرمن ایئرلائن لُفتھانسا کی 1000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    جرمنی معاشی بحرانوں میں پھنس گیا:جرمن ایئرلائن لُفتھانسا کی 1000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    لفتھانسا ایئرلائن کے جرمنی میں موجود زمینی عملے نے ایک روزہ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کام روک دیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ لفتھانسا ایئرلائن کی ایک ہزار سے زائد پروازیں بھی منسوخ ہو گئیں۔

    اس ہڑتال کے سبب 134,000 کے قریب مسافروں کو یا تو اپنا سفری پروگرام تبدیل کرنا پڑا یا پھر بالکل ہی منسوخ۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق 47 پروازیں تو منگل کو ہی منسوخ کر دی گئیں۔ لفتھانسا ایئرلائن کے بڑے مراکز فرینکفرٹ اور میونخ سب سے زیادہ متاثر ہیں جبکہ ڈوسلڈورف، ہیمبرگ برلن، بریمن، ہیننور، اشٹٹگارٹ اور کولون سے بھی پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

    ایئرلائن نے متاثرہ مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹس پر نہ جائیں کیونکہ وہاں موجود زیادہ تر کاؤنٹرز پر عملہ موجود ہی نہیں ہے۔ لفتھانسا کے ترجمان مارٹن لوئٹکے نے اس ہڑتال پر تنقید کرتے ہوئے اسے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ جو سفر کرنا چاہتے ہیں جو طویل عرصہ قبل اپنی چھٹیاں ترتیب دے کر ان کا انتظار کر رہے تھے، ان کے چھٹیوں کے یہ خواب بدقسمتی سے مؤخر ہو گئے ہیں یا شاید اس ہڑتال کی وجہ سے بالکل ہی برباد ہو گئے ہیں۔ لوئٹکے کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہڑتال قطعاً غیر ضروری ہے اور اسے مکمل طور پر بڑھایا چڑھایا گیا ہے۔

    جرمنی کے معاشی حب فرینکفرٹ کے ایئرپورٹ سے آج بدھ کے روز 1160 پروازیں شیڈول تھیں جن میں سے 725 کو منسوخ کر دیا گیا۔ ڈی پی اے کے مطابق دیگر ایسی ایئرلائنز کی پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں جو زمینی خدمات کے لیے لفتھانسا کے اسٹاف سے مدد لیتی ہیں۔ خود لفتھانسا کی طرف سے فرینکفرٹ ایئرپورٹ سے ہڑتال کے سبب پنی منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 646 بتائی گئی ہے۔

  • سری لنکا:سیاسی بحران جاری، نئے صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ

    سری لنکا:سیاسی بحران جاری، نئے صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ

    سری لنکا کے سابق صدر راجاپکسے کے مستعفی ہونے اور نئے صدر کے حلف اٹھانے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ اس ملک کا سیاسی بحران ختم ہو جائیگا لیکن اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ بحران کا سلسلہ ابھی اور آگے بڑھے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین نے نومنتخب صدر رانیل وکرماسنگھے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین کی جانب سے صدر وکرما سنگھے پر معزول صدر کے ساتھیوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز دارالحکومت کولمبو میں سکیورٹی فورسز نے ایوانِ صدر کے باہر موجود حکومت مخالف مظاہرین کے کیمپ اکھاڑ پھینکے تھے اور ایک طرح سے مظاہرین کی سرکوبی کا عمل شروع کر دیا تھا جبکہ پولیس ترجمان نے 9 افراد کی گرفتاری کی بھی تصدیق کردی ہے۔

    واضح رہے کہ پچھلے کئی ماہ سے مظاہرین نے قصرِ صدارت کے باہر پڑاؤ ڈالا ہوا تھا، ان کا مطالبہ تھا کہ سابق صدر راجاپکسے مستعفی ہوں۔ تاہم راجاپکسے کے مستعفی ہونے کے بعد اب مظاہرین نے نومنتخب صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

  • سری لنکا سیاسی بحران میں کمی آنےلگی:صدرگوٹابایا راجا پکسےبالآخر مستعفی ہوگئے

    سری لنکا سیاسی بحران میں کمی آنےلگی:صدرگوٹابایا راجا پکسےبالآخر مستعفی ہوگئے

    کولمبو:بدترین معاشی بحران کا شکار سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے بالآخر مستعفی ہوگئے۔ اس موقع پردارالحکومت میں جشن کا سماں ہے۔جس کے بعد گُمان کیا جارہا ہے کہ ممکن ہے کہ سیاسی بحران میں کمی آجائے جس کے بعد معاشی بحران میں بھی کمی آسکتی ہے

    سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے کے مستعفی ہونے کا سن کر دارالحکومت کولمبو میں لوگوں نے جشن مناتے ہوئے پٹاخے برسائے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے منگل کو ملک سے فرار ہونے کے بعد سنگاپور میں موجود ہیں، جہاں وہ مملکت کے عہدے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو گئے ہیں۔

    صدر پکسے کے مستعفی ہونے کی خبر سن کر دارالحکومت کولمبو میں جشن کا سماں ہے۔ مقامی لوگوں نے جشن مناتے ہوئے پٹاخے بھی پھوڑے۔اس موقع پر پارلیمنٹ کے سپیکر نے بھی تصدیق کی کہ انہیں راجا پکسے کے استعفیٰ کا خط موصول ہوچکا ہے۔

    یاد رہے، صدر کا استعفیٰ ایک ایسے دن آیا ہے جب مظاہرین نے اعلان کیا تھا کہ وہ صدارتی محل، صدارتی سیکرٹریٹ اور وزیر اعظم کے دفتر سمیت سرکاری عمارتوں پر سے اپنا قبضہ ختم کر دیں گے۔

    دوسری جانب، سنگاپور کی حکومت کا کہنا ہےکہ کہ سری لنکا کے سابق صدر “نجی دورے” پر وہاں موجود ہیں اور انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دی ہے۔

    وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے سیکورٹی فورسز کو امن بحال کرنے کے لیے کہا ہے اور ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔مظاہرین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم پرامن طور پر صدارتی محل، صدارتی سیکرٹریٹ اور وزیر اعظم کے دفتر سے فوری طور پر دستبردار ہو رہے ہیں تاہم، اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

     

     

    معاشی بحران کے شکار سری لنکا میں حکومت مخالف مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ سرکاری عمارات سے اپنا قبضہ ختم کر رہے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے سیکڑوں مظاہرین نے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپکسے کے محل پر قبضہ کرکے انہیں بدھ کو مالدیپ فرار ہونے پر مجبور کردیا تھا جبکہ مظاہرین کا بہت بڑا ہجوم وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے کے دفتر بھی جمع ہوگیا۔

    وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ مظاہرین سرکاری عمارات کو خالی کریں۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایات جاری کیں کہ امن و امان کی بحالی کے لیے جو بھی ضروری اقدامات کیے جاسکتے ہیں وہ کریں۔

  • ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ عوامی نیشل پارٹی

    ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ عوامی نیشل پارٹی

    حال ہی میں ایک خبر سامنے آئی تھی کہ عوامی نیشنل پارٹی نے حکومتی اتحاد کو خیرباد کہنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے سیکٹری ثقافت ڈاکٹر خادم حسین نے باغی ٹی وی (اردو) سے خصوصی بات کرتے ہوئے اپنا موقف دیا کہ: عوامی نیشنل پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ بنی کیونکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ جو پچھلی حکومت تھی ایک تو وہ جائز حکومت نہیں تھی اور نہ وہ سہی طور پر عوام کی نمائندہ حکومت تھی کیوں کہ وہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی لہذا اس حکومت کو ہٹانا سیاسی طور پر بہت ضروری تھا تاکہ ایک مثال سیٹ ہو جائے اور یہ بھی ضروری تھا کہ اس عمل کو سیاسی اور آئینی طور پر کیا جائے۔

    خادم حسین نے باغی ٹی وی کو بتایا: جو عدم اعتماد آئین میں درج ہے اس پر ہم نے متحدہ اپوزیشن کا حصہ بن کر اپنا آئینی حق ادا کرتے ہوئے ناصرف انہیں ووٹ دیا بلکہ ان کی حمایت بھی کی۔

    لیکن پھر جب حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو ہم نے واضح طور پر کہا کہ ایک تو ہماری عددی اکثریت نہیں ہے بہت کم ہے اور دوسرا ہم اپنی جماعت کے اندر بہت سارے کام کرنا چاہتے ہیں جیسے کہ تنظیم نو وغیرہ۔

    انہوں نے مزید بتایا: چونکہ ہماری جماعت کا قومی اسمبلی میں ایک ہی ممبر ہے جن کو وزیر بنایا جائے جس پر ہم اتفاق بھی کر لیتے لیکن چونکہ وہ ہماری جماعت کے قائم مقام صدر بھی ہیں تو ظاہر ہے اس سے عوامی نیشنل پارٹی کی تنطیم نو کی فعالیت بہت زیادہ اثر اندز ہوتی ۔

    لہذا ہم نے اتحادیوں کو آگاہ کیا کہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں اور تمام تر ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دو تین چیزوں کے حوالے سے ہم سنجیدہ ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوگا.

    سیکریٹری ثقافت کا کہنا تھا کہ: پہلی بات یہ ہے کہ اگر معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے اور اس کے لیے جتنے بھی ساختی تبدیلیاں ہیں وہ کی جاتی ہیں اور پالیسیوں کو درست کیا جاتا ہے تو ہم اس کا ساتھ دیں گے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ سارے کا سارا بوجھ عوام کی پر منتقل نہ کیا جائے۔

    بلکہ عام عوام کیلئے کے لیے فوری ریلیف کا انتظام جو بہت ضروری ہے کیا جائے، مہنگائی اور بیروزگاری اور بد امنی و دہشتگردی کا یہ جو سلسلہ ہے یہ براہ راست عوام کو ان کے روزگار اور ان کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے تو اس حوالے سے بھی ہم نے حکومتی اتحاد سے یہ کہا کہ عوام کے لئے فوری سہولیات کا بندوبست کیا جانا ضروری ہے۔

    ان کے مطابق: اب لگ ایسا رہا ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جارہا، جبکہ ڈالر بھی بھی اڑان بھر رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ جو عام عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔
    خادم حسین کہتے ہیں کہ: ہم بار بار حکومت کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اور اپنے مرکزی قائم مقام صدر کے ذریعے یہ پیغام پہنچاتے رہتے ہیں کہ عوام پر سارا بوجھ نہ ڈالا جائے کیونکہ کسی اور نے معیشت کا بیڑا غرق کیا جس سے معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

    لہذا قصوروار بھی وہی یعنی پچھلی حکومت ہے جس نے معیشت کو تباہ کیا لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا عوامی نیشنل پارٹی کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ خمیازہ ان لوگوں پر منتقل کیا جائے جو دراصل اس پورے نظام کے بہت بڑے منافع کے حصہ دار ہیں جیسے مختلف ادارے اور تجارتی کمپنیاں ہیں کیونکہ یہی سرمایہ دار سب سے زیادہ منافع کما رہے ہیں تو پھر ہمیں منظور ہوگا۔

    انہوں نے کہا: ہمارا حکومت کومشورہ یہ تھا کہ خرچہ کو کم کرکے پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ: موجودہ حکومت ایسا نہیں کر پارہی ہے یا پھر ان کو بہت زیادہ وقت درکار ہے کیونکہ ان کی رفتار بہت زیادہ سست ہے۔ لہذا عوامی نیشنل پارٹی کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر اسی طرح بوجھ عوام پر منتقل کیا جاتا رہا اور مہنگائی مسلسل بڑھتی رہی اور عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا نہ ملا علاوہ ازیں معیشت مستحکم نہیں ہو پاتی اور لوگوں کی بے روزگاری ختم نہیں ہوتی تو پھر اس طرح کا اتحاد میں رہنا عوامی مفاد میں نہیں ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ: ہم نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ کب حکومتی اتحاد کو خیرباد کہنا ہے اور آخری بات یہ کہ نہ یہ ہماری چاہت ہے کے حکومت غیر مستحکم ہو لیکن ہمیں عام عوام پر ڈالا گیا بوجھ ہرگز قابل قبول نہیں ہے جس کا ہم حکومتی اجلاسوں میں کئی بار اظہار بھی کرچکے لیکن فحال کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آرہی لہذا ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے.

  • سری لنکا : پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں،حالات مزید خراب ہوگئے

    سری لنکا : پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں،حالات مزید خراب ہوگئے

    کولمبو:سری لنکا کی حکومت نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔سیلون پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا ہے کہ اس نے پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ 15 فیصد اضافے کے ساتھ ڈیزل کی قیمیت 460 روپے یا 1.27 ڈالر فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کی نئی قیمت 550 روپے یا 1.52 ڈالر ہے

    ایندھن کا بحران:سری لنکا میں اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند

    یہ اعلان وزیر توانائی کنچنا ویجیسکیرا کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا جب انہوں نے تیل کی نئی کھیپ سے متعلق کہا تھا کہ اس میں غیرمعینہ مدت تک تاخیر ہوگی۔ ویجیسکیرا نے صارفین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پمپ سٹیشنوں کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے سے گریز کریں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ملک میں تیل کی سپلائی تقریباً دو دن کے لیے کافی تھی لیکن حکام نے اس کو ضروری خدمات کے لیے رکھا ہے

    اگر اسی طرح چلتا رہا تو ملک سری لنکا کی طرف جائے گا، عمران خان

    ادھرامریکی محکمہ خزانہ اور وزارت خارجہ سے ایک وفد ’ضرورت مند سری لنکن شہریوں‘ کی مدد کے لیے کولمبو پہنچ گیا ہے۔ امریکی سفیر جولی چنگ نے کہا ہے کہ ’سری لنکن شہریوں کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی چیلنج کا سامنا ہے۔‘ امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں اس نے سری لنکن شہریوں کی مدد کے لیے 158.75 ملین ڈالر کی نئی مالی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے پہلے ہی ایک ہنگامی اپیل کی تھی کہ وہ دو کروڑ 20 لاکھ آبادی والے جزیرہ نما ملک کے کمزور طبقے کے لیے 47 ملین ڈالر اکٹھا کرے گا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایک اعشاریہ سات ملین شہریوں کے لیے ’زندگی بچانے والے امداد‘ کی ضرورت ہے۔ شدید قلت اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ہر پانچ میں سے چار افراد نے اپنے کھانے میں کمی کر دی ہے۔

    معاشی مشکلات میں گھرے ملک سری لنکا نے روس سے تیل خرید لیا

    ملک میں پیٹرول کی کمی وجہ سے ہسپتالوں کے عملے کی حاضری میں بھی کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ سنیچرہفتے کو سری لنکن وزیراعظم نے پارلیمان کو خبردار کیا تھا کہ مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہماری معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔‘ سری لنکا کی حکومت نے کہا اپریل میں کہا تھا کہ ممکنہ بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت کر رہی ہے۔ سری لنکا کی حکومت 51 بلین ڈالر کا غیرملکی قرض دینے سے قاصر ہے

  • عالمی معاشی بحران:کیسےقابوپایاجاسکتاہے؟اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل نےتجاویزدے دیں

    عالمی معاشی بحران:کیسےقابوپایاجاسکتاہے؟اقوام متحدہ کےسکریٹری جنرل نےتجاویزدے دیں

    جنیوا:معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی تجویز سامنے آئی ہے ،اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے یوکرین اور روس سے بیک وقت اناج برآمد کرنے پر زور دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ یو ان سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے یوکرین اور روس سے ایک ساتھ اناج برآمد کرنے کے معاہدے کے بارے میں بات کی ہے۔

    دنیا میں اناج کی بڑھتی ہوئی کمی کوپورا کرنے کےلیے اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتین نے تجویز دی تھی کہ اناج کی برآمد کا سب سے آسان اور کم خرچ والا راستہ بیلاروس کے ذریعے ہے، حالانکہ اقوام متحدہ نے حالیہ دنوں بیلاروس کے راستے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مسٹر گوٹیرس کے نقطہ نظر سے خوراک کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے مسائل پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوٹیرس شروع میں اناج کی برآمد کو پہلے یوکرین اور پھر روس سے شروع کرنا چاہتے تھے۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے مابین جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے اور اناج کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جس نے سب کو پریشان کر دیا ہے اور نتیجتاً اس بحران سے نکلنے کے راستے ڈھونڈنے کیلئے سب نے کمر کس لی ہے۔