Baaghi TV

Tag: معدہ

  • موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

    موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

    موٹاپا اور ذیابیطس ٹائپ 2 کو موجودہ عہد میں وبا کی طرح پھیلنے والے طبی مسائل قرار دیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل بی ایم سی میڈیسن میں شائع برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ معدے میں موجود بیکٹریا کے ذرات چربی کے خلیات کو نقصان پہنچا کر جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں تحقیق کے مطابق endotoxins نامی یہ زہریلے ذرات خون میں شامل ہوکر چربی کے خلیات پر براہ راست اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    سعودی عرب سے پاکستان آنیوالی مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق

    اس تحقیق میں 156 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 63 موٹاپے کے شکار تھے ان افراد کے خون اور چربی کے نمونے حاصل کیے گئے اور دریافت ہوا کہ موٹاپے کے شکار افراد کے چربی کے خلیات کا توانائی استعمال کرنے والے براؤن فیٹ خلیات میں تبدیل ہونے کا امکان گھٹ جاتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ اس کی ممکنہ وجہ موٹاپے کے شکار افراد کے خون میں endotoxins ذرات کی بہت زیادہ مقدار ہے endotoxins بیکٹریل خلیاتی دیواروں میں پائےجانےوالے زہریلےذرات ہوتے ہیں انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے کرائی جانے والی سرجری سے خون میں ان ذرات کی تعداد گھٹ جاتی ہے جس سے چربی کے خلیات کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

    برطانیہ میں تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح بیکٹریا موٹاپے اور اس سے منسلک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 کا باعث بن سکتے ہیں جو پھٹنے پر خارج ہوتے ہیں صحت مند معدے میں یہ ذرات ان جرثوموں کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں موٹاپے کے شکار افراد کے معدے میں موجود رکاوٹ کمزور ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں یہ ذرات خون میں شامل ہوکر جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتے ہیں-

    درجہ حرارت میں تشویشناک اضافہ،اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

  • تخم بلنگوا، بڑھاپا بھگائیں، صحت بھی پائیں ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    تخم بلنگوا، بڑھاپا بھگائیں، صحت بھی پائیں ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    طاقت، صحت اور توانائی ہر ایک کے لیے پسندیدہ ہیں اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ بے پناہ طاقت و قوت حاصل کرے۔ اس کے برعکس بڑھاپا ایک غیر پسندیدہ چیز ہے اور ہر کوئی جوان نظر آنا چاہتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار انعامات سے نوازا ہے مگر اکثر ہم ان قیمتی انعامات کی بے قدری کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سے مستفید ہو کر ہم مہنگے علاج معالجے سے بھی بچ سکتے ہیں اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔

    تخمِ بالنگوا جسے عام زبان میں تخم ملنگا بھی کہا جاتا ہے ایک نایاب  قدرتی نعمت ہے جسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے اور کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ تخم بلنگوا صحت کا ایک خزانہ اور طبی فوائد سے بھرپور چیز ہے۔

    اس کا اکثر استعمال تو مشروبات میں ہی نظر آتا ہے مگر یہ اس کے علاوہ بھی بہت سی خصوصیات کا حامل ہے۔ ازطق سپاہی جنگ سے پہلے اسے کھاتے تھے کیونکہ یہ توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر تخمِ بلنگوا کو دوڑنے والے کی غذا بھی کہا جاتا ہے۔

    تخمِ بلنگوا کی 28 گرام مقدار میں 137 کیلوریز، 12 گرام کاربوہائیڈریٹس، ساڑھے چار گرام چکنائی، ساڑھے دس گرام فائبر، صفر اعشاریہ چھ ملی گرام مینگنیز، 265 ملی گرام فاسفورس، 177 ملی گرام کیلشیئم کے علاوہ وٹامن، معدنیات، نیاسین، آیوڈین اور تھایامائین موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تخمِ بلنگوا میں کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔

    اب تخمِ بلنگوا کے بعض نایاب فوائد کا ذکر کیے دیتے ہیں۔

    جلد نکھارے اور بڑھاپا بھگائے

    میکسکو میں تخمِ بلنگوا پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں قدرتی فینولِک (اینٹی آکسیڈنٹ) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ جسم میں فری ریڈیکل بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ اس طرح ایک جانب تو یہ جلد کے لیے انتہائی مفید ہے تو دوسری جانب بڑھاپے کو بھی روکتا ہے۔

    ہاضمے کے لیے مفید

    فائبر کی بلند مقدار کی وجہ سے تخمِ بلنگوا ہاضمے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ السی اور تخمِ بلنگوا خون میں انسولین کو برقرار رکھتے ہیں اور کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو بھی لگام دیتے ہیں۔ طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر پانی جذب کرکے پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے اور وزن گھٹانے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کا استعمال معدے کے لیے مفید بیکٹیریا کی مقدار بڑھاتا ہے۔

    قلب کو صحتمند رکھے

    تخمِ بلنگوا کولیسٹرول گھٹاتا ہے، بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے اور دل کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال خون کی شریانوں کی تنگی روکتا ہے اور انہیں لچکدار بناتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی وجہ سے یہ دل کا ایک اہم محافظ بیج ہے۔

    ذیابیطس میں مفید

    تخمِ بلنگوا میں الفا لائنولک ایسڈ اور فائبر کی وجہ سے خون میں چربی نہیں بنتی اور نہ ہی انسولین سے مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ یہ دو اہم عوامل ہیں جو آگے چل کر ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔ اسی لیے تخم بلنگوا کا باقاعدہ استعمال ذیابیطس کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

    توانائی بڑھائے

    جرنل آف اسٹرینتھ اینڈ کنڈشننگ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق تخمِ بلنگوا ڈیڑھ گھنٹے تک توانائی بڑھاتا ہے اور ورزش کرنے والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ جسم میں استحالہ (میٹابولزم) تیز کرکے چکنائی کم کرتا ہے اور موٹاپے سےبھی بچاتا ہے۔

    ہڈیوں کی مضبوطی

    ایک اونس تخمِ بلنگوا میں روزمرہ ضرورت کی 18 فیصد کیلشیئم پائی جاتی ہے جو ہڈیوں کے وزن اور مضبوطی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس میں موجود بورون نامی عنصر مینگنیز اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور یوں ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زنک اور دیگر اجزا منہ اور دانتوں کی صحت برقرار رکھتے ہیں اور قوت مدافعت بھی بڑھاتے ہیں۔

    موسم گرما میں بآسانی اسے مشروبات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو اگر اس قدر فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ابھی سے اسے اپنی غذا کا حصہ بنائیں اور تندرستی و توانائی کے حصول کے ساتھ بڑھاپے کو بھی بھگائیں۔