Baaghi TV

Tag: معروف قوال امجد صابری کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے

  • معروف قوال امجد صابری کو مداحوں سے بچھڑے 5 برس بیت گئے

    معروف قوال امجد صابری کو مداحوں سے بچھڑے 5 برس بیت گئے

    معروف قوال امجد صابری کی 5 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : امجد صابری نے 23 دسمبر 1970 کو کراچی میں معروف قوال صابری گھرانے میں آنکھ کھولی، ان کے والد غلام فرید صابری بھی قوالی کی دنیا کا مشہور نام تھےامجد صابری نے 1988 میں فنی سفر کا آغاز کیا اور اپنی بہترین آواز اور انفرادیت کی وجہ سے سب کے دلوں میں گھر کرلیا۔

    مجھے یقین نہیں آرہا کہ بابا کے انتقال کو پانچ سال گُزر گئے ہیں حورین صابری

    امجد صابری نے ناصرف پاکستان میں قوالیوں کو جلا بخشی بلکہ لندن، امریکا اور بھارت سمیت 17میں اپنی آواز کا جادو بکھیرا اپنے والد غلام فرید صابری کے انتقال کے بعد امجد صابری ایک نئے روپ میں ابھر کر سامنے آئے اور انھوں نے باقاعدہ قوالی کا آغاز اسی کلام ’’تاجدار حرم‘‘ سے کیا جو ماضی میں ان کے والد اور چچا کو بام عروج پر پہنچا چکا تھا۔

    امجد صابری 5 برس قبل 22 جون کو رمضان المبارک کے دوران ایک نجی ٹی وی چینل کی ٹرانسمیشن میں شرکت کے لیے جارہے تھے کہ لیاقت آباد میں گھر سے کچھ فاصلے پر انہیں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

    بابا! آپ کے بغیر زندگی گُزرنا بہت مشکل ہے پریسا صابری
    ماہرہ خان کا معروف قوال امجد صابری کو خراج عقیدت
  • معروف قوال غلام فرید صابری کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے

    معروف قوال غلام فرید صابری کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے

    معروف قوال غلام فرید صابری کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے

    باغی ٹی وی : غلام فرید صابری 1930 میں ہندوستان کے صوبے مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے انہیں بچپن سے ہی قوالیوں کا شوق تھا اور 1946 میں غلام فرید صابری نے پہلی مرتبہ مبارک شاہ کے عرس پر ہزاروں لوگوں کے سامنے قوالی گائی جہاں ان کے انداز قوالی کو بہت پسند کیا گیا

    قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مسلمانوں کی طرح غلام فرید صابری کا خاندان بھی ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوگیا تھا ان کا پہلا البم 1958 میں ریلیز ہوا جس کی قوالی میرا کوئی نہیں تیرے سوا نے مقبولیت کے جھنڈے گاڑھ دئیے

    غلام فرید صابری نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد عنایت حسین صابری سے حاصل کی اور پہلی پرفارمنس 11 برس کی عمر میں دی غلام فرید صابری کو صوفیانہ کلام پڑھنے پر مکمل دسترس حاصل تھی الگ اور اچھوتے انداز میں قوالی گانے میں بعد ازاں ان کے چھوٹے بھائی مقبول صابری بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے

    70 اور 80 کی دہائی ان کے عروج کا دور تھا اسی زمانے میں انہوں نے بھر دو جھولی میری یا محمد قوالی گا کر دنیا بھر سے دادو تحسین
    حاصل کی 1975ء میں گائی گئی قوالی تاج دار حرم نے ان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا

    اس کے علاوہ معروف نعت بلغ العلی بکمالہ بھی صابری برادران نے ہی سب سے پہلے پڑھی تھی اردو کے علاوہ پنجابی سرائیکی اور سندھی زبان میں بھی انہوں نے قوالیاں گائیں غلام فرید صابری اور مقبول صابری نے فلموں کے لیے بھی قوالیاں ریکارڈ کروائیں نجن میں ، بن بادل برسات ،عشق حبیب، چاند سورج، الزام اور سچائی شامل ہیں

    5 اپریل 1994 کو کراچی میں غلام فرید صابری کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ انتقال کر گئے