Baaghi TV

Tag: معیشت

  • پاکستانی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے, گورنر اسٹیٹ بینک

    پاکستانی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے, گورنر اسٹیٹ بینک

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026 میں شرح نمو 3.25 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی سالانہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی بینک کے گورنر نے پاکستان کی معاشی پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ پیش کی، جبکہ کونسل کی قیادت اور اراکین نے برآمدی مسابقت کو بڑھانے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

    گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ 2022 کے بعد پاکستان نے غیر معمولی معاشی چیلنجز پر قابو پایا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر جو 2023 کے آغاز میں صرف 2.8 ارب ڈالر رہ گئے تھے، اب بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر ہو چکے ہیں، جاری کھاتہ خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے، جبکہ ترسیلات زر 2025 میں بڑھ کر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں جو بڑی حد تک غیر رسمی ذرائع سے رسمی چینلز کی طرف منتقل ہوئی ہیں۔

    سوڈان : لینڈ سلائیڈنگ سے پورا گاؤں تباہ ، صرف ایک شخص زندہ بچا

    جمیل احمد نے کہا کہ افراطِ زر جون 2025 میں کم ہو کر 3.2 فیصد کی تاریخی سطح تک آ گیا ہے، جس کی بدولت اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ایک سال میں شرحِ سود کو 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دیا، مالیاتی نظم و ضبط، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور بیرونی قرضوں کے مستحکم سطح پر رہنے نے منڈیوں کو اعتماد فراہم کیا ہےپاکستان کی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے اور مالی سال 2026 میں شرح نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہے گی، ہمارا عزم ہے کہ استحکام کو برقرار رکھا جائے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے جائیں اور افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رکھا جائے۔‘

    دوسری جانب پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے گورنر کی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمد کنندگان کو درپیش بنیادی مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ہوگا اگرچہ معاشی استحکام حاصل کیا گیا ہے لیکن پاکستان میں کاروبار کی لاگت اب بھی غیر مسابقتی ہے،برآمدی سہولت اسکیم سے ضروری خام مال کے اخراج نے برآمد کنندگان پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے، ایسے وقت میں جب عالمی منڈیوں میں پاکستان کے لیے مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کا نادر موقع موجود ہے۔‘

    علی امین گنڈاپور کی مولانا فضل الرحمن اورگورنر کے پی،پر کڑی تنقید

    فواد انور نے زور دیا کہ برآمدی سہولت اسکیم سے نکالے گئے خام مال پر عائد درآمدی ڈیوٹیز واپس لی جائیں، سیلز ٹیکس 3 سے 5 فیصد تک محدود اور قابل واپسی بنایا جائے مزید یہ کہ سب کے لیے یکساں 1 فیصد ڈیوٹی ڈرا بیک اسکیم، اور اجرت و توانائی کے بڑھتے اخراجات کے لیے سبسڈی والے فائنانسنگ پروگرام فراہم کیے جائیں،ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، یہی وقت ہے کہ حکومت جراتمندانہ پالیسی معاونت فراہم کرے تاکہ ہماری صنعت عالمی منڈی میں طویل المدتی مارکیٹ شیئر حاصل کر سکے، بجائے اس کے کہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے۔

    بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان

  • زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں  ڈالر  مہنگا

    زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر مہنگا

    معیشت میں بڑھتی ہوئی طلب، درآمدی وبیرونی ادائیگیوں کے دباو برقرار رہنے سے زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں بدھ کو دوبارہ روپے کی نسبت ڈالر تگڑا رہا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عیدالفطر کے موقع پر سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی آمد بڑھنے، عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی پاکستان کے میکرو اکنامک صورتحال بہتر ہونے کے اعتراف سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے میں ڈالر کی قدر ایک موقع پر 26پیسے کی کمی سے 279روپے 80پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔

    لیکن جوں ہی سپلائی بہتر ہوئی مارکیٹ فورسز کی ڈیمانڈ آنے سے ڈالر کی پیشقدمی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 02پیسے کے اضافے سے 279روپے 97پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 09پیسے کے اضافے سے 281روپے 59پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

    شرجیل میمن سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنرکی ملاقات

    پیپلزپارٹی نےسیاسی جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

    سرفراز احمد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کےٹیم ڈائریکٹر مقرر

  • وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور میڈیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس ملاقات میں وزیرِ اعظم نے حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتہ کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر میڈیا کی تعمیری تنقید گورننس کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور ملک میں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون مانتی ہے اور اس کے حقوق کا مکمل احترام کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر اڑان پاکستان کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو مقامی طور پر تیار کردہ ملک کی ترقی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے میڈیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو ضروری قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی حالیہ اقتصادی ترقی اور استحکام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی ترقی کی رفتار دوبارہ شروع ہو چکی ہے، جو 2018 میں رک گئی تھی۔ وزیرِ اعظم نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی استحکام کے دوران ترقی کے سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ان کی قیادت میں پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے۔وزیرِ اعظم نے دوست اور برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے واپس آ کر معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح اور شرحِ سود میں کمی کا سہرا حکومت کی محنتی معاشی ٹیم کے سر ہے، اور برآمدات میں اضافے، صنعتی اور زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

    مزید برآں، وزیرِ اعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کے نفاذ اور مکمل ڈیجیٹائزیشن کے عمل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کسٹمز کے نظام میں بہتری کے لیے فیس لیس اسیسمنٹ کے نظام کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ، کرپشن کا خاتمہ اور محصولات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات، چینی، کھاد اور آٹے کی اسمگلنگ کی روک تھام سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ترسیلات زر میں اضافے کو حکومتی پالیسوں پر ان کے اعتماد کا عکاس قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے سی پیک کے منصوبوں کے جلد تکمیل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں اور میاں محمد نواز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کا پاکستان اور خطے کی ترقی کا خواب حقیقت کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو شکست دینے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی باصلاحیت نوجوان افرادی قوت ہے، اور حکومت نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

    ملاقات کے دوران وفد کے شرکاء نے وزیرِ اعظم کی حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اقدامات کو سراہا، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے ساتھ حکومتی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے حوالے سے ان کی کاوشوں کو تحسین کا نشانہ بنایا۔ وفد کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور حکومت کو اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزارتِ اطلاعات کے اعلی افسران، چیئرمین پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن میاں عامر محمود، میر ابراہیم، ناز آفرین سہگل، سلطان لاکھانی، سلمان اقبال، شکیل مسعود، ندیم ملک اور کاظم خان بھی شریک تھے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

  • وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیوز کانفرنس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر تفصیل سے بات کی ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب مثبت سمت میں گامزن ہے اور حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جو معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں گے۔اڑان پاکستان پروگرام پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔

    ٹیکنالوجی کی ترقی اور وفاقی اخراجات میں کمی
    وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اخراجات کا حجم کم کر کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جس میں حکومت کے ارکان، حزب اختلاف کے رہنما اور نجی شعبے کے افراد شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے تاکہ معیشت میں پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہوگا۔ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے ملکی معیشت کی قیادت سنبھالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت رائٹ سائزنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ طویل عرصے سے کام جاری ہے۔ رائٹ سائزنگ کا مقصد اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون 2025 سے پہلے رائٹ سائزنگ کے عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 6 وزارتوں نے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے اخراجات کا جائزہ لیا ہے۔ اس عمل میں وزارتوں اور اداروں کے غیر ضروری اخراجات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ صرف ضروری اور اہم اخراجات پر توجہ دی جا سکے۔وفاقی حکومت کے حجم کو مرحلہ وار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں منظور شدہ ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے انضمام کا عمل جاری ہے۔ اس کے تحت وزارت امور کشمیر، سیفران اور آئی ٹی کے اداروں کو ضم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس اور ہاؤسنگ کے ذیلی اداروں کا انضمام بھی کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے جو اقتصادی پلان اور اصلاحاتی اقدامات ترتیب دیے ہیں، ان سے معیشت میں استحکام آئے گا اور سٹرکچرل اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ حکومت نے پبلک فنانس اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کے لیے عملی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔محمد اورنگزیب نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور نجی شعبے کی حمایت سے ملک کی معیشت کو نئے امکانات فراہم کیے جائیں گے۔

  • 2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا ،اسحاق ڈار

    2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا ،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے اور اس ماہ میں یہ 5 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیشت میں بہتری کے آثار ہیں۔

    اسحاق ڈار نے یہ بات اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ 2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا اسی سال ن لیگ حکومت میں آئی، سب کو نیا سال مبارک ہوں،2024 میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ مینڈیٹ دیا، جس کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 31 دسمبر کو ایک جامع معاشی پلان پیش کیا۔ وزیرِ اعظم کا ‘اڑان پاکستان’ پروگرام بھی عوام کے سامنے لایا گیا ہے جس میں ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے مختلف اقدامات شامل ہیں۔نائب وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتوں میں جس طرح مہنگائی کا طوفان آیا تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے۔ "مہنگائی کا وہ شدید دباؤ اب کم ہوچکا ہے، عوام پر بجلی کے بلوں کا بوجھ بھی زیادہ تھا اور اس کی متعدد وجوہات تھیں، مگر وزیرِ اعظم نے بجلی کے بلوں میں کمی کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن سے عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔”

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈیڑھ سال پہلے پاکستان کو سفارتی تنہائی کا سامنا تھا، لیکن اب وہ "سفارتی تنہائی” مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ "پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نیا جوش ہے، اور پاکستان کی ایکسپورٹس بھی اچھا ٹرینڈ دکھا رہی ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ملکی معیشت کو فروغ مل رہا ہے۔”وزیر اعظم کے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دورے جاری رہینگے۔ ان دورے کی وجہ سے مستقبل میں 29 ارب کی سرمایہ کاری ہوگی وزیر اعظم کے دورہ چین میں 24 ایم او یو سائن ہوئے.اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم نے عوام کو بجلی کے حوالے سے اہم ریلیف فراہم کیا ہے، جس کے تحت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو رعایت دی گئی ہے اور پنجاب میں 500 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو بھی ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ نے اکنامک ڈپلومیسی کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور اب وزیرِ خارجہ کا دفتر عالمی سطح پر پاکستان کے معاشی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

    نائب وزیرِ اعظم نے دفترِ خارجہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کام میں انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ "وزارتِ خارجہ کی ٹیم نے اپنی ذمہ داریاں بہت اچھے طریقے سے نبھائی ہیں۔ اسی وجہ سے ہم نے ممتاز زہرہ کو فرانس میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور شفقت صاحب کو دفترِ خارجہ کا ترجمان مقرر کیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ خارجہ اور دفترِ خارجہ کے دیگر اراکین نے عالمی سطح پر پاکستان کی شبیہ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور وزارتِ خارجہ کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔اسحاق ڈار نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان معاشی اور سفارتی محاذوں پر مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے اور ان تمام اقدامات کا مقصد عوام کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔

    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نےمہنگائی کی شرح 81 ماہ کی کم ترین سطح پر آنے پر اظہار اطمینان کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024ءمیں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد پر آنا خوش آئند ہے،میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے ،ہم نے اڑان پاکستان جیسے منصوبے کا آغاز کیا، یہ منصوبہ پاکستان کو دنیا کے صف اول ممالک کی صف میں کھڑا کر دے گا،حکومت معاشی اصلاحات کی پالیسی پر گامزن ہے،24 سال بعد کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس ہوا،افراط زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گیا، سٹاک مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین مارکیٹ بن چکی ہے ،پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گیا ہے ،حکومتی معاشی اور مالیاتی ٹیم کی محنت سے معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے،عوام کی مشکلات کا احساس تھا، عوام کی مشکلات کے حل کے لئے دن رات کام کیا ،انشاءاللہ عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری آئے گی.

    وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد رہی، جو نومبر 2024 میں 4.9 فیصد اور دسمبر 2023 میں 29.7 فیصد تھی۔انھوں نے کہا کہ6 ماہ کے دوران اوسط مہنگائی 7.2 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 28.8 فیصد تھی۔ غذائی مہنگائی میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں یہ 2.5 فیصد اور دیہی علاقوں میں -0.2 فیصد رہی۔ کور انفلیشن بھی کم ہو کر 8.1 فیصد پر آ گئی ہے، جو نومبر 2024 میں 8.9 فیصد اور دسمبر 2023 میں 18.2 فیصد تھی۔

    26 نومبر احتجاج، گرفتار مظاہرین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    تشدد کیس، اداکارہ نرگس نے شوہر کو معاف کر دیا

  • پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    اسلام آباد: حکومت نے ایک بڑی کاروائی کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ملک کے سب سے امیر 10 فیصد افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہوں نے گزشتہ برسوں میں ٹیکس چوری کی ہے۔ ان افراد کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار تک پہنچتی ہے، اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ہر ایک تقریباً 64 لاکھ پاکستانی روپے سالانہ ٹیکس چوری کرتا ہے۔

    اس فہرست میں سے حکومت نے مزید 1 لاکھ 90 ہزار افراد کو نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ افراد زیادہ تر کاروباری شخصیت، زمینوں کے مالکان اور بڑی کمپنیوں کے مالکان ہیں جو ٹیکس نیٹ ورک سے باہر ہیں اور ان کی دولت کا بیشتر حصہ غیر قانونی ذرائع سے آ رہا ہے۔

    پاکستان میں ٹیکس کی وصولی کی شرح بہت کم ہے، اور ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں ٹیکس کے نظام کو مضبوط بنانے اور دولت کی غیر مساوی تقسیم کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ایف بی آر نے ان افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور ان پر نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ٹیکس کی ادائیگیاں مکمل کریں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی رقم سے ملک کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے اور اس رقم کو عوامی خدمات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    یہ خبر ملکی معیشت کے حوالے سے ایک بڑی اہمیت کی حامل ہے اور عوام میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا ایک اہم قدم ہے جو کرپشن کے خلاف ایک سنگین کارروائی کی صورت اختیار کر رہا ہے، جبکہ کچھ افراد اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات معاشی طبقاتی فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے اور اس کے بعد مزید افراد کی شناخت کی جائے گی جو ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیکس چوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوامی خدمات میں اضافہ کیا جا سکے۔

    فیصل آباد، دھند کی وجہ سے حادثہ،چھ افراد کی موت

    پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

  • وزیراعظم کی  کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تحت جاری منصوبوں اور مختلف اقدامات کی پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ملک میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات پر کام تیز کیا جائے.بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ بی ٹو بی معاہدوں کی تکمیل اور دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مؤثر اور جامع روڈ میپ تشکیل دیا جائے. سرمایہ کاری کے لیے اس نوعیت کے اہداف مقرر کیے جائیں جن کا حصول جلد از جلد ممکن ہو.پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کی مؤثر مارکیٹنگ بیرونی سرمایہ کاروں کو مائل کرنے کے لیے ناگزیر ہے.بزنس فیسیلیٹیشن سینٹرز کی تعمیر، روڈ شوز کا انعقاد اور ان جیسے دیگر اقدامات ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے انتہائی اہم ہیں،

    دوران اجلاس وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں 35 خصوصی اقتصادی زونز کا جیوگرافکل انفارمیشن سسٹم (GIS) کے ذریعے سروے کیا جا چکا ہے.خصوصی اقتصادی زونز میں جاری منصوبوں کی پیشرفت میں تیزی لانے کے لیے وسیع ڈیٹا موجود ہے.خصوصی اقتصادی زونز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 18 نکاتی پلان تشکیل دیا جا چکا ہے.متعدد چینی کمپنیوں کے ساتھ 200 سے زائد بی 2 بی معاہدے طے پا چکے ہیں اور 70 ملین ڈالر کی مالیت کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں .اجلاس میں آسان کاروبار ایکٹ 2024 کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں .آسان کاروبار ایکٹ 2024 کے تحت بورڈ آف انویسٹمنٹ ملک میں کاروبار کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دے سکے گا.اجلاس میں وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

  • وفاقی وزرا کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

    وفاقی وزرا کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ پولیو کا دنیا بھر سے خاتمہ ہو چکا ہے،صدیق الفاروق مرحوم نوازشریف کےقریبی ساتھی تھے ،صدیق الفاروق مرحوم ایک وفادار شخص تھے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے میں رکا وٹیں قابل افسوس ہیں ،بدقسمتی ہے کہ پولیو کا دنیا سے ہر جگہ سے خاتمہ ہو گیا ماسوائے پاکستان اور افغانستان کے ، سیکورٹی کا عملہ پولیس کے سپاہی، افسر،پولیوورکرز انتہائی دلیری کے ساتھ مہم میں شریک ہیں، پولیس کا جو سپاہی شہید ہوا اسکے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، یونان میں کشتی ڈوبی، جس میں پانچ پاکستانی بھی ڈوبے اور اللہ کو پیارے ہوئے، چالیس سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا، بدقسمتی سے ایسا واقعہ جولائی 2023 میں بھی ہوا تھا جس میں 260 پاکستانی کشتی میں ڈوب گئے تھے اور سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی، اس وقت بڑی گہرائی میں جا کر فیصلے کئے تھے،میں سمجھتا ہوں‌کہ یہ ایک سیریس چیلنج ہے، چند دن میں متعلقہ وزرا اور سیکرٹریز کی میٹنگ بلا رہا ہوں، 2023 میں جو واقعہ ہوا تھا اسکو ریویو کریں گے اور پالیسی بنائیں گے

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ شرح سود میں دو فیصد کمی ہوئی ہے یہ پاکستانی معیشت کے لیے خوش آئند بات ہے، ہمیں امید ہے کہ پیداواری قابلیت، سرمایہ کاری بڑھے گی، اس سے پاکستانی اکانومی کو فائدہ ہو گا، مہنگائی 2018 کے بعد کم ترین سطح پر ہے، یہ ہم سب کے لئے اللہ کا فضل و کرم ہے، موقع ہے کہ پاکستانی معیشت کے پہیے کو تیزی سے گھمائیں، معیشت مستحکم ہو رہی ہے، اندرون ملک سرمایہ کاری کو فروغ دیں،

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزراء کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری کا نوٹس لے لیا ،وزیراعظم کی ہدایت پر سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر نےکابینہ ارکان کو خط لکھ دیا ،وزیراعظم نے تمام وزراء کو پارلیمانی کارروائی میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی، خط میں کہا گیا کہ وزراء کی ایوان میں غیر حاضری سے احتساب کے اصولوں اور شفافیت کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے،وزرا کی ایوان میں حاضر نہ ہونے سےعوام کی جمہوری اداروں پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچے کا خدشہ ہے،وزرا کا اپنے ماتحت افسران کو آئینی ذمہ داریاں دینا قابل قبول نہیں،یہ عمل وزرا کی جانب سے گورننس میں غیر سنجیدگی بھی ظاہر کرتی ہے،وزیراعظم کی وفاقی وزرا کو ایوان کی کارروائیوں میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت، وزیراعظم نے وزراء کو وقفہ سوالات اور ایوان میں بحث کے دوران دیگر میٹنگز میں شرکت کی ہدایت کی،

    سیالکوٹ: مریم نواز کا 300 ارب کا کسان دوست پیکج، زرعی انقلاب کی امید

    ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز میں چھپ کرسفر کرنے والی روسی خاتون دوبارہ گرفتار

  • اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب نے اسلامک کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کے حوالے سے زوم پر خطاب کرتے ہوئے اظہار خیال کیا اور مختلف مالیاتی اداروں کی کاوشوں کی تعریف کی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے اور اس کے انعقاد پر پاکستان کے مالیاتی اداروں جیسے ایس ای سی پی (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان)، ایوفی (اسلامی فنانس انسٹی ٹیوٹ) اور اسلامی ترقیاتی بینک کو مبارکباد پیش کی۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ خود اس کانفرنس میں کراچی آ کر شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن اپنی مصروفیات کے باعث وہاں نہیں پہنچ سکے۔ تاہم، انہوں نے بیرونی مندوبین کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور اس بات کا یقین دلایا کہ پاکستان اسلامی مالیاتی مارکیٹس کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کا انعقاد اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان کا مالی نظام شریعہ اصولوں پر منتقلی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کی راہ میں پیش رفت انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی کا نشان ہے جو نہ صرف مالیاتی شعبے کو مستحکم کرے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی تقویت دے گی۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے اس سفر میں تمام اداروں اور افراد کو یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔ شریعہ اصولوں پر مبنی مالیاتی مصنوعات تیار کرنا اور ان مصنوعات سے صارف کا اعتماد حاصل کرنا اس تبدیلی کی بنیاد ہے۔ یہ صرف ایک مالیاتی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی تبدیلی کی طرف بھی ایک قدم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی خدمات کی مانگ بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو اس بڑھتی ہوئی عالمی طلب کا فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی مالیاتی مارکیٹوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر اسلامی فنانشل خدمات کے لیے ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے اور پاکستان کو اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔وزیر خزانہ نے ایس ای سی پی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یہ ادارہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ماحول فراہم کر رہا ہے تاکہ مالیاتی ادارے شفافیت اور اخلاقی اصولوں کے تحت کام کر سکیں۔ ایس ای سی پی کا یہ عمل مالیاتی شعبے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی اہم ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے اور ملکی معیشت میں استحکام آئے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے آخر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے عمل میں حکومت اور مالیاتی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر کو حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت

    ریڈ بال کوچ ٹم نیلسن کا پاکستانی ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر

  • مہنگائی کی شرح گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی،وزیراعظم

    مہنگائی کی شرح گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح مزید کم ہو کر ساڑھے تین فیصد (3.57) پر آنے پر پوری قوم کو مبارکباد دی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم اور معاشی ٹیم کی کاوشوں کی بدولت مہنگائی کی شرح گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی. 4 اکتوبر 2018 کے بعد، آج پرائس انڈیکس کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا. گزشتہ برس میں رواں ہفتے کی نسبت آج مہنگائی کی شرح میں 39.11 فیصد کی بڑی کمی معاشی ٹیم کی دن رات محنت کا نتیجہ ہے. عوام سے کئے گئے اپنے ہر وعدے پر قائم ہوں. عوام کی مشکلات کے ازالے کیلئے دن رات محنت کا عہد کیا تھا. بطور خادم پاکستان اپنے کئے گئے ہر عہد پر قائم ہوں. روزگار کی فراہمی، ملکی صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں. ملک معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہے. بیرون ملک سے ترسیلات زر، دوست ممالک سے سرمایہ کاری میں اضافہ، سفارتی تعلقات میں استحکام پاکستان کی ترقی کے سفر کی عکاسی ہے. پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے ہماری سیاسی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں. ملکی ترقی کے سفر میں تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں.

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل