Baaghi TV

Tag: معیشت

  • وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معاشی صورتحال اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔اجلاس کو ایف بی آر کی ڈیجیٹائز یشن میں پیشرفت بارے بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ ایف بی آر کی ویلیو چین کی ڈیجیٹائز یشن سی متعلق تمام کام مارچ 2025 تک مکمل ہو جائے گا،شوگر انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے ،سیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کے حوالے سے ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے ،وزیراعظم نےسیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئے سسٹم ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے،چھوٹے کاروباروں کی ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے موبائل فون ایپلی کیشن اس مہینے کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی،پرآل کا نیا بورڈ تشکیل دیا جا چکا ہے ،پرآل کا ہارڈ ویئر اور ڈیٹا سینٹر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے،فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ کے حوالے سے سینٹرل اسیسمینٹ یونٹ کراچی میں قائم کیا جا چکا ہے جو کہ 31 دسمبر 2024 سے کام کا آغاز کر دے گا

    وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اہم معاشی اصلاحات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے،وزیراعظم نےمحصولات میں اضافے کے لیے ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی پر زور دیا اور کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ ،چئیر مین ایف بی آ ر، سیکریٹری خزانہ کی کوششیں لائق تحسین ہیں،معاشی ٹیم کی کوششوں کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں ، فسکل اسپیس بڑھنا خوش آئند ہے

    وزیراعظم نے ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے محصولات کے نفاذ اور اس حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی پر عملدرآمد کے حوالے سے سخت اقدامات کی ہدایت کی،وزیراعظم نے ایف بی آر ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے اہم کاموں کو 31 دسمبر 2024 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسمگل شدہ ایندھن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے، پاکستان کی پیٹرولیم کی فروخت نومبر 2024 میں 25 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 1.58 ملین ٹن تک رہی کو کہ انتہائی خوش آئند ہے،پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سال بہ سال (YoY) 15 فیصد اضافہ ہوا ، جو توانائی کی مارکیٹ میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی اسمگلنگ کے خلاف مزید سخت کاروائی کی ہدایت کی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی کی برآمد کے بروقت فیصلے کی بدولت پاکستان کو 500 ملین کا قیمتی زر مبادلہ ملا ،

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے،وزیرخزانہ

    معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے،وزیرخزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیدار اقتصادی ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں اور یہی حکومت کے پالیسی ایجنڈے کا بنیادی ستون ہیں۔

    وزیر خزانہ نے آج معاشی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہونے والے "ای ایس جی سسٹین پورٹل” کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پورٹل کمپنیوں کے لیے ایک "ون ونڈو سلوشن” فراہم کرے گا، جو کہ دستاویزات کی ڈیجیٹل فائلنگ اور سرمایہ کاروں کو آسانی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس پورٹل کے ذریعے نہ صرف کاروباری عمل کو مزید سہل بنایا جائے گا بلکہ اس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں شفافیت اور کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے، اور یہ عمل نہ صرف کاروباری سہولتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ محصولات کی وصولی میں بھی شفافیت لائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن سے معیشت کی نگرانی اور انتظامی عمل میں بہتری آئے گی، جس سے ملک کی مالی حیثیت مضبوط ہوگی۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کو آگے آنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ نجی شعبے کی شراکت داری سے ہی معیشت کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے اور ملک کی اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکیں اور کاروباری ماحول مزید سازگار ہو۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ معیشت کو استحکام ملے اور ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان اصلاحات کی بدولت نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی پوزیشن بھی مستحکم ہو گی۔

    اس موقع پر ای ایس جی سسٹین پورٹل کے تکنیکی ماہرین اور کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں، جنہوں نے پورٹل کی افادیت اور اس کے ذریعے معیشت میں بہتری لانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

  • احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان

    احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان

    اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ دنوں ہونے والے سیاسی احتجاج اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد اقتصادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں حکومتی محصولات میں 160 ارب روپے تک شارٹ فال ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ملک بھر میں سیاسی حالات کی وجہ سے پانچ دن تک اقتصادی سرگرمیاں معطل رہیں، جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اپنے مقرر کردہ محصولات کے ہدف کو پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا نومبر تک محصولات جمع کرنے کا مجموعی ہدف 1003 ارب روپے تھا، تاہم اب تک صرف 700 ارب روپے ہی اکٹھے کیے جا سکے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اگر ایف بی آر کو 160 ارب روپے کا شارٹ فال ہو گیا تو پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران ہونے والے 189 ارب روپے کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ ماہ کے مجموعی شارٹ فال کی رقم 349 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق، ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور لاک ڈاؤن کے اثرات قومی خزانے پر سنگین نوعیت کے پڑ رہے ہیں، اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اس بات سے پریشان ہیں کہ بند پڑی اقتصادی سرگرمیوں کے باوجود کس طرح زیادہ سے زیادہ محصولات جمع کیے جا سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ایف بی آر کی بھرپور کوششوں کے باوجود زیادہ سے زیادہ 840 سے 850 ارب روپے جمع کیے جا سکیں گے، جس کا مطلب ہے کہ متوقع خسارہ 150 سے 160 ارب روپے کے درمیان ہوگا۔ایک سرکاری عہدیدار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "لاک ڈاؤن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی کال کے نتیجے میں ملک بھر میں اقتصادی سرگرمیاں رکنے کی وجہ سے حکومتی ریونیو میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔”

    اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کیسے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی مالیاتی ڈیل کو برقرار رکھتے ہوئے اس خسارے کو پورا کرے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں حکومت کے لیے مطلوبہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف قومی خزانے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے بلکہ حکومت کے لیے آئی ایم ایف سے امداد حاصل کرنے میں بھی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جس کے اثرات ملک کی معیشت پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • پاکستان کے معاشی استحکام  میں ایس آئی ایف سی کا نمایاں کردار

    پاکستان کے معاشی استحکام میں ایس آئی ایف سی کا نمایاں کردار

    پاکستان میں معاشی استحکام اور سروسز ایکسپورٹ کی ترقی کے لئے ایس آئی ایف سی کا کردار نہایت اہم ثابت ہو رہا ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ میں 6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 1 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس ترقی کی بنیادی وجہ خاص طور پر آئی ٹی شعبہ کی نمایاں ترقی ہے، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ میں اضافہ کا ایک بڑا حصہ آئی ٹی مصنوعات کی برآمد سے آیا ہے، جن میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ویب ڈویلپمنٹ، موبائل ایپلیکیشنز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی خدمات شامل ہیں۔ ان شعبوں میں ترقی کی وجہ سے پاکستان کی عالمی سطح پر سروسز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔

    پاکستان میں فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حکومت نے ان کے لئے نئے مواقع فراہم کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس ضمن میں ایک نیا فری لانسنگ فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت فری لانسرز کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنا اور رقم کو آسانی سے برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔ اس اقدام سے فری لانسرز کو عالمی مارکیٹ میں اپنی خدمات کی فراہمی میں مزید سہولت ملے گی اور وہ بہتر طریقے سے اپنی آمدنی کا انتظام کر سکیں گے۔

    ایس آئی ایف سی نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایس آئی ایف سی نہ صرف سروسز ایکسپورٹ کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہے بلکہ اس کے ذریعے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کی جانب سے آئی ٹی اور دیگر سروسز سیکٹر کے لیے مالیاتی معاونت، تربیتی پروگرامز، اور بین الاقوامی مارکیٹس تک رسائی کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔پاکستان میں سروسز ایکسپورٹ کا بڑھتا ہوا حجم، خاص طور پر آئی ٹی کے شعبہ میں ہونے والی ترقی، معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اسی طرح کی اصلاحات اور اقدامات جاری رہیں تو پاکستان عالمی سطح پر سروسز ایکسپورٹ کے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا ہے، جو ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا

    آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا

    آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے اور اس کے ساتھ پاکستانی حکومت کی جانب سےمذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں معاشی صورتحال پر تعارفی سیشن میں بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایم ایف وفد کے پاکستان پہنچنے کے بعد وزارت خزانہ کی جانب سے تعارفی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن کو موجودہ معاشی صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، اس سیشن میں ملک کے معاشی اہداف پر رپورٹ بھی پیش کی گئی۔آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ یہ ابتدائی ملاقات ملک کی معاشی ٹیم کے درمیان ہوئی، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ نے وفد کو پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی شریک ہوئے، اور انہوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران حاصل کردہ معاشی اہداف اور ایف بی آر کی جولائی سے ستمبر تک کی محصولات کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔آئی ایم ایف وفد اس رپورٹ کا جائزہ لے گا اور پھر متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف مشن کی وزیر خزانہ محترمہ محمد اورنگزیب سے کل ملاقات متوقع ہے۔

    ایف بی آر کے چیئرمین کی قیادت میں ٹیم نے آئی ایم ایف کو بریفنگ دی، جس میں وزیر مملکت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی شریک تھے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق، جولائی تا ستمبر کے دوران 2,652 ارب روپے ٹیکس جمع کیے گئے اور 96.6 فیصد ٹیکس ہدف حاصل کیا گیا۔ ستمبر میں 1,098 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے مقابلے میں 8 ارب اضافی ٹیکس جمع کیا گیا۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جولائی تا اکتوبر کے دوران 190 ارب روپے کا شارٹ فال رہا، لیکن اس کے باوجود انکم ٹیکس گوشواروں میں اس سال 76 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کا ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے، اور یہ اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ان مذاکرات میں جہاں ایک طرف معاشی اہداف کی تکمیل پر گفتگو ہو رہی ہے، وہیں ایف بی آر کی کارکردگی اور محصولات کے ہدف میں حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی حوصلہ افزا ہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا مقصد پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانا اور عالمی مالیاتی ادارے کی مدد سے بحرانوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم، مذاکرات کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو نقصان نہ پہنچے اور معیشت میں پائیدار ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی پہلی قسط وصول

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    آئی ایم ایف وفد کی جانب سے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہوگا، جو معیشت کی مضبوطی اور استحکام کی طرف حکومتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے اس دورے سے پاکستان اور عالمی برادری کو پاکستان کی معیشت کی صورتحال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بہتر آگاہی حاصل ہوگی۔

  • کمزور کرنسی،مہنگائی،بے روزگاری،پاکستان میں ہنر مند افرادملک چھوڑنے لگے

    کمزور کرنسی،مہنگائی،بے روزگاری،پاکستان میں ہنر مند افرادملک چھوڑنے لگے

    پاکستان میں مہنگائی اور ہنر مند افراد کا ملک چھوڑنا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے

    بلومبرگ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے اعلیٰ ہنر مند افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال موجودہ حکومت کی ناکامی کی ایک واضح مثال ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے مواقع، تحفظ اور امید پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔پاکستان کی معیشت آج ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے، جہاں ہنر مند افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں جس کی وجہ ملک کا معاشی مستقبل خطرے کی جانب جا رہا ہے۔ اس صورتحال کی ایک مثال اسد اعجاز بٹ کی کہانی ہے، جو ایک ماہر معیشت ہیں۔ انہوں نے کینیڈا سے گریجویٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ لیکن دو وزرائے خزانہ کے ساتھ کام کرنے کے باوجود، بڑھتی ہوئی مہنگائی نے انہیں اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں مشکل میں ڈال دیا۔بلومبرگ کے مطابق اسد نے بتایا، ” پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ میری اقتصادی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب گیا۔” انہوں نے آخر کار اپنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر شمالی امریکہ جانے کا فیصلہ کیا تاکہ ایک اور اعلیٰ ڈگری حاصل کر سکیں۔

    حالیہ چند سالوں میں پاکستان کی مہنگائی نے اس کی تمام تر پڑوسی ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اشیاء کی قیمتیں، جیسا کہ گاڑیاں اور ایئر کنڈیشنر، عام لوگوں کی رسائی سے باہر ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر، کراچی میں دودھ کی قیمتیں پیرس کی قیمتوں سے بھی زیادہ ہیں۔اقوام متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں پاکستان نے کئی سالوں میں سب سے زیادہ ہجرت کا ریکارڈ قائم کیا، خاص طور پر تعلیم یافتہ اور امیر طبقے میں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے تین سالوں میں تقریباً ایک ملین ہنر مند افراد، جیسے کہ ڈاکٹر، انجینئر، اور منیجرز، پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔

    اس صورتحال نے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ملک میں غیر معیاری حکمرانی اور سیاسی ہلچل نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔بزنس لیڈرز کا کہنا ہے کہ آج پاکستان کے اندر موجودہ صورتحال کی سنگینی پہلے کبھی نہیں رہی۔ ٹیکنالوجی کمپنی جے بی ایس کے سی ای او، وقار اسلام نے بتایا کہ آج کل کی مایوسی پچھلے 40 سالوں کی سب سے بدترین ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، تقریباً 40 فیصد پاکستانی ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ نے حالیہ برسوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، مگر پھر بھی زیادہ تر بینکر اور ٹریڈرز ملک چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہر مالیات محمد حنین نے سعودی عرب میں ملازمت حاصل کی، حالانکہ ان کی تنخواہ پاکستان میں اوپر کے 5 فیصد میں آتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑھے لکھے پاکستانی شہریوں کے ملک چھوڑنے کی یہ لہر ملک کی معیشت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، اور حکومت کو اس مسئلے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ اگرچہ بھیجنے والی رقوم سے معیشت کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی قوم کی ترقی اس کی ہنر مند آبادی کی برآمد پر نہیں ہونی چاہیے۔پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کے مستقبل کے لیے ہنر مند افراد کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کا مالیاتی شعبہ خاص طور پر شدید متاثر ہوا ہے۔ ہر اعلیٰ بروکریج ہاؤس نے ملازمین کو مستعفی ہوتے اور ملک چھوڑتے دیکھا ہے۔ متبادل کی خدمات حاصل کرنے والی کمپنیاں مہینوں سے صحیح ٹیلنٹ تلاش نہیں کر رہی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ گزشتہ سال کے دوران دنیا کی سب سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی رہی ہے – اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک نے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے قرضے حاصل کیے لیکن چند بینکرز اور تاجر رہنا چاہتے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں، پاکستان میں صارفین کی قیمتیں علاقائی طاقتوں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے تین سے چار گنا زیادہ تیزی سے بڑھی ہیں۔

    پاکستان برطانیہ کے لیے فیملی ویزا کے درخواست دہندگان کی فہرست میں سرفہرست ہے – کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ ترسیلات زر سے ڈالر کی آمد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان نقدی کی کمی کا شکار ملک ہے اور درآمدات کی ادائیگی کے لیے اتنا زرمبادلہ پیدا نہیں کرتا۔ غیر ملکی کارکن ہر سال تقریباً 30 ارب ڈالر پاکستان واپس بھیجتے ہیں،اس کے باوجود حکام صورتحال کی نزاکت کو تسلیم کرتے ہیں – اور یہ کہ کوئی بھی عظیم قوم اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو برآمد کرنے کے ماڈل پر نہیں بنتی۔ جیسا کہ پاکستان کی معاشی بدحالی ہے۔

    https://login.baaghitv.com/saudi-mai-hunar-mand-pakistani/

    https://login.baaghitv.com/human-trafficking-rings-exposed/

    https://login.baaghitv.com/saudi-arab-qaid-pakistanio-passport/

    https://login.baaghitv.com/bartania-pakistani-mulazmeen-shadeed/

    رپورٹ کے مطابق، حکومت نے سیاسی دباؤ کو اہمیت دی ہے اور اس کے نتیجے میں قومی ترقی کی بنیادیں نظر انداز کی گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے نہ صرف ہنر مند افراد بلکہ نوجوان نسل بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کر رہی ہے،ہنر مند پاکستانیوں کا بیرون ملک جانا صرف ایک عارضی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس کے اثرات ہماری معیشت، جدیدیت، اور مستقبل کی مسابقت پر مرتب ہوں گے۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے جس کا فوری حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جائے گی۔اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہماری آنے والی نسلیں باصلاحیت افراد کی کمی کا شکار ہوں گی، جس سے معیشت میں بھی کمی واقع ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوراََ ہنر مند افراد کی ضروریات اور مسائل پر توجہ دے، اور ایک ایسا ماحول بنائے جہاں نوجوان اپنا مستقبل محفوظ سمجھیں۔پاکستان کے ہنر مند افراد کا ملک چھوڑنا ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنی پالیسیاں بدلنی ہوں گی اور ایک ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جس میں نوجوانوں کو ترقی کے مواقع مل سکیں، تاکہ وہ اپنے ملک کی خدمت کریں اور یہاں اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں۔

    یہ سب ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ملازمت کرنے والے ہماری کرنسی کی تباہی اور اچھے مواقع کی کمی کی وجہ سے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں اور جو پہلے سے بیرون ملک ہیں ان کے واپس آنے کا بہت کم ارادہ ہے۔جہاں حکومت اور اپوزیشن سیاسی لڑائیوں میں مصروف ہیں، وہاں نوجوانوں کو روشن مستقبل کی یقین دہانی پر شاید ہی کوئی توجہ دی جا رہی ہو۔

    پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط موجود ہیں،عطا تارڑ

    وزیر اعظم سے قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات انتہائی نتیجہ خیز قرار

    شہباز شریف نے قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے  ملاقات کی

     شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے درمیان  ملاقات

  • پاکستان معاشی بحران سے باہرنکل آیا، ورلڈ بینک

    پاکستان معاشی بحران سے باہرنکل آیا، ورلڈ بینک

    ورلڈ بینک نے پاکستان پاور سیکٹر ڈسٹری بیوشن اصلاحات کی رپورٹ جاری کردی

    ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا، رواں مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 2.8 فیصد ہے، رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 0.6 فیصد ہے، مالی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کا 7.6 فیصد ہے،پاکستان میں لیبر فورس میں خواتین کا تناسب جنوبی ایشیا میں سب سےکم ہے، پاکستان میں پاور جنریشن میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان رہا، بجلی ترسیل اور تقسیم بھی ناقص منصوبہ بندی کا شکار رہی، بجلی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نقائص نے بجلی کی قیمت بڑھا دی، جنوبی ایشیائی ریجن میں آپس میں کم تجارت ہو رہی ہے،زیادہ تجارت ریجن سے باہر ہو رہی ہے،نہیں سمجھتے کہ خام تیل کی قیمتیں زیادہ عرصے تک اوپر جائیں گی ، پاکستان معاشی بحران سے باہر آیا ہے، معاشی ترقی 2.5 فیصد رہی جبکہ زرعی شعبے نے بھی ترقی کی ہے، مہنگائی کی شرح کم ہوئی ، پاور سیکٹر کا گردشی قرض مسئلہ ہے، پاکستان میں ایکسچینج ریٹ میں استحکام آیا ہے، پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں،

    نیشنل ٹاسک فورس کی بہترین حکمت عملی کے باعث پاور سیکٹر میں بڑی کامیابی

    وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی دی منظوری

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • دوست ممالک نے قرض پروگرام ممکن بنایا، وزیراعظم

    دوست ممالک نے قرض پروگرام ممکن بنایا، وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای اپنا حصہ نہ ڈالتے تو آئی ایم ایف پروگرام ممکن نہ ہوتا.

    ینگ پارلیمنٹیرینز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کیلئے تنخواہ داروں پر بوجھ ڈالنا پڑا، مسلسل معیشت کی سمت درست ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک کب تک بار بار قرض رول اوور کروانے پر ہی چلتا رہے گا، قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں جن پر قابو پا کر ہی آگے بڑھا جاتا ہے، 25 ستمبرکو آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ ہوناہے، میری دعا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو، آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے کیلئے ٹیکس لگائے گئے، تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ آیا، مہنگائی کم ہوتی رہے گی تو تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم ہوگا، ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ میں ابھی بہت خلا ہے، تاجر برادری ملک کی معیشت میں حصہ ڈالتی ہے، ٹیکس کی ادائیگی میں ملک کے 50 لاکھ تاجروں کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

    پاکستانی معیشت کیلیے اچھی خبریں،شرح سودمیں کمی،آئی ایم ایف اجلاس طلب

    شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس کرپشن ختم کرنے کیلئے دن رات کوشش کر رہے ہیں، یہ تب ہی ممکن ہے جب تمام اہداف کو پورا کریں، زبانی کلامی پاؤں پر قیامت تک نہیں کھڑے ہو سکیں گے، کب تک قرضے مانگتے رہیں گے، کب تک رول اوور کرتے رہیں گے، ہمیشہ ٹیم ورک کامیابی سے ہمکنار کرواتا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کےلیے تنخواہ داروں پر بوجھ ڈالنا پڑا، کسی ایک شعبے پر ٹیکس کا بوجھ لادنے والا معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح تیزی سے نیچے گر رہی ہے، مہنگائی کی شرح 32 فیصد سے کم ہو کر 9.6 فیصد ہوگئی ہے، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے، زرعی اجناس کی ایکسپورٹ میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، ان سگنلز سے پتا چلتا ہے کہ معیشت کی سمت درست ہے، یہ بڑا کٹھن راستا ہے، کانٹوں سے بھرا ہے، دن رات محنت کرنی ہے، ہمیں یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، ایک پاتھ وے بنایا ہے، جس پر چل کر پاکستان مشکلات سے جان چھڑائے گا، زندگی کے ہر شعبہ میں نوجوان نسل کی تیاری نہ کروائی تو یہ سفر ادھورا رہے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • پاکستانی معیشت کیلیے اچھی خبریں،شرح سودمیں کمی،آئی ایم ایف اجلاس طلب

    پاکستانی معیشت کیلیے اچھی خبریں،شرح سودمیں کمی،آئی ایم ایف اجلاس طلب

    پاکستانی معیشت کے لئے اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں،دو ارب کی فنڈنگ کا انتظام ہو گیا۔آئی ایم ایف نے پاکستان کو نیا پیکج دینے کے لیے 25 ستمبر کو اجلاس رکھا ہے جس میں آئی ایم ایف سے فائنل معاھدہ ہو جائیگا۔آج پالیسی ریٹ دو فیصد کم کر دیا گیا ہے جس سے معاشی سرگرمیاں تیز ہونگی۔ایک دو دن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی بارہ روپے تک کمی کی خبریں موجود ہیں۔

    معیشت ٹریک پر آ رہی ہے ان شاءاللہ پاکستان آگے بڑھے گا،ترقی کرے گا اور اسکی تباہی کے خواب دیکھنے والوں کا ان شاءاللہ منہ کالا ہو گا

    آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لئے پاکستان کوشاں‌تھا، اب آئی ایم ایف نے 25 ستمبر کو اجلاس بلایا ہے جس میں پاکستان کے لئے حوالہ سے خصوصی قرض پروگرام کی توثیق کیے جانے کا امکان ہے،پاکستان کافی عرصے سے کوشش کر رہا تھا کہ آئی ایم ایف کا اجلاس بلایا جائے، اس ماہ آئی ایم ایف کا یہ تیسرا اجلاس ہونا ہے جس میں پاکستان کے قرض پروگرام بارے فیصلہ ہونا ہے، ڈائریکٹر کمیونیکیشن آئی ایم ایف جولی کوزیک نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈکی میٹنگ 25 ستمبرکو طے ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف 25 ستمبر کو پاکستان کے لیے قرض پروگرام منظور کرسکتا ہے، آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف میں اسٹاف سطح کا معاہدہ جولائی میں طے پایا تھا۔ پاکستان نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائے معاہدہ گزشتہ برس کامیابی سے مکمل کیا،پاکستان 37 ماہ کے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کر رہا ہے۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہےکہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کی تمام مالی یقین دہانیاں حاصل کرلی ہیں، اب آئی ایم ایف پروگرام کے حصول میں مزید کوئی رکاوٹ نہیں ہے، پاکستان ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف اجلاس میں اپنا مقدمہ پیش کرے گا، پاکستان کو رواں مالی سال 26.20 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، مالی سال کی ادائیگیوں میں 16.3 ارب ڈالر رول اوور ہوں گے،اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ تک 14.1 ارب ڈالر واجب الادا ہوں گے، مارچ تک 8.3 ارب ڈالر رول اوور ہوں گے، مارچ تک کے بقایا 5.8 ارب ڈالر ماہانہ 80 کروڑ سے 1 ارب ڈالر ادا کریں گے،جولائی سے ستمبر تک 4 ارب ڈالر سیٹل کرچکے ہیں، جولائی سے ستمبر تک 1.7 ارب ڈالر ادا کیے ہیں اور 2.3 ارب ڈالر رول اوور کیے ہیں۔

    علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ گفتگو اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کےبعد شرح نمو کی گروتھ کے لیے اقدامات کریں گے، دوست ممالک نے ایک بار پھر ہمارا پوری طرح ساتھ دیا ہے، دوست ممالک نے وہ کیا جو بھائی بھائی کے لیےکرتا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک بیان میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا ہےکہ آئی ایم ایف کے ساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں، رواں ماہ آئی ایم ایف کےبورڈاجلاس میں ان معاملات کو حتمی شکل دے دی جائےگی،معیشت استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے، شرح سود میں کمی سےسرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی، معاشی سرگرمیاں بڑھنے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مہنگائی میں مسلسل کمی کے رجحان سے عام آدمی کو ریلیف ملنا شروع ہوگیا ہے،وہ وزیراعظم کی ٹیم، آئی ایم ایف کی مذاکراتی ٹیم اور متعلقہ اداروں کے شکرگزار ہیں۔ وزیراعظم کی ٹیم،آئی ایم ایف کی مذاکراتی ٹیم اور متعلقہ اداروں نے حتمی مراحل میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    علاوہ ازیں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 2 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے،اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کم کرکے17.5فیصد کردیا ہے، اس سے قبل پالیسی ریٹ 19.5 فیصد تھا،2 ماہ میں مہنگائی میں اضافےکی شرح تیزی سےکم ہوئی ہے،تیل اور غذائی اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی،کاروباری اعتماد میں بہتری آئی ہے، جبکہ کم سرکاری زرمبادلہ آمد اور قرض ادائیگیوں کے باوجود زرمبادلہ ذخائر 9.5 ارب ڈالرز رہے۔

    علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے نئے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں،اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 6 ستمبر کو ختم ہوئے ہفتے میں 5.62 کروڑ ڈالربڑھے ہیں، اس اضافے کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 6 ستمبر تک 14.79 ارب ڈالر رہے،علاوہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.98 کروڑ ڈالر اضافے سے 9.46 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 2.64 کروڑ ڈالر اضافے سے 5.32 ارب ڈالر رہے۔

    اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • مہنگائی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہو رہا،اپنی منزل تک پہنچیں گے،وزیراعظم

    مہنگائی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہو رہا،اپنی منزل تک پہنچیں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مہنگائی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے، ہم اپنی منزل تک پہنچیں گے،

    کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الحمدللہ ،مہنگائی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آ گئی،یہ خوش آئند بات ہے، اس پر وزارت خزانہ سمیت تمام متعلقہ وزارتوں کوستائش پیش کرنا چاہتا ہوں ، سفر ابھی بہت طویل ہے لیکن ہم اپنی منزل تک پہنچیں گے،میری توجہ عام آدمی کو ریلیف دینے پر ہے، مہنگائی میں کمی کوئی حادثہ نہیں یہ محنت کے نتائج ہیں، ہم حقیقی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں،حکومتی معاشی ٹیم کی محنت رنگ لا رہی ہے اور معیشت ترقی کر رہی ہے، آئی ایم ایف کی شرائط پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، ہمیں معیشت میں استحکام اور بہتری لانی ہے،پاکستانی تاریخ کا یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہونا چاہیے۔

    پاکستان اور ترکمانستان کے مابین گوادر اور ترکمان باشی بندر گاہوں کے مابین معاہدے کی منظوری
    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 10 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دے دی،پاکستان، یورپ اور البانیہ کی وزارت خارجہ کے مابین سیاسی روابط اور مذاکرات کے ایم او یو طے کرنے کی منظوری دی گئی،کابینہ نے وفاقی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین سید جنید اخلاق کی بطور چیئرمین بورڈ مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی.وفاقی کابینہ نے ورچوئل یونیورسٹی کے لئے اسلام آباد میں زمین کی خریداری بھی منظوری دے دی،پاکستان اور ترکمانستان کے مابین گوادر اور ترکمان باشی بندر گاہوں کے مابین معاہدے کی بھی منظوری دی گئی،کابینہ نے پاکستان میں مذہبی رواداری سے متعلق اسٹریٹجی 2024 کی منظوری دی.وفاقی کابینہ نے بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی کی منظوری دے دی

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج