Baaghi TV

Tag: معیشت

  • ڈالر 277.62 روپے سے گرکر 276.60 روپے پر آگیا

    ڈالر 277.62 روپے سے گرکر 276.60 روپے پر آگیا

    انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ڈالر کی قیمت میں بھاری کمی دیکھنے میں آئی ہے جبک انٹر بینک مارکیٹ میں ڈارلر کی قیمت میں 1 روپیہ 2 پیسے کمی ہوئی ہے جس کے بعد ڈالر 277.62 روپے سے گرکر 276.60 روپے تک سستا ہوگیاہے ۔ خیال رہے کہ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 307.10 روپے کی بلند سطح سے اب تک 30.60 روپے سستا ہوچکا ہے۔


    جبکہ دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت رجحان برقرار ہے ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 308 پوائنٹس کا اضافہ ہونے سے انڈیکس 49 ہزار802 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات
    سی ڈی اے افسران کے تبادلوں کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے گئے
    اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے 11 صحافیوں کی بھی موت

  • دنیا بھر میں کرپشن کے معاشی اخراجات 2 ٹریلین ڈالر سے زائد ہیں،مجید عزیز

    دنیا بھر میں کرپشن کے معاشی اخراجات 2 ٹریلین ڈالر سے زائد ہیں،مجید عزیز

    کاروباری اداروں کا سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے ارادے سےعطیات دینا بدعنوانی ہے،صدرجی سی این پی
    میری ٹائم انڈسٹری پاکستان میں کرپشن، نامناسب طریقوں کی نشاندہی اورحل کےموضوع پر گول میز اجلاس سے خطاب

    گلوبل کومپیکٹ نیٹ ورک پاکستان کے صدر مجید عزیز نے کہا ہے کہ کاروبار میں بدعنوانی ایک عالمی مسئلہ ہے اور دنیا بھر میں کرپشن کے معاشی اخراجات 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہیں۔پاکستانی میں بدعنوانی اور نامناسب طریقے اب ادارہ جاتی ہیں جو معاشی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور وسیع پیمانے پر بدعنوانی کا نتیجہ ناکارہ معیشت کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ بات انہوں نے میری ٹائم اینٹی کرپشن نیٹ ورک (ایم اے سی این) ڈنمارک کے تعاون جی سی این پی کے زیر اہتمام ”میری ٹائم انڈسٹری پاکستان میں کرپشن، نامناسب طریقوں کی نشاندہی اور اس کا حل“ کے موضوع پر گول میز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے 11 چیمبرز اور ایسوسی ایشنز، میری ٹائم انڈسٹری کے صارفین اور اسٹیک ہولڈرز سے خطاب کر رہے تھے۔اجلاس سے (ایم اے سی این) ڈنمارک کے میتھیاس باک،سینئر ایڈوائزر برائے جی سی این پی تنویر احمد اورکنسلٹنٹ محمد اکرم نے بھی خطاب کیا۔اجلاس میں پیفا، کیو آئی سی ٹی، کسٹم ایجنٹس، شپنگ لائنز، اسٹیویڈورس، کارگو ہینڈلنگ، پریگمیا، پی ایچ ایم اے، کیو ایف ایس ٹرمینل، کے سی سی آئی، آئی سی سی آئی، پیپر مرچنٹس کے نمائندوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔

    مجید عزیز کا کہنا تھا کہ جن کے پاس صوابدیدی یا فیصلہ سازی کے اختیارات ہوتے ہیں وہ یا تو بدعنوانی کے ارتکاب پر مجبور ہوتے ہیں یا اپنے عہدوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس اور ایک متحد قوت کے طور پر کام کرنا چاہیے۔بدعنوانی اس وقت بھی ہوتی ہے جب کاروباری ادارے سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے ارادے سے سیاسی عطیات دیتے ہیں تاکہ پالیسیوں میں تبدیلی یا قوانین میں ترمیم ہو۔

    میری ٹائم اینٹی کرپشن نیٹ ورک ڈنمارک کے میتھیاس باک نے بذریعہ زوم اجلاس سے خطاب میں مشورہ دیا کہ اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر معیاری آپریٹنگ طریقہ کار تیار کریں اور غلط طریقوں کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ بننے کے لیے ایک مستحکم پلیٹ فارم وضع کریں۔معاشی ترقی اور لاگت میں کمی کے لیے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے نیز کارکردگی کی شفافیت اور کوششوں پر اتفاق رائے کو فروغ دینا دیانت کو یقینی بنائے گا اور انہیں غیر ضروری دباؤ کے چیلنجز سے آزاد کرے گا۔

    ایم اے سی این کے سینئر ایڈوائزر برائے جی سی این پی تنویر احمد نے بتایا کہ جی سی این پی نے ایف آئی اے کے ساتھ اجلاس کے بعد ایک تفصیلی خط متعلقہ ڈائریکٹر کو دیا گیا تھا۔جی سی این پی نے تجویز پیش کی کہ پرانے ایس او پیز موجودہ تقاضوں کے مطابق فرسودہ ہو چکے ہیں لہٰذا ایف آئی اے کو چاہیے کہ وہ آئی ایل او میری ٹائم کنونشن کا مطالعہ کرے اور اس کے مطابق ایس او پیز میں ترمیم کرے۔ایم اے سی این کے کنسلٹنٹ محمد اکرم کا کہنا تھا کہ جی سی این پی اور ایم اے سی این باقاعدگی سے سیمینارز اور انفرادی مشاورتی اجلاس منعقد کر رہے ہیں اور فائدہ مند حل تلاش کرنے میں پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 22 ستمبر کوقومی کانفرنس منعقد ہوگی جس میں ایم اے سی این ڈنمارک کے میتھیاس باک دیگر ممالک میں کیے گئے تازہ ترین مثبت اقدامات اور اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔

    اجلاس میں اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک مفصل معلوماتی اور سیرحاصل بحث کے دوران باالخصوص ڈی ٹینشن چارجز اور ڈیمریج چارجز کے حوالے سے متعدد تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس میں شپ ایجنٹس ایڈوائزری بورڈ کے قیام پر اتفاق رائے ہوا جو تمام تنازعات اور بندرگاہ کی سرگرمیوں کا مرکزی نقطہ ہو گا۔شپنگ کمپنیوں پر نظر رکھنے کے لیے مانیٹرنگ باڈی بنانے پر بھی زور دی گیا۔شرکاء نے یہ بھی شکایت کی کہ کسٹمز اور پورٹ حکام یکطرفہ طور پر قواعد و ضوابط میں تبدیلی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بدعنوانی اور غلط طریقے جنم لیتے ہیں۔کراس اسٹفنگ کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا کہ اگر ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے کراس اسٹفنگ کی اجازت ہے تو اسے عام کارگو کے لیے کیوں نہیں کیا جانا چاہیے؟ مزید برآن کسٹمز میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے شفاف پالیسیوں کی ضرورت ہے۔شرکاء نے لیبر یونینز، ورکرز کا استعمال اور بندرگاہوں میں غیر مجاز افراد کے داخلے کے خلاف متعدد شکایات کیں

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

  • میں بر ملا کہ چکا ہوں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی میں کوئی خامی نہیں تھی ،شبر زیدی کا ردعمل

    میں بر ملا کہ چکا ہوں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی میں کوئی خامی نہیں تھی ،شبر زیدی کا ردعمل

    سابق چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کا نجی چینل کو دئیے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے ،شبر زیدی کے مطابق اس نے سسٹم پر تنقید کی تھی پارٹی پر نہیں ،شبر زیدی
    نے کہا نجی چینل پر جو نشر کیا جا رہا ہے اس کی بنیاد پر تبصرے نہ کیے جائیں، مزید شبر زیدی نے کہا کہ میرا مکمل انٹرو دیکھا جائے ، میں یقینی بناوں گا غیر ضرورت ایڈیٹنگ نہ ہو، میں بر ملا کہ چکا ہوں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی میں کوئی خامی نہیں تھی ، شبر زیدی نے کہا کہ مافیا نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اکنامک پالیسی چلنے نہیں دی ، واضح رہے کہ شبر زیدی نے جیو نیوز کو انٹرویو میں پی ٹی آئی کے حوالے سے انکشافات کئے ہے پی ٹی آئی حکومت کے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے، کہتے ہیں ان سے ن لیگ کے اراکین کے ٹیکس کی فائلیں مانگی جاتی تھیں، شہزاد اکبر ایک صوفے پر بیٹھ جاتے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی انہيں بلاتے تھے اور کہتے تھے کہ شہزاد یہ کہہ رہا ہے ، بتاؤ کیا کرنا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو ملک کی خراب معیشت کا بتایا ، مشورے دیے لیکن وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہيں تھے۔
    شبر زیدی نے مزید بتایا کہ انہوں نے ملتان کے بڑے زمیندار کو نوٹس بھیجا تو شاہ محمود قریشی کی قیادت میں 40 اراکین اسمبلی آگئے ، تمباکو مافیا کو ٹیکس نیٹ میں لانے لگے تو اسد قیصر کے ساتھ ایم این ایز آگئے اور کہا وہ ٹیکس نہیں دے سکتے، قبائلی علاقوں میں اسٹیل ری رولنگ ملز پر ہاتھ ڈالا تو فاٹا کے 20 سینیٹرز چیئرمین تحریک انصاف کے پاس پہنچ گئے۔

  • شبر زیدی اور اسد عمر آمنے سامنے

    شبر زیدی اور اسد عمر آمنے سامنے

    پی ٹی آئی حکومت کے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت چلتی رہتی تو مدت ختم ہونے تک ملک معاشی طور پر تباہ ہو جاتا۔جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ ہم چیئرمین پی ٹی آئی کو مشورہ دیتے تھے مگر وہ اس وقت کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھے، (ن) لیگ کے اراکین کے ٹیکس کی فائلیں مانگی جاتی تھیں۔
    انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں 40 اراکین اسمبلی آئے، نصراللہ دریشک نے کہا کہ تم ابھی بچے ہو، یہ تمہارے بس کا کام نہیں۔
    شبر زیدی نے مزید کہا کہ تمباکو مافیا کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی، خیبر پختونخوا سے ارکان اسمبلی نے کہا آپ ہمارے علاقے میں نہیں آسکتے، قبائلی علاقوں میں اسٹیل ری رولنگ ملز پر ہاتھ ڈالا تو فاٹا کے 20 سینیٹرز چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس آکر بیٹھ گئے کہ شبر زیدی کو روکیں۔
    دوسری جانب اسد عمر نے شبر زیدی کے بیان پر ٹوئیٹر کے زریعے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ’تحریک انصاف کی حکومت اگست 2018 میں بنی تھی، پی ٹی آئی حکومت کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر 9.8 ارب ڈالر تھے، میرے وزارت خزانہ سے ہٹنے کا مہینہ اپریل 2019 تھا، میرے وزارت خزانہ سے ہٹنے کے وقت زر مبادلہ کے ذخائر 8.7 ارب ڈالر تھے، یہ ڈیفالٹ کی کہانی کہاں سے آگئی؟ موجودہ حکومت کے دور میں زر مبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم ہو گئے تھے پھر بھی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ نہیں ہوا تو 8.7 ارب ڈالر پر ڈیفالٹ کیسے ہوتا؟

  • مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نگران وزیراعظم کے لیے  اسحاق ڈار کے نام پر متفق

    مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نگران وزیراعظم کے لیے اسحاق ڈار کے نام پر متفق

    مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے نگران وزیراعظم کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے نام پر اتفاق کر لیا۔ جبکہ مسلم لیگ ن نے اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اسحاق ڈار کے نام پر اتفاق ہوا ہے اور حکومتی کمیٹی اسحاق ڈار کے نام پر باقی سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے رہی ہے۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف کی بھی خواہش ہے کہ نگراں وزیراعظم معشیت کی سمجھ رکھنے والی شخصیت کو بنایا جائے تاکہ اچھے معاشی فیصلے ہوں۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے نگراں وزیراعظم کے حوالے سے اپنی خواہش کا اظہار کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی خواہش ہے کہ پاکستان کا نگراں وزیراعظم معشیت کی سمجھ رکھنے والی شخصیت کو بنایا جائے، ایسا وزیراعظم لایا جائے جو اچھے معاشی فیصلے کرسکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    یہ مطالبہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایک انگریزی اخبار ٹریبون نے دعویٰ کیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام بطور نگراں وزیراعظم لیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ نہ صرف اسحاق ڈار کو نگراں وزیراعظم بنایا جا سکتا ہے بلکہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نگران حکومت کو معاشی فیصلوں کا اختیار بھی دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

  • پاکستان میں انتخابات کا اعلان حوصلہ افزا ہے،امریکا

    پاکستان میں انتخابات کا اعلان حوصلہ افزا ہے،امریکا

    امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے معیشت اور موسمی تبدیلی بڑے چیلنجز ہیں-

    باغی ٹی وی: امریکی نائب معاون وزیر خارجہ الزبتھ ہورسٹ کا کہنا ہےکہ پاکستان میں انتخابات کا اعلان حوصلہ افزا ہے، جبکہ حالیہ دہشت گرد حملوں پر تشویش اور جانی ومالی نقصان پر افسوس ہے، پاکستان کے لیے معیشت اور موسمی تبدیلی بڑے چیلنجز ہیں۔

    الزبتھ ہورسٹ نے پاکستانئی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین پائیدار شراکت داری ہے جبکہ پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انتخابات کے لیے پرامید ہیں امریکا اور پاکستان کی متعدد معاملات میں مشترکہ دلچسپی ہے اور امریکا پاکستانی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے، گزشتہ برس 9 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔

    آگ لگنے سے 18 سوڈانیوں سمیت 22 افراد زخمی

    انہوں نے کہا کہ امریکا کی طرف سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 250 ملین ڈالر رہی جبکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پاکستان کو 215 ملین ڈالر دیئے –

    ترک شیف براق اوزدیمرنے والد کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا

  • روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر کمی

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر کمی

    اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر 37 پیسے کی کمی دیکھی گئی ہے.

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر 37 پیسے کی کمی دیکھی گئی۔اسٹیٹ بینک اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 277 روپے 41 پیسے سے کم ہو کر 277 روپے 04 پیسے ہو گئی ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.13 فیصد کی بحالی دیکھی گئی۔ دوسری طرف اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 280 روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اُدھر روپے کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں میں سعودی ریال کی قدر 73.8554، بھارتی روپیہ کی قیمت 3.356 ، برطانوی پاؤنڈز 352.22، یورو کی قیمت 300 روپے پر پہنچ گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وہاب ریاض نے سوشل میڈیا پر اپنی وائرل ویڈیو پر ہونے والی تنقید پر ردعمل کا اظہار کیا ہے
    عالمگیر ترین کی نماز جنازہ کب ہو گی؟ اعلان ہو گیا
    نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،مریم اورنگزیب
    عالمگیر خان ترین کے موت کی خبر نے کر کٹ حلقوں کو بھی سوگوار کر دیا
    تمیم اقبال انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر
    بینظیر کفالت سہ ماہی وظائف کی 55ارب 41 کروڑ سے زائد رقم تقسیم
    سوات؛ پہاڑی تودہ گرنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 8 ہوگئی
    جبکہ خیال رہے کہ پیر کے دن بینک کی تعطیلات کے باعث کاروبار نہیں ہو سکا تھا، منگل والے دن امریکی ڈالر کے مقابلے میں 10.55 روپے کی قدر بحال ہوئی تاہم بدھ کو امریکی ڈالر 2 روپے کے قریب اضافہ دیکھا گیا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اسی طرح بحال ہوتی رہی تو آئندہ چند ہفتوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات سمیت درآمد کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی توقع ہے۔

    دوسری جانب ملک پر مجموعی قرضوں کی مالیت 58ہزار 962ارب روپے تک پہنچ گئی، وفاقی حکومت نے مالی سال 23-2022 کے پہلے 11 ماہ کے دوران یومیہ بنیادوں پر 33ارب 89کروڑ روپے کا قرضہ لیا اور وفاقی حکومت نے مالی سال 23-2022 کے پہلے 11 ماہ کے دوران یومیہ بنیادوں پر 33ارب 89کروڑ روپے کا قرضہ لیاملک پر مجموعی قرضوں کی مالیت 58ہزار 962ارب روپے تک پہنچ گئی، مقامی قرضوں میں 5968ارب روپے جبکہ غیرملکی قرضوں میں 5161ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 23-2022 کے پہلے 11 ماہ کے دوران یومیہ بنیادوں پر 33ارب 89کروڑ روپے کا قرضہ لیا، اس طرح ہر گھنٹے ایک ارب 40کروڑ 95لاکھ روپے کا قرض لیا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق مئی 2023 کے اختتام پر مقامی قرضوں کی مالیت 37ہزار 54ارب روپے جبکہ غیرملکی قرضوں کی مالیت 21 ہزار908 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ قرضوں کی مالیت بڑھانے میں روپے کی بے قدری نے اہم کردار ادا کیا، مجموعی قرضوں کے حجم میں روپے کی بے قدری کی وجہ سے 40فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2022 کے اختتام پر قرضوں کی مالیت روپے کی قیمت 204.37 روپے پرلگائی گئی جبکہ مئی 2023 میں قرضوں کی مالیت کا تعین 285.38 روپےکی بنیاد پر کیا گیا۔

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے کا ایک اور یادگاری نوٹ جاری کردیا

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے کا ایک اور یادگاری نوٹ جاری کردیا

    اسٹیٹ بینک کے قیام کو 75 سال مکمل ہونے پر اسٹیٹ بینک نے 75 روپے کا یادگاری نوٹ جاری کردیا ہے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اس موقع پر منعقدہ تقریب کے میزبان رہے۔ خیال رہے کہ یادگاری نوٹ جاری کرنے کا مقصد آزاد ملک میں مرکزی بینکاری کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منانا ہے۔ تاریخی موقع پر جاری کیے گئے کرنسی نوٹ کے ذریعے حقوق نسواں، متبادل توانائی اور صادقین کے فن اور ان کے اسٹیٹ بینک کے ساتھ رہے تعلق کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر 75 روپے کا یادگاری نوٹ عام لوگوں کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تمام دفاتر اور کمرشل بینکوں کی برانچز میں دستیاب ہے اور اسے ہر قسم کی روزانہ کی لین دین کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔


    خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے مالیت کا یادگاری نوٹ جاری کیا تھا تاہم اس بار جو کرنسی نوٹ جاری کیا گیا ہے اس کا ڈیزائن پہلے جاری کیے گئے نوٹ سے مختلف ہے البتہ دونوں ہی کرنسی نوٹ عوامی لین دین کیلئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے تقریب سے خطاب میں بینک دولتِ پاکستان کے سال 2028 تک کے چھ نکاتی اسٹریٹجک پلان پر بریفنگ دی جس میں سرفہرست مہنگائی کو وسط مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد پر لانا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہےمسجد نبوی میں 4.2 ملین نمازی اور زائرین کی آمد ریکارڈ
    اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان
    گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس طلب
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر

    اس کے علاوہ بینکاری کے عوامل کو بہتر بنانا، شمولیت بڑھانا، صارف کا ڈیٹا سینٹرلائز کرنا، شریعہ فنانسنگ بڑھانا، فنڈز ٹرانسفر کی خدمات بہتر کرنا اور اسٹیٹ بینک کو ہائی ٹیک کرنا ہے۔ جمیل احمد نے کہا کہ صرف منصوبہ نہیں بنایا حکمت عملی بھی مرتب کرلی ہے، کامیابی کے معیار مقررکیے ہیں اور کارکردگی کا جائزہ وقتاً فوقتاً جاری کرتے رہیں گے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے تقریب میں شریک مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف معاہدے کو اہم پیش رفت کہا اور معاہدے سے بیرونی فنڈنگ بہتر ہونے، زرمبادلہ ذخائر بڑھنے اور عمومی بہتری آنے کی امید ظاہر کی۔

  • انٹر بینک؛ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 3.83 فیصد بحالی ریکارڈ

    انٹر بینک؛ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 3.83 فیصد بحالی ریکارڈ

    آئی ایم ایف سے ہونے والے سٹینڈ بائی معاہدے کے بعد معاشی غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹنے پر امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تیزی سے بحال ہونے لگی ہے اور اب اس میں پہلے سے بہتری نوٹ کی گئی ہے جبکہ فاریکس ایسوسی ایشن کا بتانا ہے کہ صبح کاروبار کے آغاز کے ساتھ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 15 روپے کم ہو کر 271 روپے کی سطح پر آگیا تھا جبکہ تعطیلات سے قبل آخری روز 285.99 روپے پر بند ہوا تھا۔


    علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 10 روپے 55 پیسے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 285 روپے 99 پیسے کی کمی کے بعد 275 روپے 44 پیسے ہو گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے
    خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 3.83 فیصد کی بحالی دیکھی گئی ہے
    اُدھر روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد ملک پر 1250 ارب روپے سے زائد کے غیر ملکی قرضوں کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ دوسری طرف گزشتہ روز کی طرح اوپن مارکیٹ میں آج بھی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 5 روپے کی تنزلی دیکھی گئی اور قیمت 280 روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز کی تاریخی تیزی کے بعد آج مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جبکہ آج 100 انڈیکس میں 341 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس 43 ہزار 557 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ہے۔ کاروباری دن میں 100 انڈیکس 1023 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ بازار میں آج 41 کروڑ شیئرز کا کاروبار پونے 16 ارب روپے میں طے ہوا۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 65 ارب روپے کم ہوکر 6622 ارب روپے ہے۔

  • سیاحوں کی بڑی تعداد سوات کا رخ کرنا مقامی معشیت کے لیے نیک شگون

    سیاحوں کی بڑی تعداد سوات کا رخ کرنا مقامی معشیت کے لیے نیک شگون

    سوات ميں عیدالاضحیٰ کے موقع پر تین لاکھ سے زائد سیاحوں نے سیاحتی مقامات کا رخ کیا، سیاحوں کی آمد کے حوالے سے ضلعی پولیس نے تفصیلی رپورٹ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سوات میں عید الااضحی کے موقع پر مجموعی طورپر تین لاکھ 20ہزار 465 سیاحوں نے سوات کا رُخ کیا،مختلف داخلی راستوں سے 42ہزار514 گاڑیاں داخل ہوئی،چھٹیوں کے بعد 2 لاکھ 9 ہزار 854سياح واپس چلے گئے،ایک لاکھ 10 ہزار611 سياح اب بھی سوات میں موجود ہیں۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شفیع اللہ گنڈا پور کا کہنا ہے کہ سوات میں مکمل امن و امان اور سیاحوں کی سہولت کے لیے بہتر انتظامات کے نتیجے میں عید الااضحی کے موقع پر سیاحوں کی بڑی تعداد سوات کا رخ کرنا مقامی معشیت کے لیے نیک شگون ثابت ہوگا، اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ضلع انتظامیہ اور پولیس نے بہترین انتظامات کرکے سیاحت کی بحالی میں بھر پور کردار ادا کیا،پولیس، ضلعی انتظامیہ اور اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سوات کے سیاحتی مقامات میں خصوصی طور پر ٹورسٹ فسیلی ٹیشن سنٹر قائم کرکے سیاحوں کو سیاحتی مقامات کے بارے میں اآگاہ کیا، سیاحت بحال ہوگی تو مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔