Baaghi TV

Tag: معیشت

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تین ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا معاہدہ طے ہوا ہے، اس حوالہ سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا او ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جولائی کے وسط میں ہوگا ،ہ معاہدہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم کرے گا اور معاہدے سے سماجی شعبے کے لیے فنڈز کی فراہمی بہتر ہوگی معاہدہ پاکستان میں ٹیکسز کی آمدن بڑھائے گا

    پاکستان اور آئی ایم ایف کی جانب سے معاہدہ کے حوالہ سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ٹیکس کی آمدن بڑھنے سے عوام کی ترقی کے لیے فنڈنگ بڑھ سکے گی معاہدہ پاکستان میں مالی نظم و ضبط کا باعث بنے گا اور معاہدے سے توانائی کی اصلاحات یقینی بنائی جائیں گی جب کہ ایکس چینج ریٹ کو مارکیٹ کے حساب سے مقرر کیا جائے گا

    آئی ایم ایف نے اس حوالہ سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ 9 ماہ کا اسٹینڈ بائی معاہدہ طے پا گیا معاہدے سے پاکستان کو بیرونی ممالک اور مالیاتی اداروں سے فنانسنگ دستیاب ہوسکے گی موجودہ معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے جب کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں

    یہ اہم ہوگا کہ بجٹ کو منصوبہ بندی کے مطابق عمل میں لایا جائے، اور حکام آگے کی مدت میں غیر بجٹ اخراجات یا ٹیکس میں چھوٹ کے دباؤ کا مقابلہ کریں ،اسٹیٹ بینک نے درآمدی ترجیحات سے متعلق رہنمائی واپس لی ہے اور ایکسچینج ریٹ کے مکمل مارکیٹ تعین کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے افراط زر کو کم کرنے کے لیے متحرک رہنا چاہیے جو خاص طور پر سب سے زیادہ غریب طبقے کو متاثر کرتا ہے جب کہ موجودہ بین الاقوامی لین دین اور متعدد کرنسی کے طریقوں کے لیے ادائیگیوں و منتقلی پر پابندیوں سے پاک غیر ملکی کرنسی کا فریم ورک برقرار رکھنا چاہیے آئی ایم ایف نے ”کثیر جہتی اداروں اور دوطرفہ شراکت داروں سے مالی تعاون کو متحرک کرنے کے لیے مسلسل کوششوں پر زور دیا ہے پروگرام کا مکمل اور بروقت نفاذ مشکل چیلنجوں کی روشنی میں اس کی کامیابی کے لیے اہم ہوگا

    آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا سٹاف لیول معاہدہ،وزیراعظم کی ٹویٹ
    وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے سٹاف لیول معاہدے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوگیا ہے 9 ماہ کے لیے 3 ارب امریکی ڈالرز کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے یہ معاہدہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر کرنے میں معاون ہوگا اس سے معاشی استحکام لانے اورملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی وزیرخزانہ اسحاق ڈاراور وزارت خزانہ کی ٹیم کو سراہتا ہوں جب کہ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم کے تعاون پر ان کا شکرگزار ہوں

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف آج سہہ پہر 4 بجے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کے ہمراہ لاہور میں آئی ایم ایف سے ہونے والے سٹاف لیول معاہدے سے متعلق اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے اور اس ضمن میں میڈیا کے ذریعے قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ الحمدللہ،

    سینئر صحافی و اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ آج 30 جون ہے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہ ہوتا تو پاکستان کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو جاتا اور وزیراعظم شہباز شریف پر بھی خوب لعن طعن کی جاتی معاہدے کے اعلان پر صرف شہباز شریف نہیں پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے گذارش ہے کہ اب عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    واضح رہے کہ فرانس میں وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے تین ملاقاتیں ہوئی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کو مکمل کرنے کے پاکستان کے عزم کو دوہرایا . پاکستان کی معاشی حقیقتوں سے متعلق غور کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایم ڈی آئی ایم ایف کی سوچ کو سراہا ،

  • بنگلہ دیش نے معیشت کے تمام شعبوں میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا

    بنگلہ دیش نے معیشت کے تمام شعبوں میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا

    بنگلہ دیش نے مالی سال 2023-24 کیلئے 71ارب ڈالر کا وفاقی بجٹ پیش کرکے پاکستان کو معیشت کے ہرشعبے میں پیچھے چھوڑ دیا-

    باغی ٹی وی : "دی نیوز” کی رپورٹ کے مطابق 6 فیصد جی ڈی پی کے ساتھ، بنگلہ دیش نے یکم جولائی سے شروع ہونے والےاگلے مالی سال کے لیے 7.62-ٹریلین ٹکا ($71 بلین) قومی بجٹ کا اعلان کیا ہے، جس میں شرح نمو 7.5 فیصد اور افراط زر کی شرح 6.5 فیصد متوقع ہےاس کے برعکس پاکستان کا گروتھ ریٹ کا ممکنہ ہدف ساڑھے 3فیصد جبکہ مہنگائی کا تخمینہ 21فیصد ہے۔

    جناح ہاؤس لاہور پر حملے کا ایک اور شر پسند گرفتار

    بجٹ کا موضوع "سمارٹ بنگلہ دیش” کے خیال سے تشکیل دیا گیا ہے، جس میں 100 فیصد ڈیجیٹل معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی خواندگی اور کاغذ کے بغیر اور کیش لیس معاشرے کا تصور کیا گیا ہے بنگلہ دیش کے معاشی اشاریے اس کی مضبوط اقتصادی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ تاہم پاکستان کی معیشت کی تاریخ کچھ اورہی کہتی ہےدونوں ممالک کی معیشتوں کے درمیان موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ بنگلہ دیش نے معیشت کے تقریباً تمام شعبوں میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    نئے مالی سال کے موقع پر بنگلہ دیش کے پاس تقریبا ً31ارب ڈالر کے ذخائر ہیں جبکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 4 ارب ڈالر سے بھی نیچے ہیں اور وہ بھی دوست ممالک سے لی گئی ادھار رقم پر مشتمل ہیں علیحدگی کے بعد مالی سال 2021-22 میں بنگلہ دیش کی برآمدات 52 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ اسی 52ن سال کی مدت میں پاکستان کی ایکسپورٹس محض 31.78ارب ڈالر تک محدود رہیں۔

    پرویز الہی کے بیٹے، دو بہوؤں کیخلاف منی لانڈرنگ کیس،چپڑاسی کا کردار بھی آ گیا

    بجٹ میں بنگلہ دیش نے برآمدات کاہدف 67ارب ڈالر رکھا ہے اورحالیہ مالی اعداد وشمارظاہر کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش 65ارب ڈالر سے زائد کا ہدف حاصل کرلے گاجبکہ مالی سال 2023ء میں پاکستان کا برآمدات کا ہدف 38 ارب ڈالر تھا، موجودہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان اب تک صرف 21.5ارب ڈالر کی برآمدات اور خدمات فراہم کرسکا ہے جو کہ ہدف سے بہت کم ہے۔

    اکتوبر 2022 سے اب تک پاکستانی برآمدات میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اورامکان ہے کہ یہ 30ارب ڈالر کی سطح کو بھی نہیں پہنچ پائے گی بنگلہ دیش کی فی کس آمدن مالی سال 2023 کے دوران تقریباً 2675ڈالر رہی جبکہ اسی عرصےکیلئے پاکستان میں اس کا تخمینہ 1568 ڈالر لگایاگیاہے،پاکستانی روپے کی قدراب 0.38ٹکے کے برابر رہ گئی ہے۔

    ایک ہزار78 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے ہائپرلوپ چلانےکا سعودی منصوبہ

  • ڈالر ملک کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر

    ڈالر ملک کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر

    انٹربینک میں ڈالر ملک کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    انٹربینک میں ڈالر 1 روپے 34 پیسے مہنگا ہوگیا ،ڈالر پہلی بار 288 روپے 43 پیسے کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے پاکستان سٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 17 پوائنٹس کے اضافے سے 39 ہزار 853 پر آ گیا۔ گزشتہ روز 100 انڈیکس 39 ہزار 835 پوائنٹس پر بند ہوا تھا

    علاوہ اذیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکنگ اعداد وشمار جاری کر دیئے،مارچ 2023 کے اختتام پر بینکوں کے ڈپازٹس 23 ہزار 562 ارب روپے رہے ،مارچ میں بینکوں کے ڈپازٹس 640 ارب روپے بڑھے ہیں۔ مارچ 2022 سے رواں سال مارچ تک بینکوں کے ڈپازٹس 3086 ارب روپے بڑھے ہیں مارچ 2013 سے رواں سال مارچ تک بینکوں کے ڈپازٹس 16 ہزار 785 ارب روپے بڑھے ہیں۔مارچ 2023 کے اختتام پر بینکوں کی سرمایہ کاری 19 ہزار 235 ارب روپے رہے مارچ میں بینکوں کی سرمایہ کاری 243 ارب روپے بڑھے ہیں۔مارچ 2022 سے رواں سال مارچ تک بینکوں کی سرمایہ کاری 4223 ارب روپے بڑھے ہیں مارچ 2013 سے رواں سال مارچ تک بینکوں کی سرمایہ کاری 15 ہزار 211 ارب روپے بڑھے ہیں۔

    دوسری جانب صنعتکار رہنما چیئرمین ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن لاہو میاں خرم الیاس نے کہا ہے کہ ملک کرنسی روپے کی مضبوطی کیلئے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرکے اور دوست ممالک کی کرنسیوں میں عالمی اور علاقائی تجارت کو فروغ دے کر ملکی معیشت کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے۔موجودہ صورتحال میں جبکہ آئی ایم ایف سے قرض کی قسط مسلسل التواء کا شکار ہے جس کے باعث ملک میں ڈالر کی کمی کے باعث ایل سیز نہ کھلنے سے درآمدی کینٹینرز بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور صنعتی شعبہ کو خام مال کی قلت کے باعث انڈسٹریز بند ہورہی ہیں اور ملک میں بے روزگاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اشیاء کی قیمتوں میں اضافوں سے ملک میں ہوشربا اور تاریخی مہنگائی برپا ہے ایسی صورتحال میں یہ بہترین موقع اور وقت کی اشد ضرورت ہے کہ معیشت کے استحکام اور روپے پر دباؤ کم کرنے کیلئے ڈالر کی بجائے دوست ممالک کی کرنسیوں میں تجارت کے مواقع کی تلاش کو اولین ترجیح دی جائے اور دنیا کے ساتھ بار ٹرٹریڈکو فروغ دیا جائے۔

    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ

  • کم تجربے کے باعث تحریک انصاف نے معیشت کی شدید تباہی کی، وزیر خزانہ

    کم تجربے کے باعث تحریک انصاف نے معیشت کی شدید تباہی کی، وزیر خزانہ

    کم تجربے کے باعث تحریک انصاف نے معیشت کی شدید تباہی کی، وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نےعوام کوگمراہ کرنےکی کوشش کی،

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے جومعاشی اعدادوشماردیئے وہ درست نہیں پی ٹی آئی کو 2018 میں مستحکم معیشت ملی،پی ٹی آئی کےدورمیں مالیاتی خسارہ عروج پرپہنچا،روس یوکرین جنگ کےباعث عالمی معیشت کو چیلنجز درپیش ہیں،پی ٹی آئی دور میں محصولات میں کمی ہوئی،مسلم لیگ ن کے دورمیں معاشی شرح نمو 6.5 فیصد تھی،پی ٹی آئی دورمیں ادویات کی قیمتوں میں300 سے500 فیصد اضافہ ہوا،پی ٹی آئی دورمیں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ ہوا،ن لیگ کے دور میں معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی،موجودہ حکومت نے 6 ماہ کی مختصر مدت میں 3000 ارب سے زائد محصولات اکٹھے کیے،

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ اس سال ایف بی آر نے 7470 ارب کا ٹارگٹ سیٹ کیا ہے،نواز شریف کےدورمیں ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا گیا،ہمارے دور میں دہشتگردی کی فضا تھی،ہم نے ضرب عضب جیسے چیلنجز اور بجلی کے شارٹ فال کو ختم کیا،پی ٹی آئی کے دورمیں لوڈشیڈنگ کے معاملےپرتوجہ نہیں دی گئی،پی ٹی آئی نےکسی سیکیورٹی آپریشن کیلئے فنڈزمختص نہیں کیے پی ٹی آئی نے اپنے دورمیں تنقید کے سواکچھ نہیں کیا،کم تجربے کے باعث تحریک انصاف نے معیشت کی شدید تباہی کی ہے، ہماری حکومت میں ایکسپورٹ پانچ مہینوں میں 12.3 سے 12.1 فیصد تک ہے،پانچ مہینوں میں تقریباً 2 فیصد کمی آئی ہے،جی ڈی پی گروتھ اوسطاً 4.0 سے شروع کر کے 6 فیصد پر 2018 پر ختم کی،فیسکل ڈیفیسٹ پر ہم پھر بھی قابو پا سکتے ہیں،لیکن کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے،ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ 2022 نومبر تک 3.1 بلین ڈالر ہے,کوئی لوڈ شیڈنگ کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے،کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ عروج پر چھوڑ کر گئے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت نے 2018 سے 2022 تک ادویات کی قیمتوں میں 300 سے 500 اضافہ کیا،ویٹ کی قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ کیا گیا،کوکنگ آئل کی قیمت میں 21 فیصد اضافہ کیا گیا،آلو کی قیمتوں میں 13.7 فیصد اضافہ کیا گیا،

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر اداروں کی نجکاری کریں گےحکومت آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام مکمل کرے گی پاکستان نے جو آئی ایم ایف سے وعدہ کیا ہے اس کو نبھایا جائے گاآئی ایم ایف کے ساتھ نواں اور دسواں ریویو ایک ساتھ ہو سکتا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے سیلاب بحالی کیلئے اخراجات کا پروگرام مانگا ہے سعودی عرب سے امداد رواں ماہ مل جائے گی مہنگائی بہت تکلیف دہ ہے، کوشش کی ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جائے ، ڈیفالٹ کی گردان بند کریں اور منفی ماحول سے معیشت کو نقصان ہورہا ہے .

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • ٹیکسوں سے متعلق پالیسی میں ٹیکس دہندگان کی موثرشمولیت ضروری ہے، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    ٹیکسوں سے متعلق پالیسی میں ٹیکس دہندگان کی موثرشمولیت ضروری ہے، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    اسلام آباد۔:وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹر اسحاق ڈارنے کہاہے کہ ٹیکسوں سے متعلق پالیسی میں ٹیکس دہندگان کی موثرشمولیت ضروری ہے، مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے ٹیکسوں کی 15 فیصدشرح کے ہدف کے حصول کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں ایف بی آر ہیڈکوارٹرزدورہ اوراعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں ایف بی آر کی محصولات کی وصولی سے متعلق کارگردگی کاجائزہ لیاگیا۔چئیرمین اور ایف بی آر کے ممبران بھی اجلاس میں موجودتھے۔

     

     

    چئیرمین عاصم احمد نے ایف بی آر کی ٹیم کی جانب سے وزیرخزانہ کاخیرمقدم کیا، انہوں نے وزیرخزانہ کوتفصیلی پریزنٹیشن بھی دی جس میں ریونیو میں اضافہ کیلئے ایف بی آر کی جانب سے اٹھائے جانیوالے اقدامات اوردرپیش مشکلات کا تفصیل سے احاطہ کیاگیا۔چئیرمین ایف بی آر نے وزیرخزانہ کوبتایاکہ ایف بی آر نے درآمدات اورطلب میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد نہ ہونے کے باوجود جولائی اوراگست کیلئے محصولات کے اہداف کوکامیابی سے حاصل کیاہے جبکہ ستمبرکے ہدف کوبھی عبورکیاجائیگا۔وزیرخزانہ نے اہداف کے حصول کیلئے ایف بی آر کی کوششوں کوسراہا،

    انہوں نے ایف بی آرکی ٹیم کو یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے اورانہیں فرائض کی بجاآوری میں ہرممکن تعاون فراہم کریں گے۔انہوں نے ایف بی آر کی ٹیم کو بدلتے ہوئے اقتصادی منظرنامہ کے مطابق اپنے آپ کوڈھالنے کی ہدایت بھی کی۔ا نہوں نے ایف بی آرکی مزیدکوششوں کی ضرورت پربھی زوردیا اورکہاکہ مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کو15 فیصدتک کرنے کی استعداد موجودہے جسے بروئے کارلانا چاہئے۔انہوں نے گزشتہ سال کے مقابلہ میں رواں سال مجموعی ٹیکس محصولات میں براہ راست ٹیکسوں کے حصہ کوبڑھانے کیلئے ایف بی آر کے اقدامات کی تعریف کی۔ وزیرخزانہ نے ٹیکسوں سے متعلق پالیسی میں ٹیکس دہندگان کی موثرشمولیت کی ضرورت پربھی زوردیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • سیلاب:منفی اثرات اسٹاک اورکرنسی مارکیٹوں میں بھی نظرآنےلگے:آئی ایم ایف کی مددبھی سنھبال نہ سکی

    سیلاب:منفی اثرات اسٹاک اورکرنسی مارکیٹوں میں بھی نظرآنےلگے:آئی ایم ایف کی مددبھی سنھبال نہ سکی

    اسلام آباد:مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے ملکی معیشت کے تمام شعبوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے، پاکستان اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں پر بھی منفی اثرات نمودار ہونے لگے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج جہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی پر زبردست تیزی کی توقع ظاہر کی جارہی تھی جبکہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بھی 200 روپے سے بھی نیچے آنے اور 180 روپے تک ہونے کے اندازے لگائے جارہے تھے، لیکن آئی ایم ایف پروگرام بحال اور قرضے کی قسط موصول ہونے کے باوجود اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں میں توقعات کے مطابق کچھ نظر نہیں آرہا۔

    معاشی ماہرین کے مطابق سیلابی تباہ کاریاں اس حد تک زیادہ ہیں کہ اس کے سامنے آئی ایم ایف کا قرض پروگرام بھی ناکافی نظر آنے لگا ہے یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اور اس میں پاکستانی معیشت سے متعلق اہداف دیئے گئے ہیں، خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس رپورٹ میں سیلاب کے نقصانات شامل ہی نہیں، اس لئے آئی ایم ایف کو اگلی جائزہ رپورٹ میں تمام تخمینوں پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔

    اسٹاک مارکیٹ
    پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 29 اگست تا 2 ستمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران مندی کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 282 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 42 ہزار 591 پوائنٹس سے کم ہوکر 42 ہزار 309 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے، مندی کے سبب سرمایہ کاروں کو 87 ارب روپے سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    ڈارسن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ سیلابوں سے نقصانات کے پیش نظر سرمایہ کاروں نے اپنی سرگرمیاں محدود کردیں اور اگست میں زبردست تیزی کی وجہ سے قیمتیں اونچی سطح پر پہنچ گئیں، جس پر سرمایہ کار اب فروخت کرکے منافع حاصل کرنے لگے ہیں۔

    کرنسی مارکیٹ
    انٹربینک میں 29 اگست کو ڈالر کی قدر میں 1.26 روپے کے اضافے سے 221.92 روپے ہوگئی لیکن اس کے بعد 30، 31 اگست اور یکم ستمبر کو ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈالر 218.60 روپے کی سطح پر آگیا لیکن 2 اگست کو پھر ڈالر کی قدر بڑھ کر 218.98 روپے ہوگیا۔

    اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 26 اگست کو 229.50 روپے تھا لیکن 29 اگست کو ڈالر کی قدر میں کمی آنا شروع ہوئی اور 31 اگست کو ڈالر کم ہوتے ہوئے 218.50 روپے کی سطح پر آگیا لیکن یکم ستمبر سے صورتحال پھر بدل گئی اور ڈالر دو دنوں میں پھر بڑھ کر 223.50 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

    گولڈ مارکیٹ
    عالمی مارکیٹ میں 29 اگست تا 2 ستمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران سونے کی قیمت میں کمی 33 ڈالر کی کمی پر ریکارڈ کی گئی، جس سے فی اونس سونے کی قیمت 1738 ڈالر سے کم ہوکر 1705 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمت میں کمی آئی لیکن ڈالر کی قدر بڑھنے کے تناسب سے بعض دنوں میں کمی کا حجم کم رہا، ہفتہ بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3 ہزار روپے کی کمی ہوئی اور ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 47 ہزار روپے سے کم ہوکر ایک لاکھ 44 ہزار روپے ہوگئی۔

    صارف مارکیٹیں
    مون سون بارشوں اور سیلابوں سے سب سے زیادہ صارف مارکیٹیں متاثر ہورہی ہیں۔ ملک بھر میں پھلوں، سبزیوں، اجناس اور دیگر اشیائے صرف کی ترسیل متاثر ہے جبکہ کئی اشیاء کی قلت بھی دیکھی جارہی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

    بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچنے کے سبب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اشیائے صرف کی عدم دستیابی اور قیمتیں بڑھنے کے حوالے سے مسائل آنے والے دنوں میں بھی برقرار رہیں گے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق یکم ستمبر کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 1.31 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو یہ ہفتہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 45.50 فیصد زائد مہنگا رہا۔

  • آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا،احسن اقبال

    آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا، عمران خان کی حکومت قومی خزانہ خالی کرکے چلی گئی، ہم نے مشکل فیصلوں سے ملکی معیشت کو بچایا، پاکستان کو مشکلات سے نکال کر اصل مقام تک پہنچانا ہمارا مشن ہے،چین پاکستان کی معیشت کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔

    ریلوے کے پانچ بڑے اسٹیشنوں کی جدید خطوط پر ڈویلپمنٹ کا فیصلہ

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس کے عہدیداران و دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ چین دنیا بھر سے سوا دو ہزار ارب ڈالر کی درآمدات کر رہا ہے جبکہ پاکستان سے چینی درآمدات صرف تین ارب ڈالر ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی برآمدات کو کیسے بڑھا سکتے ہیں، ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ ہم برآمدات میں پیچھے کیسے رہ گئے، ہمیں برآمدات بڑھانے کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔

     

    وزیراعظم نے دکانداروں سے فکسڈ سیلز ٹیکس کی وصولی روک دی

     

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو ترقی کی طرف لے جانے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت چھوڑ کر گئے تو ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب تھا مگر اب ترقیاتی بجٹ ساڑھے پانچ سو ارب روپے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ نجی شعبہ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقی کرنے والے ممالک اپنی ایکسپورٹ کو بڑھاتے ہیں، پاکستان کو اگر آگے بڑھنا ہے تو ہمیں بھی اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔

     

    قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اورعمران خان کو ایک ساتھ بٹھاؤں گا،فاروق ستار

    انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت خزانہ خالی کرکے گئی مگر ہم نے پاکستان کو اس کھائی سے بچا لیا ہے جس میں ہم گرنے والے تھے،ہمارے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا ریاست بچائیں یا سیاست ،ہم نے اپنا گردہ کاٹ کر پاکستان کی معیشت کو بچایا۔انہوں نے کہاکہ رجیم چینج آج نہیں بلکہ2018میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان اور سی پیک کو تباہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا اناڑی پن پاکستان کو بہت مہنگا پڑا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے ، جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے حکومت سے تعاون کریں تا کہ ان لوگوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پندرہ سو ارب دفاع جبکہ پانچ سو تیس ارب روپے پینشن کا بجٹ ہے،پانچ ہزار ارب کا خسارہ پورا کرنے کیلئے مزید قرض لینا پڑتا ہے اس لئے ہمیں ٹیکس ریونیو کو مزید بڑھانا ہوگا۔

    انہوں نے کہاکہ بجلی کا بل دینے والوں پر بجلی چوری کرنے والوں کا بوجھ پڑتا ہے،حکومت کبھی بھی پرائیویٹ سیکٹر سے مقابلہ نہیں کرسکتی،ہمارے پاس ایک سال کا ٹائم فریم ہے،وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آخری سہ ماہی کیلئے ترقیاتی بجٹ کی قسط جاری نہیں کرسکتے۔احسن اقبال نے کہاکہ سیاسی استحکام اور اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل سے ہی ملک کی ترقی و خوشحالی ممکن ہے،پالیسیوں کا تسلسل رہے گا تو پاکستان ترقی کرسکتا ہے،ترقی کیلئے ضروری ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ہر قسم کی زنجیر سے آزاد کیا جائے۔

  • ملکی معيشت مشکل مرحلے سے نکل آئی ہے:ڈپٹی گورنراسٹيٹ بينک

    ملکی معيشت مشکل مرحلے سے نکل آئی ہے:ڈپٹی گورنراسٹيٹ بينک

    اسلام آباد:ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ سب سے مشکل مرحلے سے نکل آئے ہيں۔جشن آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقريب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی گورنراسٹيٹ بينک ڈاکٹر مرتضٰی سید کا کہنا تھا کہ ملکی معيشت مشکل مرحلے سے نکل آئی ہے۔

    ڈپٹی گورنراسٹيٹ بينک نے کہا کہ مشکلات ہيں ليکن سب سےمشکل مرحلےسےنکل آئے ہيں، پاکستان کو ترقی يافتہ بنانے کيلئے تعليم پر زور اور خواتين کو بااختيار بنانے پر توجہ دينا ہوگی۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں آج پاکستان کا 75 جشن آزادی منایا جارہا ہے، ہر طرف سبز ہلالی قومی پرچموں کی بہار ہے، عمارتوں کو خوبصورت روشنیوں سے سجایا گیا ہے، بچے بڑے سب ہی مختلف انداز میں وطن سے اپنی محبت کا اظہار کررہے ہیں۔

    پاکستان کا قیام 14 اگست 1947ء کو عمل میں آیا تھا، قوم ہر سال اس دن کو ملی جوش و جذبے کے ساتھ مناتی ہے، اس موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، اہم عمارتوں پر چراغاں کے ساتھ قومی پرچم سربلند ہوتے ہیں، شہری بھی اپنی املاک اور گاڑیوں پر قوم پرچم آویزاں کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایک طرف ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک یہ دعوے کررہے ہیں تو دوسری طرف پاکستانی قیادت سعودی عرب ، عرب امارات ، چین اور آئی ایم ایف سے مالی امداد کی درخواست کرچکی ہے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگرآئی ایم ایف نے وقت پر پاکستان کو گرانٹ جاری نہ کی توحالات بہت زیادہ خراب ہوجائین گے

  • خواتین کو معیشت کے مرکزی دھارے میں لایاجائے،صدر عارف علوی

    خواتین کو معیشت کے مرکزی دھارے میں لایاجائے،صدر عارف علوی

    صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سے فیصل آباد ایوانِ صنعت و تجارت برائے خواتین کے وفد نے ملاقات کی ہے.اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ تاجر برادری اور وومن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی منصوبے شروع کرکے عوام کے ساتھ روابط قائم کریں.

    الیکشن کمیشن کے خلاف پراپیگنڈہ بے بنیاد ہے. ترجمان

    صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی منصوبوں سے معاشرے میں آگاہی پیدا کرنے اور صحت، ماحول اور سماجی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی ، خواتین کی نمائندہ تنظیمیں اور سول سوسائٹی کاروبار اور صنعتی شعبوں میں خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر لانے کیلئے فعال کردار ادا کریں، خواتین کو معیشت کے مرکزی دھارے میں لائے بغیر پاکستان کی معاشی اور مالی خود مختار ی کا ہمارا خواب ادھورا رہ جائے گا .

     

    نئی سرکاری جامعات کھولنے پر پابندی عائد کردی گئی

     

    صدر مملکت نے کہا کہ تمام چیمبرز آف کامرس بینکوں سے کاروباری قرضوں کے حصول کیلئے خواتین کو درپیش مسائل دور کرنے میں ان کی مدد کریں ، صدر مملکت نے ملک کے چیمبرز آف کامرس ، کاروبار، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں خواتین کی کم نمائندگی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس میں خواتین کو بطور ممبر اور لیڈرشپ عہدوں پر مناسب نمائندگی نہیں دی گئی جو کہ تشویشناک ہے.

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چیمبرز آف کامرس اس صنفی تفاوت کو دور کرنے کے لیے عملی اور بامعنی اقدامات کریں ، چیمبرز آف کامرس کے ممبران اپنے خاندان کی خواتین کو کاروباری سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک کاروباری خاتون تھیں اور خواتین کے لیے عمدہ مثال ہیں ،صنعتی اور کاروباری اداروں کی قیادت اپنے علاقوں میں خواتین کے لیے مخصوص ٹرانسپورٹ کی سہولیات مہیا کریں ، ملک میں اس وقت 9 لاکھ کی طلب کے مقابلے میں صرف 2 لاکھ نرسیں ہیں.

     

    600 سےزائد بند ڈاک خانےکھولنے کے احکامات:نوکریاں ہی نوکریاں

     

    صدر عارف علوی نے کہا کہ نرسوں کی طلب اور رسد میں فرق کم کرنے کیلئے مزید تربیتی سہولیات قائم کرناہوں گی ، متعلقہ تربیتی ادارے ان ہاؤس، ہائبرڈ اور آن لائن طریقہ تعلیم کے ذریعے طلب اور رسد کا خلا پر کرنے کی کوشش کریں ، چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پروگرام کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ،زیادہ سے زیادہ خواتین چھاتی کے کینسر کی جلد تشخیص کے لیے بروقت طبی امداد حاصل کررہی ہیں، کاروباری برادری چھاتی کے کینسر کے بارے میں مزید آگاہی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے .

  • مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالتی فیصلے کے بعد ایک طبقہ اس صورتحال سے پریشان ہے اور دل برداشتہ ہے جبکہ دوسرا طبقہ اس کو آئین اور قانون کی فتح قرار دے رہا ہے ۔ تاہم تبصروں کا سلسلہ شروع ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک کا اقتدار اور سیاست اتنا پرکشش نہیں رہا جتنا سمجھا جا رہا ہے موجودہ معاشی صورت کے پیش نظر حالات کا ادراک رکھنے والا کوئی بھی ذی شعور انسان کانٹوں کا یہ تاج سر پر سجانا نہیں چاہے گا۔ عوام کا استحصال اور معاشی قتل ہو رہا ہے اور یہ معاشی قتل عمران خان کے دور حکومت سے شروع ہوا اور تادم تحریر شہباز حکومت میں بھی جاری ہے۔

    تاہم بے حسی حکومت کرنے والوں کی وطن عزیز میں بنیادی شرط ہے تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر ملک کے مقتدر حلقوں کی کوشش ہے کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالا جائے ملک میں رواداری ،سیاسی انتشار کا خاتمہ کیا جائے اور مصالحت کروائی جائے تاکہ ملکی معیشت مستحکم ہو۔ درمیانی راستہ تو ملک میں انتخابات ہیں کیا پی ڈی ایم اور شہبازشریف اس پر آمادہ ہونگے؟ تاہم کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان تصادم جتنی شدت اختیار کر گیا ہے درمیانی راستہ نکالنا اتنا آسان نہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی کامیڈی سرکس سے بیزار عوام سیاست سے نالاں عوام اپنے بنیادی مسائل کے عذابوں میں مبتلا ہیں۔ ملک کے سیاستدانوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے جب معیشت کا مستقل بحران شدت اختیار کرنے لگتا ہے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بنیادی مسائل سے دوچار عوام بھی کسی اور کا ساتھ دیتے ہیں۔ ملک کی تاریخ گواہ ہے جنرل ایوب سے لے کر پرویز مشرف تک کے اقتدار کو انہی سیاستدانوں نے سہارا دیا اور عوام نے بھی۔

    ملک میں آئین، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ساتھ ساتھ جمہوریت مستحکم قرار دادیں پاس کرنے سے نہیں ہوتی۔ اس کے لئے جمہوری رویوں کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ موجودہ سیاسی انتشار سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوںنے تاریخی سے سبق نہیں سیکھا۔ عمران خان سمیت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو جمہوری رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری رویوں کو فروغ دینے جمہوریت کو مستحکم کرنے ملک میں قانون، آئین پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ ملک اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بقول ملک کے تین بار وزیراعظم نوازشریف کے ٹویٹ جو انہوں نے کیا کہ ملک کو تماشا بنا دیا گیا ہے خدارا اس ملک کو عالمی سطح پر تماشا نہ بنایا جائے۔

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی