Baaghi TV

Tag: معیشت

  • معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا،مفتاح اسماعیل

    معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا اور اور آئندہ چند ہفتوں میں قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر قابو پالیا جائے گا، اگلے ہفتے روپیہ پر دبائو کم ہو جائے گا ۔انہوں نے یہ بات ریڈیوپاکستان سے خصوصی گفتگو میں ہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ بہتر فیصلہ سازی کے نتیجے میں رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ معاشی اہداف حاصل کر لیے جائیں گے۔

    شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    وزیر خزانہ نے کہاکہ مغرب میں بڑھتی ہوئی کساد بازاری کے پیش نظر برآمدات میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے اوراسی تناظرمیں ہمیں اپنی برآمدات کو بڑھانے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی ، معیشت کے اہم برآمدی شعبے کو سہارا دینے کے لیے صنعتی فیڈرز پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے۔

    وزیر خزانہ نے بعض حلقوں کی جانب سے پیدا کیے گئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حالیہ مہینوں میں ملک کی ترسیلات، برآمدات اور ٹیکس وصولی میں کمی ہوئی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ مئی اورجون میں میں ریکارڈ ترسیلات ہوئیں جب کہ ایف بی آر نے بھی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران محصولات میں 35 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے،

     

    گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کیلئے نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال

     

    ایف بی آر 7500 ارب روپے جمع کرے گا جبکہ 800ارب روپے لیوی کے طور پر جمع ہوں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے معیشت کے پیداواری شعبوں بشمول زراعت، صنعتوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کومعاونت فراہم کررہی ہے ، بیجوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات پر ٹیکس ایک فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    روپے کی قدر میں کمی بارے سوال پر وزیر خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگلے ہفتے روپیہ پر دبائو کم ہو جائے گا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدات کو کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے،پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں کھڑا ہے جہاں اس کی نئی درآمدات برآمدات اور ترسیلات زر سے کم ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ مالی سال میں اسی ارب ڈالر کی درآمدات اور31ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 24 اگست کو آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط اگلے ماہ کے آخر تک ملنے کی امید ہے۔ دوست ممالک سے چار سے پانچ ارب ڈالر کی امداد بھی متوقع ہے،ایک دوست ملک ملک میں فوری سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے،وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

    تیل اور گیس کی موخر ادائیگی سے متعلق معاملات بھی دوست ممالک کے ساتھ ایک ہفتے میں طے کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے شعبہ میں بہتری لانے کے لیے جامع اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پچھلی حکومت نے نہ تو بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی سرمایہ کاری کی اور نہ ہی بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو بروقت مکمل کیا،پی ٹی آئی کی حکومت نے سستے ایندھن کے طویل المعیادمعاہدے نہیں کیے جس کے نتیجے میں ہمیں ان پاور پلانٹس کو آپریشنل کرنا پڑا جو مہنگے فرنس آئل پر چلتے ہیں۔

    مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کو درپیش مشکلات کے بارے میں پوچھے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ سستا پٹرول اور سستا ڈیزل اسکیم کے تحت مستحق خاندانوں کو دو ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو نقد امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے صارفین کو اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • سری لنکا کیسے دیوالیہ ہوا؟

    سری لنکا کیسے دیوالیہ ہوا؟

    سری لنکا کیسے دیوالیہ ہوا؟

    کرونا کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کی معیشت کی طرح سری لنکا کی معیشت بھی متاثر ہوئی ،کرونا کے دوران مکمل لاک ڈاؤن لگانے کی وجہ سے معیشت پر گہرا اثر پڑا

    حکومت نے قرضے لئے اور پھر عوام پر ٹیکس کم کر دیئے نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو گئے قرضے جی ڈی پی کا 119 فیصد ہو گئے تھے جن کو ادا کرنے لئے مزید قرض کی ضرورت پڑتی تھی

    بجٹ اور تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا تھا کرونا کے ایام میں اوورسیز شہریوں نے اپنے ملک رقم بھجوانا چھوڑ دی تھی کیونکہ انہیں مشکلات کا سامنا تھا

    جب معاشی بحران کا شکار ہوا تو پٹرول اور گیس کی قیمتیں حکومت نے بڑھائیں لیکن اسکا خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا کیونکہ پہلے حکومت ٹیکس کم کر چکی تھی، ایسے میں قیمتوں میں اضافے سے معیشت نہ سنبھل سکی

    پٹرول گیس قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام باہر نکلی اور احتجاج کیا عوامی احتجاج کی وجہ سے بھی کاروبار ٹھپ ہوا اور تجارتی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی تھیں

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • سعودی عرب:تحقیق کے شعبے پر قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ

    سعودی عرب:تحقیق کے شعبے پر قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ

    ریاض:سعودی عرب، تحقیق کے شعبے پر قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تحقیق کے شعبے پر قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے 2040 تک قومی معیشت میں 60 ارب ریال کا اضافہ ہوگا۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی ولی عہد یں نے آئندہ دوعشروں کے حوالے سے سعودی عرب کی ترجیحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری چار بڑی ترجیحات ہیں۔انسانی صحت، ماحولیاتی استحکام، بنیادی ضروریات، توانائی و صنعت میں قیادت اور مستقبل کی معیشت پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اس سے عالمی سطح پر سعودی عرب کی مسابقتی استعداد مضبوط ہوگی۔

    سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے تحقیق اور ایجاد کے شعبے کے حوالے سے مستقبل کی امنگوں کے لیے کام کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا بڑا ہدف یہ ہے کہ سعودی عرب پوری دنیا میں جدت کے حوالے سے قیادت کرنے والے ممالک میں شامل ہو۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی لیے ہم نے تحقیق اور ایجادات کے شعبے پر سالانہ خرچ سال 2040 میں کل قومی پیداوار کا ڈھائی فیصد ہوگا۔ جس کی بدولت یہ سیکٹر 2040 کی مجموعی قومی پیداوار میں 60 ارب ریال کا اضافہ کرے گا اور اس سے قومی معیشت میں تنوع پیدا ہوگا۔ ہزاروں نئی اسامیاں نکلیں گی۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور ایجادات کے شعبوں میں اعلی درجے کی ملازمتیں سامنے آئیں گی۔

    واضح رہے، تحقیق اور ایجاد کے شعبے کو پروان چڑھانے کی خاطراس شعبے کے ڈھانچے کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ ایک اعلیٰ کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کے سربراہ خود ولی عہد ہیں۔ وہ ریسرچ اور ایجاد کے شعبے کی نگرانی بذات خود کریں گے۔

  • عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    دبئی ::ریاض:::عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی مضبوط پوزیشن برقرار،دنیا کی معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کرنے والے اداروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ دنیائے عرب میں سعودی عرب آج بھی پہلی مضبوط معاشی قوت کے ساتھ پہلے نمبرپر ہے،اوریہ سفر جاری وساری ہے،

     

    عرب نیوز کے مطابق عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب معیشت میں سعودی عرب کا حصہ 2021 میں 0.4 فیصد پوائنٹس بڑھ گیا کیونکہ مملکت نے خطے کے سب سے بڑے اقتصادی پلیئر کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ سال 833.5 بلین ڈالر کی گھریلو پیداوار ریکارڈ کی، جو پورے عرب خطے کے 29.7 فیصد کے برابر ہے۔

    متحدہ عرب امارات 410 بلین ڈالر کے ساتھ دوسری سب سے بڑی عرب معیشت تھی، جب کہ مصر 402.8 بلین ڈالر کی پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ احمد الصبیح نے 2022 میں مسلسل ترقی کی توقع ظاہر کی ہے، خاص طور پر 2021 کی اسی مدت کے مقابلے میں 2022 کی پہلی سہ ماہی کے دوران خطے میں درآمد کیے گئے غیرملکی منصوبوں کی مالیت میں 86 فیصد اضافے کے بعد 21 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ عرب معیشت نے مجموعی طور پر2.1 ٹریلین ڈالر کی مجموعی گھریلو پیداوار کے ساتھ دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں براہ راست اضافہ ہوا۔ آمدن میں سال بہ سال 43 فیصد اضافہ ہوا جو تقریباً 53 بلین ڈالر کے برابر ہے۔اس سے ایف ڈی آئی کل تقریباً 1.58 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ آمد ورفت ترقی پذیر ممالک میں آنے والے بہاؤ کا 6.3 فیصد اور عالمی بہاؤ کا 3.3 فیصد ہے۔96 فیصد سے زیادہ بڑھی ہوئی رقوم صرف پانچ ممالک میں مرکوز ہیں، جس کی قیادت متحدہ عرب امارات کے پاس 20.7 بلین ڈالر ہے اور اس کے بعد سعودی عرب 19.3 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کے سالانہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مصر 5.1 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد عمان 3.6 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے اور مراکش 2.2 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔

    اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تجارت و ترقی کے ڈیٹا کے مطابق عرب ممالک کو موصول ہونے والا ایف ڈی آئی بیلنس 2021 کے آخر میں 958 بلین ڈالر سے بڑھ کر ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو گیا۔سعودی عرب 261 بلین ڈالر کے ساتھ عرب رینکنگ میں سرفہرست ہے، جو عربوں کی مجموعی رقم کا 26 فیصد ہے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات 171.6 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے اور مصر 137.5 بلین ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

  • وزیراعظم  نے سپر ٹیکس لگانے کی اصل وجہ بتادی

    وزیراعظم نے سپر ٹیکس لگانے کی اصل وجہ بتادی

    وزیراعظم شہباز شریف نے امیروں پر 10 فیصد سپر ٹیکس کے اعلان کی اصل وجہ بتاتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ اتحادی حکومت کے اقتدارمیں آنے پر دو راستے تھے، پہلاراستہ یہ تھا کہ الیکشن کرائیں اورمعیشت کوٹوٹ پھوٹ کاشکارہونےکے لیے چھوڑدیں جب کہ دوسرا راستہ یہ تھاکہ پہلے اقتصادی چیلنجز سے نمٹا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ: ہم نے پاکستان کو معاشی دلدل سے بچانے کا انتخاب کیا اور پاکستان کو پہلے سامنے رکھا
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ پہلابجٹ ہےجس میں معیشت کی بحالی کامنصوبہ ہے، سخت فیصلے ملک کو معاشی بحران پرقابوپانےکےقابل بنائیں گے، حکومت نےکم آمدنی والے اور تنخواہ دارپرکم سےکم بوجھ ڈالنےکی کوشش کی، حکومت نے یہ فیصلہ غربت کے خاتمے کے مقصد سے کیا ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ: متمول طبقے سے کہا ہے وہ بوجھ بانٹ کر قومی فرض پوراکریں، براہ راست ٹیکس سےحاصل رقم مالی مشکلات سےمتاثر افراد پرخرچ ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا: میکرو اکنامک استحکام پہلاقدم ہے، اتحادی حکومت معاشی خود کفالت حاصل کرناچاہتی ہے، ہماری قومی سلامتی کا معاشی انحصار سے بہت گہراتعلق ہے

  • محنت کش کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونینز ضروری ہیں،راجہ پرویز اشرف

    محنت کش کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونینز ضروری ہیں،راجہ پرویز اشرف

    محنت کش کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونینز ضروری ہیں،راجہ پرویز اشرف

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ مزدور اورمحنت کش طبقہ پاکستانی کمیونٹی کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کا سماجی و اقتصادی استحکام مزدور طبقے کی فلاح و بہبود سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقہ خصوصاً پاکستانی تارکین وطن محنت کش طبقہ ملک کے معاشی استحکام کے لیے اہم کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

     

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں چوہدری یاسین جنرل سیکرٹری سی ڈی اے یونین اور پاولو پوزو کے ڈائریکٹر آئی ایس سی او ایس سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ محنت کش طبقے کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونینز ضروری ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کی غیر ہنر مند لیبر فورس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے محنت کشوں اور مزدور طبقے کو ہنر مند بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستانی تارکین وطن کے محنت کش طبقے کو بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وزارت افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ محنت کش اور مزدور طبقہ پاکستان کی معیشت کی بنیادی طاقت ہے۔انہوں نے ورکر ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جدوجہد کو بھی سراہا۔ ڈائریکٹر پاولو پوزو کے کام کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی خاندانی روایات اور مشترکہ ثقافت کے امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی میں مقیم پاکستانی ملک کے معاشی استحکام کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

    چوہدری یاسین جنرل سیکرٹری سی ڈی اے یونین نے ملاقات کا موقع فراہم کرنے پر سپیکر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے ٹریڈ یونین محنت کش اور مزدور طبقے کی قانونی حمایت کے لیے تمام بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ قریبی رابطے پر کام کر رہی ہے۔ ٹریڈ یونین انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل کوآپریشن (ISCOS) کے ڈائریکٹر پاولو پوزو نے کہا کہ ان کی تنظیم پاکستانی یونینوں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اجلاس کو پاکستان میں مزدوروں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے منصوبوں کی بنیادی باتوں سے بھی آگاہ کیا۔

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    خواتین نرسزکی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالے ملزم کی ضمانت پر ہوئی سماعت

    ہنی مون پر گئے نوجوان نے موبائل فون خریدنے کیلئے بیوی کو فروخت کر دیا

  • 25 مئی کے بھگوڑے معیشت پہ بھاشن نہ دیں، تم نے تو قبر تک ساتھ جانا تھا،شیخ رشید کے بیان پر رانا ثناءاللہ کا ردعمل

    25 مئی کے بھگوڑے معیشت پہ بھاشن نہ دیں، تم نے تو قبر تک ساتھ جانا تھا،شیخ رشید کے بیان پر رانا ثناءاللہ کا ردعمل

    سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ 25 مئی کے بھگوڑے معیشت پہ بھاشن نہ دیں، پہلے چپڑاسی یہ بتائے کہ 25 مئی کو کہاں تھا، تم نے تو قبر تک ساتھ جانا تھا پھر اس دن اپنے باس کو چھوڑ کر کہاں روپوش تھے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ واہ رے انقلاب، بھگوڑا پشاور بھاگ گیا اور چپڑاسی لال حویلی میں چھُپ گیا، خونی مارچ کے اعلان کرنے والا خود ہی مارچ کے دن سویا ہوا تھا، یہ دوسروں کے بے گناہ بچوں کی لاشوں پر اپنی سیاسی دکان چمکانے والے خون آشام چمگادڑ ہیں۔

    وزیر داخلہ کا عمران خان کی اسلام آباد واپسی پر گرفتاری کا عندیہ

    وفاقی وزیر نے کہا کہ نیب قانون کی کسی ترمیم سے کوئی موجودہ کیس ختم نہیں ہوا، نیب نے ملک کی معیشت تباہ کی، ہم نے کاروبار اور سرمایہ کار برادری کو خوف سے نجات دلائی ہے، ہمارے خلاف چار سال میں کسی کیس کا کوئی ثبوت کسی عدالت میں نہیں دیاگیا، پھر بھی ہم نے ڈٹ کر عدالتوں میں سیاسی انتقام کا سامنا کیا، جیلیں کاٹیں، باس اورچپڑاسی کی طرح میدان سے نہیں بھاگے، اور ابھی بھی عدالت میں ثبوت لے جائیں قانون موجود ہیں۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمرانی انقلاب ضمانتیں کروا رہا ہے اور خیبر پختونخواہ کی عوام کے پیسے پہ منرل واٹر پی رہا ہے، اور ہیلی کاپٹر کی سیر کر رہا ہے، کوئی بھی مسلح جتھہ وفاق پہ حملہ کرنے کا سوچے گا بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    چائینیز کی سیکیورٹی کیلئے ڈسٹرکٹ فارنر سیکیورٹی سیل قائم کرنے کا فیصلہ

    قبل ازیں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کواسلام آباد واپسی پرخوش آمدید کہتے ہیں قانون کےمطابق ان کوسکیورٹی فراہم کی جارہی ہےعدالتی ضمانت ختم ہونےپرقانون کے مطابق فراہم کی گئی یہی سکیورٹی عمران نیازی کوبڑی خوش اصلوبی سےگرفتار کرلے گی عمران نیازی ملک میں ہنگامہ آرائی،فتنہ وفساد،افراتفری پھیلانےاوروفاق پرمسلحہ حملوں کے جرائم کےتحت درج دو درجن سے زائد مقدمات میں بطور ملزم نامزد ہیں ملک میں فساد برپا کرنے والا شخص کس طرح ایک جمہوری معاشرے میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوسکتا ہے؟یہ پوری قوم کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

    وفاقی کابینہ کی چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری

  • عمران خان کی تباہ کردہ معیشت دو ماہ میں ٹھیک کرنا ممکن نہیں،مسلم لیگ ن

    عمران خان کی تباہ کردہ معیشت دو ماہ میں ٹھیک کرنا ممکن نہیں،مسلم لیگ ن

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں محمد زبیر اور دانیال عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت بہت مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے لہذاٰ معیشت کی بہتری کیلئے کچھ مشکل اور کٹھن فیصلے کئے جا رہے ہیں جنہیں عوام کوبرداشت کرنا پڑے گا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ہماری مجبوری ہے، ڈالر کو مستحکم کرنے کے لئے بھی یہ قیمت بڑھانا ضروری تھا، پاکستان کی عوام کی مشکلات کا احساس ہے ، عوام کو آنے والے دنوں میں ضرور ریلیف ملے گا۔

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیگی راہنماء دانیال عزیز نے کہا کہ اس بات کا احساس ہے پاکستان کی عوام کن مشکلات سے گزر رہی ہے، پیٹرول کی قیمتوں کا بوجھ عوام کو محسوس ہو رہا ہے اس بات کا اندازہ ہے، پاکستان اس وقت بہت مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے، عمران خان نے ملکی معیشت کی جو تباہی کی ہے اسے صرف دو ماہ میں ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک خط عمران خان لایا تھا ایک خط آج میں بھی لیکر آیا ہوں یہ وہ خط ہے جو پاکستان کا معاشی ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہے، یہ خط فروری کی چار تاریخ کا ہے اس معاشی ڈیتھ وارنٹ کو روزانہ پاکستانی عوام کو دکھائوں گا، عمران خان نے سبسڈیز اگلی حکومت کو خراب کر نے کیلئے دی تھیں کیونکہ انہیں نظر آ گیا تھا کہ اب وہ تحریک عدم اعتماد سے بچ نہیں سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کو بہتر بنانے کیلئے دن رات کوششیں کر رہی ہے، اب امید کی کرنیں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں جو راستہ عمران خان نے بند کیا تھا اس کو دوست ممالک کے ساتھ ملکر کھولیں گے، روسی تیل لانے کے منسٹری آف پٹرولیم میں کوئی شواہد ہی نہیں ہیں، حکومت کا ٹارگٹ ہے کہ ملکی معاشی صورتحال مستحکم کی جائے، آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہونے جا رہے ہیں۔

    اس موقع پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ فروری کے اختتام پر آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق پٹرولیم قیمت بڑھانا تھیں مگر عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب ہوتا دیکھ کر قیمتیں بڑھانے کی بجائے کم کیں، یہ خطرناک حد تک مائینز بچھا کر گئے ہیں، ہم نے تمام فیصلے قومی مفاد میں کئے ہیں، پٹرولیم قیمت بڑھانا ہماری مجبوری ہے، ڈالر کو مستحکم کرنے کے لئے بھی یہ قیمت بڑھانا ضروری تھا،

    معیشت کو سنبھالنے کیلئےآئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری تھا کیونکہ ہم ڈیفالٹ کی طرف جا رہے تھے، عوام کو ریلیف آنے والے دنوں میں ضرور ملے گا، نگران حکومت ایسی صورتحال کونہیں سنبھال سکتی تھی، ہمیں عوام کی لانگ ٹرم صورتحال کا خیال ہے، پاکستان کی عوام کی بہتری کے لیے جو اقدامات کر سکتے ہیں وہ سب کر رہے ہیں، فیصلے مشکل ضرور ہیں مگر عوامی مفاد میں ہیں ہم اتحادیوں کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں، آئی ایم ایف ان کو کہتا رہا ہے کہ ایسا نہ کریں مہنگائی ہو گی.

    پاکستان میں ذخیرہ اندوزی مافیا پر بھی کام کر رہے ہیں، یہ وہی شخص ہے جو تسبیح پکڑ کر جھوٹ بولتا ہے اس کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانا ہے، جو بھی قانون کو ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا چاہے عمران خان ہو یا کوئی بھی ہو، مہنگامی بین الاقوامی سطح پر تبدیلیوں کی وجہ سے آ رہی ہے، آئی ایم ایف سے معاہدہ سائن ہوا، عمران خان نے دو فیصلے کئے ایک تو سمری مسترد کر دی دوسرا پیٹرول سستا کر دیا، پی ٹی آئی نے پیٹرول کی قیمت اس وقت کم کی جب عالمی سطح پر قیمت بڑھ رہی تھی ،پیٹرول کی قیمت اس لئے کم کی گئی کیونکہ عدم اعتماد کی باتیں شروع ہو چکی تھی.

    یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے دباؤمیں نہیں کیا، جو فیصلہ کیا وہ پاکستان کے مستقبل اور بہتری کے لئے کیا ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام جب بند کیا تو یہ مشکلات آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی تیل کون سے ہفتے میں لا رہے تھے جس کے شواہد ہی نہیں ہیں، حکومت کا عزم ہے کہ مشکل وقت سے عوام کو نکالنا ہے، اگر مشکل فیصلے نہ کرتے تو پاکستان کا حال بھی سری لنکا کی طرح ہونے کا خدشہ تھا، جیسے جیسے روپے پر دباؤ کم ہو گا عوام کو ریلیف ملے گا

  • ملکی چیلنجزکیلئے اجتماعی سیاسی عزم کی ضرورت ہے،ماہرین

    ملکی چیلنجزکیلئے اجتماعی سیاسی عزم کی ضرورت ہے،ماہرین

    ملک میں گورننس کو درپیش چیلنجز، غربت کے خاتمہ، ترقی، تعلیم اور معیشت سمیت درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اجتماعی سیاسی عزم پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جنوبی ایشیائی ممالک بالخصوص پاکستان میں حکمرانی کے چیلنجز کا مرکز اجتماعی سیاسی عزم کی عدم موجودگی ہے۔

    مختلف شعبوں کے ماہرین کے پینل نے پاکستان کی سیاسی اور سماجی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ جنوبی ایشیا میں گورننس اور ترقی کے مسائل کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز میں منعقد ہوئی۔

    تقریب کے پینلسٹ میں سفیر غالب اقبال، قائداعظم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمیٰ ملک، معروف صحافی تیمور شمل اور سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی شامل تھے جبکہ تقریب کی نظامت فرخ پتافی نے کی۔

    ماہرین نے گزشتہ برسوں میں پاکستان میں ہونے والی مختلف پیش رفتوں پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ترقی کی رفتار کافی حد تک سست رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بنیادی طور پر بدعنوانی، بدانتظامی، اور یکے بعد دیگرے برسر اقتدار آنے والی حکومتوں کے ذریعہ وسائل کے غلط استعمال جیسے مسائل کی وجہ سے ہوا ہے۔

    انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ پاکستان میں سیاست سیاسی مخالفین کے خلاف نعرے بازی اور بحث و مباحثے کے مقابلے میں تبدیل ہوچکی ہے جبکہ عوام کی خدمت اور ان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے پالیسیاں اور منصوبہ بندی کے اصل مقصد پر پردہ پڑگیا ہے۔

    ماہرین نے کہا کہ گورننس کے چند اہم چیلنجزکا حل غیر ضروری سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے عوام پر مبنی پالیسیاں اور نقطہ نظر تیار کرنے میں مضمر ہے، پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی والا ملک ہے، اس لیے گورننس کے بنیادی ڈھانچے میں کسی بھی قسم کی اصلاحات کو انسانی وسائل خصوصاً نوجوانوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو ترجیح دینی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ گورننس کو درپیش چیلنجز غربت کے خاتمے، ترقی، تعلیم اور معیشت سمیت کئی شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں، اس لئے پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اجتماعی سیاسی عزم پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

  • ڈالر کی اونچی اڑان ،193 کا ہو گیا

    ڈالر کی اونچی اڑان ،193 کا ہو گیا

    پاکستان میں ڈالر کی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری ہے

    ڈالر کی اونچی اڑان رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی، ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا جا رہا ہے، انٹر بینک میں کاروبار کے دوران ڈالر مزید ایک روپے 23 پیسے مہنگا ہو کر تاریخ کی بلند ترین قیمت 193 روپے کا ہو گیا ہے دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا رجحان جاری ہے پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 130 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور انڈیکس اس وقت 43 ہزار 29 پر ٹریڈ کر رہا ہے

    پی ٹی آئی رہنما فرح حبیب نے کہا ہے کہ شہبازشریف ملکی معاملات میں تلاش گمشدہ ہے شہباز شریف 3 روز سے لندن میں سزا یافتہ عدالتی اشتہاری کے پاس موجود ہے یہاں ملک کی معیشت کو تباہ برباد کردیا گیا ہے،ڈالر اوپن مارکیٹ میں مہنگا ہوکر 193روپے کا ہوگیا،

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے ذخائر بخارات بن کر تیزی سے ہوا میں تحلیل ہورہے ہیں،گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 190 ملین ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے،عدم اعتماد کے بعد سے اب تک 6 ارب ڈالرز ذخائر میں سے نکل کر ہوا ہوچکے ہیں ذخائر میں تیزی سے کمی کے باعث روپیہ اوندھے منہ نیچے گر رہا ہے 2دن پہلے ڈالر نے 190 کی حد کو عبور کیاتھا،اب پہلے ہی ٹریڈنگ 193 روپے پر ہورہی ہے، کیا امپورٹڈ کٹھ پتلیوں نے پاکستان کو اگلا سری لنکا بنانے کا فیصلہ کیا ہواہے؟ فیصلہ سازوں کے پاس دو راستے ہیں،ایک ریاستی طاقت کا استعمال جو عوام اور ریاست میں ٹکراؤ اور معیشت کی تباہی کا راستہ ہے،دوسرا راستہ جلد الیکشن کا اعلان اور بڑے معاشی فیصلوں کا ہے،الیکشن معاشی، معاشرتی استحکام کا راستہ ہے جس سے جمہوریت مضبوط ہو گی،

    تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ لندن میں بیٹھ کر سوچ رہی ہے کہ پیٹرول کی قیمت کیسے بڑھائیں، ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ جاری ، شام تک ہوسکتا ہے کہ 194 تک پہنچ جائے اگر ذ مہ داری لی ہے تو بروقت فیصلے بھی کریں، اگر فیصلہ نہیں کرسکتے تو انتخابات کراو ،انتخابات میں عمران خان دو تہائی اکثریت سے اقتدار میں آئیں گے

    تحریک انصاف کی رہنما شیری مزاری کا کہنا ہے کہ سازش کا نتیجہ ہے کہ معیشت کی تباہی ہو گئی ہے،ڈالر بڑھتا جا رہا ہے اور روپیہ گر رہا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، فیول پرائسز مزید بڑھیں گی،عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ آنے والا ہے،کینسر کی دوائیاں امریکی دباو کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں،کینسر کی یہ دوائیاں روس سے درآمد ہوتی تھیں،

    دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کہتی ہیں کہ 9 اپریل رات 12 بجے تک کرسی کے ساتھ چپکے رہنے والا اب کہہ رہا ہے کہ مارچ میں ڈالر 178 کا تھا ۔ذرا کوئی پوچھے کہ 7 اپریل کو ڈالر 189 کا تھا تب بھی تو آپ ہی کی حکومت تھی ۔۔1 ماہ میں 11 روپے بڑھا کیوں نہیں کنٹرول کیا ؟

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ معیشت کی تباہی، ڈالر کی تاریخی بلند ی کا مجرم عمران صاحب ہیں پاکستان کو گھمبیر مسائل کی دلدل میں عمران خان نے دھنسایا ہے آج ڈالر میں تاریخی اضافہ ہورہا ہے تو عمران صاحب ذمہ دار ہیں ڈالر 193 پہ عمران خان کی وجہ سے گیا ہے آئی ایم ایف کے معاہدے پر عمران صاحب نے دستخط کئے جس کی سزا عوام کو مہنگائی کی صورت مل رہی ہے ملک میں چار سال نالائقوں نااہلوں کارٹلز اور عمران مافیا کی حکومت کی وجہ سے معاشی دہشت گردی کی گئی آج ملک میں معاشی عدم استحکام عمران صاحب کی وجہ سے ہے پٹرول کی مد میں عمران خان نے اپنی ناکام سیاست کو بچانے کے لئے ناقابلِ تلافی نقصان کیا کو آج عوام کو بھگتنے پڑ رہے ہیں آج مشکل فیصلے کئے جارہے ہیں تو اس کے ذمہ دار عمران صاحب ہیں اپنے عوام دشمن معاشی جرائم کو چھپانے کے لئے عمران صاحب کنٹینر پر چڑھے ہیں عمران صاحب سیاسی مقاصدکے لئے ملک کی معیشت اور عوام کو داﺅ پر لگانا غداری ہوتی ہے
    عمران صاحب نے عوام کو مہنگائی دی، اب سب سے زیادہ خود مہنگائی کا شور مچا رہے ہیں عمران صاحب شور نہ مچائیں، مہنگائی کا جواب دیں، معاشی تباہی کا حساب دیں پاکستان کو گھمبیر مسائل کی دلدل میں عمران صاحب نے دھنسایا ہے ڈالر 193 پہ عمران خان کی وجہ سے گیا ہے چار سال مسلط نالائقوں، نااہلوں ،کارٹلز اور عمران مافیا نے عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی کی

    ہمیں چور کہا جاتا ہے لیکن بتایا جائے چینی مہنگی کرکے عوام کو کون لوٹ رہا ہے؟ خواجہ آصف برس پڑے

    شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین نہیں بلکہ شریف برادران،اہم انکشافات سامنے آ گئے

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ