Baaghi TV

Tag: مغرب

  • یورپ اور مغرب ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ جوہری جنگ سب کو تباہ کرکے رکھ دے گی:روس

    یورپ اور مغرب ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ جوہری جنگ سب کو تباہ کرکے رکھ دے گی:روس

    ماسکو:یورپ اور مغرب دنیا کو عالمی جنگ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تاس خبر رساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو حساس جوہری مسئلہ پر دانشمندی اور صبر و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تاس خبر رساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو حساس جوہری مسئلہ پر صبر و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت

     

    سرگئی لاوروف نے کہا کہ یورپ کو جوہری جنگ کے غیر قابل قبول ہونے پر مبنی اپنے وعدے کا لحاظ کرنا ہو گا اس لئے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے 5 بڑے ممالک نے 3 جنوری 2022 کو اپنے مشترکہ بیان میں ہر قسم کی جوہری جنگ سے اجتناب کرنے پر تاکید کی تھی۔

    روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    روسی وزیر خارجہ سر گئی لاوروف نے اپنے حالیہ بیان میں یوکرین کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ روس کے مطالبات پورے کرے ورنہ روسی فوج ہی اس معاملے کا فیصلہ کرے گی۔سرگئی لاوروف نے کہا کہ یوکرین حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں کو فوج سے آزاد کرنے، وہاں سے روس کی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کی ہماری تجاویز کا دشمن کو اچھی طرح علم ہے۔

    روس نے مذاکرات کی یوکرین کی شرائط مسترد کردیں

    انہوں نے مزید کہا کہ نکتہ سادہ سا ہے اور وہ یہ کہ یوکرین ان مطالبات کو اپنی بھلائی کے لیے پورا کرے، ورنہ اس معاملے کا فیصلہ روسی فوج کرے گی۔رپورٹس کے مطابق روس کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ یوکرین اُس کے زیر قبضہ علاقے میں ہتھیار ڈال دے اور کی ایف ملک کے پانچویں حصے پر اِس کی فتح کو تسلیم کرے۔

  • روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں: روس اہلکارنے خبردارکردیا

    روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں: روس اہلکارنے خبردارکردیا

    ماسکو:روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں:اطلاعات کے مطابق روسی صدر کے پریس سیکرٹری نے کہا ہے کہ روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں اور انہیں ان حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں،روس

    روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی صدر کے پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے ایک ٹی وی پروگرام ماسکو، کرملین، پیوٹن میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی آگے جا نہیں رہے بلکہ اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جسے تصادم کہتے ہیں اور ہمیں اس پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں طاقتور اور تحفظ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں ابھی انہی حالات میں رہنا ہے۔

    ٹوئٹر بلیو سبسکرپشن سروس 12 دسمبر کو دوبارہ متعارف کرانے کا اعلان

    پسکوف نے اس ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ مغربی ممالک روس کو پسند نہیں کرتے اور یہ حقیقت ہے لیکن روس کو اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں کہ وہ اسے پسند کریں۔

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورٌجخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    یاد رہے کہ روس یوکرین تنازعے میں نیٹو اور امریکہ یوکرین کی بھرپور فوجی امداد جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے یوکرین تنازعے کے حل کے امکانات کم ہوتے جا رہےہیں اور روس نیٹو امریکہ تصادم کے امکانات ہر روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ روس نے نیٹوامریکہ جاری مداخلت اور روس پر حملے کی صورت میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی دی تھی۔

  • مغربی ملک ایران میں میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ

    مغربی ملک ایران میں میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ نے الزام لگایا ہے کہ مغربی ملک ایران میں فساد پھیلا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : ایران کی طرف سے ایک بار پھر اس الزام کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ایران میں جاری فسادات اور احتجاج میں ‘پٹرول بم’ کا آتش گیر ہتھیار مغربی ممالک کی حمایت سے استعمال کیا جارہا ہے۔

    کوئی ضمانت نہیں کہ صبروتحمل کی حکمت عملی زیادہ دیرتک قائم رہ سکےگی،ایران کا سعودی…

    ایران کے اعلی سفارت کار نے الزام لگایا ہے کہ مغربی ممالک ایران میں تشدد کو بڑھاوا دے رہے ہیں یہ مغربی ممالک ہی ہیں جو احتجاج کرنے والوں کو ‘مولوٹوو کاکٹیل’ نامی آگ بھڑکانے والے ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کی شہہ دے رہا ہے۔

    "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے فون پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مغربی ممالک ایران میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔مغربی حکومتیں سوشل نیٹ ورکس اور میڈیا کے ذریعے ایرانی مظاہرین کو آتشگیر مادے سے ہتھیار بنانا سکھا رہے ہیں۔

    یوکرین کے خلاف روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے،امریکی صدر

    ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے اس حالیہ فون کال میں کہا کہ مغربی ممالک کے ساتھ رابطوں میں رہنے والے مظاہرین ایرانی پولیس افسران کو قتل کر رہے ہیں اور ایران میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ نتیجتاً دہشت گرد گروپوں کو بھی اپنی کارروائیوں کا موقع مل رہا ہے۔ جیسا کہ 26 اکتوبر کو شیراز میں ایک شیعہ درگاہ پر حملے میں 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے ایران میں مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد سے فسادات جاری ہیں۔ مہسا امینی کی ہلاکت سولہ ستمبر کو ہوئی تھی اب تک احتجاج کے دوران درجنوں مظاہرین اور درجنوں سیکورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ اسی طرح سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

    کس نے کہا ہے کہ روس ایٹمی جنگ کی تیاری کررہا ہے:جھوٹ سے کام نہ لیاجائے:روس

  • اگرکسی نےسعودی سلطنت کوچیلنج کیا توہم سبھی جہاد اور شہادت کیلئےتیار ہیں،سعودی شہزادے کی مغرب کو دھمکی

    اگرکسی نےسعودی سلطنت کوچیلنج کیا توہم سبھی جہاد اور شہادت کیلئےتیار ہیں،سعودی شہزادے کی مغرب کو دھمکی

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے چچا زاد بھائی شہزادہ سعود الشعلان نے مغربی ممالک کے خلاف دھمکی آمیز انداز میں بیان دیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی :حال ہی میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی سعودی عرب کی سربراہی والی تنظیم اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے پر امریکہ نے شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا امریکہ میں کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کو اس بارے میں معاف نہیں کیا جانا چاہیے اس کے خلاف سخت اقدامات کا وقت آ گیا ہے-

    اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے،اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا…


    امریکا کے اس دھمکی آمیز بیانات کے بعد شہزادہ سعود الشعلان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اپنا ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی نے سعودی سلطنت کے وجود کو چیلنج کیا تو ہم سبھی جہاد اور شہادت کے لیے تیار ہیں-

    برطانوی خبررساں ادارے ” بی بی سی اردو” کے مطابق سعود الشعلان ویڈیو میں انگریزی اور فر نچ زبانوں میں مغرب کو دھمکی دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کسی نے سعودی سلطنت کے وجود کو چیلینج کیا تو ہم سبھی شہادت اور جہاد کے لیے تیار ہیں۔


    مڈل ایسٹ آئی سے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے وکیل عبل اللہ العودہ نے کہا کہ سعود الشعلان قبائلی رہنما ہیں اور وہ سعودی عرب کے بانی عبد العزیز کے پوتے ہیں۔

    تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے،امریکی صدر

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس سمیت اتحادیوں پرمشتمل گروپ اوپیک پلس نے اپنے نئے پیداواری ہدف کا اعلان کیا تھا اور امریکا کے تیل کی پیداوار میں کمی نہ کرنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔

    تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس نے عالمی معیشت اور تیل منڈی کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث نومبر سے تیل پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا ہےاس فیصلے سےامریکہ ناراض ہے۔ کیونکہ تیل میں کمی ہوگی تو قیمتوں میں اضافہ ہو گا امریکا کےصدر جوبائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اوپیک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے-

    15 نومبر سے انڈونیشیا میں جی 20 ممالک کا اجلاس ہونے والا ہے۔ جی ٹونٹی میں دنیا کی بڑی معیشتوں والے ممالک شامل ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی شرکت کریں گے۔

    اتوار کو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے واضح کر دیا گیا کہ جی 20 اجلاس کے دوران صدر بائیڈن کا ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس کا فیصلہ روس کے حق میں ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات گزشتہ کچھ عرصے سے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں۔

    یوکرین پر روسی حملے کے سبب قیمتوں میں پہلے سے ہی اضافہ ہو چکا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو سمجھانے کی بھی کوشش کی تھی کہ وہ ایسا نہ کرے۔ یہاں تک صدر جو بائیڈن نے اس سال جولائی میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ لیکن دونوں ممالک کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

    امریکہ سمجھتا ہے کہ سعودی عرب روس کا ساتھ دے رہا ہے۔ تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے سے بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور اس سے روسی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ دوسری جانب امریکہ اور یورپی ممالک روس کے خلاف یوکرین پر حملے کے معاملے میں مزید سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں تاکہ اس کی معیشت کو کمزور کیا جا سکے۔

    امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما پہلے سے ہی سعودی عرب کے بارے میں منفی خیالات رکھتے ہیں۔ سنہ 2019 میں جو بائیڈن نے انتخابی مہم کے دوران سعودی عرب کو الگ تھلک کرنے کی بات کہی تھی۔ اور اب امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک سیاست دان سعودی عرب کو سبق سکھانے کی بات کر رہے ہیں۔

    خلیجی تعاون کونسل کی تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی تائید

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک رائے یہ بھی قائم ہو رہی ہے کہ سعودی عرب ریپبلیکن پارٹی کی مدد کر رہا ہے۔ ٹرمپ ایک بار پھر امریکی سیاست میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


    ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر برنی سینڈرس نے ایم ایس این بی سی کے صحافی مہدی حسن کو دیئے ایک انٹرویو میں سعودی عرب پر نکتہ چینی کی۔

    برنی سینڈرس نے کہا ہے کہ سعودی عرب خواتین کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا برتاؤ کرتا ہے۔ شہریوں کو ٹارچر کرتا ہے اور اب یوکرین جنگ میں بھی روس کی طرف داری کر رہا ہے اب ہمیں سعودی عرب سے افواج کو واپس بلا لینا چاہیے انہیں ہتھیار دینا بند کر دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی تیل کی قیمتیں بڑھانے جیسی من مانی کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔

    برنی سینڈرس نے کہا کہ تیل اور گیس کی صنعتیں خوب منافع کما رہی ہیں۔ فارما اور فوڈ انڈسٹری کا بھی یہی حال ہے کارپوریٹ گھرانوں کے بے حساب لالچ کی وجہ سے مہنگائی ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے اور عام لوگ اس سے پریشان ہیں۔

    ایران کے ساتھ معاہدے پر جلد واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے، امریکا

    سعودی عرب نے خام تیل کی پیداوار میں کمی پر امریکی صدر کے بیان کو مسترد کردیا تھا سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ مملکت ’اوپیک +‘ کے فیصلے کو بین الاقوامی تنازعات میں جانب دارانہ قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتی ہے-

    سعودی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا، تیل کی پیداوار میں کمی کی وجوہات سیاسی نہیں، اندرونی مسائل کی وجہ سے امریکہ اوپیک کے فیصلے کو سمجھ نہیں پارہا امریکہ میں نو اوپیک بل کا متعارف کروایا جانا حیران کن ہے، اوپیک کے خاتمے کی باتیں جذباتی ہیں۔

    وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اوپیک +‘ کا فیصلہ متفقہ طور پر اورخالصتا اقتصادی نقطہ نظر سے لیا گیا تھا جس کا مقصد مارکیٹوں میں طلب اور رسد کے توازن کو مدنظر رکھنا ہے اور اتار چڑھاؤ کو محدود کرتے ہوئے قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہے۔

    سعودی عرب نے بین الاقوامی تنازعات میں اس فیصلے کو تعصب کی نگاہ سے دیکھنے پرمبنی بیانات کو بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا کہا تھا کہ مملکت امریکا کے خلاف سیاسی مقاصد کی بنیاد پر اوپیک + کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرتی۔ سعودی عرب 5 اکتوبر کو اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد مملکت پر تنقید کرنے والے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

    سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات نازک نوعیت کے ہیں،امریکی حکام

  • امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    بیجنگ:امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سےبازآجائے:چین کا انتباہ ،اطلاعات کے مطابق چین نےامریکہ اورمغرب کوخبردارکرتےہوئے کہا ہےکہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت بند کریں اور مُلکوں کوان کے اپنے آئین ، اصول اورمعیار کے مطابق چلنے دیں

    امریکی مداخلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے چینی ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔وزیرخارجہ وانگ نے کہا کہ چین ترقی کے راستے کی آزادانہ تلاش میں مشرق وسطیٰ کے عوام کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو اتحاد اور خود بہتری کے ذریعے حل کرنے میں ممالک کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی وزیرخارجہ نے شامی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکز ہے اور اسے عالمی برادری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، وانگ نے کہا کہ چین مسئلہ فلسطین کو دوبارہ بین الاقوامی ایجنڈے میں سرفہرست رکھنے کے لیے تیار ہے۔

     

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چینی وزیرخارجہ وانگ نےامریکہ اورمغرب پر زوردیتے ہوئےکہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے پاس امن و استحکام کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنےاورمسائل کو حل کرنےکی صلاحیت اوردانشمندی ہے۔پھرامریکہ ان کو ان کی مرضی سےیہ معاملات حل کرنے میں آزاد کیوں نہیں رہنےدے رہا،وانگ نےمزید کہا کہ خطے کےممالک کی خودمختاری کا صحیح معنوں میں احترام کرتےہیں،اورایسےکام کرتے ہیں جو خطےکےعوام کی ضروریات کی بنیاد پر خطے کی پرامن ترقی کے لیے سازگار ہوں۔

    وانگ نے کہا کہ چینی فریق شامی فریق کے ساتھ مل کر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے اور چین اور شام کے تعلقات کی پائیدار، مستحکم اور صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے ۔اس موقع پرچینی وزیرخارجہ نے کہا کہ چین شام کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کی حفاظت کے بیانیے پر قائم ہے ، اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں شام کی حمایت کریں، اور شام میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کی خواہش کریں۔

     

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    اس موقع پر شامی وزیرخارجہ مقداد نے کہا کہ چین ہمیشہ ایک عقلی اور منصفانہ موقف پر قائم رہا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو ایک ساتھ ترقی کرنے میں مدد کی ہے اور عالمی کثیر پولرائزیشن اور انسانی ترقی اور پیشرفت کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔

     

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    مقداد نے کہا کہ شامی فریق اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں چین کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، میکداد نے مزید کہا کہ سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تبت کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں امریکہ اور مغرب کی طرف سے پھیلائی جائیں گی۔

    مقداد نے یہ بھی کہا کہ شامی فریق مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے تیار ہے جس سے عالمی امن اور ترقیاتی تعاون کے وسیع امکانات کھلیں گے۔

     

     

     

  • روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا

    روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا

    ماسکو:روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیوں سے متعلق سخت ترین فیصلے کرلئے گئے

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روس ایک نئے قانون کو پاس کرنے پر غور کررہا ہے جس کی مدد سے وہ مغربی کمپنیوں کے مقامی کاروبار کو اپنے کنٹرول میں لے سکا گا جو یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کررہی ہیں۔

     

     

    اس نئے قانون کی وجہ سے روس سے نکلنے کی کوشش کرنے والی مغربی کثیرالقومی کمپنیوں کے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے، یہ قانون جو آئندہ ہفتے لاگو ہوسکتا ہے، روس کو مداخلت کے وسیع اختیارات دے گا جہاں مقامی ملازمتوں یا صنعت کو خطرہ ہو۔

     

     

    اس قانون کے بعد مغربی کمپنیوں کے لئے خود کو نقصان سے بچانا مزید مشکل ہوجائے گا جس سے وہ بڑا مالی نقصان اٹھاسکتی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جائیدادیں ضبط کرنے کے قانون کی تجویز مغربی کمپنیوں جیسے کہ میکڈونلڈ، اسٹاربکس اور بریور اے بی انبیو کے اخراج کے بعد سامنے آئی ہے۔

     

     

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب روسی معیشت پر مغربی پابندیوں کی وجہ سے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی،گوکہ دنیا کا سب سے بڑا فرنیچر برانڈ آئیکا، فاسٹ فوڈ چین برگر کنگ اور سینکڑوں چھوٹی فرم کا اب بھی روس میں کاروبار جاری ہے، لیکن نئے قانون کی منظوری کے بعد کوئی بھی کمپنی روس چھوڑنے کی کوشش کریگی تو اسے سخت لکیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

     

    ادھر روسی فیصلے کے بعد آئیکا نے روس میں تمام امور کو معطل کردیا ہے، کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پابندیوں سے متعلق نئے روسی فیصلے کو قریب سے دیکھا جارہا ہے اور تمام آپشنز پر غور جاری ہے، برگر کنگ نے فوری تبصرے سے انکار کیا ہے۔

  • ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا انتباہ

    ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا انتباہ

    ماسکو: روس نے مغرب کو ایک بار پھرخبردار کردیا-

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کہ روس نے کہا ہے کہ اگرماسکو نے پابندیاں لگائیں تو مغربی ممالک کو سخت مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا پابندیاں لگانے سے متعلق ہم بڑے پیمانے پر کام کر رہے ہیں جو مغربی ممالک میں بہت شدت سے محسوس کی جائیں گی۔

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    وزارت خارجہ کے شعبہ اقتصادی تعاون کے ڈائریکٹر دمتری بریچیفسکی نے بتایا کہ روس کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیاں بہت خطرناک ہوگی جو مغربی ممالک کو جھنجھوڑ دیں گی۔

    خیال رہےکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو روسی تیل اور توانائی کی دیگر درآمدات پر فوری پابندی عائد کر دی تھی-

    یوکرین اور روس کا انخلا کیلئے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق

    قبل ازیں روس سے تیل کی درآمد پر پابندی امریکی ایوان نمائندگان میں منظور ہوگئی ہے یوکرین کے حملے کے جواب میں روسی تیل اور توانائی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے لیے امریکی ایوان میں ووٹنگ ہوئی جس میں قانون سازوں نے بھاری اکثریت میں اس پابندی کے حق میں ووٹ دیئےقانون سازی جو 414 کے مقابلے میں 17 ووٹوں سے منظور ہوئی، اب حتمی فیصلے کے لیے سینیٹ میں پیش کی جائے گی تاہم اس کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    اس سے قبل، روس نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا اور مغربی ممالک نے روس کے خام تیل کی درآمد پر پابندی لگائی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    واضح رہے کہ 1991 میں سوویت یونین کے زوال کے بعد اس وقت روس کی معیشت کو سب سے زیادہ بحران کا سامنا ہے۔

    یوکرین میں 2500 سے زائد بھارتی طلباء کو بچانے والا پاکستانی