Baaghi TV

Tag: مفت

  • واپڈا افسروں کیلئے5 ارب سے ذائد کی مفت بجلی، بلوں کا بوجھ عوام پر،ذمہ دار کوں؟

    واپڈا افسروں کیلئے5 ارب سے ذائد کی مفت بجلی، بلوں کا بوجھ عوام پر،ذمہ دار کوں؟

    مہنگائی میں پسے پاکستانی عوام کا معاشی قتل کرنے میں جہاں حکومتوں کا عمل دخل ہے تو وہیں واپڈا کے اہلکار اور افسر بھی کسی سے کم نہیں .

    آئے روز عوام پر بجلی کے بلوں کا اضافی بوجھ ڈال کر حکومت صرف یہ کہ کر بری الاذمہ ہو جاتی ہے کہ مشکل حالات ہیں، مگر حکومت واپڈا کے افسروں اور اہلکاروں کو کس مد میں کروڑوں یونٹ بجلی مفت فراہم کر رہی ہے جبکہ ان افسروں اور اہلکاروں کو باقاعدہ ہر ماہ تنخواہ ملتی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واپڈا کے 48 ہزارافسر اور ایک لاکھ 5 ہزارملازمین سالانہ بجلی کے 39 کروڑ 10 لاکھ فری یونٹ استعمال کرتے ہیں جس کی مالیت 5 ارب 25 کروڑ روپے ہے، واپڈا کے افسر اور ملازمین کی شاہانہ مفت بجلی کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے،سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت وقت کو واپڈا ملازمین اور افسروں کو اربوں روپے کی مفت بجلی فراہم کرنے کا نوٹس لینا چاہیئے، سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت واپڈا کے افسروں اور ملازمین کو ماہانہ تنخواہ دیتی ہے تو پھر انہیں مفت بجلی کیوں فراہم کی جارہی ہے ؟.

    وزیراعظم شہباز شریف ملک کی موجودہ صورتحال کی تناظر میں واپدا افسروں اور اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی اربوں روپے کی مفت بجلی کا نوٹس لیں اورمہنگائی کی چکی میں پسے غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں.

    دوسری طرف پروٹیکٹڈ صارفین کے سوا بجلی بلوں پر ون سلیب بینیفٹ ختم کر دیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیب بینیفٹ ختم ہونے سے بجلی صارفین کو بھاری بل موصول ہو رہے ہیں۔ ماہانہ 100 یونٹ استعمال پر فی یونٹ بجلی ریٹ 13روپے 48 پیسے جبکہ 101 سے 200 یونٹ بجلی کی قیمت 18روپے 58 پیسے فی یونٹ ہے۔بینیفٹ کے تحت 150 یونٹ استعمال کرنے پر 100 یونٹ 13 روپے 48 پیسے میں پڑتے تھے۔100 سے اوپر 50 یونٹس پر فی یونٹ 18 روپے 58 پیسے وصول کیے جاتے تھے۔

    حکومت کی جانب سے اب صارفین کو اس ریلیف سے محروم کر دیا گیا ہے۔150 یونٹ پر صارفین سے اب 18 روپے 58 پیسے فی یونٹ وصول کیے جاتے ہیں۔ماہانہ 201 سے 300 فی یونٹ ریٹ 21 روپے 47 پیسے ہے، ماہانہ 400 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ ریٹ 24 روپے 63 پیسے بنتا ہے۔

    ماہانہ 500 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ قیمت 26 روپے ہے، ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فی یونٹ قیمت 27 روپے ہے۔ماہانہ 700 یونٹ استعمال پر فی یونٹ ریٹ 27 روپے 65 پیسے ہے، ماہانہ 700 یونٹ سے زائد استعمال پر فی یونٹ نرخ 31 روپے 12 پیسے لاگو ہوتا ہے۔

  • سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے مفت کال کرنے کی سہولت

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے مفت کال کرنے کی سہولت

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے مفت کال کرنے کی سہولت فراہم کردی گئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چئیرمن پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کو یہ سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔اب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل کمپنیاں زیرو بیلنس پر بھی کال کی سہولت دیں گی۔حکومت کی جانب سے یہ اقدام عوام کے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سیلاب نے ملک کے چاروں صوبوں میں تباہی مچا دی ہے، سوات میں دریا بپھر گيا، ہوٹل اور عمارتیں بہا لے گيا، پانی کی شدت کے سامنے مضبوط عمارتیں بھی نہیں ٹھہر سکیں، دل دہلا دینے والے مناظر نے خوف بڑھا دیا۔

    انتظامیہ کی جانب سے نوشہرہ شہر خالی کرنے کی اپیل کردی گئی، رات میں ساڑھے چار لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گزرے گا، جی ٹی روڈ بھی ڈوبنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ایمرجنسی نافذ کردی گئی، مہمند ڈيم بھی سیلاب سے متاثر ہوگیا، پانی باہر نکلنے لگا۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے سندھ حکومت کو 15 ارب روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    متاثرین سیلاب سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سیلابی ریلوں نے ہر طرف تباہی مچائی ہوئی ہے۔ سندھ میں تو ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ 900سےزائد لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ مجھے تباہ کاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ ہم نے دیکھا لوگ گھروں سے باہر ہیں۔ بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی سیلابی صورتحال ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے فصلیں تباہ، مکانات منہدم، لوگ بے گھر،مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔ سندھ حکومت گرانٹ کو سیلاب متاثرین کی بحالی میں استعمال کرے گی۔ صوبوں سے مل کر سیلاب زدگان کی مدد کررہے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 28ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو دیے ہیں۔ آج سے سندھ میں یہ تقسیم شروع ہوجائے گی۔ بلوچستان میں بھی حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔

    وزیراعظم نے سندھ حکومت کے لیے 15ارب گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت یہ گرانٹ سیلاب متاثرین پرخرچ کرے گی۔ این ڈی ایم اے سندھ حکومت کے ساتھ معاونت کرے گا۔ مخیر حضرات ،صنعتکار، تاجر عطیات دیں۔ خیمے اور مچھر دانیوں کا انتظام کررہے ہیں ۔ جو مچھر دانیاں ملیں انہیں بلوچستان اور سندھ میں تقسیم کیں ۔

  • تمام سرکاری سکولوں میں مفت کتابیں پہنچا دی جائیں گی،مراد راس

    تمام سرکاری سکولوں میں مفت کتابیں پہنچا دی جائیں گی،مراد راس

    صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کا لاہور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب میں گزشتہ چار ماہ کے دوران تباہی مچائی گئی۔ اپنے لوگ لگانے کے لئے لوگوں کو بلاوجہ نوکریوں سے نکالا گیا۔

    مراد راس نے کہا کہ مسلم لیگ ن جیسی جماعتیں چاہتیں ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں پڑھی لکھی نہ ہوں اور بیشعور رہ کر ان کو ووٹ ڈالتی رہیں۔ مراد راس نے یہ بھی کہا کہ 16000 ایجوکٹرز اور گریڈ 1 سے 4 تک کے 11 ہزار ملازمین کی بھرتی کے لئے سمری بھجوا دی گئی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب بھر میں کتابوں کی کمی فوری پوری کرنے کا حکم دے دیا ہے، اگلے جمعہ تک صوبے کے تمام سرکاری سکولوں میں مفت کتابیں پہنچا دی جائیں گی۔

    مراد راس نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب بھر کے ایس ٹی آئییز کو یکم ستمبر تک تنخواوں کی مکمل ادائیگی کر دی جائے گی۔ وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے محکمہ سکول ایجوکیشن سے متعلقہ شکایات کے ازالے کے لئے ٹول فری ہیلپ لائن کا آغاز کر دیا۔ عام عوام کسی بھی قِسم کے مسائل کی نشاندہی کے لئے محکمہ تعلیم کے ٹول فری نمبر 042 111112020 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    مراد راس نے مزید کہا کہ ہم نے گزشتہ حکومت کے منصوبے بند کرنے کی بجائے ان میں بہتری کے لئے اقدامات کئے۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں طلبا کی تصدیق کے لیے بے فارم کی شرط متعارف کرائی گئی اور دانش سکولوں کو بھی پہلے سے بہتر بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے چار ماہ میں ہمارے منصوبوں کو روکنے کے سِوا کوئی کام نہیں کیا۔

    انصاف اکیڈمی کے قیام کے حوالے بات کرتے ہوئے مراد راس کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کام ختمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، چند ہفتوں میں آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آن لائن اکیڈمی کا یہ منصوبہ ہمارے بچوں کے لئے انتہائی مددگار اور کار آمد ثابت ہو گا۔

    پریس کانفرنس سے خطاب میں سیاسی اظہار و خیال کرتے ہوئے مراد راس نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پی ڈی ایم کے کرپٹ لیڈران کی نبض پر حاوی ہو چکے اور موجودہ وفاقی حکومت کو ملکی نقصان، عوام کے حال کی کوئی پرواہ نہیں، یہ مخض سیاسی انتقامات کے لئے ملک پر مُسلط ہیں۔

    مراد راس نے مزید کہا کہ کراچی این اے 245 میں پی ٹی آئی کی شاندار جیت عمران خان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آج ہمارے عوام باشعور ہو چکے، اب یہ فاشست حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ مراد راس کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی ورکرز اور عام عوام پر جس ظلم اور تشدد کا مظاہرہ 25 جولائی کو کیا گیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ پی ڈی ایم جماعتوں کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

    عمران خان کے تمام سپاہیوں کے حوصلے بلند ہیں، کسی سازش سے گھبرانے والے نہیں۔ صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب کا یہ بھی کہنا تھا گزشتہ چار ماہ میں فاشست حکومت نے ذاتی مفادات کے لیے ملُکی معشیت تباہ کر دی اور پی ڈی ایم ٹولے کی مشترکہ حکومت نے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا تماشہ بنایا ہوا ہے۔

    ملک بھر میں سیلاب کی صورتحال کے حوالے بات کرتے ہوئے مراد راس نے بتایا کہ پنجاب میں سیلاب کی بدولت 950 سکول بند ہوئے ہیں اور ان سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کو وہاں کے قریبی سکولوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ ان کا تعلیمی خرج نہ ہو۔ آخر میں مراد راس کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موجود سکولوں کو ہونے والے نقصان کے ازالے کے لئے 2 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

  • پل بھرمیں؛ملک بھرمیں:اسٹیٹ بینک پاکستان نے”راست”     کےتحت رقم کی مفت منتقلی کی سہولت متعارف کرادی

    پل بھرمیں؛ملک بھرمیں:اسٹیٹ بینک پاکستان نے”راست” کےتحت رقم کی مفت منتقلی کی سہولت متعارف کرادی

    کراچی: پل بھرمیں ؛ملک بھر میں :اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے راست کے تحت فرد تا فرد رقم کی مفت منتقلی کی سہولت متعارف کرادی ،اطلاعات ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےحکومتی غلامی سے نجات کے فوری بعد ایسے اقدامات شروع کردیئے ہیں کہ جن کے اپنانے سے عوام الناس کا اعتماد بہت جلد بحال بھی ہوگا اور بڑھے گا بھی ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے نئے اقدامات نے عوام الناس کے دل جیت لیئے ہیں ، اسٹیٹ بینک نے بینکوں ‘راست’ کے تحت فرد تا فرد (پی 2 پی) رقم کی مفت منتقلی کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، راست رقوم کی ادائیگی کا ایک ڈیجیٹل نظام ہے۔

    اس حوالے سے میڈیا ذرائع کے مطابق مرکزی بینک نے کہا کہ اس نے بینکوں کو ملک میں راست کے ذریعے پی 2 پی ادائیگیاں شروع کرنے کی ہدایت کی ہے،یہ بھی کہا جارہا ہےکہ مرکزی بینک ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مالیاتی نظام میں اصلاحات اور ادائیگی کے نظام میں بہتری کے لیے سخت محنت کر رہا ہے اور ادائیگی کے نظام کو کم سے کم وقت کے ساتھ فاسٹ ٹریک پر لانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ راست اسٹیٹ بینک کا تیار کردہ پاکستان کا پہلا فوری ادائیگی کا نظام ہے جو پاکستانی عوام کو ڈیجیٹل ادائیگی کی فوری اور معتبر ہسولت فراہم کرتا ہے، اردو زبان کے لفظ راست کا مطلب صحیح اور سیدھا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک سمجھتا ہے کہ راست فرد سے فرد سروس سے نہ صرف صارفین کو آسان دشواریوں سے پاک اور مفت ڈیجیٹل فنڈ ٹرانسفر کی سہولت ملے گی اور ایک مؤثر اور سازگار ادائیگیوں کا انفرا اسٹرکچر بھی مہیا ہوگا جو معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی سروس کے فروغ کی راہ ہموار ہوگی۔

    اس ضمن میں اسٹیٹ بینک نے یوٹیوب اور اپنی ویب سائٹ پر ایک وضاحتی ویڈیو بھی جاری کی جو آسان الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ راست کے ذریعے ادائیگیاں اور رقوم کس طرح منتقل کی جائیں۔

    اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ‘راست’ فرد تا فرد رقوم کی منتقلیوں اور سیٹل منٹ خدمات کے تحت بینک صارفین اپنے بینک کی موبائل ایپلیکیشن، انٹرنیٹ بینکاری اور اوور دی کاؤنٹر خدمات استعمال کرتے ہوئے اپنے اکاؤنٹس میں رقوم بھیجنے اور اسے وصول کرنے کی سہولت سے استفادہ کریں گے۔

    بینک کا کہنا تھا کہ صارفین کے لیے آسانی یہ ہے کہ وہ بینک کی موبائل ایپلیکیشن، انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے یا بینک کی برانچ میں جا کر اپنے رجسٹرڈ موبائل فون نمبر کو اپنی راست آئی ڈی بنا کر اسے اپنے ترجیحی انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ نمبر (آئی بی اے این) سے منسلک کرسکیں گے۔

    اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جب صارف موبائل نمبر کو اپنی راست آئی ڈی بنالے گا تو دیگر افراد یہ موبائل فون استعمال کر کے اسے رقم بھیج سکیں گے، انہیں اکاؤنٹ نمبر یا کوئی اور تفصیل جاننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    دوسری جانب بینک صارفین کے پاس اگر راست آئی ڈی موجود نہ ہو یا وہ آئی بی اے اینکے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں تو بھی اپنے آئی بی اے این کے ذریعے راست سروس کو رقوم بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

    اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ موبائل ایپلیکیشن، انٹرنیٹ بینکنگ اور برانچ کاؤنٹرز سمیت کم از کم 3 ذریعوں (چینلز) پر راست فرد سے فرد رقم کی منتقلی کی سہولت فراہم کریں۔

    مرکزی بینک کے مطابق بہت سے بینکوں نے تمام ضروری تکنیکی اپگریڈز اور دیگر تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور اکاؤنٹ ہولڈرز کو ‘راست’ پی 2 پی خدمات فراہم کررہے ہیں۔