Baaghi TV

Tag: مفتاح

  • پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے،مفتاح اسماعیل

    پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے،مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےنجی یونیورسٹی کے پری بجٹ ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری مشکلات ہماری اپنی پیدہ کردہ ہیں بنگلہ دیش ،بھارت میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی ہے کویڈ کے بعد پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی ہے یوکرین جنگ نے مزید حالات خراب کیے ہیں

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان جمع ہو کر 30 بلین ڈالر ایکسپورٹ کرتا ہے، 1992 میں ہماری اور ویت نام کی ایکسپورٹ برابر تھی، اب ہماری ایکسپورٹ 30 جبکہ ویت نام کی 300 ارب ڈالر ہوگئی ہے، پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے، اس طرز حکمرانی میں ہم کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، سرکلر ڈیٹ بڑھنے کا مسئلہ سسٹم کی خرابی کا نتیجہ ہے،آئی ایم ایف پروگرام میں نہ گئے تو باقی دنیا بھی قرض نہیں دے گی، پاکستان میں اوسطا مہنگائی کی شرح 35 فیصد تک پہنچ گئی ہے، چین نے پاکستان کو تین سے چار مرتبہ بیل آؤٹ پیکیج کی سہولت دی،پاکستان پر قرضوں کا حجم 100ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ،

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ملک میں قرضے لیکر روپیہ کو سستا کیا گیا جس سے آنے والی نسل پر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے، پیشہ ورانہ ودیگر شعبوں میں تعلیم کا فقدان پاکستان کا اہم معاشی مسئلہ ہے، امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے کوئی غیرملکی پاکستان نہیں آتا،ڈھاکہ ائرپورٹ پر جتنی ائرلائنز آپریٹ ہورہی ہیں اتنی ائیرلائنز پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر نہیں ہوتیں ،

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

  • مفتاح اسماعیل نے لندن جاکراپنا استعفی میاں نوازشریف کو پیش کردیا

    مفتاح اسماعیل نے لندن جاکراپنا استعفی میاں نوازشریف کو پیش کردیا

    لندن:مفتاح اسماعیل نے لندن جاکراپنا استعفی میاں نوازشریف کو پیش کردیااطلاعات ہیں کہ پاکستان کے موجودہ وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے میاں نوازشریف کواپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسی موقع پرنوازشریف نے اسحٰق ڈارکی بطوروزیرخزانہ تقرری کی توثیق بھی کردی ہے

    اس موقع پر مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ چار ماہ میں اپنی بھرپور صلاحیت سے کام کیا، پارٹی اور ملک سے وفاداری نبھائی: مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ وہ نوازشریف کے وفادار رہیں گے ، اس موقع پر قائد محمد نوازشریف نے مشکل ترین حالات میں ذمہ داریاں نبھانے پر مفتاح اسماعیل کی کوششوں کو سراہا

    اس موقع پرنواز شریف اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو وزیرِ خزانہ کے لئے نامزد کر دیا ، نامزدگی کے اس اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف، اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، مفتاح اسماعیل،ملک محمد احمدخان اور احد چیمہ بھی شریک ہوئے

    دوسری طرف انہیں حالات کے تناظر میں سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار نے قائد ن لیگ نواز شریف کے مشورے پر وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ وطن واپسی کا فیصلہ کرلیا۔

    لندن میں وزیراعظم شہبازشریف اور نواز شریف کی دو دنوں میں دوسری ملاقات میں اہم فیصلے ہوگئے۔ اسحاق ڈار وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ پاکستان روانہ ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لندن میں میڈیا سے گفتگو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان کی وطن واپسی کیلئے بدھ کی بکنگ ہے تاہم ختمی فیصلہ آج کیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار آئندہ ہفتے (منگل کو) وزیر خزانہ کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے جب کہ موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی ن لیگ کی اتحادی حکومت میں معاشی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔واضح رہے کہ عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو 7 اکتوبر تک سرینڈر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • عمران خان کے دور میں 20 ہزار ارب کا قرض بڑھا،مفتاح اسماعیل

    عمران خان کے دور میں 20 ہزار ارب کا قرض بڑھا،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ہم نے مشکل وقت میں مشکل فیصلے کیے ،مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور پھر خلاف ورزی کی،آئی ایم ایف کے پاس فوری جانا چاہیے تھا،کرونا آیا توآئی ایم ایف میں بریک آیا، ورلڈ بینک نے امداد دی،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے17بلین ڈالر کا ہو گیا پاکستان میں آبادی بڑھ گئی ہے، معیشیت کا حجم بھی بڑھ گیا پرویز مشرف کے دور میں 8.1اعشاریہ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا ،میرا نام ای سی ایل میں تھا پاسپورٹ بنوایا اورروانہ ہوا،حکومت سنبھالنے کے بعد فورا آئی ایم ایف سے رابطہ کیا،کاروباری طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لارہےہیں،حکومت میں آنے کے بعد آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ترجیح تھی میں 2بار کراچی سےالیکشن لڑا اور ہار گیا،اب بھی الیکشن ہارا تو میں دوبارہ نہیں لڑونگا،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17اعشاریہ 5ارب ڈالر ہے ،مالیاتی خسارہ 5ہزار ارب روپے کا ہے،عمران خان کےدور میں 20 ہزار ارب کا قرض بڑھا،اسٹیٹ بینک نے شرخ سود 15فیصد کردی ہے،

    وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ کورونا میں 4.5ارب ڈالر کا قرض بھی معاف ہوا،ہمیں آئی ایم ایف سے بات کرنے میں مشکل ہوئی،پاکستان نے اب تک پورٹ سےٹیکس حاصل کیا،پاکستان میں ٹیکس دینے کو کوئی تیار نہیں ببل گم کا جو خام مال ہے اسکی درآمدی ڈیوٹی دی جاتی ہے،پاکستان میں 80 فیصد مینو فیکچرر پیداوار کر کے مال فروخت کرتے ہیں،ایک سرمایہ کار نے پلاسٹک فیکٹری لگا نے کی بات کی اور 20 سال کیلئے ٹیکس میں رعایت مانگ لی ،ہم نے ایک ماہ سے ایکسپورٹ نہیں بڑھائی اور امپورٹ کم کردی،ہمیں اپنے اخراجات کنٹرول کرنے ہونگے،ماضی کی حکومت نے جو قرض لیا اس سے زیادہ خرچ کردیا،ن لیگی حکومت نے بجلی کی پیداوار ڈبل کردی ،سیلاب کے بعد کوئلہ بھی 6 گنا مہنگا ہوگیا ،پی ٹی آئی نے سب سے بڑی غلطی کی، 5 روپے بجلی اور پیٹرول پر سبسڈی دی،جتنا بھی پیٹرول مہنگا ہوتا ہے اسکا پیسہ میرے گھر نہیں جاتا،ہمیں دنیا میں جاکر قرض مانگنےمیں شرم آتی ہے،پاکستان اب دیوالیہ نہیں ہوگا 28 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ کے تحت دئیے ہیں، خیبرپختونخوا میں دالیں، لائیو اسٹاک اور کاٹن کی فصلیں متاثر ہوئیں ،گنا کی فصل 20 فیصد خراب ہو گئی، پیاز اور اول کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں،شوکت ترین نے جو معاہدہ کیا اسمیں سیلز ٹیکس بڑھتا تھا،ہم نے لیوی میں اضافہ کیا اسوقت لیوی 37روپے سے زائد کردی،اسوقت ہم ڈیزل کو مہنگا نہیں کرسکتے شرمندہ ہوں ہماری حکومت میں تاریخی مہنگائی ہوئی ،مجھے اپنی پارٹی سے مخالفت کا سامنا ہے پنجاب میں ہماری پارٹی کو نقصان ہوا ،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • ایکنک کا اجلاس؛ کراچی کیلئے متعدد منصوبوں کی منظوری

    ایکنک کا اجلاس؛ کراچی کیلئے متعدد منصوبوں کی منظوری

    اسلام آباد:قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے منعقدہ اجلاس میں کراچی کیلئے متعدد منصوبوں کی منظوری دے دی۔تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت ایکنک کا اجلاس ہوا جس میں کراچی کے اورنگی نالے کی بحالی کا نظرثانی منصوبہ کر لیا گیا، منصوبے پر 15 ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی۔

    اجلاس میں کراچی کے گجر نالے کی بحالی کا نظرثانی منصوبہ بھی منظور ہو گیا جس پر 14 ارب 85 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت آئے گی، دونوں منصوبے 21 ماہ کے عرصے میں مکمل کئے جائیں گے۔

    منعقدہ اجلاس میں سکھر موٹروے کا نظر ثانی منصوبہ جس پر پر 308 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت آئے گی، وہ بھی منظور کر لیا گیا ہے۔

    اجلاس میں سیالکوٹ موٹروے کا نظر ثانی منصوبے کے ساتھ اربن لین سسٹم سے متعلق منصوبہ بھی منظور کر لیا گیا جس پر 25 ارب پچاس کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ایکنک کے اجلاس میں بلوچستان میں منگی ڈیم کا نظرثانی منصوبہ اور وارسک روڈ سے ناصر باغ روڈ پشاور کی تعمیر کا منصوبہ بھی منظور کر لیا گیا جس پر پر 16 ارب 49 کروڑ

  • چند ماہ کے دوران مہنگائی میں کمی آئے گی: مفتاح اسماعیل

    چند ماہ کے دوران مہنگائی میں کمی آئے گی: مفتاح اسماعیل

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں حالات بہتر ہوں گے اور مہنگائی میں کمی آئےگی، عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم قیمتوں میں کمی ہوئی تو عوام کو ریلیف دیں گے۔

    واضح رہے کہ اڑھائی ماہ قبل پٹرول کی عالمی مارکیٹ میں قیمت 125 ڈالر بیرل سے بڑھ چکی تھی جو اب مسلسل نیچے آرہی ہے، اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی گر چکی ہے، جس کے بعد قوی امکان ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمت کم ہوسکے۔

    سرکاری ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دیتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، ہماری پہلی ترجیح پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانا تھا۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ چند روز میں ہوجائے گی۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے حکومت نے تمام مشکل فیصلے کیے، عمران خان نے اپنی حکومت جاتے دیکھ کر پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کا اعلان کیا، گزشتہ حکومت نے نیب قوانین کو سیاسی مخالفین کیلئے استعمال کیا، عمران خان حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھی۔

  • چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس وصولی اب بجلی کے بلوں کیساتھ کی جائے گی

    چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس وصولی اب بجلی کے بلوں کیساتھ کی جائے گی

    اسلام آباد:چھوٹے ریٹیلرز سے ٹیکس کی وصولی اب بجلی کے بلوں کے ساتھ کی جائے گی، بجٹ میں حکومت نے تجویز دے ڈالی۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق چھوٹے ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فکسڈ انکم اور سیلز ٹیکس کا نظام تجویز کیا جارہا ہے، یہ ٹیکس 3 ہزار سے 10 ہزار روپے تک ہوگا۔

    اس کے علاوہ حکومت بڑے ریٹیلرز کے لیے پوائنٹ آف سیلز کے نظام میں مزید وسعت دے گی اور انعامی سکیم کو بھی جاری رکھا جائے گا، معیشت کو دستاویز کرنے کی خاطر نادرا اور ایف بی آر کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نظام بہتر کیا جائے گا۔

    کس گاڑی پر کتنا ٹیکس ہوگا؟ ایف بی آر نے تجاویز پیش کردیں،اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1600 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں پر ٹیکس دگنا کرنے کی تجویز دے دی۔

    ایف بی آر نے 850 سی سی تک گاڑیوں پر 10ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ 851 سی سی سے 1000 سی سی تک گاڑیوں پر 20 ہزار روپے، 1001 سی سی سے 1300 سی سی تک گاڑیوں پر 25 ہزار روپے ٹیکس اور 1301 سی سی سے 1600 سی سی تک گاڑیوں پر 50 ہزار ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

    1601 سی سی سے 1800سی سی تک گاڑیوں پر ڈیڑھ لاکھ روپے اور 1801 سی سی سے 2000 سی سی تک گاڑیوں پر دو لاکھ روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    2001 سی سی سے 2500 سی سی تک گاڑیوں پر 3 لاکھ روپے، 2501 سی سی سے 3000 سی سی تک گاڑیوں پر 4 لاکھ روپے اور 3000سی سی سے زائد گاڑیوں پر 5لاکھ روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کیلئے ٹیکس سلیبز 12 سے کم کرکے 7 کردیے۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا اور انہوں نے تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس کی حد 12لاکھ روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا۔بجٹ تجویز کے مطابق 6 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس استثنیٰ ہوگا اور 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک تنخواہ پر 100 روپے ٹیکس ہوگا۔

    بجٹ میں 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 7 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ 24 لاکھ سے 36 لاکھ آمدن تک 84 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور سلیبز پر 12.5 فیصد انکم ٹیکس الگ ٹیکس ہوگا۔

    بجٹ تجویز کے مطابق 36لاکھ سے 60 لاکھ روپے آمدن پر 2لاکھ 34 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور 17.5 فیصد الگ سے انکم ٹیکس ہوگا جبکہ 60 لاکھ سے ایک کروڑ 20 لاکھ آمدن پر 6 لاکھ 54 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور الگ سے 22.5 فیصد انکم ٹیکس دینا ہوگا۔

    بجٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 20 لاکھ 4 ہزار فکس رقم ادا کرنا ہوگی اور اس آمدن پر32.5 فیصد ٹیکس الگ سے ادا کرنا ہوگا۔مفتاح اسمٰعیل خوش نصیب وزیرخزانہ:پہلی باربجٹ پیش کرنے کا عمل پرسکون رہا:کوئی شورشرابابھی نہ ہوا،اطلاعات کے مطابق آج حکومت کی طرف سے سال 2022 اور 2023 کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا ہے اوراس بجٹ کی پیشی کا مثبت پہلو یہ ہےکہ اس کے پیش کیے جانے کے دوران بالکل خاموشی چھائی رہی

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    اسلام آباد کی فضائیں بڑی پُرسکون تھیں اوراسمبلی کے اندرجب مفتاح اسمعیل بجٹ پیش کررہے تھے توکسی کی طرف سے احتجاج ، شورشرابے یا مزاحمت کی کیفیت نہیں تھی بلکہ ہر طرف سے داد دی جاتی رہی،مفتاح اسمعیل بھی اس دوران بغیرکسی مزاحمت کے بجٹ پیش کرتے رہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بجٹ جب پیش کیا جارہا تھا تو اس وقت حکومتی اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی یا تو خاموش رہے یا پھرمفتاح اسمٰعیل کو داد دینے کے لیے کبھی کبھارڈیسک بجا دیا کرتے تھے ، یوں مفتاح اسمٰعیل ایک خوش نصیب وزیرخزانہ ہیں جن کو اپوزیشن کی طرف سے کسی سخت ردم عمل یا مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    یاد رہے کہ آج وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مالی سال 23-2022 کے لیے 95کھرب حجم کا بجٹ پیش کردیا۔اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے بجٹ پیش کرنا شروع کیا۔تحریک انصاف کی جانب سے حسب معمول ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور اپوزیشن کی نشستیں خالی رہیں۔

    بجٹ 2022-23، وزیر خزانہ کی مکمل تقریر کا متن باغی ٹی وی پر

    بجٹ 2022،2023 میں اہم فیصلے کئے گئے جس کے مطابق :
    کل اخراجات کا تخمینہ 9ہزار 502 ارب روپے ہے۔
    قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 3ہزار 144ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 800ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    ملکی دفاع کے لیے ایک ہزار 523ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 550ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    پنشن کی مد میں 530ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    سبسڈیز کے لیے 699ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    گرانٹس کی مد میں ایک ہزار 242 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 364ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    ایک کروڑ طلبہ کو بے نظیر اسکالرشپ دی جائے گی۔
    تعلیم کے لیے 109ارب روپے بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں۔
    کم از کم ایک لاکھ سے زائد ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس ہو گا۔
    40ہزار ماہانہ سے کم آمدن والوں کو ماہانہ 2ہزار روپے دیے جائیں گے۔
    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
    1600سی سی اور اس سے زائد کی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔
    سولر پینل کی درآمدات پر صفر سیلز ٹیکس عائد ہو گا۔
    ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت میں وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی ہے لہٰذا ملکی معیشت کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں کو قوم کی وسیع تر حمایت حاصل ہے۔