Baaghi TV

Tag: مفتاح اسماعیل

  • آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،مفتاح اسماعیل

    آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،مفتاح اسماعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ روپے پر پریشر جلد ختم ہو گا، رواں ماہ 5 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ درآمدات میں کمی خوش آئند ہے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 150 یونٹ سے کم استعمال کرنیوالے دکانداروں کو ٹیکس چھوٹ کا اعلان کر دیا.

    حکومت محض ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے سنبھالی،گورنر پنجاب

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ لیا، سابق حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھا، 4 سال میں 20 ہزار ارب قرض لیا جس سے ملک کو معاشی نقصان ہوا۔ عمران حکومت نے بجلی منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ ان کے دور میں ٹیکس کولیکشن میں کمی ہوئی، معیشت کے تمام شعبوں کو تباہ کیا گیا۔ عمران خان بتائیں انہوں نے کیا معاشی اصلاحات کیں۔

     

    عمران خان نے پاکستان دشمن لابی سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی،احسن اقبال

     

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ کوشش ہے کرنٹ اکاونٹ خسارہ ایک سال میں سرپلس کر دیں۔ مقامی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ درآمدات پر پابندیاں مرحلہ وار ختم کریں گے۔ شاہد خاقان عباسی نےایل این جی کے سستے ٹرمینل لگائے۔ الیکشن کمیشن سے اپیل ہے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے۔ آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،آج تک یہ نہیں بتایا گیا نواز شریف نے کرپشن کہاں کی،آپ نےنواز شریف کو سیاست سے ہٹانے کی بہت کوشش کی.

    ان کا کہنا تھا کہ آج سے 100 ڈیڑھ سو یونٹس کم استعمال کر رہے ہیں ان کے ٹیکس کم کر دیں گے،نواز شریف نے جب لندن میں اپارٹمنٹ لیے تھے، اس سال ان کی کمپنی نے 4 سو کروڑ کمائے تھے،جج ارشد ملک نے تو غلط فیصلہ کیا ،حیرت ہے سپریم کورٹ نے فیصلہ واپس نہیں کیا، آپ نے پچاس لاکھ گھروں میں سے کتنے گھر بنائے، مجھے دکھائیں،آپ کے پاس 9 ارب ڈالر ہیں،آپ نے 21 ارب ڈالر دنیا کے دینے ہیں،ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں 10لاکھ کو بھی دی،پھر بھی ہمیں چور اور غدار کہتے ہیں، شرم نہیں آتی جھوٹ بولتے ہوئے،ہم نے وقت ضائع نہیں کیا، چلے سوچا جو بھی ہو بات کریں گے، تھوڑی سی ایمنسٹی دے دی کہا کیا فرق پڑتا ہے، فرق پڑتا ہے خان صاحب، کہتے ہیں تھوڑا سا معاہدہ توڑ دیا تو کیا فرق پڑتا ہے، عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے وعدے توڑے،20فیصد گیس چوری ہوتی تھی یا ہوا میں اڑادی گئی کسی کو پتا ہی نہیں چلا.

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملکی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا،پی ٹی آئی نے 70 سال کے قرضے کے مقابلے میں 80 فیصد قرضہ لے لیا،جولائی میں ادائیگی کرنی تھی اس لیے رواں ماہ زیادہ دباو تھا،جون میں 3.8 بلین کی پیٹرولیم مصنوعات خریدی تھیں،ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے،جولائی میں درآمدات بہت کم ہے، اگست سے یہ دباو ختم ہوجائے گا،اس ماہ ہمیں اسٹیٹ بنک کو 800 ملین ڈالر زیادہ دینے پڑے جو خسارہ ہوا،خان صاحب نے آئی ایم ایف سے وعدہ توڑا تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا،اگلے ماہ سے برآمدات کو بڑھانے کی کوشش کریں گے.انہوں نے کہا کہ اس مہینے 5 ملین ڈالرز کی درآمدات ہوئی ہیں، جون میں 3.8 بلین کی پیٹرولیم مصنوعات خریدیں، درآمدات میں کمی کے باعث روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے۔

  • معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا،مفتاح اسماعیل

    معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا اور اور آئندہ چند ہفتوں میں قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر قابو پالیا جائے گا، اگلے ہفتے روپیہ پر دبائو کم ہو جائے گا ۔انہوں نے یہ بات ریڈیوپاکستان سے خصوصی گفتگو میں ہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ بہتر فیصلہ سازی کے نتیجے میں رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ معاشی اہداف حاصل کر لیے جائیں گے۔

    شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    وزیر خزانہ نے کہاکہ مغرب میں بڑھتی ہوئی کساد بازاری کے پیش نظر برآمدات میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے اوراسی تناظرمیں ہمیں اپنی برآمدات کو بڑھانے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی ، معیشت کے اہم برآمدی شعبے کو سہارا دینے کے لیے صنعتی فیڈرز پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے۔

    وزیر خزانہ نے بعض حلقوں کی جانب سے پیدا کیے گئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حالیہ مہینوں میں ملک کی ترسیلات، برآمدات اور ٹیکس وصولی میں کمی ہوئی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ مئی اورجون میں میں ریکارڈ ترسیلات ہوئیں جب کہ ایف بی آر نے بھی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران محصولات میں 35 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے،

     

    گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کیلئے نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال

     

    ایف بی آر 7500 ارب روپے جمع کرے گا جبکہ 800ارب روپے لیوی کے طور پر جمع ہوں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے معیشت کے پیداواری شعبوں بشمول زراعت، صنعتوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کومعاونت فراہم کررہی ہے ، بیجوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات پر ٹیکس ایک فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    روپے کی قدر میں کمی بارے سوال پر وزیر خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگلے ہفتے روپیہ پر دبائو کم ہو جائے گا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدات کو کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے،پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں کھڑا ہے جہاں اس کی نئی درآمدات برآمدات اور ترسیلات زر سے کم ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ مالی سال میں اسی ارب ڈالر کی درآمدات اور31ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 24 اگست کو آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط اگلے ماہ کے آخر تک ملنے کی امید ہے۔ دوست ممالک سے چار سے پانچ ارب ڈالر کی امداد بھی متوقع ہے،ایک دوست ملک ملک میں فوری سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے،وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

    تیل اور گیس کی موخر ادائیگی سے متعلق معاملات بھی دوست ممالک کے ساتھ ایک ہفتے میں طے کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے شعبہ میں بہتری لانے کے لیے جامع اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پچھلی حکومت نے نہ تو بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی سرمایہ کاری کی اور نہ ہی بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو بروقت مکمل کیا،پی ٹی آئی کی حکومت نے سستے ایندھن کے طویل المعیادمعاہدے نہیں کیے جس کے نتیجے میں ہمیں ان پاور پلانٹس کو آپریشنل کرنا پڑا جو مہنگے فرنس آئل پر چلتے ہیں۔

    مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کو درپیش مشکلات کے بارے میں پوچھے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ سستا پٹرول اور سستا ڈیزل اسکیم کے تحت مستحق خاندانوں کو دو ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو نقد امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے صارفین کو اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ہی رہنا چاہئے۔ سلیم صافی

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ہی رہنا چاہئے۔ سلیم صافی

    وزیر خزانہ کی تبدیلی بارے سوال پر ملک کے نامور صحافی سلیم صافی نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ہی رہنا چاہئے کیونکہ ملکی معیشت کا معاملہ صرف وزارت معاش کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ اس میں سفارت کاری سمیت اور بھی بہت ساری چیزیں منسلک ہوتی ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ: سفارت کاری سمیت متعدد کرداروں کی کارکردگی کے ساتھ ہی وزارت خزانہ کے کردار کو اچھا یا برا بنایا جاتا ہے کیونکہ یہ ان تمام کی کارکردگی کے ساتھ منسلک ہے۔ لہذا تمام وزارتوں کے کردار اور کارکردگی کو ملا کر ہی وزیر خزانہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
    سلیم صافی سمجھتے ہیں کہ: اس ملک میں حکمرانی اور وزیر بننے کا حق صرف اسے ہونا چاہیے جو اس ملک میں رہے اور مشکلات برداشت کرے۔

    انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مفتاح اسماعیل جیل میں رہے اور سب کچھ برداشت کیا مگر پھر بھی اسی ملک میں رہے اسی طرح احسن اقبال، فواد حسن فواد، اور احمد چیمہ وغیرہ سب اسی ملک میں رہے اور سب کچھ برداشت کیا لیکن اسحاق ڈار کیونکہ لندن چلے گئے اور واپس نہ آئے کیا انہیں واپس  نہیں آنا چاہئے تھا۔ لہذا انہوں نے ایسا کیوں نہ کیا؟

    انہوں نے دعوی کیا: مفتاح اسماعیل کا سارا کاروبار اور سب کچھ اس ملک میں ہے لیکن اسحاق ڈار کے بیٹے دوبئی میں کاروبار کرتے ہیں۔ اور پھر جو شخص خود اپنا کاروبار باہر کرتا ہے اور اولاد بھی ہے مثلا ایک وزیر اپنی اولاد اور اپنے کاروبار کو پاکستان نہیں لاسکتا تو وہ دوسروں کو اس ملک میں سرمایہ پر کیسے آمادہ کرسکتے ہیں۔

  • پیسوں کی بہت ضرورت ہے، مفتاح اسماعیل ،کوئی جیب کاٹ لیں،شوکت ترین

    پیسوں کی بہت ضرورت ہے، مفتاح اسماعیل ،کوئی جیب کاٹ لیں،شوکت ترین

    سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خالی پلاٹ پر ٹیکس چھوٹ سے متعلق بتایا۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خالی پلاٹ پر تعمیرات شروع کر دی جائیں تو کوئی ٹیکس نہیں لیں گے، آپ پہلی اینٹ لگا دیں ٹیکس ختم کر دیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ جب تک زمین کا قبضہ اور تعمیر کی اجازت نہیں ملتی ٹیکس نہیں لیں گے، قبضہ ملنے اور تعمیرات شروع نہ کرنے پر ٹیکس لاگو ہوگا۔وزیر خزانہ نے خالی پلاٹ مخصوص مدت تک رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کمپنیاں سالانہ 30 کروڑ منافع پر 2 فیصد ٹیکس ادا کریں گی۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مفتاح اسماعیل اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ 30 کروڑ پر ٹیکس کی بجائے اس سے زائد آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے، جس کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بات تو ٹھیک ہے مگر کیا کروں پیسوں کی بہت ضرورت ہے۔ مفتاح اسماعیل کو جواب دیتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بات میں وزن ہے، مفتاح صاحب کوئی اور جیب کاٹ لیں، جس کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بالکل ابھی تو اور بھی جیبیں کاٹنی ہیں۔

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ جیولرز پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگایا جائے، ریٹیلرز پر بھی سیلز ٹیکس لگایا جائے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگلے سال 6.5 ارب ڈالرز کی پام آئل کی امپورٹ ہوگی، ہمارے پاس پام آئل کی درآمد کے لیے 6.5 ارب ڈالرز نہیں ہیں۔شوکت ترین نے کہا کہ خوردنی تیل پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگایا جا رہا ہے، بنولے پر ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

  • پوری امید ہے کہ  ایک آدھ دن میں آئی ایم ایف پروگرام بحال ہو جائے گا،مفتاح اسماعیل

    پوری امید ہے کہ ایک آدھ دن میں آئی ایم ایف پروگرام بحال ہو جائے گا،مفتاح اسماعیل

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی :صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجھے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کی پوری امید ہے، اگر صاحب ثروت لوگ ہیں تو ان پر ٹیکس لگے گا غریب طبقے کو ریلیف دیا جائے گا، آئی ایم ایف پروگرام کا تنخواہ بڑھانے سے کوئی تعلق نہیں ہےسالانہ 12 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس استثنیٰ برقرار رہے گا۔

    چند روز قبل اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ خواہش ہے ملک میں کسی کو بھی 2 ہزار وظیفے کی ضرورت نہ پڑے۔

    انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا گیا کیونکہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں۔ ایک ہزار 100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی اور 500 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا۔ 16 روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے لیکن یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں۔

    پاکستان کوپولیوسے پاک ملک دیکھناچاہتے ہیں،سلمان رفیق

    انہوں ںے کہا کہ رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی اور 30، 35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں لیکن اگر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے۔ ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے۔ 2 اعشاریہ 4 ارب کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔ پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، اس لیے ہمیں معیشت سنبھالنا ہو گی۔

    دوسری جانب سلیم مانڈوی والا کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا زیر صدارت اجلاس ہوا .کمیٹی اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین آمنے سامنے آئے دونوں کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا-

    اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ فارما سیوٹیکل کے ریفنڈ آئندہ 4 روز سے ادا کرنے شروع کر دیں گے، 4دنوں میں ریفنڈ کی سلسلہ شروع نہ ہو سکا تو آئندہ 2ماہ میں پیسے کلئیر کر دیں گے،گزشتہ مالی سال14 سے15 کلو گرام سونا قانونی طریقے سے پاکستان آیا-

    انہوں نے بتایا کہ 80ٹن سونا ملک میں اسمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے، ایسے جیولرزبھی ہیں جن کی یومیہ کروڑ روپے سے زائد کی آمدن ہوتی ہے،جب دکاندار سے پوچھا تو کہا روزانہ چار ہزار کی سیل ہوتی ہے-

    ملک بھر کےمندر وں اور گورودواروں کی اصل حالت میں بحالی کا فیصلہ

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ خالی پلاٹ پر تعمیرات شروع کر دی جائیں تو کوئی ٹیکس نہیں لیں گے آپ پہلی اینٹ لگا دیں ٹیکس ختم کر دیا جائے گا،قبضہ ملنے اور تعمیرات شروع نہ کرنے پر ٹیکس لاگو ہوگا۔

    وزیر خزانہ نے خالی پلاٹ مخصوص مدت تک رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ کمپنیاں سالانہ 30 کروڑ منافع پر 2 فیصد ٹیکس ادا کریں گی۔

    سینیٹ کمیٹی نے سفارش کی کہ 30 کروڑ پر ٹیکس کی بجائے 30 کروڑ سے زائد آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے اس پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بات تو ٹھیک ہے مگر کیا کریں پیسوں کی بہت ضرورت ہے۔

    اس پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین بولے کہ بات میں وزن ہے مفتاح صاحب کوئی اور جیب کاٹ لیں مفتاح اسماعیل نے جواب دیا بالکل ابھی تو اور بھی جیبیں کاٹنی ہیں۔

    خیبرپختونخوا سے آئے ینگ ٹیچرز نے بنی گالہ میں اسد عمر کی گاڑی روک لی

    اجلاس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 28 فیصد تک پہنچ چکی ہے،گریجوئیٹی اور پراویڈنٹ فنڈ پر ٹیکس نہ لگایا جائے،مہنگائی بہت جلد 35 فیصد ہو جائے گی،اوسط مہنگائی جلد نیچے نہیں آئے گی،ادویات سازی کرنے والی فیکٹری ہی جوس بنا رہی ہے،ادویات ساز میک اپ کا سامان بنارہے ہیں اور سیلز ٹیکس نہیں دیتے، اگر انہیں 17 کی بجائے کم سیلز ٹیکس لگائیں گے تو یہ ادا ہی نہیں کریں گے-

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پوری قوم کو فیٹف کی پیشرفت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں یہ کسی ایک شخص کی نہیں مشترکہ کامیابی ہے ،کچھ چیزوں میں قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے،ہم نے آئین سے متصادم اشیاء پر اعتراض کیاتھا،اس پرپوری قوم کو کریڈیٹ دیتے ہیں ،یہ کسی ادارے ،افسر یا جماعت کا کریڈٹ نہیں-

  • مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا گیا ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں،1100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی ،500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ،16روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے،یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں،رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی، 30 ،35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں،ا گر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے ،ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی ترسیلی نقصانات بہت زیادہ ہیں ان پرکام نہیں ہو رہا ہے ،ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے 2 اعشاریہ 4 بلین کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں،پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، ہمیں معیشت سنبھالنا ہوگی،فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا،عمران خان نے پورے ملک کے ساتھ ٹوپی گھمائی ہے،اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ،ہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے،ہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پیٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جا رہے،اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں،گیس اورپاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے،ہماری معیشت اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ کوشش کی کہ امیر لوگوں کا حصہ ملک کو مشکل سے نکالنے میں استعمال کریں ،خوردنی تیل کا مسئلہ ہے، وزیر اعظم نے انڈونیشیا کے صدر سے بات کی ،پرسنل انکم ٹیکس کم کرنے کی کوشش کی ہے، انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کو فکس کر کے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے آئندہ 15دن میں اسمبلی اور سینیٹ میں تقاریرہوں گی،بجٹ میں آئندہ 15دن میں کچھ چھوٹی تبدیلیاں ہوں گی، عوام کے پیسوں سے ملک چلتا ہے،بجٹ سے متعلق ہر بات مکمل لکھی ہے،انکم ٹیکساورسیلز ٹیکس کو فکس کر کے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے،ہم نے35 اور40 فیصد بجٹ بڑھایا ہے پام آئل مہنگا ہوگیا اس پرہم سبسڈی دیں گے نہیں لگتا کہ عالمی مارکیٹ میں یل کی قیمتیں کم ہونگی ،25ہزار دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں گے دکانداروں پر معمولی ٹیکس عائد کررہے ہیں،ٹیکس لیکیجز پر کمیٹی بنار ہے ہیں،کسٹم کے کچھ سکینرز لگائے ہیں تا کہ لیکج کم سے کم ہو،بجٹ میں ہر جگہ کٹ لگانے کی کوشش کی فوج کا بجٹ بھی تحریری طور پر موجود ہے، کوئی چیز چھپا نہیں رہے پی ڈی ایل کا ٹیکس لگے گا تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا،ای او بی آئی کے معاملے کو ابھی دیکھا نہیں بعد میں دیکھیں گے،فاٹا کے اوپر ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا فاٹا کے آوٹ اسٹینڈنگز ہیں جن پر کام کررہے ہیں،نجکاری کمیشن کی جانب سے جن کمپنیوں کو ریڈی فار سیل رکھا گیا وہ کام مکمل ہوگا کمپنیوں کو نجکاری کی طرف لے جانا وزیراعظم کا عز م ہے کسی وزیراعظم نے اتناقرضہ نہیں لیا جتنا عمران خان نے اپنے دورمیں لیا،عالمی سطح پر معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے میں نااہلی بھی شامل تھی اس وقت تحائف رشوت کے طور پر دیئے جاتے تھے سب ہمارے سامنے ہیں ہماری ترجیح گزشتہ حکومت پرکیسزبنانا نہیں ،معیشت ٹھیک کرنا ہے ،خواہش ہے ملک میں کسی کوبھی 2 ہزاروظیفے کی ضرورت نہ پڑے امید ہے صوبوں کےوزرائےاعلیٰ سستا آٹا اور چینی فراہم کرنے پر غور کریں گے،این ایف سی ایوارڈ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں افسوس ہے کہ این ایف سی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہیں آئے ملک میں 37 فیصد لوگ ماہانہ 40 ہزار سے کم کماتے ہیں،عمران خان ہمیں جیل میں بند کرنے کے علاوہ کام کرتے توبجلی کا بحران نہ ہوتا،بجٹ ڈالر کے کس ریٹ پر بنا ہے اس کا جواب نہیں دونگا،ہم کسی پارلیمینٹرین کے لیے کوارٹر نہیں بنا رہے ہیں،

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے،وزیر خزانہ

    ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا،چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے،وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب بھی شرح نمو بڑھتی ہے،کھاتوں کے جاری خسارے میں پھنس جاتے ہیں،

    مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراکی تقریب ہوئی اس موقع پر وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، وزیرتوانائی خرم دستگیر، وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال،وزیرمملکت عائشہ غوث پاشا بھی موجود تھے ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ جاری کھاتوں کا خسارہ آپے سے باہر ہوگیا ہے درآمدات پچھلے سال کے حساب سے 48 فیصد بڑھی ہے،درآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 48 فیصد اضافہ ہوا ،برآمدات 28 فیصد بڑھی ،ہمیں 60 فیصد قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،5 اعشاریہ6 بلین ڈالرزرمبادلہ کم ہوا، معیشت کی سمت کو سدھارنے کی ضروت ہے،عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے تیل مہنگا کرنا پڑا،مشکل فیصلے لینے پڑے، اب ہم استحکام کے راستے پر آ گئے ہیں،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے،تجارتی خسارہ 45 بلین ڈالر تک پہنچ گیا،ہمیں زیادہ اس طرف جانا ہے جہاں سے برآمدات میں اضافہ ہو سکے،

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں تمام صنعتوں کو گیس دے رہے ہیں جب غریب کو مراعات دیں گے وہ گروتھ انکلوسیو تو ہوگی لیکن مستحکم نہیں ہوگی چین سے 2.4 ارب ڈالر کچھ دنوں تک مل جائیں گے، اگر سابق حکومت جھوٹ کا بیانیہ چھوڑ دیتی، تو شاید اس وقت اتنی مہنگائی نہیں ہوتی حکومت کوئی طویل المدتی سودے نہیں کر رہی ،شیخ رشید خود کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب نے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں،بارودی سرنگیں کسی سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے تھیں، برآمدات 28 فیصد بڑھی،

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اکنامک سروے کو اوریجنل بیس پر لے جائیں گے تو منظر بدل جائے گا، سروے کی بڑی ہٹ میرے شعبے نے دی ہے،ہماری معیشت میں پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ سے پرائیویٹ سیکٹر چلتی ہے،پاکستان کا دفاعی اورترقیاتی بجٹ ایک ایک ہزار ارب تھا، ہمارے دور میں دونوں شعبے ملک کو ہم پلہ ہو کر مضبوط کر رہے تھے،2013میں ملک بجلی نہیں تھی ، بد امنی تھی،مسلم لیگ ن نے لوڈ شیڈنگ ختم کردی اور امن و امان کو بحال کیا،کوئی حکومت نہیں چاہتی وہ 60روپے تیل کی قیمت اضافہ کریں ،کوئی حکومت اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی،سابق حکومت عوام کے ساتھ دھوکہ کر کے گئی ہے،

    اگلے مالی سال کا بجٹ 10جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

  • جب بھی تھوڑی سی گروتھ ہوتی ہے ہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنس جاتے ہیں،مفتاح اسماعیل

    جب بھی تھوڑی سی گروتھ ہوتی ہے ہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنس جاتے ہیں،مفتاح اسماعیل

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب بھی تھوڑی سی گروتھ ہوتی ہے ہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنس جاتے ہیں، ملک کا تجارتی خسارہ 45ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، اس سال ہماری درآمدات 76 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ سخت فیصلوں کے نتیجے میں ملک دیوالیہ ہونے سے بچ کر استحکام کے رستے پر گامزن ہوا ہے.اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیر منگل تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 12 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گےجبکہ چین سے 2.4 ارب ڈالر ہمیں دو تین روز میں مل جائیں گے،حکومت نے مشکل وقت میں سخت فیصلے کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان فوری ڈیفالٹ کے خطرات سے نکل آیا.

    وزیر خزانہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے جاتے جاتے سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے قیمت خرید سے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی۔ انہوں نے چیک لکھ دیا تھا جسے مارکیٹ میں لے کرگئے تو پیسے نہیں تھے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ شرح نمو 5.97 فیصد ہوگئی لیکن کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ آپے سے باہر ہوگیا ہے۔ برآمدات سمیت درآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔ تجارتی خسارہ 45 ارب ڈالر کا ہوگیا ہے اور برآمدات درآمدات کا 40 فیصد ہے، جس کی وجہ سے ہمارا ملک کو بیلنس آف پیمنٹ بحران کا سامنا رہا۔ آئیندہ ہفتے چین سے 2.5 ارب ڈالر کی رقم آنی گی جس سے مالی ذخائر میں اضافہ ہوگا، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہمیں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

    انہوں نے کہا کہ پائیدار شرح نمو ہوگی جس میں جاری خسارہ اور بیلنس آف پیمنٹ کا مسئلہ نہ ہو، ملک میں توانائی بہت مہنگی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے یہاں کچھ عرصے کے لیے انڈسٹری بند بھی ہوجاتی ہے۔ پچھلی حکومت نے کچھ عرصہ انڈسٹری کو گیس کی سپلائی بند کی، جس کی وجہ سے انڈسٹری بند ہوگئی۔ موجودہ حکومت نے اب وہ تمام انڈسٹری کھول دی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ طویل المعیاد سودے کیے جائیں گے۔

  • پاکستان مشکل حالات میں ملا، بہتر چھوڑ کر جائیں گے، مفتاح اسماعیل

    پاکستان مشکل حالات میں ملا، بہتر چھوڑ کر جائیں گے، مفتاح اسماعیل

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ عمران خان، شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے وعدے کے برعکس تیل پر سبسڈی دی۔ ہم پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف سے کیے معاہدے پر چلتے تو پیٹرول 300 روپے لیٹر ہوتا۔

    اسلام آباد میں بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 18 سے 20 لاکھ افراد لیبر مارکیٹ جوائن کرتے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ کسی وزیراعظم کے لیے اس طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا آسان نہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ عمران خان فروری میں روس گئے، گندم اور گیس پر بات ہوئی، تیل کا کہیں ذکر نہیں تھا، حماد اظہر نے 30 مارچ کو تیل کے لیے روس کو خط لکھا، جواب نہیں آیا۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کس نے روکا تھا روس سے سستا تیل لینے سے،انہوں نے کہا کہ امید ہے بہت جلد ہمارا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوجائے گا۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کبھی گیس نہیں ملتی، کبھی پاور نہیں ملتا، پاور سیکٹر میں 1072 ارب روپے سبسڈی دی ہے، 500 ارب روپے سرکلر ڈیٹ میں گئے ہیں۔
    انہوں نے بتایا کہ 1600 ارب روپے کا خسارہ پاور سیکٹر کا ہے، ایس این جی پی ایل 200 ارب روپے کا نقصان کرچکی ہے، ہمیں 21 ارب ڈالر دوسرے ممالک کے واپس کرنے ہیں، 12 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوگا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو ذمہ داری ملے 2 مہینے ہوئے ہیں، ہم نے بہت سے سخت فیصلے کئے ہیں۔ ہم گندم برآمد کر رہے تھے اس سال درآمد کریں گے، پچھلی حکومت نے چینی 48 روپے کی برآمد کرکے 96 روپے کی درآمد کی،وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں مشکل حالات میں پاکستان ملا ہے اور بہتر حالات میں چھوڑ کر جائیں گے۔

  • غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس منجمد کرنےکی خبروں پر وزیر خزانہ کا ردعمل آ گیا

    غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس منجمد کرنےکی خبروں پر وزیر خزانہ کا ردعمل آ گیا

    غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس منجمد کرنے کی خبروں پر وزیر خزانہ کا ردعمل آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس منجمد کرنے کا قطعی طور پر کوئی منصوبہ نہیں ہے،

    مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس یا لوگوں کے پرائیویٹ لاکرز پرقبضہ کرنےکا بھی کوئی منصوبہ نہیں ،ہم نے کبھی ان اقدامات پر غور بھی نہیں کیا اورنہ ہی ہم کبھی ایسا کریں گے،اس بارے میں سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں غلط ہیں اور متعصب حلقوں سے آرہی ہیں،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم سرکاری اخراجات بچانے کے لیے کفایت شعاری مہم کا اعلان کریں گے، ملک میں مالیاتی ایمرجنسی کا کوئی اعلان نہیں کیا جائے گااور نہ ہی کوئی مالی ایمرجنسی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں دو بار اضافے کے بعد ہم مالی بحران سے نکل چکے ہیں، عمران خان حکومت 6 فیصد گروتھ چھوڑ کر گئ جسکی وجہ سے آئی ایم ایف ہم پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ پاکستان کی گروتھ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اس لیے اسکو روکو اور شرح سود بڑھاؤ ،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی میں تو اپنی تنخواہیں بھی چھوڑنے کو تیار نہیں اسمبلیوں میں آنہیں رہے لیکن تنخواہیں پوری وصول کر رہے آئی ایم ایف سے پٹرولیم مصنوعات مہنگا کرنے کا معاہدہ بھی عمران حکومت نے ہی کیا اگلے سال 21 ارب ڈالرز قرضے کی مد میں واپس کرنے ہیں

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا