Baaghi TV

Tag: مفتاح اسمٰعیل

  • اس سال شاید چاول کی ایکسپورٹ پہلے جیسی نہ ہو: مفتاح اسماعیل

    اس سال شاید چاول کی ایکسپورٹ پہلے جیسی نہ ہو: مفتاح اسماعیل

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ سندھ میں چاول اور دیگر فصلیں خراب ہوگئیں اس سال شاید چاول کی ایکسپورٹ اس طرح نہ ہوجیسے پہلے ہوتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب اور فصلیں خراب ہونے سے امپورٹ بڑھا ہے، سیلاب سے لوگ بہت متاثر ہوئے ہیں، سیلاب کی وجہ سے غریب لوگوں پر خرچ کررہے ہیں۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ (این ڈی ایم اے) کو مزید 5 بلین ڈالرز جاری کیے جائیں، سیلاب متاثرین کی جتنی مدد کرسکتے ہیں ضرور کریں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) سے پاکستان کو رواں ماہ ہی ڈیڑھ بلین ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ قطر، پاکستان میں ایل این جی پلانٹس اور سولر کے شعبوں سمیت اسٹاک ایکسچینج میں تین بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈالر جو 213 سے اوپر گیا ہے اس میں کچھ سیاسی وجوہات بھی ہیں، ڈالر نیچے آئے گا اور آجائے تو اچھا ہے ہم مداخلت نہیں کریں گے۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ بجلی اکتوبر تک سستی ہوجائے گی، بجلی کے 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کیلئے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) ختم کیا گیا ہے، ایف پی اے اگست میں اور نہ ہی ستمبر میں لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی ایف پی اے نہیں لیا جا رہا لیکن آگے لیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی کابینہ عمران خان کی تھی لیکن میں ستر لوگوں کی کابینہ کا دفاع نہیں کروں گا، بطور وفاقی وزیر میں تو تنخواہ نہیں لے رہا۔

  • پاکستان میں مہنگائی ابھی عروج پر نہیں پہنچی : مفتاح اسمٰعیل

    پاکستان میں مہنگائی ابھی عروج پر نہیں پہنچی : مفتاح اسمٰعیل

    اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک بار پھر ملک میں مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مہنگائی اپنے عروج کے قریب ہے۔

     

     

    امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا رواں مالی سال معیشت کی شرح نمو 3.5 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔

     

     

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ مہنگائی ملکی تاریخ میں 47 سال کی بلندترین سطح پر چل رہی ہے، مہنگائی اپنے عروج کے قریب ہے اور رواں مالی سال مہنگائی اوسطاً 15 فیصد رہے گی ,وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں درآمدی ادائیگیوں کو ڈالر کی آمد کے برابر ہونا چاہیے لیکن اگر میرے پاس ڈالر محدود ہیں تو میں اس سے گندم اور کھانے کی چیزیں خریدوں گا۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہم لگژری آئٹمز کی خریداری کو مؤخر کر سکتے ہیں، لگژری آئٹمز کی درآمدات پر پابندیاں 3 ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔

     

     

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا میں چاہتا ہوں کہ پاکستان اپنے وسائل میں رہ کر گزارا کرے، ایک سال میں کچھ نہیں ہو سکتا لیکن ہم اس کی شروعات کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے رواں برس پاکستان میں مہنگائی کی شرح 20 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کی منظوری

    لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کی منظوری

    اسلام آباد:اقتصادی رابطہ کميٹی نے لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کی منظوری دے دی۔اطلاعات کے مطابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کميٹی اجلاس میں گاڑیوں، موبائل فونز اور ہوم ایمپلائنسز سمیت 860 لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی ہٹانے کی منطوری دے دی گئی۔

     

    لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کررہے. مفتاح اسماعیل

    اجلاس میں 30 جون سے 31 جولائی کے درمیان آنے والا سامان جاری کرنے کی سفارش کی گئی۔ وفاقی حکومت نے 19 مئی کو 3 ماہ کیلئے مذکورہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی۔

     

    ملکی معیشت کی بہتری کیلئے پُرتعیش اشیاء کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے:مفتاح اسمٰعیل

    دوسری جانب کمیٹی کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز کو 3 لاکھ ٹن گندم کی فراہمی سے متعلق سمری کی منظوری مؤخرکردی گئی۔ متعلقہ حکام کو چارجز سمیت اخراجات کا جائزہ لے کر سمری دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

     

     

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر مصالحہ جات سمیت کئی اشیاء کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    اجلاس میں نئے ایل این جی ٹرمینلز کو بعض قوانین سے استثنٰی کی منظوری دیدی گئی، ایل این جی پالیسی 2011 میں ترمیم کی جائے گی۔

  • حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کےلیےسازگارماحول فراہم کرنےکےلیےپرعزم ہے:مفتاح اسمٰعیل

    حکومت غیرملکی سرمایہ کاری کےلیےسازگارماحول فراہم کرنےکےلیےپرعزم ہے:مفتاح اسمٰعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مفتاح اسماعیل سے امریکی محکمہ خارجہ کے تجارتی اور کاروباری امور کے خصوصی نمائندے دلاور سید کی سربراہی میں وفد کی ملاقات ہوئی، امریکی اقتصادی اور تجارتی امور کے حکام سمیت امریکی سفارتخانے کے سینئر افسران اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

    وزیر خزانہ نے وفد کو موجودہ حکومت کو درپیش معاشی چیلنجز سے آگاہ کیا، انہوں نے ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت کی پالیسیوں اور اصلاحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات کا مقصد جی ڈی پی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملکی برآمدات بڑھانا ہے، موجودہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے مزید سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات کے فروغ بالخصوو آٹو موبائل اور دیگر برآمدات کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

    امریکی وفد نے ہوا، قابل تجدید توانائی، ٹیکسٹائل اور زرعی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں اپنی دلچسپی ظاہر کی، وفد نے عندیہ دیا کہ ڈی ایف سی ونڈ پاور پراجیکٹس کے پاور پرچیز ایگریمنٹس پر نظر ثانی کرے گا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ حکومت توانائی، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

  • آنیوالے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی: مفتاح اسماعیل

    آنیوالے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی: مفتاح اسماعیل

    لاہور:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی شبہ نہیں آنیوالے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی، حکومت ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے کوشاں ہے، مشکل وقت میں امیر طبقے پر ٹیکس لگایا گیا ہے، سپر ٹیکس کے نفاذ کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، چار سے پانچ ماہ میں حالات بہتر ہوجائیں گے،اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ بھی وقتی ہے، اسی ماہ انڈیکس اوپر جائے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد چیزیں بہترہوجائیں گی۔

    ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایگری کلچر انکم پر ٹیکس ہونا چاہیے، پٹرول، ڈیزل پر ایک روپیہ ٹیکس نہیں لے رہے، 120 ارب روپے پٹرول پر نقصان ہو رہا تھا، چند مخصوص کمپنیوں نے پچھلے سالوں میں بہت پیسے کمائے، کار، سگریٹ انڈسٹریز نے بہت پیسہ کمایا ہے، جیولرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، ہم اپنے ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے، بجٹ خسارے کو کم کرنا ہے، ہم نے امیر طبقے پر ٹیکس لگایا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ریٹیلرز کو فکس ٹیکس پر لائیں گے، کیپسٹی کے حساب سے فکس ٹیکس لگائیں گے، دکاندار کو فارم بھرتے ہوئے بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، فکس ٹیکس سے دکانداروں کو آسانی ہوگی، اگر حقیقی خودمختاری چاہتے ہیں تو ہر جگہ جھولی پھیلانے کے بجائے اپنے لوگوں سے ٹیکس لینا چاہیے، پاکستان کے لاکھوں لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں، شہباز شریف کے بیٹوں اور میری فیکٹری کا بھی ٹیکس بڑھا ہے، مشکل وقت ہے ہم نے امیر طبقے پر ٹیکس لگایا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگلے دو، تین ماہ میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا، ہم نے انکم پر ٹیکس لگایا ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیں، چار سے پانچ ماہ تک حالات بہتر ہوجائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف اور میرے اپنے کاروبار پرٹیکس لگا ہے، فیکٹریز کو گیس کی فراہمی 24 گھنٹے یقینی بنائیں گے، ہماری ترجیح ایکسپورٹ بڑھانا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج چین نے 3۔2 ارب ڈالر دیئے ہیں، جولائی کے آخر تک کرنسی پر پریشر ختم ہوجائے گا، آج اسٹاک مارکیٹ گری ہے، یہ وقتی ہے، اسی ماہ کے اندر اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے گی، سپر ٹیکس لگانے کے علاوہ چارہ نہیں تھا، آئی ایم ایف معاہدے کے بعد چیزیں بہتر ہوجائیں گی، مشکل فیصلوں سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے، ایک سال کے لیے صاحب ثروت لوگوں کو قربانی دینا ہوگی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے آج بڑی صنعتوں پر دس فیصد کے حساب سے ’سپر ٹیکس‘ لگانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس اقدام سے اکٹھے ہونے والے پیسوں کو ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    مہنگائی کا ایسا طوفان آنے والا ہے جو برداشت سے باہر ہوگا،بابر اعوان

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’سپر ٹیکس‘ کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپر ٹیکس چار فیصد کے حساب سے تمام شعبوں پر لگے گا جبکہ 13 صنعتی شعبوں پر چھ فیصد کے حساب سے اضافہ کر کے ان سے دس فیصد کی شرح سے یہ سپر ٹیکس وصول کیا جائے گا جس کے بعد ان پر ٹیکس وصولی کی شرح 29 فیصد سے 39 فیصد ہو جائے گی۔‘

    سپر ٹیکس کیا ہے؟
    حکومت کی جانب سے بڑے صعنتی شعبوں پر سپر ٹیکس لگانے کے اعلان کے بعد یہ سوالات اٹھنے شروع ہوگئے کہ کیا ہے یہ ہی کہا جارہا ہے کہ ’سپر ٹیکس لگ سکتا ہے تاہم ٹیکس لگاتے ہوئے اس کا مقصد بیان نہیں کیا جاتا۔‘

    مہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

    ’اس سپر ٹیکس کو لگاتے ہوئے حکومت نے اس کا مقصد بیان کر دیا ہے کہ اس سے اکٹھے ہونے والے پیسے کو غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جائیں گے، جو غلط ہے۔‘جب کسی ٹیکس کو لگانے کا مقصد بیان کر دیا جائے تو وہ لیوی ہوتی ہے اور اس کی منظوری پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے حاصل کی جاتی ہے۔‘

    وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے دس فیصد کی شرح سے سپر ٹیکس 13 صعنتی شعبوں پر لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ان شعبوں میں سیمنٹ، بینکنگ، ایوی ایشن انڈسٹری، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل، شوگر، بیوریج، سٹیل، تیل و گیس، فرٹیلائزر، سگریٹ، کیمیکل کے شعبے کی انڈسٹریاں شامل ہیں جنھیں دس فیصد کے حساب سے یہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

    پاکستان میں ان شعبوں کے علاوہ دوسرے صعنتی شعبے چار فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور درج بالا پر چار فیصد شرح میں چھ فیصد کی شرح سے اضافہ کر کے ان پر سپر ٹیکس کی صورت میں دس فیصد ٹیکس کی شرح کر دی گئی ہے۔

    پاکستان فیڈریشن آف چمبرز آف کامرس اور انڈسٹری کے قائم مقام صدر شبیر منشا نے سپر ٹیکس کے فیصلے کو صنعتی شعبے کے لیے ’تباہ کن‘ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ سپر ٹیکس کی زد میں آنے والے شعبوں کی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس لگنے کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ جمعے کے روز کریش کر گئی کیونکہ ان کمپنیوں میں سے بڑی تعداد سٹاک مارکیٹ پر لسٹڈ ہیں۔

    آئیں ہم سب ملکرمہنگائی کے خلاف مارچ کریں:عثمان ڈارکی بلاول اورمریم کودعوت

     

     

  • آئندہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کو 41 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی:مفتاح اسمٰعیل

    آئندہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کو 41 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی:مفتاح اسمٰعیل

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ آئندہ 12 ماہ کے دوران ملک کو 41 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی اور یقین ہے کہ حکومت اس ضرورت کو پورا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔اسلام آباد میں بزنس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ جب میں نے وزیر خزانہ بننے سے قبل بریفنگ لی تھی اس وقت ہمارا بجٹ خسارہ 5 ہزار 600 ارب روپے تھا جسے ہم کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    شوکت ترین کا مفتاح اسمٰعیل کوجواب اہمیت اختیارکرگیا

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے 5 سال میں اوسطاً خسارہ ایک ہزار 600 تھا، اگلے سال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں جو خسارہ آیا وہ جی ڈی پی کا 9.1 فیصد ہے، آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے میں یہ کہا گیا تھا کہ ہم پرائمری خسارہ 25 ارب روپے کا کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم آئے تو ہمیں یہ بتایا گیا کہ متوقع خسارہ ایک ہزار 332 ارب روپے ہے، اس خسارے کی وجہ سےقرضوں میں اضافہ ہوا، مسلم لیگ (ن) کے دور میں اوسطاً قرضہ 2 ہزار 132 ارب قرض تھا، جبکہ پی ٹی آئی نے 5 ہزار 170 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے۔

    مفتاح اسمٰعیل کا شکوہ اورحماد اظہرکا جواب شکوہ:الزمات کے موقع پرہی جوابات

    مالی سال 2022-2023 کا وفاقی بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔اس ضمن میں جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ میں ٹیکس آمدن کا ہدف 7225 ارب روپے جب کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 700 سے 900 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ حکومت عوام اور کاروبار دوست بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    صدر ایف پی سی سی آئی سے ملاقات کے موقع پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام موجودہ حکومت کی اولین فکر ہے، حکومت مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے کی راہ پر گامزن ہے.

    مفتاح اسمٰعیل کی امریکہ میں وائرل ہونے والی ویڈیواہمیت اختیارکرگئی

    مزید برآں صدر ایف پی سی سی آئی نے وفاقی بجٹ 2022-23 کے لیے تجاویز پیش کیں اور وزیر خزانہ کو تاجر برادری کو درپیش ٹیکس سے متعلق مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور معیشت کی بہتری کیلئے ایف پی سی سی آئی کے اراکین کی بجٹ تجاویز کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام اور کاروبار دوست بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

  • پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں، اسد عمر

    پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں، اسد عمر

    اسلام آباد:پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں،اطلاعات کے مطابق سابق وفاقی وزیراور پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔

    رہنما پی ٹی آئی اسد عمر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے لوگ اندھے ،بہرے اور گونگے نہیں ہیں، ن لیگ کے اکثر لیڈر اور کارکن بھی جلد الیکشن چاہتے ہیں۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے تنزلی کی طرف جارہی ہے، فوری الیکشن کے علاوہ کسی کے پاس کوئی حل ہے تو پیش کرے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں جبکہ عمران خان نے ایک خطرے اور اندیشے کا اظہار کیا ہے، عمران خان نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے طوفان برپا ہو۔رہنما پی ٹی آئی اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی پروگرام پاکستان کیلئے ڈھال ہے، عالمی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ ایک مسلمان ملک ایٹمی طاقت ہو۔

    دوسری جانب رہنما پی ٹی آئی اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آج پریس کانفرنس میں پاکستان کا وزیر خزانہ نہیں، غلامی کی تصویر نظر آئی۔

    رہنما پی ٹی آئی اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ جو مفتاح اسماعیل کہتا تھا ہم ایک روپیہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھانے دیں گے، اس نے ایک ہفتے میں 60 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی۔جو مفتاح اسماعیل کہتا تھا ہم ایک روپیہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھانے دیں گے، اس نے ایک ہفتے میں 60 روپے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی.

  • مفتاح اسمٰعیل کا شکوہ اورحماد اظہرکا جواب شکوہ:الزمات کے موقع پرہی جوابات

    مفتاح اسمٰعیل کا شکوہ اورحماد اظہرکا جواب شکوہ:الزمات کے موقع پرہی جوابات

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے حوالے سے ابہام پیدا کیا، مفتاح اسماعیل کو آٹے کے بھاؤ کا بھی علم نہیں، امپورٹڈ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے آئی ایم ایف کے پیچھے نہ چھپے، قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

    مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں حماد اظہر نے کہا کہ انہوں نے رمضان میں لوگوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے گزارا، ہمارے دور حکومت میں کبھی بھی اس طرح لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی، انہوں نے امپورٹڈ ایندھن پر پاور پلانٹ لگائے، 27 ڈالر پر انہوں نے تاریخ کے مہنگے ایل این جی کے معاہدے کیے

    اپنی پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ روس کے ساتھ بطور وزیر تیل کے معاہدے کرلیے تھے، مجھے پتہ ہے امپورٹڈ حکومت روس سے معاہدے نہیں کریگی، 2 ایل این جی کے سودے جو (ن) لیگ کی حکومت کر کے گئی تھی وہ ڈیفالٹ کر گئے۔

    حماد اظہر نے کہا ہے کہ یہ وہی حکومت ہے جو آج سے 2 ماہ پہلے مہنگائی مارچ کر رہی تھی، وزیر خزانہ کو یہ نہیں پتہ کہ آٹے کی قیمت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ سبز بیگ سستے آٹے کی سکیم کا اجراء تو ہم نے کیا تھا، وزیرخزانہ نے گزشتہ روز سیاسی پریس کانفرنس کی، قوم کو بتا دیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے یا نہیں، یہ یوٹیلٹی سٹورز پر جتنی قیمتیں بتا رہے ہیں ہماری حکومت نے مقرر کیں، ہماری حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز کو فعال کیا، یہ ہمارے ہی کھاتے سے چیزیں ہمیں نہ گنوائیں، 32 دن کا ڈیزل کا اسٹاک میں چھوڑ کر گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے آئی ایم ایف کے پیچھے نہ چھپیں، ہماری حکومت نے سستے تیل کے لیے روس سے مذاکرات شروع کیے تھے، یہ روس سے سستا تیل نہیں خریدیں گے ان کی ٹانگیں کانپیں گی، امپورٹڈ حکومت سے معیشت سنبھالی نہیں جا رہی، وزیرخزانہ عجیب باتیں کر رہے ہیں، خود ساختہ ڈیزل کا بحران کھڑا کر دیا گیا ہے، کسان آج ڈیزل کے لیے پریشان ہو رہے ہیں، آئی ایم ایف کو پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا اختیار نہیں دیا گیا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پہلے ہی ماہ مہنگائی میں 10 فیصد اضافہ ہوا، مہنگائی کی شرح 13 فیصد سے زائد ہوچکی ہے۔

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی نالائقی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، مہنگے ترین چار ایل این جی کے سودے کیے گئے، ایسے معاملات نہیں چلیں گے، عوام کی نمائندہ حکومت ہی عوام کو ریلیف دیتی ہے، یہ ایک ووٹ پر حکومت کھڑی ہے کیسے فیصلہ سازی کر سکتی ہے، امپورٹڈ حکومت سے معاملات نہیں سنبھل رہے، فوری الیکشن کرائے جائیں۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے گرفتاریاں کیں تو معاملات کسی اور طرف چلے جائیں گے، ہم اقتدار نہیں مانگ رہے ہم تو الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، سی پیک اتھارٹی ہم نے بنائی، سنا ہے یہ ختم کرنے جا رہے ہیں، ان کے چین کے ساتھ تعلقات تسلی بخش نہیں، کٹھ پتلی حکومت پتا نہیں کس طرح چین کے ساتھ تعلقات رکھے گی، کراچی، پشاور، اسلام آباد، لاہور میں کارکنوں کی مدد سے جلسے کیے، یہ جو ہمارے ساتھی دوسری طرف گئے ان کو تھوڑی دیر بعد سمجھ آجائے گی۔

    سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ایک ووٹ پر کھڑی ہے، ڈیزل اور پٹرول مہنگا کرنے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، ہم نے کبھی فورس لوڈشیڈنگ نہیں ہونے دی تھی، اس وقت تحریک انصاف کا کارکن نہیں عوام بھی الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئے گا تو ان کی حکومت ختم ہو جائے گی، سندھ کے عوام بھی اب تبدیلی چاہتے ہیں، خود مختاری تو تباہ کردی اب آپ معیشت بھی تباہ کرنے جا رہے ہیں، یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، انہیں پتا ہے عمران کو بھاری اکثریت ملے گی، جب جوڈیشل کمیشن بنے گا تو بہت ساری چیزوں کا پتا چلے گا۔

  • مفتاح اسمٰعیل کی امریکہ میں وائرل ہونے والی ویڈیواہمیت اختیارکرگئی

    مفتاح اسمٰعیل کی امریکہ میں وائرل ہونے والی ویڈیواہمیت اختیارکرگئی

    اسلام آباد: مفتاح اسمٰعیل کی امریکیوں کووہ”شکایت”جس پرپی ٹی آئی والے شکرادا کرنے لگے ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل مفتاح اسماعیل کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے متعلق بیان میں قرآنی آیات کے حوالہ پر حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے آگئی، دونوں جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر برسائے گئے۔

    تفصیلات کے مطابق مفتاح اسماعیل نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان سے متعلق بیان میں قرانی آیات کا حوالہ دیا،مفتاح اسمٰعیل نے امریکیوں کوشکایت لگاتے ہوئے کہاکہ عمران خان لوگوں کوامربالمروف و نہی عن المنکرکا حکم دیا ہے، جس پر تحریک انصاف کی جانب سے سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا۔پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہےکہ غلام حکمران امریکہ کے سامنے عمران خان کے اس عمل کی شکایتیں لگارہےہیں جس کا عمران خان کو اللہ نے حکم دیا ہے

     

    پی ٹی آئی رہنما شہبازگل نے اس موقع پر کہا کہ مفتاح نے قرآن کی خوبصورت اور فلسفہ حیات پر منی آیت کریمہ امربالعروف کو شدت پسندی سے ملایا، یہ اسلام اور مسلمانوں کی بے توقیری کی کوشش ہے۔ کوئی شق نہیں اس شخص نے اسحاق ڈار کی جگہ لی اور اس نے ثابت کیا کہ وہ گِری ہوئی حرکت میں ان سے بھی آگے ہے۔ کیا میرٹ ہے ان لوگوں کا

     

    سابق سینئر بیوروکریٹ اوریا مقبول جان کہتے ہیں کہ یہ غلامانہ ، معذرت خواہانہ اور بزدلانہ لہجہ بڑے عرصے کے بعد سننے کو ملا ہے، مشرف ، زرداری اور نواز شریف جب افغانُ طالبان کا نام لینے سے ڈرا کرتے تھے ، اس وقت وہ لڑے رہے تھے ، آج تو وہ عالمی طاقت امریکہ کو شکست دے چکے لیکن دین بیچ کر ڈالر وصول کرنے والوں کا لہجہ تو دیکھیں

     

     

    شیریں مزاری

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شیریں مزاری نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور اپنے بیان میں کہا کہ مفتاح اسماعیل کو شرم آنی چاہیے کہ امریکہ کی خوشامد کرتے ہوئے امر بالمعروف جیسے بنیادی اسلامی تصور کا مذاق اُڑا رہے ہیں، ان کی ہَڑبڑاہٹ و بُڑبڑاہٹ سے ان کی جہالت عیاں ہے، اوباشوں کے اس ٹولے کے لیے کیا کچھ بھی مقدس نہیں؟۔

    فرخ حبیب

    سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کو کسی قرآنی آیات کا حوالہ نہیں دینا چاہیے تھا، وزیر خزانہ نے مذہب کارڈ کھیلنے کی کوشش کی، مفتاح اسماعیل کو معافی مانگنی چاہیے۔

  • شہبازشریف زندہ باد:عمران خان کے اعلان کردہ اعلانات سےسیاست کرنےلگے

    شہبازشریف زندہ باد:عمران خان کے اعلان کردہ اعلانات سےسیاست کرنےلگے

    اسلام آباد :شہبازشریف زندہ باد:عمران خان کے اعلان کردہ اعلانات سے سیاست کرنے لگے،اطلاعات کے مطابق موجودہ وزیراعظم شہبازشریف پھراپنے فن کے ماہر ثابت ہورہےہیں اور کچھ ایسے اعلانات کررہے ہیں کہ جن سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوشل میدیا نے اس قسم کی شعبدہ بازیوں کو بے نقاب کرنا شروع کردیا ہے ،

    اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے آتے ہی اعلان کیا تھا کہ مزدور کہ ماہانہ اجرت پچیس ہزار کی جائے ، اس اعلان کو میڈیا کے ذریعے ایک بہت بڑا ریلیف قرار دیا جارہا ہے لیکن سوشل میڈیا کے طالب علموں نے شہبازشریف کی شعبدہ بازی کو بے نقاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ یہ اعلان تو وزیراعظم عمران خان پہلے ہی کرچکے ہیں ، اس کےساتھ ساتھ وزیراعظم پرائیویٹ سیکٹر کو بھی تنخواہیں بڑھانے کی درخواست کرچکے تھے

    اس پر سوشل میڈیا پر موجود ہزاروں صارفین نے کہا ہے کہ عجیب بات ہے شہبازشریف یہ اعلان کیوں نہیں کرتے کہ جوغیرسرکاری ملازم ہیں ان کی تنخواہیں بھی دس فیصد بڑھائی جائیں گی

    دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ غربت کے شکار افراد کے لئے کم سے کم اجرت پچیس ہزار بہت اچھا اعلان ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھر میں وزیر اعظم کے ریلیف کے اعلانات کو سراہا جارہا ہے، غربت کے شکار افراد کے لئے کم سے کم اجرت پچیس ہزار بہت اچھا اعلان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام کاروباری حضرات سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی ویجز میں اضافہ کردیں، حکومت برآمدات کے فروغ کے لئے بھرپور اقدامات کریں گے، میڈیا ہاوسز کے مالکان سے بھی کہا ہے کہ دس فیصد تنخواہ بڑھائیں، حکومت نے دس فیصد فی الفور بڑھا دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کل کراچی اسٹاک ایکسچینج ایک دن میں سترہ سو پوائنٹ بڑھی ہے، آج بھی اسٹاک مارکیٹ اوپر گئی ہے، کل ڈالرز نیچے آگیا تھا، آج مزید کم ہوا ہے، عوام کو اعتماد ہے کہ شہباز شریف کی حکومت میں معاشی مستقبل روشن ہوگا۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم مایوسی نہیں بڑھانا چاہتے لیکن خسارہ اس وقت چھپن سو ارب روپے چل رہا ہے، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ خسارہ ہے، یہ معیشت کے ساتھ زیادتی ہے، آٹھ سو ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کی بات کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تین سو تہتر ارب روپے کی بارودی اسرنگ یہ بچھا کر گئے ہیں، یہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ختم کر کے گئے ہیں، پیٹرول کی قیمت بڑھاتے ہوئے انہیں مہنگائی کا احساس نہیں تھا، جیسے ہی ان کی حکومت کو خطرہ ہوا انہوں نے سستی شہرت کے لئے تین سو چونسٹھ ارب روپے کا نقصان ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خسارہ سے نکالنا ہے، اس سال کل خسارہ چونسٹھ سو ارب روپے ہے، جتنا قرض عمران حکومت سے پہلے تک قیام پاکستان کے بعد سے لیا گیا، اتنا قرض کا اسی فیصد عمران حکومت نے پونے چار سال میں لیا۔