Baaghi TV

Tag: مفتی منیب

  • مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ  باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ استثنٰی کا مطالبہ تو نبی کریم نے معصوم ہونے کے باوجود نہیں کیا اور نہ ہی کسی خلیفہ راشد نے عدالت میں یا اپنے اقدامات کے لیے استثنیٰ مانگا ہے ہمارے حکمرانوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

    مجلس اتحاد امت پاکستان کے تحت مشاورتی علمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ مدارس کے معاملہ میں جو باتیں پہلے سے طے شدہ ہیں انہیں بار بار نہ چھیڑا جائے بلکہ مدارس کے بارے میں جو اقدامات طے شدہ ہیں ان پر عمل کیا جائے۔

    مدارس میں عصری علوم سے متعلق مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے حکومت بتائے کہ تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر کیسے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مدارس پسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ اور محب وطن بنا رہے ہیں امارت اسلامیہ افغانستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ افغان علماء کی قرارداد کو حکومت کی پالیسی کا حصہ بنائیں۔

    پنجاب پولیس کے سابق آئی جی نے خود کو گولی مار لی

    قبل ازیں مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دنیا کے کسی دستور میں کوئی مثال نہیں ملتی، 18 سال سے کم عمری کی شادی پر سزا خلاف اسلام ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کی امریکی کوشش میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کریں گے۔

    مشاورتی اجتماع کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، قاری حنیف جالندھری نے نظامت کی اور کہا کہ مجلس اتحاد امت کا مقصد معاشرتی اور سماجی مسائل پر یکساں مؤقف اختیار کرنا ہے، امت کی رہنمائی کیلئے ایک فورم کی ضرورت تھی، جو قومی اور ملی مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں قوم اور حکومت کی رہنمائی کر سکے، مجلسِ اتحاد امت پاکستان کا قیام ان ہی مقاصد کے تحت وجود میں آیا، مجلس اتحاد امت کا مقصد امت کا اتحاد اور ملی و قومی مسائل پر یکساں مؤقف اختیار کرنا ہے۔

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

  • مفتی منیب الرحمان دوبارہ 5 سال کیلئے تنظیم المدارس کے صدر منتخب

    مفتی منیب الرحمان دوبارہ 5 سال کیلئے تنظیم المدارس کے صدر منتخب

    لاہور: تنظیم المدارس اہلِ سنت کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں مفتی منیب الرحمان کو آئندہ پانچ سال کے لیے تنظیم المدارس کا مرکزی صدر منتخب کرلیا گیا۔

    عہدے کے لئے انتخاب مکمل اتفاقِ رائے سے ہوا، جس پرشرکا نے خوشی اوراعتماد کا اظہارکیا، اجلاس میں تنظیم کے دیگراہم عہدیداران کا انتخاب بھی اتفاقِ رائے سے کیا گیا،علامہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی کومرکزی ناظمِ اعلیٰ منتخب کیا گیا جبکہ ارشد سعید کاظمی اور محمد عثمان قادری کو نائب نظما کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

    شوریٰ ارکان نے امید ظاہرکی کہ نئی قیادت مدارس کے تعلیمی نظام، انتظامی بہتری اوراصلاحات کے ایجنڈے کو مزید مؤثر اندازمیں آگے بڑھائے گی،جلاس میں تنظیم المدارس کے چیئرمین امتحانی بورڈ علامہ حافظ عبدالستارسعیدی پربھرپوراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آئندہ مدت کیلئے ذمہ داری جاری رکھنے کا اختیاربھی دیا گیا۔

    شوریٰ نے واضح کیا کہ امتحانی نظام میں شفافیت، جدید طریقہ کاراورانتظامی بہتری کومزید مضبوط کیا جائے گا،شرکائے اجلاس نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ تنظیم مدارس دینی تعلیمی نظام کے فروغ اورملی یکجہتی کیلئے اپنی خدمات جاری رکھے گی۔

  • اسلامی  نظریات  کو موثر  طریقے سے نسل نو کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے،مفتی منیب الرحمان

    اسلامی نظریات کو موثر طریقے سے نسل نو کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے،مفتی منیب الرحمان

    مرکز اسلام جامعہ اسلام آبادکا 32 سالانہ جلسہ دستار فضیلت اور 13 واں سالانہ ختم بخاری شریف میں شیخ الحدیث حضرت علامہ الحاج مفتی پیر سید محمد نوید الحسن شاہ مشہدی سجادہ نشین درگاہ مقدسہ بھکھی شریف کی زیر صدارت اور شیخ الحدیث پروفیسر ڈاکٹر مفتی محمد ظفر اقبال جلالی پرنسپل وشیخ الحدیث جامعہ اسلام آباد کی زیر نگرانی منعقد ہوا ۔جس میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صدر تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان ،ڈاکٹر ساجد الرحمن سجادہ نشین آستانہ عالیہ بگھار شریف اور پاکستان بھر سے علما ومشائخ اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی دینی ،مذہبی ،ملی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

    شیخ الحدیث پیر سید مفتی محمد نوید الحسن شاہ مشہدی سربراہ جماعت جلالیہ پاکستان نے دورہ حدیث شریف کے طلبہ کو صحیح البخاری کی آخری حدیث شریف کا درس دیا اور وعظ ونصیحت بھی فرمائی ۔انہوں نے کہا کہ علمائے کرام اور اسکالرز کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق حکمت ودانشمندی کے ساتھ تبلیغ دین کا فریضہ نبھانا چاہیے۔مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ اسلامی عقائد و نظریات اور دینی احکام کو موثر اور مدلل طریقے سے نسل نو کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے ۔ڈاکٹر مفتی محمد ظفر اقبال جلالی نے کہا کہ جامعہ اسلام آباد نے 100 سے زائد ایم فل وپی ایچ ڈی اسکالرز اور 150 حفاظ وقراء اور علماء ومفتیان کرام قوم کو تحفہ دیے ہیں ۔  ان شاء اللہ العزیز جلد ہی یونیورسٹی کی عظیم الشان مسجد کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور جلد ہی یونیورسٹی کے چار شعبہ جات (اسلامک اسٹڈیز ،عریبک،کمپیوٹر سائنس اور اکنا مکس ) میں تعلیمی سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔انہوں نے تمام معزز مہمانان گرامی کا شکریہ بھی ادا کیا ۔

    ترجمان کے مطابق اس موقع پر ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئی اور مفتیان عظام ،علمائے کرام اور حفاظ وقراء کی دستار بندی وجبہ پوشی کی گئی ۔اس موقع پر اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی پاکستان کے پہلے تعلیمی بلاک کے پہلے فلور اور اسلام آباد ایجوکیشن ایند ریلیف فاؤنڈیشن کا افتتاح شیخ الحدیث حضرت علامہ الحاج مفتی پیر سید محمد نوید الحسن شاہ مشہدی نے کیا اور خصوصی دعا کی ۔معزز مہمانوں کو گلدستے پیش کیے گئے اوراُن کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔وائٹ روز مارکی کا ھال عوام کے جم غفیر سے کچھاکھچ بھرا تھا ۔کانووکیشن کے اختتام پر شیخ الحدیث حضرت علامہ الحاج مفتی پیر سید محمدنوید الحسن شاہ مشہدی سجادہ نشین درگاہ مقدسہ بھکھی شریف ملک وملت کے لیے خصوصی دعا کروائی.

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

  • جیل میں عمران خان کے حالات پر مفتی منیب کا بھی بیان سامنے آ گیا

    جیل میں عمران خان کے حالات پر مفتی منیب کا بھی بیان سامنے آ گیا

    اسلام آباد: توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں قید چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کیلئے جیل کے واش روم میں بھی پرائیویسی نہ ہونے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سابق چیئرمین روہت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے بھی بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ہردو ہفتےبعد کی جانے والی معمول کی انسپکشن کے تحت ایڈیشنل سیشن جج اٹک شفقت اللہ نے 15 اگست کو جیل کا دورہ کرنے کے بعد تحریری رپورٹ جمع کروائی تھی کہ عمران خان کو جیل میں کس قسم کے حالات کاسامنا ہے انہوں نے عمران خان کو واش روم سہولیات میں پریشانی کا ذکر کیا تھا۔

    ترجمان محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کا کہنا ہے کہ اٹک جیل میں مقید چیئرمین تحریک انصاف کو پریزنز رولز کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں، چیئرمین تحریک انصاف کے کمرے میں بروز ہفتہ نیا واش روم تعمیر کیا گیا، واش روم میں ویسٹرن کموڈ اور بیسن لگائے گئے ہیں۔

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کی جا چکی ہیں جس میں نیا باتھ روم بھی بنوا دیا گیا ہے جس کی دیواریں 5 فٹ اونچی ہیں اور نیا دروازہ بھی لگایا گیا ہے، واش روم میں ویسٹرن کموڈ اور واش بیسن بھی ہے۔

    ترجمان محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق عمران خان کیلئے بنائے گئے باتھ روم میں باتھ سوپ ، پرفیوم، ائیر فریشنر، تولیہ اور ٹیشو پیپر بھی موجود ہیں،کمرے میں بیڈ ، تکیہ ، میٹرس، میز ، کرسی، ائیر کولر ایگزاسٹ فین بھی موجود ہے، فروٹ، شہد، کھجوریں، جائے نماز انگریزی ترجمے والا قرآن مجید اورکتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔

    ملک میں مزید مون سون بارشوں کی پیش گوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے 5 ڈاکٹر تعینات ہیں جن کی چیکنگ کے بعد عمران خان کو اسپیشل خوراک دی جاتی ہے، سکیورٹی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے بر آمد ےمیں نصب ہیں منگل کو فیملی اور جمعرات کو وکلا سے عمران خان کی ملاقات کرائی جاتی ہے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں متی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر خان صاحب کے دورمیں اپنے مخالفین کے ساتھ کچھ ناروا کیا گیا تھا تو وہ بھی غلط تھا اور اگر آج عمران خان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیاجارہا ہے تو یہ بھی غلط ہےایک غلطی دوسری غلطی کے جوازکا سبب نہں بن سکتی، ہمیں اسلامی اقدار کی پاسداری کرنی چاہیےانہوں نے قرآنی آیت کا حوالہ بھی دیا-

    واضح رہے کہ توشہ خانہ فوجداری کیس میں 3 سال قید کی سزا پانے والے عمران خان کو 5 اگست کو گرفتاری کے فوراً بعد لاہور زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست زیرسماعت ہے۔

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سمندری طوفان نے تباہی مچا دی

  • پشاوردھماکہ قومی سانحہ،دہشتگردوں کی حمایت کرنیوالے سیاست نہ کریں،مفتی منیب الرحمان

    پشاوردھماکہ قومی سانحہ،دہشتگردوں کی حمایت کرنیوالے سیاست نہ کریں،مفتی منیب الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور کی پولیس لائن کی مسجد میں خود کش دھماکے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے، دھماکے میں سو اموات ہو چکی ہیں، مذہبی و سیاسی رہنما واقعہ کی مذمت کر رہے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کا بھی پیغام دے رہے ہیں، ایسے میں رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین ،پاکستان کے معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے

    مفتی منیب الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور پشاور دھماکے کو قومی سانحہ قرار دیا، مفتی منیب الرحمان لکھتے ہیں کہ پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکا بہت بڑا قومی سانحہ ہے،یہ ظالمانہ اقدام اسلام ، پاکستان اور انسانیت کے ساتھ دشمنی ہے، یہ عمل قابلِ تصور درندگی ہے، شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،نفاذشریعت کے نام پر مسلح جدوجہد شریعت ، دستور اور قانون کی رُو سے جائز نہیں ،

    مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ جامع مسجد پولیس لائنز پشاور میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول مسلمانوں پر خود کش دھماکہ اور دہشت گردی بہت بڑا قومی سانحہ ہے یہ ظالمانہ اقدام اسلام پاکستان اور انسانیت کے ساتھ دشمنی ہے شقاوت ہے اور ناقابلِ تصور درندگی ہے ہم اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں شریعت ،قصاص یا انتقام کسی بھی عنوان سے اس کا کوئی بھی جواز قبول نہیں ہے اللہ تعالیٰ حالتِ نماز میں شہید ہونے والے تمام اہلِ ایمان کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،

    مفتی منیب الرحمان مزید کہتے ہیں کہ پاکستان میں پے درپے سانحات وحادثات ہورہے ہیں پوری قوم سے اپیل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعائیں کریں کہ وہ ابتلا وآزمائش کے اس دور سے پاکستان واہلِ پاکستان کو نجات عطا فرمائے ، پہلے ٹی ٹی پی نے اس کی ذمے داری قبول کی اور بعد میں اُن کی طرف سے اس کی تردید بھی آئی ہے ہوسکتا ہے ان کے کئی گروپ ہوں اوران کی اپنی اپنی پالیسیاں ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے : ’’سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وطنِ عزیز کو دہشت گردی اور دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے متفقہ قومی پالیسی بنائی جائے اور جس جماعت نے بھی پاکستان میں سیاست کرنی ہو وہ غیر مشروط طور پر اس کی اونر شپ قبول کرے ورنہ قومی سیاست سے دستبردار ہوجائیں اسلام ،پاکستان اور بے قصور انسانوں کی جان و مال اورآبرو کی حرمت اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے حکومت اور قومی سلامتی کے ادارے جو بھی پالیسی تشکیل دیں گے، ہم اس کی حمایت کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف پشاور پہنچ گئے،

    مقدس مقام اور عبادت کے دوران حملہ سفاکیت کی انتہاء ہے,مولانا فضل الرحمان

    سیکیورٹی کے باوجود خود کش حملہ آور کیسے مسجد پہنچا انکوائری ہو گی،وزیر داخلہ

    پشاور دھماکہ / شہداء فہرست

    امریکہ، ایران، ترکی، سمیت دیگر ممالک نے بھی مذمت کی

    ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو 

    نیشنل ایکشن پلین پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے،

    ہ پشاور کا سانحہ دہشت گردوں کی مزاحمت کا تقاضا کر رہا ہے،

  • حویلیاں واقعے پرTLP کی مشاورت سے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے : مفتی منیب الرحمن

    حویلیاں واقعے پرTLP کی مشاورت سے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے : مفتی منیب الرحمن

    لاہور : مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کے ہمراہ ٹی ایل پی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کی ، جس میں انہوں‌ نے کہا کہ آج شہدا کی تعزیت اور حالات جاننے کے لئے سعد رضوی اور مجلس شوریٰ کے پاس آیا ہوں ۔

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ میرے پاس اعظم سواتی کے بھائی آئے کہ حویلیاں میں حالات بہتر کرنے کے لئے تعاون کریں ، ہم نے کوشش بھی کی ، میں نے ہری پور کے مفتی عمیر الازھری سے فون پر رابطہ کیا اور حالات سنے ، انہوں نے بتایا کہ ہمارے لوگوں کو گرفتار کر کے ہری پور جیل بھیج دیاگیا ہے ۔

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ پچاس سال سے میں ڈائیلاگ میں شریک ہوتا رہا ہوں ، کبھی ایسے حالات نہیں پیدا ہوئے ، ڈی پی او نے پہلے اشتعال انگیز کارروائی کی ، یقین دہانی کروائی تھی کہ لوکل ایڈمنسٹریشن یا دوسرے مکاتب فکر کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگے گا ، ٹی ایل پی والے اس سے پہلے بھی امیر معاویہ چوک میں یوم دفاع اور دوسرے جلوس بھی نکالتے رہے ہیں ۔

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ تصادم کا تاثر غلط ہے ، معاویہ اعظم نے فون کر کے خود کہا کہ وہ تحریک لبیک پاکستان کے پاس آئیں گے ، ہمیں میلاد النبیﷺ کے جلوس پر کوئی اعتراض نہیں تھا ، حویلیاں شہر سے تین کلو میٹر دور جلوس ختم کر دیا ، واپسی کے سفر پر اچانک فائرنگ شروع کر دی گئی ۔ گرنیڈ پھینکے گئے ، چار افراد شہید ہوئے ۔

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ قتل کی مجرمانہ کارروائی تھی ، جلوس تک کوئی تصادم نہیں ہوا ، ان کے پاس کلپس ہیں ، جن سے ثابت ہوتا ہے، ریاست میں کوئی طبقہ یہ ارادی کارروائی چاہتا تھا ، اس کے شواہد ہیں ، ریاستی اداروں میں ایسا سیل کون سا ہے ، جو ملک میں انتشار برپا کرنا چاہتا ہے ۔

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہم ان کو کول ڈاؤن کرنے آئے ہیں ، مجرموں کو سامنے لایا جائے ، جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ، جے آئی ٹی بنائی جائے ، ایسی جے آئی ٹی نہیں جو معاملہ کو دفن کرے ، کمیشن کے ٹی او آرز تحریک لبیک کی مشاورت سے تیار کئے جائیں ، ریاست کو موثر اقدامات کرنا ہونگے ۔

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت تحقیقاتی کمیٹی بنائے ، اس کمیٹی میں تحریک لبیک اور سول سوسائٹی کے لوگ شامل ہوں ، میرا عمران خان سے مطالبہ ہے ان کی کے پی حکومت ہے ، اپنی صوبائی حکومت کو حکم کریں ، کمیٹی میں متاثر فریق کو شامل کیا جائے ، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے ۔ ڈی پی او ایبٹ آباد یا لوکل ایڈمنسٹریشن کو شامل کرنا بلی کو دودھ پر رکھوالی دینے کے مترادف ہیں ۔

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ جھوٹے مقدمات واپس لئے جائیں ، جیلوں میں بند لوگوں کو رہا کیا جائے ، اس مسلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے ،یہ جماعتی نہیں مذہبی مسلۂ ہے ، اس واقعہ کے پیچھے پس پردہ کچھ اور ہیں ، چیف سیکرٹری کے پی کو اعتماد میں لیں ، ریاستی اداروں کو کہتا ہوں کچھ شکوک شبہات ہیں ۔

    انہوں نے مذید کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی بلائیں مسلۂ دیکھیں ، اہلسنت کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، پچھلے معاہدے کے بیشتر نکات پر عملدرآمد ہوا ،یہاں قاتل کو انسداد دہشت گردی کا چارج ختم کر کے سپریم کورٹ گھر بھیج دیتی ہے ، ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے ،اگر مذہبی عنصر شامل ہوگیا تو بہت خطرناک ہوگا ۔

    مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہم کسی فرقہ پر چارج نہیں لگا رہے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے مجرموں کا تعین کرے ، بے گناہ لوگوں کے مقدمات کو واپس لیا جائے ، ٹی ایل پی کی مجلس شوری سے بھی کہیں گے ٹھنڈے ہو جائیں ، حکومت کو موقعہ دیں ، ریاستی داروں میں عناصر موجود ہیں جو ملکی حالات کو انتشار کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ اگر پرامن طریقے سے مطالبات پیش کئے جائیں تو یہاں کوئی سننے کو تیار نہیں ، یہ عوام کے ٹیکس سے خریدے گئے اسلحہ کو دہشت گردوں کے خلاف استعمال کریں نہ کہ عوام پہ ، فیصلہ کرنے والے سامنے نہیں آتے ان کو سامنا آنا چاہیے ۔

  • مفتی منیب الرحمن ساتھیوں کولیکرپاک سرزمین پارٹی کی قیادت سے ملاقات کےلیےپہنچ گئے

    مفتی منیب الرحمن ساتھیوں کولیکرپاک سرزمین پارٹی کی قیادت سے ملاقات کےلیےپہنچ گئے

    مفتی منیب وفد کے ہمراہ پاک سرزمین پارٹی کی قیادت سے ملاقات کےلیے ان کے گھرپہنچ گئے،اطلاعات ہیں کہ یہ ملاقات مصطفیٰ کمال کی طرف سے چند دن قبل مفتی منیب الرحمن کے حوالے سے بہت سے انکشافات کےکے بعد طئے کی گئی ہے،

    پاک سرزمین پارٹی ذرائع کے مطابق مفتی منیب الرحمن کی وفد کے ہمراہ پی ایس پی چئرمین سید مصطفیٰ کمال صدر انیس قائم خانی سے حاجی رفیق پردیسی کے گھر ملاقات پی ایس پی کے شہید ساتھی سیف الدین کے لیے دعا مغفرت اور زخمیوں کے لئے صحتیابی کی دعا کی دونوں فریقین کے درمیان باہمی گفتگو کے بعد غلط فہمی دور کر لی گئی

    یاد رہے کہ چند دن قبل مفتی منیب الرحمن اور سید مصطفیٰ کمال کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب مفتی منیب نے بغیرتصدیق کے سید مصطفیٰ کمال پرسنگین الزامات لگائے تھے ، جس کے جواب میں سید مصطفیٰ کمال نے سخت جواب دیا

    پاک سر زمین پارٹی کا مفتی منیب الرحمٰن کے الزامات کا بھرپورجواب

    مفتی منیب الرحمٰن کا مصطفیٰ کمال کو جواب کے نام سے تحریر کے جواب میں ہمیں یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ مفتی منیب الرحمان کی تحریر صریح جھوٹ پر مبنی ہے! ایک سید زادے سید مصطفی کمال پر تہمت لگانے والے نام نہاد مفتی منیب الرحمان نے اگر کبھی قرآن کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں علم ہوتا کہ مالک کل کائنات نے کسی معصوم پر بہتان باندھنے کی کیا سزا مقرر کی ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    وَالَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْـرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا (سورۃ احزاب، آیت 58)
    "اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ایسے کام کی تہمت لگاتے ہیں جو انہوں نے نہ کیا ہو اس پر ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا”

    خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق آگے بیان کر دے، صد افسوس کہ منیب الرحمن نے مفتی اعظم کے عہدے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ ایم کیو ایم کے سابق بدنام زمانہ گورنر عشرت العباد المعروف رشوت العباد سے ان کے تعلقات پر کسی کو کوئی حیرت نہیں کیونکہ جملہ عالم جانتا ہے "کند ہم جنس باہم جنس پرواز” انسان اپنے تعلقات کی بنیاد پر ہی پہچانا جاتا ہے جہاں عشرت العباد رشوت العباد کی کنیت سے مشہور ہوئے وہاں مفتی اعظم منیب الرحمٰن سود پر کام کرتے بینکوں کے بھاری بھرکم تنخواہ دار رہےاور سود کے حلال ہونے پر فتوے دیتے رہے واضح رہے کہ اللّٰه پاک نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 279 میں سود کو اللّٰه اور اسکے رسول کیخلاف کھلی جنگ قرار دیا ہے۔

    پاک سر زمین پارٹی مفتی منیب الرحمان کو چیلنج کرتی ہے کہ ملائیشیا میں تو کیا دنیا بھر میں کہیں بھی سید مصطفی کمال یا انکے خاندان کے کسی ایک بھی فرد کے ایک روپے مالیت کے اثاثے یا کاروبار ثابت کردیں تو سید مصطفی کمال وہ تمام اثاثے مفتی منیب الرحمان کے نام لکھ کر جہاں مفتی منیب کہیں گے وہاں خود کو پھانسی لگانے کے لیے تیار ہیں؛ پی ایس پی مفتی منیب الرحمان کو اس دنیا میں عوام کی عدالت اور روز محشر الله کی عدالت میں لیکر جائے گی۔ پاک سر زمین پارٹی مفتی منیب کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے لَّعْنَتَ اللّـٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ لکھ کر خود اپنے آپ پر ہی لعنت بھیج دی ہے کیونکہ وہ خود جھوٹے ہیں۔

    ایک طرف ٹی ایل پی کے احتجاجی مظاہرے تودوسری طرف مفتی منیب نے کال دے دی

    مفتی منیب کا دوسرا نام قبضہ مافیا ہے، لیاری ایکسپریس وے کی تیاری کے دوران مصطفیٰ کمال سے اپنے لیے تیسر ٹاؤن میں پلاٹ کی بھیک مانگنے والے اس نام نہاد مفتی منیب الرحمان کی جعل سازی اس بات سے بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ جس مدرسے اور ادارے کی یہ آج سربراہی کررہا ہے وہ مرحوم مفتی شجاعت علی قادری(مرحوم) کی ملکیت تھی، مفتی شجاعت علی قادری کا بیرون ملک سرکاری دورے سے واپسی پر انتقال ہوگیا، انکے انتقال کے بعد اس نام نہاد مفتی منیب الرحمن نے مفتی شجاعت قادری کے صاحبزادے کو ملک بدر کروا کر مرحوم مفتی شجاعت علی قادری کے مدرسے اور ادارے پر پہلے ممتحن بن کر قبضہ کیا اور بعد میں مرحوم مفتی شجاعت کے صاحبزادے کو ملک بدر کروا کر یہ نام نہاد مفتی منیب الرحمان مرحوم مفتی شجاعت علی قادری کے مدرسے اور ادارے پر مکمل قابض ہوگیا اور حال ہی میں اورنگی میں ایک سرکاری زمین کے ٹکڑے پر قبضہ کرکہ اس پر بینر لگا کر وہاں ادارہ قائم کررہے ہیں(تصویر ساتھ ہے).

     

    طاہراشرفی نےچاند کی تصویرشیئرکردی:رویت ہلال کمیٹی کافیصلہ درست تھا:مفتی منیب فقط…

    حکمرانوں کے آگے کلمہ حق بلند کرنے کا دعویٰ کرنے والے منیب الرحمن الله سے زیادہ الطاف حسین سے ڈرتے رہے، 40 سال الطاف حسین رحمت اللعالمین محمدﷺ کی امت کو ایک دوسرے سے لڑوا کر قتل کرتا رہا، ایک روز میں 22 جوان موت کے گھاٹ اتارتا تھا تب اس نام نہاد عاشق رسول محمدﷺ کا کلمہ حق کدھر غائب ہوگیا تھا۔ نام نہاد مفتی اعظم مفتی منیب الرحمان اپنے کوورڈینٹر کو سرکاری عہدہ دلانے کے لیے امت کے قاتل الطاف حسین کی منت سماجت کرتے رہے، حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا ڈھونگ رچانے والے مفتی منیب ساری زندگی رؤیت ہلال کمیٹی کے سربراہ کے طور پر سرکاری تنخواہ اور مراعات پر پلتے رہے۔ جب سائنس کی رو سے انکے پسند اور ناپسند پر مبنی رؤیت کو چیلنج کیا گیا تو اتنے حواس باختہ ہوگئے کہ بجائے اسکے کہ علم سے جواب دیتے، معاملے کو ذات پر حملہ تصور کرتے ہوئے الله کے عطا کردہ علم سائنس اور وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو ہی مغلظات بکنے لگے۔ محترم کو خود نمائی کا اتنا شوق ہے کہ اگر رویت ہلال کمیٹی کا کوئی رکن ان سے پہلے کسی میڈیا والے سے بات کر لے تو اپنی شدید ناراضگی کا برملا اظہار کرتے تھے۔

     

     

     

    واضح رہے سید مصطفی کمال سید زادے ہیں اور امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ کے فتوے کے مطابق سید کے خلاف بات کرنا کفر کا درجہ رکھتا ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن بریلوی مکتبہ فکر کی ناصرف نمائندگی نہیں کرتے بلکہ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء گرامی اور مفتیان قدر کی کثیر تعداد مفتی منیب الرحمان کو سرے سے مفتی ہی تسلیم نہیں کرتی؛ مفتی منیب بریلوی مسلک کا چہرہ مسخ کرنے اور اتحاد بین مسلمین کو پارہ پارہ کرنے کے ذمہ دار ہیں،

    بین الاقوامی میڈیا پر مفتی منیب الرحمان نواسہ رسول محمد ﷺ، سردار جنت حضرت امام حسین رض کو شہید کرنے والے یزید کے وکیل بن کر پیش ہوئے۔ جبکہ حضرت عمر فاروق(رض) کا قول ہے کہ "دریائے فرات کے کنارے اگر کتا بھی پیاسا مرجائے تو عمر زمہ دار ہوگا” مفتی منیب کے زیر سرپرستی دہشتگردی پھیلاتی تنظیم ٹی ایل پی رحمت للعالمین محمدﷺ کے نام کے نعرے مارتے ہوئے رحمت للعالمین محمد ﷺ کے امتیوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی لیکن نام نہاد مفتی منیب الرحمٰن نے ٹی ایل پی کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے پی ایس پی کے کارکن کی شہادت اور مصطفیٰ کمال سمیت کئی کارکنان کے زخمی ہونے پر تعزیت اور ہمدردی تو درکنار؛ انیس قائم خانی کے بیان پر مفتی منیب کا ٹویٹ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مصطفیٰ کمال کا دہشتگرد تنظیم ٹی ایل پی کو دہشتگرد کہنا مفتی منیب کے کلیجے پر تیر بن کر لگا، مفتی منیب کا شمار ان دین کے دشمنوں اور ملک دشمنوں میں ہوتا ہے جو اسلام اور پاکستان کا چہرہ دنیا کے سامنے مسخ کرنے کے زمہ دار ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی دہشتگرد جماعت ہے، مفتی منیب اسکے سرپرست اعلیٰ ہیں جو حضرت محمد ﷺ کا نام اپنی گندی سیاست کیلئے استعمال کر رہی ہے۔اس سے بڑی توہین حضرت محمد ﷺ کی نہیں ہو سکتی کہ آپ ﷺ کا نام لے کر آپ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والوں کو شہید کیا جائے اور تکلیف پہنچائی جائے۔

    دنیاوی ہارجیت سے مرعوب نام نہاد سیاسی مفتی منیب الرحمان ایک سید زادے سید مصطفیٰ کمال کو انتخابات ہارنے کا طعنہ دے کر ناصرف اپنی ذہنی پسماندگی کا ثبوت دے رہا ہے بلکہ تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین رضی الله عنہ اور اہل بیت کی شہادت کا بھی مزاق اڑا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزید نے بھی خانوادہ رسول محمدﷺ کے کٹے ہوئے سروں کو نیزوں کی نوک پر رکھ کر جیت کا جشن منایا تھا لیکن آج اور دنیا میں آخری انسان کے رہنے تک یزید رسوا ہوگیا اور وہ کٹے ہوئے سر سرداران جنت بن گئے۔ یزید جیت کا جشن منا کر بھی ناکام رہا اور خانوادہ رسول محمدﷺ سر کٹا کر ہمیشہ کے لیے کامیاب رہے۔ ہر جیتنے والا کامیاب نہیں اور ہر ہارنے والا ناکام نہیں۔ رب العالمین نے سید مصطفیٰ کمال کو رحمت للعالمین محمدﷺ کی امت کو کراچی میں جوڑنے کا ذریعہ بنایا جسکا تصور بھی مفتی منیب جیسے علماء سو کے لیے محال ہے۔

    گزارش ہے کہ لبیک کے نعرے مارنے سے کوئی عاشق رسول نہیں ہوجاتا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ پاک سر زمین پارٹی سیف الدین صدیقی کے قاتل اور سید مصطفی کمال اور پی ایس پی کے دیگر کارکنان کو زخمی کرنے والوں کی سرپرستی کرنے والوں کو بھی قاتل سمجھتی ہے۔ اللّٰه ہمارا حامی و ناصر ہے۔

  • پاک سر زمین پارٹی کا مفتی منیب الرحمٰن کے الزامات کا بھرپورجواب

    پاک سر زمین پارٹی کا مفتی منیب الرحمٰن کے الزامات کا بھرپورجواب

    کراچی :مفتی منیب الرحمٰن کا مصطفیٰ کمال کو جواب کے نام سے تحریر کے جواب میں ہمیں یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ مفتی منیب الرحمان کی تحریر صریح جھوٹ پر مبنی ہے! ایک سید زادے سید مصطفی کمال پر تہمت لگانے والے نام نہاد مفتی منیب الرحمان نے اگر کبھی قرآن کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں علم ہوتا کہ مالک کل کائنات نے کسی معصوم پر بہتان باندھنے کی کیا سزا مقرر کی ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    وَالَّـذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْـرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا (سورۃ احزاب، آیت 58)
    "اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ایسے کام کی تہمت لگاتے ہیں جو انہوں نے نہ کیا ہو اس پر ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا”

    خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق آگے بیان کر دے، صد افسوس کہ منیب الرحمن نے مفتی اعظم کے عہدے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ ایم کیو ایم کے سابق بدنام زمانہ گورنر عشرت العباد المعروف رشوت العباد سے ان کے تعلقات پر کسی کو کوئی حیرت نہیں کیونکہ جملہ عالم جانتا ہے "کند ہم جنس باہم جنس پرواز” انسان اپنے تعلقات کی بنیاد پر ہی پہچانا جاتا ہے جہاں عشرت العباد رشوت العباد کی کنیت سے مشہور ہوئے وہاں مفتی اعظم منیب الرحمٰن سود پر کام کرتے بینکوں کے بھاری بھرکم تنخواہ دار رہےاور سود کے حلال ہونے پر فتوے دیتے رہے واضح رہے کہ اللّٰه پاک نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 279 میں سود کو اللّٰه اور اسکے رسول کیخلاف کھلی جنگ قرار دیا ہے۔

    پاک سر زمین پارٹی مفتی منیب الرحمان کو چیلنج کرتی ہے کہ ملائیشیا میں تو کیا دنیا بھر میں کہیں بھی سید مصطفی کمال یا انکے خاندان کے کسی ایک بھی فرد کے ایک روپے مالیت کے اثاثے یا کاروبار ثابت کردیں تو سید مصطفی کمال وہ تمام اثاثے مفتی منیب الرحمان کے نام لکھ کر جہاں مفتی منیب کہیں گے وہاں خود کو پھانسی لگانے کے لیے تیار ہیں؛ پی ایس پی مفتی منیب الرحمان کو اس دنیا میں عوام کی عدالت اور روز محشر الله کی عدالت میں لیکر جائے گی۔ پاک سر زمین پارٹی مفتی منیب کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے لَّعْنَتَ اللّـٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ لکھ کر خود اپنے آپ پر ہی لعنت بھیج دی ہے کیونکہ وہ خود جھوٹے ہیں۔

    مفتی منیب کا دوسرا نام قبضہ مافیا ہے، لیاری ایکسپریس وے کی تیاری کے دوران مصطفیٰ کمال سے اپنے لیے تیسر ٹاؤن میں پلاٹ کی بھیک مانگنے والے اس نام نہاد مفتی منیب الرحمان کی جعل سازی اس بات سے بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ جس مدرسے اور ادارے کی یہ آج سربراہی کررہا ہے وہ مرحوم مفتی شجاعت علی قادری(مرحوم) کی ملکیت تھی، مفتی شجاعت علی قادری کا بیرون ملک سرکاری دورے سے واپسی پر انتقال ہوگیا، انکے انتقال کے بعد اس نام نہاد مفتی منیب الرحمن نے مفتی شجاعت قادری کے صاحبزادے کو ملک بدر کروا کر مرحوم مفتی شجاعت علی قادری کے مدرسے اور ادارے پر پہلے ممتحن بن کر قبضہ کیا اور بعد میں مرحوم مفتی شجاعت کے صاحبزادے کو ملک بدر کروا کر یہ نام نہاد مفتی منیب الرحمان مرحوم مفتی شجاعت علی قادری کے مدرسے اور ادارے پر مکمل قابض ہوگیا اور حال ہی میں اورنگی میں ایک سرکاری زمین کے ٹکڑے پر قبضہ کرکہ اس پر بینر لگا کر وہاں ادارہ قائم کررہے ہیں(تصویر ساتھ ہے).

    حکمرانوں کے آگے کلمہ حق بلند کرنے کا دعویٰ کرنے والے منیب الرحمن الله سے زیادہ الطاف حسین سے ڈرتے رہے، 40 سال الطاف حسین رحمت اللعالمین محمدﷺ کی امت کو ایک دوسرے سے لڑوا کر قتل کرتا رہا، ایک روز میں 22 جوان موت کے گھاٹ اتارتا تھا تب اس نام نہاد عاشق رسول محمدﷺ کا کلمہ حق کدھر غائب ہوگیا تھا۔ نام نہاد مفتی اعظم مفتی منیب الرحمان اپنے کوورڈینٹر کو سرکاری عہدہ دلانے کے لیے امت کے قاتل الطاف حسین کی منت سماجت کرتے رہے، حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا ڈھونگ رچانے والے مفتی منیب ساری زندگی رؤیت ہلال کمیٹی کے سربراہ کے طور پر سرکاری تنخواہ اور مراعات پر پلتے رہے۔ جب سائنس کی رو سے انکے پسند اور ناپسند پر مبنی رؤیت کو چیلنج کیا گیا تو اتنے حواس باختہ ہوگئے کہ بجائے اسکے کہ علم سے جواب دیتے، معاملے کو ذات پر حملہ تصور کرتے ہوئے الله کے عطا کردہ علم سائنس اور وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو ہی مغلظات بکنے لگے۔ محترم کو خود نمائی کا اتنا شوق ہے کہ اگر رویت ہلال کمیٹی کا کوئی رکن ان سے پہلے کسی میڈیا والے سے بات کر لے تو اپنی شدید ناراضگی کا برملا اظہار کرتے تھے۔

     

     

    واضح رہے سید مصطفی کمال سید زادے ہیں اور امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ کے فتوے کے مطابق سید کے خلاف بات کرنا کفر کا درجہ رکھتا ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن بریلوی مکتبہ فکر کی ناصرف نمائندگی نہیں کرتے بلکہ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء گرامی اور مفتیان قدر کی کثیر تعداد مفتی منیب الرحمان کو سرے سے مفتی ہی تسلیم نہیں کرتی؛ مفتی منیب بریلوی مسلک کا چہرہ مسخ کرنے اور اتحاد بین مسلمین کو پارہ پارہ کرنے کے ذمہ دار ہیں،

    بین الاقوامی میڈیا پر مفتی منیب الرحمان نواسہ رسول محمد ﷺ، سردار جنت حضرت امام حسین رض کو شہید کرنے والے یزید کے وکیل بن کر پیش ہوئے۔ جبکہ حضرت عمر فاروق(رض) کا قول ہے کہ "دریائے فرات کے کنارے اگر کتا بھی پیاسا مرجائے تو عمر زمہ دار ہوگا” مفتی منیب کے زیر سرپرستی دہشتگردی پھیلاتی تنظیم ٹی ایل پی رحمت للعالمین محمدﷺ کے نام کے نعرے مارتے ہوئے رحمت للعالمین محمد ﷺ کے امتیوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی لیکن نام نہاد مفتی منیب الرحمٰن نے ٹی ایل پی کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے پی ایس پی کے کارکن کی شہادت اور مصطفیٰ کمال سمیت کئی کارکنان کے زخمی ہونے پر تعزیت اور ہمدردی تو درکنار؛ انیس قائم خانی کے بیان پر مفتی منیب کا ٹویٹ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مصطفیٰ کمال کا دہشتگرد تنظیم ٹی ایل پی کو دہشتگرد کہنا مفتی منیب کے کلیجے پر تیر بن کر لگا، مفتی منیب کا شمار ان دین کے دشمنوں اور ملک دشمنوں میں ہوتا ہے جو اسلام اور پاکستان کا چہرہ دنیا کے سامنے مسخ کرنے کے زمہ دار ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی دہشتگرد جماعت ہے، مفتی منیب اسکے سرپرست اعلیٰ ہیں جو حضرت محمد ﷺ کا نام اپنی گندی سیاست کیلئے استعمال کر رہی ہے۔اس سے بڑی توہین حضرت محمد ﷺ کی نہیں ہو سکتی کہ آپ ﷺ کا نام لے کر آپ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والوں کو شہید کیا جائے اور تکلیف پہنچائی جائے۔

    دنیاوی ہارجیت سے مرعوب نام نہاد سیاسی مفتی منیب الرحمان ایک سید زادے سید مصطفیٰ کمال کو انتخابات ہارنے کا طعنہ دے کر ناصرف اپنی ذہنی پسماندگی کا ثبوت دے رہا ہے بلکہ تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین رضی الله عنہ اور اہل بیت کی شہادت کا بھی مزاق اڑا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزید نے بھی خانوادہ رسول محمدﷺ کے کٹے ہوئے سروں کو نیزوں کی نوک پر رکھ کر جیت کا جشن منایا تھا لیکن آج اور دنیا میں آخری انسان کے رہنے تک یزید رسوا ہوگیا اور وہ کٹے ہوئے سر سرداران جنت بن گئے۔ یزید جیت کا جشن منا کر بھی ناکام رہا اور خانوادہ رسول محمدﷺ سر کٹا کر ہمیشہ کے لیے کامیاب رہے۔ ہر جیتنے والا کامیاب نہیں اور ہر ہارنے والا ناکام نہیں۔ رب العالمین نے سید مصطفیٰ کمال کو رحمت للعالمین محمدﷺ کی امت کو کراچی میں جوڑنے کا ذریعہ بنایا جسکا تصور بھی مفتی منیب جیسے علماء سو کے لیے محال ہے۔

    گزارش ہے کہ لبیک کے نعرے مارنے سے کوئی عاشق رسول نہیں ہوجاتا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ پاک سر زمین پارٹی سیف الدین صدیقی کے قاتل اور سید مصطفی کمال اور پی ایس پی کے دیگر کارکنان کو زخمی کرنے والوں کی سرپرستی کرنے والوں کو بھی قاتل سمجھتی ہے۔ اللّٰه ہمارا حامی و ناصر ہے۔

  • مسئلہ عید پر فواد و مفتی منیب مقابلے بازی پر میری رائے از طہ منیب

    گئے دنوں کی بات ہے صاحب حکومت کے ترجمان ہوا کرتے تھے، میڈیا کی سکرینوں پر راج ہوا کرتا تھا، کیمرہ مین آگے پیچھے پھرتے تھے، سب اچھا چل رہا تھا ، پھر کسی کے اشارہ ابرو پر اس وزارت سے سائیڈ پر لگا دئے گئے تو وہ درد اور غم ایسا تھا کہ ناقابل برداشت۔ وزرات سائنس و ٹیکنالوجی کی بدقسمتی کہ ایک بدزبان و بدچلن وکالت کا پیشہ رکھنے والا آدمی جس کی زبان اور ہاتھ دونوں سے لوگ پریشان ہیں اسے میڈیا میں ان رہنے کیلئے کچھ تو چاہیے تھا۔

    بھلا ہوا ہمارے دینی بھائیوں کہ ان سیکیورٹی کا کہ حضرت کا آسان ترین ہدف رویت ہلال اور اسکے ماضی کے تضادات اچھا ہدف نظر آئے تو سو بسم اللہ کر گزشتہ سال کی طرح امسال دوپہر میں ہی اعلان کر دیا کہ آج ٹھٹھہ میں چاند نظر آئے گا اور کل عید ہوگی۔ ہمارا دینی طبقہ حسب سابق ان سیکیورٹی کا شکار ہو کر دفاعی و جارحانہ پوزیشن میں آگیا اور یوں صاحب بہادر کو مطلوبہ اہداف حاصل ہو گئے۔

    اور رویت کے مسئلہ پر لبرل و سیکولر بریگیڈ کی جانب سے فواد چوہدری کی اس نوک جھونک کو سائنس و ٹیکنالوجی کی فتح قرار دیا جانا بھی کسی بیوقوفی سے کم نہیں ہے۔ ایک مشیر نے تو یہاں تک کہا ہے کہ یہ پریس کانفرنس ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی کے نئے باب کھولے گی۔

    ان کو عرض کی کہ لگتا ہے ‏فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کے اگلے ہی لمحے پاکستان نے چاند پر قدم رکھ دئیے، کرونا کی ویکسین ایجاد ہو گئی، غربت مٹ گئی، دنیا بھر سے طلباء ٹیکنالوجی کی تعلیم لینے پاکستان آ رہے ، چینی، روسی و امریکی ماہرین کی اعلی تعلیم کیلئے فواد چوہدری سے اپیل کرنے لگے ہیں، جس پر کچھ ان کے بہی خواہوں کو تکلیف پہنچی تو گزارش کی کہ ‏نان ایشو کو ایشو بنانے اور اسکی بنیاد پر پورے ملک میں انتشار پر مبنی اقدام کو سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی سے تعبیر کرنے پر اگر کچھ جواب دے ہی دیا تو وہ گستاخی ہو گئی۔

    اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایک شہرت کے بھوکے میڈیا کے ترسے شخص کو ویلیو کیوں دیں؟ اس کی اسلام دشمنی جو وہ مولوی کو گالی اور جہالت کے طعنے دے کر پوری کرے اسے لفٹ ہی کیوں کرائیں۔ دونوں فریقین میں بنیادی اختلاف اپنی آنکھ سے دیکھنا اور ایپ سے سائنٹیفکلی جاننا ہے اور ہونا وہی ہے جو رویت ہلال کمیٹی نے طے کرنا ہے کہ کل عید ہو گی یا نہیں اور اسی بنیاد پر کل عید کا فیصلہ کر دیا ہے ۔

    ایسے گھٹیا طور طریقے اختیار کر کے کبھی اسلام پسند کو پاکستان کے قیام کا اور اسکی ترقی کا دشمن قرار دینے والے شخص کو آپکا حد سے زیادہ ڈسکس کرنا اسے یقیناً اور تسکین پہنچائے گا۔