Baaghi TV

Tag: مفرور

  • مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا،سپریم کورٹ

    مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا،سپریم کورٹ

    شوکت بسرا کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل منظورکر لی گئی،شوکت بسرا کو قومی اسمبلی کے حلقے 163 سے انتخابات لڑنے کی اجازت مل گئی

    میرا مذاق بنانے کیلئے مجھے جوتے کا نشان دیا گیا، شوکت بسرا کے کاغذات منظور
    کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد شوکت بسرا نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدی نمبر 804 کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، قیدی نمبر 804 پر اس جیسی 100 ایم این اے شپ قربان، عمران خان دلوں میں بستا ہے، بلا جو نشان ہیں یہ لوگوں کے دلوں میں چلا گیا ہے، میرا مذاق بنانے کیلئے مجھے جوتے کا نشان دیا گیا، میرا مستقبل اس قیدی نمبر 804 کی شکل میں ہے جو کہتا ہے ایاک نعبدو ایاک نستعین، مائیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، صنم جاوید کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے میں اپنی ان بہنوں کو جو جیلوں میں پڑی ہیں سلام پیش کرتا ہوں، یہ فراڈ الیکشن کروا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں استحکام آجائے گا؟ ، آپ ہمیں صرف فیلڈ دے دیں تحریک انصاف کا ووٹر اسے خود لیول کرئے گا،

    سپریم کورٹ، صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ نے صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،صنم جاوید کو تینوں حلقوں این اے 119, این اے 120 پی پی 150 میں الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صنم جاوید اور شوکت بسرا کے ناموں کو بیلٹ پیپر میں شامل کرنے کا حکم دے دیا.

    وکیل شاہزیب رسول نے کہا کہ صنم جاوید نے 21 دسمبر کو اوتھ کمشنر کی موجودگی میں 22 دسمبر کی تاریخ کا بیان حلفی دیا،
    اوتھ کمشنر نے صنم جاوید کے دستخط کی تصدیق کی ،ریٹرننگ افسر نے کہا کہ 22 دسمبر 2023 کو صنم جاوید سے جیل میں کوئی ملنے نہیں گیا تو کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاتے ہیں،جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے ازخود کیسے صنم جاوید کےدستخط کی تصدیق کی؟ وکیل نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے 30 دسمبر کو جیل حکام کو خط لکھا اور 22 دسمبر کو کوئی ملاقاتی نا جانے پر کاغذات مسترد کر دیے،صنم جاوید 10 مئی سے جیل میں ہیں اور ان کے شوہر بھی گرفتار ہیں، جسٹس عرفان نے کہا کہ صنم جاوید نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ انہوں نے22 دسمبر کو دستخط کیے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک ہی امیدوار کے پیچھے سپریم کورٹ تک آئی اور پھر کہتے ہیں انفرادی شخص کے خلاف نہیں؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ریٹرننگ افسر ازخود انکوائری کیسے کرا سکتا ہے؟

    پی ٹی آئی کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت
    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی رہنما عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ، درخواست پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ نے کہا کہ مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا، سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما عمر اسلم کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی .عمر اسلم کے نو مئی کے مقدمات میں مفرور ہونے کی بنیاد پر کاغزات نامزدگی مسترد کئے گئے تھے، سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مفرور شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا بتا دیں کہاں لکھا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج
    دوسری جانب پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی، سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار نے دو فوجداری مقدمات ہونے کے باجود ضمانت کیلئے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا،درخواست گزار نے دونوں مقدمات کا کاغذات نامزدگی میں بھی ذکر نہیں کیا،ریٹرننگ آفیسر نے بیٹے کی لندن میں موجود جائیدادوں کا پوچھا اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر نے میری نامزدگی پر اعتراض اٹھا کر کاغذات مسترد کر دیئے،درخواست گزار کیخلاف وارث خان تھانے میں دو ایف آئی آرز درج تھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستاویزات تو پڑھ کر آئیں کیس چلانا ہے تو فیکٹ بتائیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جس شخص کیخلاف دو فوجداری ایف آئی آرز ہوئیں وہ پورے شہر میں گھوم رہا ہے،ضمانت کیلئے ٹرائل کورٹ جانے میں آپکو مسئلہ کیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل ہمارے پاس ایک کیس تھا انہوں نے ضمانت لی ہوئی تھی، آپ درخواست دیتے ہیں تو ہم فورا سماعت کیلئے مقرر کرتے ہیں مگر تیاری تو کر کے آئیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے کاغذات نامزدگی میں فوجداری مقدمات کا تزکرہ ہی نہیں کیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے اپنے بیان حلفی میں دونوں مقدمات کا بتا دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سچ بولنے کیلئے تیار نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،

    این اے 49 اٹک، طاہر صادق کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما طاہر صادق کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،طاہر صادق نے این اے 49 اٹک سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں ، انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ،لاہور ہائی کورٹ نے طاہر صادق کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہعوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں احتساب عوام نے کرنا ہے الیکشن کمیشن نے نہیں۔

    سپریم کورٹ،صنم جاوید اور شوکت بسرا کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کی مصروفیت کے باعث کیس 2 بجے تک ملتوی کر دیا،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    سپریم کورٹ،اڈیالہ جیل میں قید پرویز الہیٰ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سپریم کورٹ ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے کاغذات مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پرویز الہی پر ایک پلاٹ ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم نہ کرے،پلاٹ کا اعتراض تب ہی بنتا تھا جب جج کا فیصلہ موجود ہو پلاٹ فلاں شخص کا ہے،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک ریٹرننگ افسر کا مکمل آرڈر بھی نہیں ملا،کاغذات نامزدگی پر یہ اعتراض عائد کیا گیا کہ ہر انتخابی حلقے میں انتخابی خرچ کیلئے الگ الگ اکاؤنٹ نہیں کھولے گئے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرویز الہیٰ پانچ حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں، فیصل صدیقی قانون میں کہاں لکھا ہے کہ پانچ انتخابی حلقوں کیلئے پانچ الگ الگ اکائونٹس کھولے جائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر انتخابی مہم میں حد سے زائد خرچہ ہو تو الیکشن کے انعقاد کے بعد اکاؤنٹس کو دیکھا جاتا ہے، کاغذات نامزدگی وصول کرنے والے دن پولیس نے گھیراؤ کر رکھا تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ان باتوں کو چھوڑیں قانون کی بات کریں، وکیل نے کہا کہ ایک اعتراض یہ عائد کیا گیا کہ میں نے پنجاب میں دس مرلہ پلاٹ کی ملکیت چھپائی، اعتراض کیا گیا 20 نومبر 2023کو دس مرلہ پلاٹ خریدا، میرے موکل نے ایسا پلاٹ کبھی خریدا ہی نہیں، اس وقت وہ جیل میں تھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جائیدادیں پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معلوم ہو امیدوار کے جیتنے سے قبل کتنے اثاثے تھے اور بعد میں کتنے ہوئے، آپ پلاٹ کی ملکیت سے انکار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر ایک ہی وقت میں پرویز الہٰی، مونس الہٰی اور قیصرہ الہٰی کی ان ڈکلیئرڈ جائیداد نکل آئی، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ اچانک آپ کی اضافی جائیداد نکل آئی ہے، آپ یہ اضافی جائیداد کسی فلاحی ادارے کو دے دیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نگران حکومت پرویز الٰہی کے کاغذات مسترد کرانے میں ملوث ہے،ریٹرننگ افسر کا کام سہولت پیدا کرنا ہے نہ کہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا،بدقسمتی سے ایک ہی سیاسی جماعت کیساتھ یہ سب ہو رہا ہے،انتخابات کو اتنا مشکل مت بنائیں، آر او کا کام رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں ہوتا، پرویز الہی پر جو اعتراض لگایا گیا اس کا تو بعد میں بھی ازالہ ممکن ہے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت اگر یہ وضاحت کر دے تو آئندہ ایسے بیوقوفانہ اعتراض نہ لگیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وہ کوئی اور طریقہ نکال لیں گے ،وکیل پرویز الہییٰ نے کہا کہ ہم الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے، میرے موکل کو پی پی 32 گجرات کی حد تک الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ووٹوں کو انکے حق دہی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے مخالف امیدوار ارسلان سرور کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ دس مرلہ پلاٹ کے کاغذ تک آپکو کیسے رسائی ملی، وکیل حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ دس مرلہ پلاٹ کا دستاویز پٹواری سے ملی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمیں اِس پٹواری کا نام بتائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں نگران حکومت اس میں ملوث ہے، سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید چوہدری پرویز الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،پرویز الہی قومی اسمبلی کی نشستوں سے دستبردار ہوگئے ،سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کا نام بیلٹ پیپرز میں شامل کرنے اور انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دے دیا

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، ملک ریاض اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، ملک ریاض اشتہاری قرار

    190 ملین پائونڈ کیس میں چھ ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا۔ اشتہاری قرار دینے والوں میں ملک ریاض اور علی ریاض بھی شامل ہیں.

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی، عدالت میں شریک ملزمان سے متعلق تفتیشی آفیسر نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا،شریک ملزمان میں ملک ریاض، علی ریاض ملک، فرحت شہزادی، ضیاء السلام نسیم، شہزاد اکبر اور ذلفی بخاری شامل ہیں

    تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چودہ سینیٹرز کی الیکشنز کو موخر کرنے کی قرارداد سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہے، سینیٹ میں کورم بھی پورا نہیں سپریم کورٹ کو اسکا نوٹس لینا چاہئیے، سینیٹ کی قرار داد آئین کی تضحیک ہے، پی ٹی آئی کا موقف ہے الیکشنز کو کسی صورت موخر نہیں ہونا چاہیئے،

    اڈیالہ جیل کےباہر میڈیا سےبات چیت کرتے ہوئے لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا کہا ہے، الیکشن ٹریبونلز نے بیشتر کاغذات نامزدگی منظور کئے ہیں،الیکشن ٹریبونلز کے فیصلے اس بات کی عکاسی ہے آر اوز کسطرح کے فیصلے دیتے رہے ہیں،ہماری درخواست پر سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب اور سیکرٹری پنجاب کو نوٹسز جاری کئے ہیں، جس انداز سے پی ٹی آئی کے امیدواروں کے خلاف کاروائیاں کی گئی وہ دنیا نے دیکھا،ہمارا مطالبہ ہے پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ دیا جائے،نگراں حکومتیں پی ٹی آئی کی انتخابی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں،

    عدالت نے ملک ریاض کو مفرور قرار دے دیا، لطیف کھوسہ
    لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں درخواست ضمانت پر ہمارے دلائل مکمل ہوچکے ہیں،نیب کی پراسیکیوشن ٹیم مسلسل التواء مانگ رہے ہیں،نیب نے پچھلی سماعت پر بھی عدالت سے وقت مانگا آج بھی وقت مانگا، نیب نے پچھلی سماعت پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کو بطور پراسیکیوٹر پیش کیا، عدالت کو بتایا کیا نواز شریف نیب کو کنٹرول کررہا ہے، عدالت نے پیر 8 نومبر کیلئے سماعت رکھی ہے، ملک ریاض کے وکیل فاروق ایچ نائیک بھی آج عدالت میں پیش ہوئے، ملک ریاض کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کردی گئی ہے، عدالت نے ملک ریاض کو مفرور قرار دیا ہے،

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    واضح رہے کہ سات دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو ا تھا،احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے.

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • اسحاق ڈارکا گھر فوری طور پر نیلام کیا جائے: ڈی سی لاہور کو خط لکھ دیا گیا

    اسحاق ڈارکا گھر فوری طور پر نیلام کیا جائے: ڈی سی لاہور کو خط لکھ دیا گیا

    نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا بنگلہ فوری طور پر نیلام کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر لاہور کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔

    نیب لاہور کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو مراسلہ بھجوایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں اسحاق ڈار کا بنگلہ نیلامی کرنے کے لیے فوری طور پر تمام کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

    لاہور کے علاقے گلبرگ میں 4 کنال اراضی پر قائم بنگلے کی کل مالیت کا اندازہ 25 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔بنگلے کی نیلامی کی صورت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں نیب لاہور کی اسحاق ڈار سے یہ دوسری بڑی وصولی ہوگی۔اس سے قبل نیب اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹ سے 50 کروڑ روپے نکال کر قومی خزانے میں جمع کروا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور کی احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو کرپشن ریفرنس میں عدم پیروی پر دسمبر 2017 میں مفرور ملزم قرار دیا تھا۔عدالت نے نیب ریفرنس میں ظاہر کی گئی ملزم کی تمام جائیدادیں بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کر کھے ہیں۔

    اسحاق ڈار کی اہلیہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بنگلے کی نیلامی رکوانے کے لیے درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا۔ احتساب عدالت نے گلبرگ تھری لاہور کا گھر 7نومبر کو ضبط کر کے نیلام کرنے کا حکم دیا تھا ،تبسم اسحاق ڈار نے اسلام آباد کی عدالت میں موقف اپنایا تھا کہ گلبرگ تھری لاہور کا گھر میری ملکیت ہے ،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وفاقی وزیر خزانہ کے گھر کو پناہ گاہ میں بدل دیا گیا تھا، حکومت نےا سحاق ڈار کے گھر میں بستر لگوا دیئے تھے ، سات کنال کے بنگلے میں تمام کمروں میں بستر لگائے گئے تھے، گھر کے باہر پناہ گاہ کا بورڈ بھی لگا دیا گیا،اسحاق ڈار کے گھر میں موجود تمام کمرے ائیر کنڈیشنڈ ہیں اس گھر میں پنا ہ گاہ میں خواتین کی رہائش کا الگ انتظام کیا گیا تھا، کھانے کے ٹیبل بھی لگوا دیئے گئے تھے ،

    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر کی نیلامی ہونی تھی تا ہم عدالتی حکم امتناع اور گاہک نہ آنے کی وجہ سے بولی روک دی گئی تھی، اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاوَن لاہورنے نیلامی اگلی تاریخ تک موخر کر دی تھی اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان رانجھا نے اس موقع پر کہا کہ اسحاق ڈار کے سیکریٹری نے اسٹے آرڈر دکھایا ہے قانونی ٹیم اسٹے آرڈر کا جائزہ لے گی،بارش اور موسم خراب ہونے کے باعث خریدار نہیں پہنچ سکے دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلی تاریخ تک نیلامی موخر کر دی گی تھی بعد ازاں عدالت نے سٹے دے دیا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے اور اسحاق ڈار کے گھر کو نیلام کرنے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

    خورشید شاہ پیشی.عدالت نے ایسا کیا کہا کہ نیب حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    اسحاق ڈار کا بیٹا غصے میں آ گیا، حکومت کے خلاف بڑا اعلان کر دیا

    سال کی سب سے اچھی خبر وفاقی وزیر علی زیدی نے بتا دی