Baaghi TV

Tag: مقام

  • پاکستان کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلائیں گے،شہباز شریف

    پاکستان کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلائیں گے،شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں راول چوک فلائی اوور کا افتتاح کر دیا، وزیر اعظم کو منصوبے سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔
    مسلح افواج کی جانب سے عظیم پاکستانیوں کو ڈائمنڈ جوبلی خوشیاں مبارک

    یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں راول چوک فلائی اوور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا کہ گزشتہ 4 سال سے یہ منصوبہ التوا کا شکار تھا، جسے چند ماہ میں مکمل کیا، امید ہے بھارہ کہو کا منصوبہ 4 ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔

     

    75 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے،وزیراعظم نے پرچم کشائی کی

     

    وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے یہ ملک بےپناہ قربانیوں سے حاصل کیا ہے، ہم دن رات محنت کرکے ملک کی تقدیر بدلیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلائیں گے۔

    اس سے قبل وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ہمارے آبائواجداد کی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے،قائد اعظم نے ایمان،اتحاد اور نظم وضبط کی تعلیم دی،قیام پاکستان کی ولولہ انگیز داستان ہمارے لئے مشعل راہ ہے،پاکستان اگر جوہری قوت بن سکتا ہے تو معاشی قوت بھی بن سکتا ہے،ملک کو اس وقت قومی مکالمے کی اشد ضرورت ہے،ہمیں امانت و دیانت کواپنا شعار بنانا ہوگا.

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کنونشن سنٹر میں پرچم کشائی کی،اس موقع پر قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔ تقریب میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی،سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری،وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگ زیب،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ،ریاض پیرزادہ،شاہ زین بگٹی،شیری رحمان،مرتضی جاوید عباسی،مولانا اسعد محمود،خالد مگسی،انجنئیر امیر مقام،عسکری قیادت، اراکین پارلیمنٹ،غیر ملکی سفارت کاروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے خطاب کے دوران پاکستانیوں کو جشن آزادی کی مبارک دیتے ہوئے کہا کہ اس نعمت پر ہم اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں

  • تاقیامت خلیفہ بلافصل صدیق اکبرؓکے مقام کوکوئی نہیں پہنچ سکتا،علامہ اورنگزیب

    تاقیامت خلیفہ بلافصل صدیق اکبرؓکے مقام کوکوئی نہیں پہنچ سکتا،علامہ اورنگزیب

    ملک بھر میں جلسے، جلوس، ریلیوں اور سیمینار منعقد کئے گئے ھیں،علامہ ربنوازحنفی
    انبیاء کرامؑ کے بعدمومنین میں سب سے افضل مقام سیدنا صدیق اکبرؓکاہے،مدح صحابہؓجلوس سے خطاب
    کراچی ہلسنّت والجماعت پاکستان کے زیر اہتمام خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا یوم وفات 22 جمادی الثانی ملک بھر میں عقیدت و احترام سے جبکہ 5 فروری یکجہتی کشمیر قومی جوش و جذبے سے منایا گیا، اس موقع پر ملک بھر میں جلسے، جلوس، ریلیوں اور سیمینار منعقد کئے گئے، کراچی میں لسبیلہ چوک تاتبت سینٹرل پر عظیم الشان مدح صحابہؓ مطالباتی جلوس نکالاگیا،جس میں ہزاروں کی تعدادمیں علماء کرام،وکلاء،اسکول،کالجز،مدارس کے طلباء،عوام اہلسنّت اورکارکنان نے بھرپورایمانی غیرت وحمیت کے ساتھ شرکت کی،کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، لاھور، پشاور اور مختلف شہروں میں خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد احمد لدھیانوی، علامہ اورنگزیب فاروقی، مولانا عبدالخالق رحمانی، مولانا مسعودالرحمن عثمانی، راو جاوید اقبال، مولانا اشرف طاہر، مولانا عبداللہ سندھی، مولانا رمضان مینگل، علامہ عطا محمد دیشانی، مولانا تصدق حسین، مولانا معاویہ اعظم،مولانارب نوازحنفی،مولاناتاج محمدحنفی سیدمحی الدین شاہ،مولاشکیل فاروقی،مولاناعادل عمر،مولاناعبدالرافع شاہ و و دیگر نے کہا کہ 22 جمادی الثانی کو عام تعطیل کا مطالبہ اہلسنت کا دیرینہ مطالبہ ہے، حکومت پاکستان و صوبائی حکومتیں عوام اہلسنّت کے دیرینہ مطالبے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں، جس سے عوام اہلسنّت میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق ؓکی تکفیر یا توہین عوام اہلسنت کسی بھی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں، قومی سلامتی کے ادارے اس توہین اور تکفیر کو روکنے کے لئے ملک میں مؤثر قانون سازی کریں، توہین صحابہ کا سلسلہ نہ رکا اور قانون سازی نہ کی گئی تو پرامن و نہتے عوام اہلسنت اسلام آباد کا بھی رخ کر سکتے ہیں رہنماوں نے مزید کہا کہ سیدنا صدیق اکبر اور مظلوم کشمیری عوام سے آج ملک بھر کے عوام نے اظہار یکجہتی کیا ہے، حکمران عوام کی آواز سنیں، تحفظ اساس بنیاد اسلام بل کے راستے میں جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں ان رکاوٹوں کو دور کر کے اس بل کو منظور کیا جائے، سارے صحابہ اسلام کی بنیاد جبکہ ابوبکر صدیق رض سنگ بنیاد ہیں، کسی کو اسلام کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے، ملک بھر میں نکلنے والے جلوسوں کے موقع پر شرکاء نے کشمیری پرچم بھی ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھے، زیراہتمام خلیفہ بلافصل،سسررسولؐ،امام الصحابہؓ اول المسلمین سیدناصدیق اکبرؓکایوم وفات(22جمادی الثانی)ملک بھرمیں عقیدت واحترام سے منایاگیا،سیدناصدیق اکبرؓکے فضائل ومناقب عوام الناس تک پہنچانے کیلئے ملک بھرمیں سیمینارز،تقاریب،جلسے اوریوم صدیق اکبرؓسرکاری سطح پرنہ منائے جانے اورعام تعطیل نہ کرنے کیخلاف شہر شہرقریہ قریہ مدح صحابہؓ مطالباتی جلوس نکالے گئے، قائدین نے کہاکہ امام الصحابہؓسیدناصدیق اکبرؓکامقام روئے زمین پراتنابلندہے کہ تمام انبیاء کرام ؑکے بعدسب سے بلنداوراعلیٰ وارفع اگرکسی کامقام ہے تووہ خلیفہ بلافصل سیدناصدیق اکبرؓکاہی ہے،قیامت تک آنیوالی امت سیدناصدیق اکبرؓکی گردتک بھی نہیں پہنچ سکتی،حضوراکرمؐنے اپنی حیات مبارکہ میں ہی سیدناسیدیق اکبرؓ کومصلیٰ امامت پر فائزکرکے قیامت تک آنیوالی امت کوبتلادیاکہ حضوراکرمؐ کے دنیاسے پردہ فرماجانے کے بعدقیامت تک امت کیلئے سیدناصدیق اکبرؓہی امام اول اورخلیفہ بلافصل ہیں،جولوگ سیدناصدیق اکبر ؓکوفراموش کرکے کسی اورکے امام ہونے کادعویٰ کرتے ہیں وہ دراصل صدیق اکبرؓ نہیں بلکہ حضوراکرمؐ کاانکارکرتے ہیں۔

  • آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آج یونیورسٹی میں ایک دوست نے بڑا ہی عجیب سوال کر ڈالا کہ "آج پوری دنیا میں مسلمان اپنا مقام کیوں کھو چکے ہیں، مسلمانوں کو حقارت بھری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟”
    کہنے کو تو یہ ایک عام سا سوال ہے لیکن اس سوال کے پس منظر میں چھپے اسباب بہت ہی کڑوے ہیں، کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج ہم اپنا مقام کھو چکے ہیں، دنیائے کفر ہم پر چڑھ دوڑی ہے اور ہم بے بسی اور بے حسی کے تصویر بن چکے ہیں، جو دین آیا ہی غالب ہونے کے لیے تھا آخر اس کے پیروکار بے یارو مددگار کیوں ہو گئے.
    شاید اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا

    شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
    ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    آخر ہم کیوں بدنام نہ ہوتے، ہر وہ کام جس سے ہمیں ہمارا دین اسلام منع کرتا ہے ہم نے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے، کہلوانے کو تو ہم سب مسلمان ہیں لیکن کیا ہم میں کوئی ایسی صفت موجود ہے جو ہمیں ایک کامل مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہو، اگر آج ہم اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں تو شاید ہی ہم اپنے اندر کوئی ایسی صفت تلاش کر پائیں جو ایک سچے اور کامل مسلمان کا خاصہ ہونی چاہیے، فرقہ واریت کے ناسور نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے.
    ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
    ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘

    آج ہم فرقوں میں اس قدر بٹ چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں، اپنے اپنے فرقوں کے بنائے گئے خود ساختہ خول میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے ہیں، غیر اسلامی رسومات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا چکے ہیں.
    یہ دنیا فانی ہے ہر ذی روح نے اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے، کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ قبر میں جب فرشتے ہمارا حساب کتاب کرنے آئیں گے تو کیا وہ ہم سے یہ سوال کریں گے کہ بتا تیرا فرقہ کیا ہے؟ تو کس فرقے کا پیروکار ہے؟
    ہر گز نہیں! فرشتے نے ہم سے یہ سوال کرنے ہیں کہ بتا تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تو کیا ہم اس وقت اندھیری قبر میں فرشتے کے ان سوالوں کے جواب دے پائیں گے، جس طرح ہم زندگی کے امتحانات کے لیے بھر پور تیاری کرتے ہیں اسی طرح ہمیں قبر کے امتحان کے لیے بھی تیاری کرنا ہو گی.
    ہمارا اللہ بھی ایک، ہمارا رسول بھی ایک اور ہمارا دین بھی ایک تو پھر آخر ہم منتشر کیوں ہیں.
    ٹرک کی بتی کا پیچھا کرنا چھوڑ دیں حق اور سچ کو تلاش کرنے اور جاننے کی کوشش کریں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائیں، دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تعمیل کرنا ہو گی، فرقہ واریت کے ناسور کو ختم کرنا ہو گا، محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا.
    نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اس دنیا میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائیں گے اور آخرت میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے.
    اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو. آمین