پشاور ہائی کورٹ میں سابق وفاقی وزیرمملکت علی محمد خان کی کیسز کی تفصیلات فراہمی کے درخواست پر سماعت ہوئی ہے سماعت جسٹس نعیم انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی،سماعت کے دوران درخواست گزار علی زمان ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں انکوائریز کی تفصیلات ابھی تک نہیں دی گئی، درخواست گزار 25 جولائی کو رہا ہوئے تو ڈپٹی کمشنر مردان نے تھری ایم پی او میں گرفتار کیا۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو مزید بتایا کہ جسٹس اعجاز انور صاحب نے درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا اور ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ایک ڈی سی کو عبرت کا نشان بنائے گے تو کوئی غیرقانونی کام نہیں کرے گا۔ وکیل درخواست گزار علی زمان نے کہا کہ ہماری درخواست ہے کہ اس کیس کو اسی بنچ کو بھیج دیا جائے۔
جسٹس نعیم انور درخواست گزار ضمانت پر رہا ہوئے ہیں اب اس کیس میں کچھ نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں تو ہم اسی بنچ کو بھیج دیتے ہیں۔ اور عدالت کا کیس جسٹس اعجاز انور کی بنچ میں لگانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
Tag: مقامی عدالت
-

پشاور ہائی کورٹ،میں علی محمد خان کی کیسز کی سماعت
-

کےالیکٹرک کی پی ایم ٹی سے زخمی ہونیوالے شہری کو92 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم
کراچی : مقامی عدالت نے کےالیکٹرک کی پی ایم ٹی سے زخمی ہونیوالے شہری کو92 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
باغی ٹی وی: سینئر سول جج رزاق حسین کی عدالت میں کے الیکٹرک کی پی ایم ٹی سے شہری کے زخمی ہونے کے کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے کےالیکٹرک کو متاثرہ شہری عاصم امام کو 92 لاکھ روپے ہرجانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک 30 دن میں ہرجانے کی رقم ادا کرے۔
عدالت نے مراد سعید کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کا کیس نمٹا دیا
درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ عثمان فاروق نے واقعے سے متعلق عدالت میں کہا کہ اورنگی ٹاؤن صادق آباد میں 15 نومبر 2018 کو مذکورہ واقعہ پیش آیا تھا جہاں پی ایم ٹی کے الیکٹرک کی غفلت کے باعث گرا واقعے میں عاصم امام بری طرح زخمی ہوئے آج بھی جسم کے کئی حصے ناکارہ ہیں-
بھارت میں 10 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ کے الیکٹرک پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور ہرجانہ اداکرنےکاحکم دیاجائے عدالت نے کے الیکٹرک کو متاثرہ شہری کو 92 لاکھ روپے ہرجانہ اداکرنے کا حکم دیا ہے۔
پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا …
-

دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم
دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی سے بھاگ کر شادی کرنے والی دعا زہرہ کیس کی مقامی عدالت میں سماعت ہوئی،
عدالت نے سیکرٹری صحت کو میڈیکل بورڈ بنا کر دعا زہرا کی عمر کے تعین کرنے اورکیس کی مزید تفتیش کا حکم دیا ہے، مقامی عدالت میں سماعت ہوئی تو عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ظہیر نے اپنے پورے بیان میں کہا کہ لڑکی میرے پاس آئی ،اس پر وکیل مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ ظہیر نے اپنے بیان میں کہا تین سال سے دعا رابطے میں تھے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی مزید تحقیقات اورمیڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے دیتے ہیں عمر کے تعین کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے لیے سیکرٹری صحت کو لکھیں گے سیکرٹری صحت میڈیکل بورڈ سے متعلق عدالت کو بھی آگاہ کریں بچی کو یہاں لے کر آئیں یا وہاں میڈیکل کرائیں یہ پراسیکیوشن کا مسئلہ ہے
عدالت میں تفتیشی افسر نے کہا ہم نے قانون کے مطابق کام کیا، عدالت نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سی کلاس کی بات نہیں کررہے صرف عمرکے تعین کے لئے میڈیکل بورڈ بنارہے ہیں،وکیل نے کہا کہ لاہور میں مجسٹریٹ کے پاس دعا زہرا کے والد اور کزن کے خلاف جعلی درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ والد اور کزن نے دعا زہرا اور اس کے شوہر کو ڈرایا دھمکایا دعا نے لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے والد اور کزن کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا سندھ ہائیکورٹ میں بھی والد اور کزن سے متعلق دعا نے کچھ نہیں کہا پولیس کی نگرانی میں دعا کو لاہورسے لا کربیان ریکارڈ کرایا گیا ایسے میں آزادانہ طور پر بیان کیسے ہوسکتا ہے عمر کے تعین سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں 16 سال کا بچہ اگر اپنی مرضی سے بھی کسی کے ساتھ جاتا ہے تووہ اغوا تصور ہوگا، ادرا ریکارڈ کے مطابق جب دعا زہرا گئی تواس کی مر 13 سال 11 ماہ اور کچھ دن تھی
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میری سمجھ بوجھ کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے بعد ازاں عدالت نے سیکرٹری صحت کو میڈیکل بورڈ بناکر دعا زہرا کی عمر کے تعین اور کیس کی مزید تفتیش کا حکم دے دیا
کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا
کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس
والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان
دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل
واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھےمیرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی