Baaghi TV

Tag: مقبرے

  • غزہ میں تعمیراتی کام کے دوران رومن عہد کے مقبروں کی دریافت

    غزہ میں تعمیراتی کام کے دوران رومن عہد کے مقبروں کی دریافت

    غزہ میں آثار قدیمہ کی دریافت کے سلسلے میں ماہرین نے رومن بادشاہت کے دور کے مکمل قبرستان کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : “العربیہ” کے مطابق شمالی غزہ میں رومن عہد کے درجنوں مقبرے دریافت ہوئے ہیں اور تعمیراتی کام کے دوران دیگر جگہوں کی دریافت ہوئی ہے تعمیرات سے منسلک کارکنوں نے 31 مقبرے دریافت کیے ہیں یہ مقبرے بیت لاہیا کے نزدیک دریافت کیے گئے ہیں۔

    قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    یہ تعمیراتی کام مئی 2021 کی 11 روزہ جنگ کی تباہی کے بعد سے چل رہا ہے تاہم تعمیراتی کام کو ان دریافتوں کی وجہ سے جزوی طور پر روک دیا گیا ہے مقامی متعلقہ وزارت کے حکام کی ایک ٹیم نے پیر کے روز ان جگہوں کا دورہ کیا جہاں سے رومن عہد کے آثار دریافت کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے اب تک پہلی صدی عیسوی کے دور کی رومن عہد کے آثار کی دریافت کے سلسلے میں 51 مقبرے دریافت کیے جا چکے ہیں۔ جن میں سے ابتدائی طور پر تعمیراتی کارکنون نے دریافت کیے تھے اندازہ کیا گیا ہے کہ اس علاقے میں 75 سے 80 مقبروں کی دریافت متوقع ہے۔

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    دوہزار سال پرانی قبرستانوں کی دریافت یونانی تباہ شدہ بندرگاہ کے پاس ملی ہیں نوادرات سے متعلقہ وزارت کی ٹیم ان مقبروں کو دستاویزی اعتبار سے محفوظ کرنے پر اور دریافت گاہ کو محفوظ بنانے میں ‘فوکس’ کر رہی ہے۔

    نوادرات کی وزارت کے انچارج جمال ابو ردا نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا اس جگہ کی غیر معمولی اہمیت ہے، ہمیں یقین ہے کہ یہ جگہ مزید وسعت پذیر ہو گی اور مزید دریافتیں ہو سکیں گی۔

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

  • سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    ریاض: آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’ہیلوسین‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی۔

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ان مقبروں کی ترتیب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کیونکہ بعض مقامات پر کم تعداد میں مقبرے ہیں جبکہ کچھ اور جگہوں پر مقبروں کی تعداد زیادہ بھی ہے اور وہ جسامت میں بھی قدرے بڑے ہیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل نخلستانوں اور بڑے کنووں والے علاقوں کے گرد زیادہ مقبرے بنائے گئے تھے جبکہ کم آبی وسائل (چھوٹے نخلستانوں اور کنووں) والے مقامات کے آس پاس مقبرے کم تھے۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس کے علاوہ، ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے ان مقبروں میں زنجیر کی کڑیوں جیسی ترتیب ان آبی ذخائر سے بھی قریب ہے جو قدیم جزیرہ نما عرب میں ایک تسلسل سے واقع تھے اور وہاں رہنے والوں کےلیے خصوصی اہمیت بھی رکھتے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر وہ راستے بھی تھے جنہیں مقامی لوگ ایک سے دوسرے علاقے تک سفر میں استعمال کیا کرتے تھے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ان علاقوں سے ملنے والی قدیم انسانی ہڈیوں اور جانوروں کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کے آس پاس چراگاہیں بھی رہی ہوں گی جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے کےلیے جاتے ہوں گے۔

    یہ مقبرے آج پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ مقبرے گنبد جیسی شکلوں میں تعمیر کیے گئے ہوں گے ڈاکٹر ڈالٹن نے کہا کہ قدیم سعودی عرب کے باشندے ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب اور سماج دوست تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر یہ مقبرے مذہبی رسوم و رواج کا حصہ تھے یا پھر انہیں علامتی طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…