Baaghi TV

Tag: مقبوضہ کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک،اطلاعات کے مطابق حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں مشعال ملک نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، بھارتی فوج یاسین ملک کی فیملی کو مختلف طریقوں سے ہراساں کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بوڑھی ماں اور بہن کو بھی تنگ کیا جارہا ہے جب کہ عالمی دنیا کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی ہے۔

    مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کو جیل میں ڈرانے اور دھمکانے کے لیے انکی فیملی کو ہراساں کیا جارہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ اشفاق اور شعیب کا جرم اتنا ہے کہ وہ یاسین ملک کے بھانجے ہیں۔

    یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا کہ اشفاق کی عمر 23 سال ہے جب کہ شعیب کی عمر 27 سال ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کو گرفتار ہوئے تین سال ہونے کو ہیں۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نے کہا ہے کہ حیدر پورہ جعلی مقابلے کے بارے میں بھارتی پولیس کی پریس بریفنگ پرانی کہانی کا اعادہ ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پی اے جی ڈی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ عوام میں یہ گہرا تاثر پایاجاتا ہے کہ اس واقعے میں شہید ہونے والے شہریوں کو بھارتی فورسز نے انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کیاور پولیس کا تازہ بیان ایک من گھڑت کہانی اور پردہ پوشی کی کوشش لگتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سے عوام اور شہداءکے اہلخانہ کے جائز خدشات دورنہیں ہونگے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیںپختہ یقین ہے کہ قابل اعتماد عدالتی تحقیقات سے کم کسی چیز سے شکوک دور نہیں ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو مزید تاخیر کئے بغیر مقررہ وقت کے اندر اندر عدالتی تحقیقات کا حکم دینا چاہیے۔واضح رہے بھارتی پولیس نے حیدر پورہ جعلی مقابلے میں ملوث بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو بری الذمہ قراردیاتھا۔

  • قابض بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا

    قابض بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا

    سری نگر: قابض بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کے دوران فائرنگ کرکے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائرنگ کرکے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا قابض فوج نے گزشتہ روز پلوامہ میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے 2 نوجوانوں کو شہید کیا جب کہ آج اسلام آباد میں مزید ایک نوجوان کو شہید کردیا گیا۔

    بھارتی فورسزکی فائرنگ اور تشدد سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کرکے اب بھی سرچ آپریشن جاری ہے جب کہ گزشتہ روز بھی ضلع شوپیاں میں آپریشن کے دوران 2 نوجوان شہید ہوگئے تھے جس کے بعد گزشتہ 3 روز کے دوران شہید نوجوانوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی ہے۔

    گزشتہ روز بھی مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے گھر گھر تلاشی لی اورنہتے اور بے قصور نوجوانوں کو بلاوجہ گرفتار کیا گیا-

    قابض بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا

    بھارتی قابض فوج کی جانب سے شہریوں پر فائرنگ بھی کی گئی جس کے نتیجے میں 2 نوجوان شہید ہو گئے تھے جبکہ متعدد افراد کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا بھارتی جارحیت کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا اور بھارتی فوج کی دہشتگردی کے خلاف نعرے لگائے۔

    قبل ازیں ضلع اسلام آباد میں بھی قابض فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان شہید ہو گیا تھا۔

    13 سالہ کشمیری بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

  • بھارتی فورسزکی فائرنگ اور تشدد سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    بھارتی فورسزکی فائرنگ اور تشدد سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کی فائرنگ سے 2 نوجوانوں شہید ہو گئے-

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے گھر گھر تلاشی لی اورنہتے اور بے قصور نوجوانوں کو بلاوجہ گرفتار کر لیا۔

    قابض بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا

    بھارتی قابض فوج کی جانب سے شہریوں پر فائرنگ بھی کی گئی جس کے نتیجے میں 2 نوجوان شہید ہو گئے جبکہ متعدد افراد کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا بھارتی جارحیت کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا اور بھارتی فوج کی دہشتگردی کے خلاف نعرے لگائے۔

    گزشتہ روز ضلع اسلام آباد میں بھی قابض فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان شہید ہو گیا تھا۔

    13 سالہ کشمیری بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

    دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی فتح پر خوشی منانے والا بھارتی طالب علم 2 ماہ سے قید ہے جبکہ وکیلوں نے بھی کیس لینے سے انکار کر دیا ہے مقبوضہ کشیمر میں رہمے والی حفظیہ بیگم کا بیٹا شوکت احمد غنائی بھارتی شہر آگرہ کے ایک کالج میں طالب علم تھا جسے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی فتح کی تصاویر شیئر کرنے پر قید کرلیا گیا۔

    حفظیہ بیگم کا کہنا تھا کہ ہر گزرتا دن پہلے سے زیادہ تکلیف دہ ہے، 2 مہینے ہوگئے میرا دل اپنے لختِ جگر کو دیکھنے کیلئے تڑپ رہا ہےتاج محل سے قریب آگرہ کی سخت سیکورٹی جیل میں شوکت 2 ماہ سے قید ہیں اور وکیلوں نے بھی انتہائی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا کیس لینے سے انکار کردیا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی فتح پر جشن منانے والا بھارتی طالب علم دوستوں سمیت 2 ماہ سے قید

    شوکت کی بہن بانو کا کہنا تھا کہ 24 اکتوبر کو جب بھارت اور پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میچ تھا, تب شوکت اور ان کے دوستوں نے پاکستان کی جیت پر ایک دوسرے کو میسجز شیئر کئے اور انہی میسجز نے ان سب کو جیل پہنچا دیا شوکت، عنایت اور ارشد آگرہ کے ایک کالج میں میچ دیکھ رہے تھے جب پاکستان کی بھارت کیخلاف فتح ہوئی تو ان دوستوں نے واٹس ایپ پر اپنی خوشی کا ایک دوسرے سے اظہار کیا شیئر کی گئیں تصاویر میں بابر اعظم کی بھی تصویر تھی طلباء پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے کالج میں پاکستان حمایت میں نعرے بازی کی جبکہ کالج کے حکام کا کہناتھا کہ ایسا بالکل نہیں ہوا۔

    بریکنگ، سرینگر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر حملہ

    بی بی سی نے بھارت کی Young Lawyers’ Association کے ممبر نتن ورما سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ وکیل کا کام نہیں کہ وہ کسی بھی ملزم سے قطع نظر غیر جانبدار ہوکر اس کا کیس لڑے ؟جس پر نتن کا کہنا تھا کہ طالب علموں نے بھارت میں رہ کر پاکستان کو سراہا ہے، ہمیں تکلیف ہوئی ہے اس لیے ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان کا کیس نہیں لڑیں گے۔

    نمائندے نے مزید پوچھا کہ ملک کے آئین میں تو آزادی اظہار رائے کا قانون موجود ہے، اسپورٹس میں کوئی شہری دوسرے ملک کو سپورٹ کیوں نہیں کرسکتا؟ وکیل کا جواب میں کہنا تھا کہ قانون موجود ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے ملک میں دوسرے ملک کو سراہا جائے۔

    بھارتی فورسزکی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

  • بھارت فوج نے کل پھرسری نگرکی جامع مسجد میں نماز جمعہ پرپابندی لگا دی

    بھارت فوج نے کل پھرسری نگرکی جامع مسجد میں نماز جمعہ پرپابندی لگا دی

    سری نگر :بھارت فوج نے کل پھرسری نگرکی جامع مسجد میں نماز جمعہ پرپابندی لگا دی،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نےظلم اورجبر کی روایات کی آج پھر تاریخ دہرا دی ،اطلاعات ہیں کہ بھارتی فوج نےکل سری نگر کی جامع مسجد میں نمازجمعہ پرپابندی لگا دی ہے،

    بھارتی فوج نے مسلمانون کے سخت ردعمل کےبعد کہاہےکہ جمعہ کے علاوہ باقی دنوں میں نماز پڑھی جاسکتی ہے، بھارتی حکام نے مسجد میں حکومت مخالف احتجاج کی وجہ سے پابندی لگا رکھی ہے۔

    سرینگر کی جامعہ مسجد میں 33 ہزار افراد کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے اور خاص موقعوں پر یہاں کئی لاکھ مسلمان قریب کی سڑکوں اور گلیوں میں صفیں بچھا کر نماز ادا کرتے ہیں۔

    بھارتی حکام کو یہ مسجد خطرے کا گڑھ لگتی ہے جہاں سے شروع ہونے والے احتجاج اور مظاہرے کشمیر کے متنازع علاقہ میں بھارتی خودمختاری کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

    کشمیری مسلمانوں کے لیے یہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور ایسا مقام جہاں وہ اپنے سیاسی حقوق کے لیے بھی آواز بلند کرسکتے ہیں۔

    تلخ تنازع کی وجہ سے، کشمیر کے مرکزی شہر میں واقع یہ مسجد پچھلے دو برس سے بند پڑی ہے۔ امام مسجد کو ان کے گھر میں نظربند کردیا گیا ہے اور مسجد کا مرکزی دروازہ زنجیروں اور تالوں سے بند کردیا گیا ہے۔

    مسجد کی بندش نے کشمیر کی مسلم آبادی میں غصے کو مزید بڑھا دیا ہے، بھارتی حکام نے خبر رساں ایجنسی اے پی سے مسجد پر پابندیوں کے حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا۔

    ماضی میں حکومتی عہدیداران کا کہنا تھا کہ مسجد کو جبری طور پر بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کی انتظامی کمیٹی اپنے احاطے میں بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے میں ناکام رہی۔

    600 سال پرانی یہ مسجد 2019 میں لگنے والی پابندیوں کی زد میں آئی جب حکومت نے کشمیر کی خودمختار ریاست کی حیثیت ختم کردی۔پچھلے دو سال کے دوران علاقے کی کئی دیگر مساجد اور مزاروں کو بند کیا گیا لیکن اب ان میں سے بیشتر کو مذہبی اجتماعات کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    جامعہ مسجد بدستور جمعہ کی نماز کے لیے بند ہے، حکام نے ہفتے کے باقی 6 دن مسجد کھولنے کی اجازت دے دی ہے لیکن جمعہ کے دن مسجد کو بند رکھا جاتا ہے۔

    علاقے کے مسلمانوں کے لیے مسجد کا بند ہونا ماضی کی درد بھری یادوں کو تازہ کردیتا ہے، سنہ 1819 میں سکھ حکمرانوں نے جامعہ مسجد کو 21 سال تک بند رکھا۔پچھلے 15 سالوں کے دوران یہ مسجد بھارتی حکومت کی جانب سے اکثروبیشتر بندش اور لاک ڈاؤن کا شکار رہی ہے۔

  • قابض بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا

    قابض بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ظلم اور بربریت کا سلسلہ جاری ہے بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض فوج نے ضلع پلواما میں ایک اور کشمیری کو شہید کر دیا ہےکے ایم ایس کے مطابق کشمیری نوجوان کو نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران شہید کیا گیا۔ قابض انتظامیہ نے ضلع پلواما کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں اور علاقے میں ظالم فوج کا سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

    بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے ،شاہ محمود قریشی

    یاد رہے کہ قابض فوج نے 9 دسمبر کو بھی چک چولان میں محاصرے اور تلاشی کے دوران3 نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے بھاری اسلحہ اور کیمیائی مواد کا استعمال کرتے ہوئے ایک رہائشی مکان کو بھی تباہ کر دیا گیا جبکہ آپریشن کے دوران علاقے میں انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل رکھا گیا۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ علاقے میں قابض فوج کے نام نہاد آپریشن کے دوران نوجوانوں کی شہادت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

    سری نگر:دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں کشمیری رہنما خرم جاوید گرفتار

    13 سالہ کشمیری بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

    دنیا والو :بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے : محبوبہ مفتی

  • کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر:  بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار رہی ہے:اقوام متحدہ

    کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر: بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار رہی ہے:اقوام متحدہ

    جنیوا:کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں جاری،بھارتی فوج اورپولیس آوازکودبا اور صحافیوں کومار رہی ہے :اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لالر Mary Lawlorنے کشمیری صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی متعدد کارروائیوں کے بارے میں بھارت کیساتھ اپنی مراسلت عام کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مراسلت بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے 2 صحافیوں قاضی شبلی اور آکاش حسن اور بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن چندر بھوشن تیواری کو ہراساں کرنے کے بارے میں تھی۔میری لالر نے یہ مراسلہ رواں برس یکم اکتوبر کو بھارتی حکومت کو بھیجا تھا۔

    مراسلے میں کشمیری صحافی قاضی شبلی کے گھر پر چھاپوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قاضی شبلی ضلع اسلام آباد میں ایک نیوز ویب سائٹ کشمیریت کے ایڈیٹر ہیں۔ رواں برس6 اگست کو پولیس نے قاضی شبلی کے گھر کی تلاشی لی جب کہ وہ وہاں نہیں تھے۔ پولس زبردستی تالہ توڑ کر شبلی کے گھر میں داخل ہوئی اور کھڑکیوں کے شیشوں، ایک حفاظتی کیمرہ اور دیگر کئی اشیاءکی توڑپھوڑ کی۔

    میری لالر نے اپنے مراسلے میں کہاکہ چھ اگست کو ہی پولیس نے شبلی کے ایک رشتہ دار اور دادی کے گھروں کی بھی تلاشی لی۔ تلاشی کی ان کارروائیوں سے چند گھنٹے قبل” کشمیریت “نے 2017 کا ایک مضمون سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ کیا تھا،جس میں ایک کشمیری نوجوان کے بارے میں بتایا گیا تھا جسے بھارتی فورسز نے قتل کر دیا تھا۔ مراسلے میں مقبوضہ جموںوکشمیر کے ایک فری لائنسس صحافی آکاش حسن کا بھی ذکر کیا گیا جو مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی بھارتی فوجی موجودگی اور وہاں کے شہریوں پر فوجیوں کی کڑی نگرانی کے بارے میں حالیہ برسوں کے دوران رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ رواں برس17 جولائی کوجب وہ رات 9 بجے کے قریب گھر جا رہے تھے تو ضلع پولیس نے اسلام آباد میں انکی گاڑی روک دی اور ایک پولیس افسر نے انہیں مبینہ طور پرگریبان سے پکڑا اور انکے چہرے اور جسم پر ڈنڈے برسائے۔مراسلے میں کہا گیا کہ حسن نے بعد ازاں حملے کی تفصیلات اور اپنے زخمی ہونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ واقعہ کے کچھ دیر بعد ضلع اسلام آباد کی پولیس کے ایک سپرنٹنڈنٹ نے حسن سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی۔ تاہم آکاش حسن کو ابھی تک کسی بھی تحقیقات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔

    مراسلے میں کہا گیا کہ یہ چھاپے جموں وکشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کی ایک واضح مثال ہیں۔مراسلے میں بھارتی ریاست بہار کے صحافی چندر بھوشن تیواری کا بھی ذکر کیا گیا جو مبینہ پولیس بدعنوانی کو بے نقاب کر تے رہے ہیں۔چندر بھوشن تیواری ریاست بہار کے کیمور ضلع میں روزنامہ ہندی اخبار گیان شیکھا ٹائمز کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ اخبار کے لیے وسیع تر مسائل بشمول انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ بھارتی پولیس نے انہیں بھی بے رحمی سے مارا پیٹا۔

    اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ شکایات کی تحقیقات اور پیروی کی کمی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ بھارتی پولیس فورسز میں بدعنوانی افسروں تک ہی محدود نہیں رہی ہے جن کے بارے میںاطلاعات ہیںکہ وہ رشوت لیتے ہیں۔ ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ صحافیوں کے خلاف بلاجواز حملے بھارت میں انسانی حقوق کے مسائل پر اظہار رائے کی آزادی اور مسائل کے بارے میں رپورٹنگ کو روکنے کی کوشش ہو سکتے ہیں ۔

  • بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    سری نگر : بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں‌ بھارتیوں کوکشمیریوں‌ کی زمینیں‌ چھین کردی جارہی ہیں ، اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے انکی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 370اور 35اے کی دفعات کی بحالی کی لڑائی میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے بھدرواہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوں سے انکی زمینیں چھیننے کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زمینیں تو برسہا برس سے یہاں کے لوگوں کے تصرف میں ہیں تو آج یہ ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو ہند مسلم سکھ اتحاد ورثے میں ملا ہے جبکہ یہاں کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح لوگوں میں جھگڑے پیدا کیے جائیں تاہم ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنے بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہے۔

    انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ جب کشمیر میں حالات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں گے تب ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں یہاں کون سا امن قائم ہوا جبکہ الٹا امن کے ماحول کو بگاڑ دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر کے یہاں کون سی بہتری آئی ہے ، کہاں امن قائم ہوا، کس کو روزگار ملا، کہاں سرمایہ کاری ہوئی ، کس جگہ پر نئی یونیورسٹی یا کالج بنا اور کون سا نیا منصوبہ شروع ہوا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس سب جھوٹ اور فریب کا جواب کون دے گا۔

    دیں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی مقبوضہ علاقے کی شاخ کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدجموںوکشمیر 30برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے پہلے جموں خطے میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ صنعتی کارخانے تھے جن میں سے اب ساڑھے سات ہزار کارخانے بند ہو گئے ہیںجبکہ وادی کشمیر میں تما م کارخانے بند پڑے ہیں۔

     

     

  • بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزکی فائرنگ سے مزید2 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع پلواما میں بھارتی فوج نے 2 کشمیریوں کو شہید کردیا، کشمیریوں کو قصبہ یارمیں نام نہاد سرچ آپریشن کےدوران نشانہ بنایا گیابھارتی فوج نے پلواما کا محاصرہ کرلیا اورنام نہاد سرچ آپریشن میں متعدد نوجوانوں کوگرفتارکرلیا-

    سری نگر:دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں کشمیری رہنما خرم جاوید گرفتار

    پلواما اورقریبی علاقوں میں موبائل اورانٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔ بھارتی فورسزنے گھروں میں گھس کرلوگوں کوہراساں کیا اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن ابھی بھی جاری ہے اوربھارتی فورسز نے لوگوں کوگھروں سے باہرنہ نکلنے کا حکم دیا ہے۔

    دنیا والو :بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے : محبوبہ مفتی

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو قابض بھارتی فوج کی جانب سے سرینگر میں 3 بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو تشدد اور فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا تھاکشمیریوں کی شہادت کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی تھی، جس کی وجہ سے دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے کُل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آئے روز شہریوں کو نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    یوم شہدا جموں،وزیراعظم آزاد کشمیر،مشعال ملک کا اہم پیغام

    گزتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے، جمہوریت اور انسانیت کے علمبردار بھارتی شہری بھی مودی کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس بھارت کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کررہی ہیں تاہم مودی حکومت کی پالیسی میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہماری پالیسی دو ٹوک اور واضح ہے کہ بھارت سے مذاکرات تبھی ہوں گے جب کم از کم 5 اگست کے اقدام کو واپس لے کر بھارت نتیجہ خیز مذاکرات کی لئے تیار ہوگا۔

    آسٹریلوی پارلیمنٹیرینز کی اسلام آباد میں حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ سے ملاقات

    انہوں نے واضح کیا تھا کہ کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں ہورہے نہ ہی حکومت بھارت سے متعلق نرم رویہ رکھتی ہے، بھارت کے ساتھ نرم رویہ رکھنا کشمیریوں سے غداری کے مترادف ہے سیز فائر معائدے کے حوالے سے انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر سیز فائز کا معائدہ 2003 میں ہوا تھا جس کے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے تھے سیز فائر کا سب سے زیادہ فائدہ کشمیری عوام کو ہے، کیونکہ بھارت کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ سے معصوم کشمیری شہید ہورہے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر:قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری،مزید 4 کشمیری شہید ،پاکستان کی شدید مذمت

    انہوں نے بتایا تھا کہ اس معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے سیز فائر کی 13600 خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں، صرف گزشتہ سال میں 397 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے 28 کشمیریوں کو شہید کیا اور 255 کو زخمی کیا ہم ایل او سی کے قریب رہنے والے کشمیریوں کیلئے بنکرز بنانے کا سوچ رہے ہیں تاکہ ایسی صورتحال کے دوران وہ خود کو محفوظ کرسکیں۔

    13 سالہ کشمیری بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

  • بھارتی فوج  کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    سرینگر:بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651کشمیریوں کو شہید کیا،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا اور تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2019سے اب تک گزشتہ تین سال میں13خواتین سمیت 651کشمیریوں کو شہید کیاہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے 99کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے حراست کے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ اتحقیقاتی ادارے این آئی نے مقبوضہ علاقے میں کم سے کم 12ہزار694 محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں 18سے زائد حریت رہنمائوں، کارکنوں،کشمیری نوجوانوں، طلبا، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین کو گرفتار کیا۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور ڈیموکریٹک پولٹیکل موومنٹ کے چیئرمین خواجہ فردوس نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی ظلم وتشدد اور بدترین ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے ہرگز دستبردار نہیں ہو ں گے اور اپنی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچا ئیں گے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خواجہ فردوس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے اور فوجی اہلکار ترقی اور انعامات کی لالچ میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میںملوث ہے ۔

    خواجہ فردوس نے کہا کہ بھارتی فوج چھاپوں کے دوران دانستہ طورپرچادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہی ہے تاکہ کشمیری عوام کو اپنی حق پر مبنی تحریک سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اوریہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قام ہوسکے۔

    حریت رہنما نے جموںو کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظر بندحریت رہنمائوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظر بند وں کو جیل مینول کے مطابق کوئی سہولیت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر کشمیری قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں جنہیں علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کی فوری رہائی کیلئے اپنی آوازبلند کریں ۔

     

  • بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    کراچی :بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم کا کراچی میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہےکہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے، آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں بھی بربریت جاری ہےاور عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لے۔

    سردار عبدالقیوم نیازی کا کہنا تھا کہ میں سندھ والوں کا مشکور ہوں، پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، ہندوستان میں مودی اقلتیوں پر ظلم کررہا ہے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان کےمزار پر حاضری کا فریضہ دینا ہے،جذبے کے ساتھ استقبال پر شکرگزار ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جارحیت اور گولا باری جارہی ہے، ایسے خطے سے وزیراعظم ہوں جسے ایل او سی کہتے ہیں، میرا گھر ایک ہزار گز بھارتی توپوں کے سامنے ہیں اورمیں آج بھی اس ایل او سی پر چلتا ہوں۔

    دوسری طرف کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں بار بار وحشیانہ مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں میںبے گناہ لوگوں کو شہید کرنا مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے نہتے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے لیکن بھارتی مظالم کشمیریوں کے عزم کو توڑنہیں سکتے کیونکہ ان مظالم سے کشمیریوں کا جذبہ آزادی مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا عنوان شہداءکے لہو سے لکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے لیکن دنیا کی خاموشی سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے مظالم بڑھانے کے لئے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ کشمیر کے بہادر عوام بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گے اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ علاقے میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کو بھارتی قبضے کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے اور بھارت کو علاقے میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی قیمت چکانا پڑے گی۔