Baaghi TV

Tag: مقتول

  • سیالکوٹ :15سالہ لڑکے کے اندھے قتل کا ڈراپ سین، 2 دوست قاتل نکلے

    سیالکوٹ :15سالہ لڑکے کے اندھے قتل کا ڈراپ سین، 2 دوست قاتل نکلے

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (شاہدریاض کی رپورٹ) 15سالہ لڑکے کے اندھے قتل کا ڈراپ سین، 2 دوست قاتل نکلے، مقتول کو بدفعلی کے بعد قتل کرنے کے بعد اس کے نازک اعضاء بھی کاٹ دے گے تھے

    سیالکوٹ تھانہ اگوکی کے علاقہ شتاب گڑھا میں15سالہ لڑکے سمیر کو نامعلوم ملزمان نے اغواء کر لیاتھا، جس کا مقدمہ درج ہونے پر فوری طور پر ڈی ایس پی صدر سرکل صابر حسین چھٹہ کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ اگوکی انسپکٹر اصغر علی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کرنے شروع کئے۔

    ایس ایچ او تھانہ اگوکی نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہیومن انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چند دنوں میں دوران تحقیقات کرتے ہوئے دو افراد شاہ نور ولد اصغر علی سکنہ شتاب گڑھا اور خنان ولد عابد حسین سکنہ شتاب گڑھا کو حراست میں لیا ،جن سے تفتیش کی گئی تو انہوں نے انکشاف کیا کہ مقتول سمیر سے بدفعلی کرنے کے بعد اس کو قتل کیا اور اس کے نازک اعضاء کاٹ کر اس کی نعش کو ویرانے میں پھینک دیا۔

    ملزمان کے انکشاف اور نشاندہی پر پولیس نے مقتول کی نعش کو برآمد کیا اور پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا ہے اور ملزمان کو مقدمہ قتل میں گرفتار کر کے مزید تحقیات کی جارہی ہے۔

  • 22 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد سفاک قاتل لاش ریلوے ٹریک پر پھینک گئے

    22 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد سفاک قاتل لاش ریلوے ٹریک پر پھینک گئے

    اسلام آباد(شبیرسہام سے)تھانہ شمس کالونی کی حدود میں 22 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد سفاک قاتل لاش ریلوے ٹریک پر پھینک گئے۔ پولیس نے واقعہ کو ٹرین حادثہ قرار دے کر لاش پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی ورثاء کے حوالے کرکے کیس داخل دفتر کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ مقتول کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ اگر یہ ٹرین حادثہ تھا تو جائے وقوعہ ریلوے ٹریک پر خون موجود کیوں نہ تھا ؟ مقتول کا موبائل فون بھی غائب تھا اور مقتول کے کپڑے بھی وہ نہ تھے جو وہ گھر سے پہن کر نکلا تھا۔ ممکن ہے خون آلود کپڑوں کو بدل دیا گیا ہو۔ یہ وہ اہم نقطے تھے جس پر تحقیقات ہونا ضروری تھا۔ لیکن پولیس نے روائتی سستی کا مظاہرہ کیا اور کیس کو ٹرین کے ساتھ اتفاقی حادثہ قرار دے کر اپنی جان چھڑوا لی۔

    جس پر مقتول نوجوان کے ورثاء نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو تحریری درخواست دیتے ہوئے مقتول زبیر کی قبر کشائی کرنے اور لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تلگنڈی ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والا 22 سالہ محمد زبیر ولد بشیر عباسی 25 جولائی 2022ء کو گھر سے نکلا اور لاپتہ ہوگیا۔ جس پر اس کے والد بشیر عباسی کی طرف سے تھانہ نوا شہر ایبٹ آباد میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی۔ 30 جولائی 2022ء کی صبح گیارہ بجے زبیر کی لاش اسلام آباد کے تھانہ شمس کالونی کی حدود نیو بوکڑہ ریلوے ٹریک سے برآمد ہوئی۔ تاہم اس کی شناخت نہ ہونے پر پولیس نے لاش پمز ہسپتال کے مردہ خانے میں رکھوا دی اور لاش کے فنگر پرنٹس لے کر شناخت کے لئے نادرا بھجوا دئیے ۔

    نادرا سے رپورٹ موصول ہونے پر پولیس نے 6 اگست کو ورثاء سے رابطہ کرکے لاش بغیر پوسٹ مارٹم کئے ان کے حوالے کر دیا۔ یوں مقتول کی تدفین آبائی علاقے میں کر دی گئی۔ اس کیس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس تھانہ شمس کالونی نے مقتول نوجوان کا موبائل فون "انفنکس سمارٹ فائیو” ٹریس تو کرلیا اور موبائل فون میں سم استعمال کرنے والے ملزم رضوان کو گرفتار بھی کرلیا لیکن ملزم سے پولیس کی تفتیش صرف موبائل چوری کی حد تک رہی۔ ملزم رضوان کی طرف سے پولیس کو دئیے گئے بیان سے بھی کئی شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم رضوان نے پولیس کو بتایاکہ 26 جولائی کو اس نے مقتول زبیر کو بائیکیا پر صدر سے گولڑہ موڑ ڈراپ دیا۔ جس کے بعد ہوٹل پر دونوں نے چائے پی۔ اسی دوران اس نے مقتول زبیر کا موبائل فون چوری کرلیا۔ بعدازاں چوری شدہ یہ موبائل فون ملزم رضوان نے 14 اگست کو نصیر آباد میں واقع موبائل فون شاپ پر فروخت کر دیا۔ پولیس تھانہ شمس کالونی نے موبائل چوری کا مقدمہ نمبر 304/22 درج کرکے ملزم رضوان کو جیل بھجوا دیا۔ پولیس نے مقتول زبیر کے کیس کو صرف موبائل چوری کے واقعہ کے گرد گھمانے کے بعد مزید تحقیقات کرنے کی بجائے ورثاء کو موبائل فون کی مد میں 13 ہزار روپے تھما کر کیس ٹھپ کر دیا۔ مقتول زبیر کی موت کے بعد اس خاندان پر ایک اور قیامت گزشتہ روز اس وقت ٹوٹی جب مقتول نوجوان کی غمزدہ والدہ اپنے بیٹے کی جدائی مزید برداشت نہ کرسکی اور حرکت قلب بند ہونے پر انتقال کر گئی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔