Baaghi TV

Tag: ملائیشیا

  • ملائیشیا کی سابق خاتون اول کروڑوں ڈالر رشوت کے الزام میں مجرم قرار

    ملائیشیا کی سابق خاتون اول کروڑوں ڈالر رشوت کے الزام میں مجرم قرار

    کوالالمپور: ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کی اہلیہ اور سابق خاتون اول کو رشوت خوری کے کیس میں مجرم قرار دے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کےمطابق ملائیشین عدالت نےسابق وزیر اعظم کی اہلیہ کو 4 کروڑ ڈالرز سے زائد کی رشوت خوری پر مجرم قرار دیا جبکہ ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو کچھ روز قبل ہی 12 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچوف انتقال کر گئے

    نجیب رزاق گزشتہ کئی برس سے بدعنوانی کے کیسز کا سامنا کر رہے تھے اب ملائیشین عدالت نے نجیب رزاق کی اہلیہ روزماہ منصور کو سولر انرجی منصوبے میں رشوت خوری کے معاملے پر مجرم قرار دے دیا ہے-

    عدالت نے روزماہ منصور کے خلاف اپنی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ ملزمہ تینوں لگائے گئے الزامات میں قصور وار پائی گئی ہے۔ روزماہ منصور کے خلاف الزامات کی سماعت ہائی کورٹ کے جج محمد زینی کر رہے ہیں۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    ملائیشیا کی سابق خاتون اوّل پر 4 کروڑ ڈالر سے زائد رشوت مانگنے اور وصول کرنے کا الزام تھا۔ سابق خاتون اول پر منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے بھی 17 مقدمات درج ہیں تاہم ابھی تک انہیں ان مقدمات میں مجرم قرار نہیں دیا گیا۔

    ملائیشیا کی 70 سالہ خاتون سےمتعلق مشہور ہےکہ انہیں بیش قیمتی اشیاء اور زیورات سے خاصہ لگاؤ ہے، جب 2018 میں ملائیشین پولیس نے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کے گھر چھاپہ مارا تو گھر سے 16 لاکھ ڈالرز مالیت کا سونا اور ہیرے کے زیورات برآمد ہوئے تھے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق گھر سے 14 تاج اور 272 بیش قیمتی بیگس بھی ملے تھے۔

    ارجینٹینا کی نائب صدرکومبینہ بدعنوانی کے الزام میں 12 سال کی سزا

  • ملائیشیا:کسٹم حکام نےہاتھی کےدانتوں سمیت کروڑوں ڈالرمالیت کےجانوروں کےاعضاء ضبط کرلئے

    ملائیشیا:کسٹم حکام نےہاتھی کےدانتوں سمیت کروڑوں ڈالرمالیت کےجانوروں کےاعضاء ضبط کرلئے

    ملائیشیا کے کسٹم حکام نے پونے دو کروڑ ڈالر مالیت کے جانوروں کے اعضاء ضبط کر لئے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملائسین کسٹم حکام نے جانوروں کے غیر قانونی اعضاء کے ساتھ ہی تقریبا ً ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر مالیت کے چھ میٹرک ٹن افریقی ہاتھی کے دانت اور ایک کوئنٹل پینگولین (فلس دار مور خور) کے خول اور جانوروں کے دوسرے بہت سے غیر قانونی اعضا پر مشتمل ایک بڑی کھیپ کا پردہ فاش کیا ہے۔

    روس دنیاکوتیل بیچے:ایسا نہیں ہونے دیں‌گے:امریکہ

    اس کھیپ میں تقریبا ًچھ کوئنٹل ہاتھی کے دانت، 100 کلو پینگولین کے خول، 25 کلو گینڈے کے سینگ اور اس کے علاوہ مزید تقریبا تین کوئنٹل دیگر جانوروں کی کھوپڑیاں، ہڈیاں اور سینگ وغیرہ شامل ہیں۔

    ملائیشیا میں محکمہ کسٹم کے ڈائریکٹر جنرل سزولی جان نے پیر کے روز کہا کہ ہاتھی کے دانتوں کو اتنی بڑی کھیپ کی ضبطی ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

    آئندہ برس ایک کروڑ عمرہ زائرین کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں

    محکمہ کسٹم کے ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ تمام سامان 10 جولائی کو دریافت ہواتھا، جو افریقہ سے آنے والے ایک جہاز کے کنٹینر میں لکڑی کے درمیان چھپا کر رکھا گیا تھا جانوروں کے اسمگل شدہ ان اجزا کی آخری منزل ملائیشیا نہیں تھی اور انہیں کسی دوسرے ملک تک لے جانے کا منصوبہ تھا۔

    وائلڈ لائف ٹریڈ اینڈ ٹریفک مانیٹرنگ گروپ کی جنوب مشرقی ایشیا کی ڈائریکٹر کنیتھا کرشناسامی نے ملائیشیا کی جانب سے اس انکشاف کو ایک ”اہم ضبطی” قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ جن جانوروں کی بقا کو خطرات لاحق ہیں، ان نسلوں کے اعضاء کا اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی بار میں ضبط کیا جانا کافی تشویشناک ہے۔

    حکام نے اس ضبطی سے متعلق ابھی تک کسی گرفتاری کی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ تاہم جس شخص نے بھی ان اشیا کو درآمد کیا تھا اس سے اور شپنگ ایجنٹ سے تفتیش جاری ہے۔

  • ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد دل کے دورے کے باعث اسپتال منتقل:صحت یابی کے لیے دعائیں جاری

    ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد دل کے دورے کے باعث اسپتال منتقل:صحت یابی کے لیے دعائیں جاری

    کوالمپور:ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد دل کے دورے کے باعث اسپتال منتقل:صحت یابی کے لیے دعائیں جاری،اطلاعات کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ، وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی مہاتیرمحمد کو اسپتال کے امراض قلب کے یونٹ میں داخل کیا گیا ہے۔

    ادھرعالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مہاتیر محمدکی بیٹی مرینامہاتیرکا کہنا ہےکہ ان کے والدکی حالت بہتر ہے اور وہ علاج کے بعد بہتر ردعمل دے رہے ہیں۔مرینامہاتیر نے مہاتیر محمدکی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے لوگوں سے دعاؤں کی درخواست بھی کی ہے۔

    خیال رہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا 96 سالہ مہاتیر محمد کا جنوری کے اوائل میں الیکٹو میڈیکل پروسیجر ہوا تھا۔

    دو مرتبہ ملائیشیا کے وزیراعظم رہنے والے مہاتیر محمدکا پہلا ہارٹ بائی پاس 1989 اور دوسرا 2007 میں ہوا تھا مہاتیر بن محمد ملائیشیا کے ساتویں وزیر اعظم ہیں جنہوں نے 10 مئی 2018ء کو انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ اس کے قبل وہ اس عہدہ پر 1981ء سے 2003ء تک، 22 سال، فائز رہے۔

    ان کا سیاسی سفر 40 سال تک محیط رہا۔ ملائیشیا کی تاریخ میں مہاتیر محمد کا کردار ایک محسن اور دور جدید کے انقلاب کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مہاتیر محمد نے جس طرح ملائیشیا کی تاریخ بدلی قوم کو سیاسی اور سماجی اندھیروں سے نکالا۔ مَلے اور چینی اقوام کی بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرکے انہیں ایک قوم کے وجود کے اندر سمو دیا کیونکہ وہاں دوسری بڑی قوم چینی بولنے والوں کی ہے۔

    اس کا سارا کریڈٹ اور فخر اس فلسفہ انقلاب کو جاتا ہے جس کی آبیاری مہاتیر محمد نے کی، آج مسلم امہ کو جو معاشی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا علاج مہاتیر محمد کے نظریات میں پوشیدہ ہے۔ مہاتیر محمد کے دادا جان کا تعلق پاکستان کے خطہ کوہاٹ سے تھا اور والدہ خالص مَلے (Malay) تھیں اور ایک اسکول میں پڑھاتی تھیں،

    مہاتیر محمد بچپن سے انتہائی ذہین تھے اور اعلیٰ قابلیت کے جوہر دکھانے لگے۔ آخر کار سنگا پور سے ڈکٹری کی تعلیم MBBS کے لیے اعزاز کے ساتھ داخلہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جب تمام اسکول اور تعلیمی ادارے بند ہو گئے تو مہاتیر محمد نے خاندانی انکم میں اضافے کے لیے ایک کیفے قائم کیا اور حالات کا مقابلہ کیا۔ اپنی والدہ کی نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھتے کہ ”رزق حلال کی برکت سے تم اپنی اور اپنی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہو“

  • ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کی کرپشن پر12سال قید کی سزا کیخلاف اپیل مسترد

    ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کی کرپشن پر12سال قید کی سزا کیخلاف اپیل مسترد

    کوالالمپور: ملائیشیا کی کی عدالت نے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی کرپشن پر12سال قید کی سزا کیخلاف اپیل مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو اربوں ڈالرکا کرپشن کرنے، منی لانڈرنگ اوراختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر کوالالمپور ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 12 سال قید اور50 ملین ڈالرجرمانے کی سزا سنائی تھی

    نجیب رزاق نے سزا کے فیصلے کے خلاف اپیل کورٹ میں درخواست دائرکی تھی جسے تین رکنی پینل نے اتفاق رائے سے مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقراررکھنے کا حکم دیا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ اپیل کورٹ کے فیصلے سے نجیب رزاق کی ملائیشیا کی سیاست میں واپسی کی امیدوں کودھچکا پہنچا ہے۔

    واضح رہے کہ نجیب رزاق کو تین دیگر الزامات ثابت ہونے پر بھی دس، دس سال کی سزا سنائی گئی تھی ان میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طور پرون ملائشیا ڈویلپمنٹ فنڈ (ون ایم ڈی بی فنڈ) کے سابق یونٹ ایس آر سی انٹرنیشنل سے ایک کروڑ ڈالر وصول کرنے جیسے الزامات شامل تھے۔

    پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نجیب رزاق نے صرف ایک بار 1 ایم ڈی بی کے فنڈ سے جتنی رقم مبینہ طور پر خوردبرد کی اس کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زائد ہے۔ انہوں نے یہ رقم اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی نجیب رزاق پر اس نوعیت کے 42 الزامات ہیں۔

    کورونا متاثرین کو حکومت کی جانب سےلاکھوں روپے دینے کا اعلان

    نجیب رزاق کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی چار کروڑ 20 لاکھ ڈالر طلب نہیں کیے نہ ہی انہیں ایسی کوئی پیش کش کی گئی تھی۔

    ون ملائشیا ڈولپمنٹ فنڈ 1 ایم ڈی بی ایک سرمایہ کار کمپنی ہے جو ملائشیا میں ترقیاتی منصوبوں کے فنڈ فراہم کرتی ہے۔ 2009 میں قائم ہونے والی اس کمپنی کا ہیڈ کوارٹر دارالحکومت کوالا لمپور میں ہے۔ اس کمپنی کے قیام کا مقصد ملک کی طویل المعیاد ترقی کے لیے عالمی شراکت داری اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔ اس کمپنی کے دائرہ کار میں ریئل اسٹیٹ، سیاحت، توانائی اور زرعی کاروبار کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ امریکہ کے کمپنی کے عالمی شراکت دار ہونے کی وجہ سے امریکی محکمہ انصاف نے بھی ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کمپنی کے فنڈ سے کم ازکم ساڑھے تین ارب ڈالر چوری کئے گئے ہیں۔

    مشکوک ٹرانزیکشنز کی وجہ سے کمپنی کی 2015 سے سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور ایسے شواہد سامنے آئے تھے جن سے منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور فنڈ کی چوری کی نشاندہی ہوتی ہے۔

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی…

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah