Baaghi TV

Tag: ملازمہ

  • غلاظت ملاکر آٹا گوندھنے والی  گھریلو ملازم گرفتار

    غلاظت ملاکر آٹا گوندھنے والی گھریلو ملازم گرفتار

    غازی آباد: بھارت کے شہر غازی آباد میں گھریلو ملازمہ کی جانب سے مالکان کے گھر کھانے میں غلاظت ملانے کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی آباد کی ایک فیملی کے سب ہی افراد کو جگر کے مسائل کی تشخیص ہوئی تھی جو علاج کے باوجود ٹھیک نہیں ہوپارہی تھے اہل خانہ کو شک ہوا کہ ان کے لیے تیار کیے جانے والے کھانے میں کوئی گڑ بڑ ہے، اس بات کا پتا لگانے کیلئے بیماری سے پریشان اہل خانہ نے کچن میں اسمارٹ فون نصب کردیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے ان کا کھانا کیسے تیار کیا جاتا ہے ؟

    فون کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ویڈیو سے یہ انکشاف ہوا کہ گھر کی ملازمہ آٹا گوندھنے کیلئے پانی کے بجائے اپنے پیشاب کا استعمال کررہی تھی جو خاموشی سے کچن میں ایک برتن میں غلاظت بھرتی اور پھر اسے آٹا گوندھنے کے لیے استعمال کرتی ملازمہ گزشتہ 8 سالوں سے متاثرہ خاندان کے گھر میں کام کررہی تھی اور اہل خانہ کا بتانا ہے کہ چند سال قبل انہوں نے اپنے گھر ہونے والی چوری کے باوجود ملازمہ پر شک نہیں کیا تھا۔

    صومی علی کی لارنس بشنوئی کو زوم کال پر چیٹ کی دعوت

    ویڈیو سامنے آنے کے بعد اہل خانہ نے ملازمہ کے خلاف مقدمہ درج کراکے اسے گرفتار کروادیا جب کہ دوران تفتیش ملازمہ نے آٹا گوندھنے کیلئے غلاظت ملانے سے انکار کیا۔

    کراسنگ ریپبلک پولیس اسٹیشن کی اسٹیشن ہاؤس آفیسر پریتی گرگ نے کہاکہ مالکان نے کچن میں موبائل فون چھپا رکھا تھا۔ مبینہ طور پر ریکارڈ شدہ ویڈیو میں، وہ باورچی خانے کے برتن میں پیشاب کرتے ہوئے اور پیشاب کا استعمال کرتے ہوئے چپاتیاں بناتے ہوئے دیکھا گیا تھا-

    32 سالہ گھریلو ملازمہ کو بی این ایس کی دفعہ 272 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    غزہ میں بھوکےکتے انسانی لاشیں کھا رہے ہیں، ایمرجنسی سروسز کے سربراہ کا انکشاف

    گرگ نے کہا کہ پوچھ گچھ کے دوران، گھریلو ملازمہ نے ابتدائی طور پر الزامات سے انکار کیا لیکن ویڈیو دکھائے جانے پر اس نے اس فعل کا اعتراف کیا دریں اثنا، اس واقعے کی ایک مبینہ ویڈیو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔

  • سراج الحق کی لاہور میں زیرعلاج گھریلو تشدد کا شکار بچی کی عیادت

    سراج الحق کی لاہور میں زیرعلاج گھریلو تشدد کا شکار بچی کی عیادت

    لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور پیپلز پارٹی کے وفد نے گھریلو تشدد کا شکار بچی رضوانہ کی جنرل اسپتال لاہور میں عیادت کی۔

    باغی ٹی وی: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جنرل ہسپتال لاہور میں اسلام آباد کے سول جج کے گھر میں تشدد کا شکار ہونے والی بچی رضوانہ کی عیادت کے موقع پر والدین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ رضوانہ پر تشدد کا واقعہ ایک جج کے گھر میں ہوا جو پور ی قوم کے لیےشرمناک ہے،یہ واقعہ ایسے گھر میں ہوا جس کا سربراہ لوگوں کو قانون کا درس دیتا تھا، اس جج کا کام لوگوں کو انصاف دلانا تھا لیکن اُس کے گھر کا ماحول ہی شرمناک تھا انہوں نے رضوانہ کے اہلخانہ کو انصاف دلانےکے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    سیلفی بناتےہوئے3 دوست سیلاب میں بہہ گئے

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے وفد نے بھی قومی اسمبلی میں چیئرپرسن ویمن کاکس شاہدہ رحمانی کی قیادت میں جنرل اسپتال میں زیر علاج گھریلو ملازمہ رضوا نہ کی عیادت کی شاہدہ رحمانی کا کہنا تھا کہ رضوانہ پر بہیمانہ تشدد کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، حکومت بھی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    دوسری جانب جنرل اسپتال لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر الفرید ظفر کا کہنا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والی گھریلو ملازمہ رضوانہ کی حالت پہلے کی نسبت بہتر ہے تاہم اسے اب بھی آکسیجن کی ضرورت پڑ رہی ہے، اسے نرم غذا دینا شروع کر دی ہے رضوانہ 5روزسے زیر علاج ہے ،آکسیجن لیول بہتر ہونے پرآکسیجن اتار دی جاتی ہے ، طبعیت خراب ہوتو آکسیجن دوبارہ لگا دیتے ہیں 5 روز سے جنرل اسپتال میں زیر علاج رضوانہ کے پلیٹ لیٹس کافی کم ہیں جنہیں بہتر کرنے کی کوشش جاری ہے رضوانہ کے کینسر کے بلڈ سیمپل کی رپورٹ کلیئرہے تاہم بچی کو خون کی بھی شدید کمی ہے,ڈرپس لگنے کے بعد اب اس کا بلڈ پریشر لیول نارمل ہے۔

    راولپنڈی: نجی پلازہ میں آتشزدگی ،25 دکانیں جل کرخاکسترایک شخص جاں بحق

    واضح رہے تشدد کی شکار بچی کا معاملہ 24 جولائی کو سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی۔

    بھارت میں11 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی

  • کمسن ملازمہ پر تشدد ، ٹانگیں اور بازو توڑ دیئے

    کمسن ملازمہ پر تشدد ، ٹانگیں اور بازو توڑ دیئے

    سرگودھا: مبینہ طور پر جوڈیشل افسر اسلام آباد کی اہلیہ نے14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کیا ہے

    واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا، ایس پی انوسٹی گیشن، اے ایس پی سٹی سرگودھا خود ہسپتال پہنچ گئے، چک 88 شمالی کی 14 سالہ رضوانہ کو اس کے والدین نے مختار نامی شخص کے ذریعے اسلام آباد میں ملازمت دلوائی، مضروب لڑکی کے والدین کے مطابق اس کو جوڈیشل افسر اسلام آباد کی اہلیہ نے زیور چوری کا الزام لگا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، ہسپتال ذرائع کے مطابق بچی کے سر، چہرے اور جسم پر تشدد سے بنے ہونے زخم اور نشانات موجود ہیں مبینہ طور پر بچی کی تشدد سے حالت غیر ہونے پر جوڈیشل افسر کی اہلیہ نے اس کے والدین کو بلا کر بچی ان کے حوالے کی

    تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی، بچی کو DHQ سرگودھا میں ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے،مزید اچھی طبی سہولیات کے لئے دیگر ہسپتال منتقلی کے لئے ایمبولینس کی سہولت بھی مہیا کر دی گئی ہے،ڈی پی او سرگودھا کی ہدایت پر ایس پی انوسٹی گیشن، اسلام آباد پولیس سے رابطے میں رہ کر قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں،سرگودھا پولیس اس سارے معاملے میں مضروب لڑکی اور اس کے ورثاء کو مکمل قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    قبل ازیں ایک اور واقعہ میں اقبال ٹاؤن کے علاقے میں 10 سالہ بچی فاطمہ فرحان نامی شخص کے گھر پر تین ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ظالم مالکن اور اسکا شوہر فرحان بچی پر تشدد کرتے تھے۔اطلاع ملنے پر پولیس نے بچی کو بازیاب کر کے تشدد کرنے والے میاں بیوی کو حراست میں لے لیا، متاثرہ بچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ مالکن اس پر تشدد کرتی اور والدین سے بات نہیں کرواتی تھی۔پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

  • حافظ آباد میں 15 سال کی گھریلو ملازمہ کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا

    حافظ آباد میں 15 سال کی گھریلو ملازمہ کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا

    حافظ آباد میں سفاک قاتل نے 15 سال کی گھریلو ملازمہ کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا.

    حافظ آباد میں 15 سال کی لڑکی گھر میں بطور ملازمہ کام کرتی تھی ،گھر کا سفاک مالک ملازمہ کے ساتھ ذیادتی کرتا تھا لڑکی کے حاملہ ہونے پر مالک نے ملازمہ کو قتل کر دیا اور اس کی لاش کو دفنا دیا.

    .پولیس کے مطابق ملزم 6 ماہ تک متاثرہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، حاملہ ہونے پر ملزم نے ملازمہ کو زہریلی گولیاں کھلا دیں اور ساتھیوں سے مل کر ملازمہ کو دفن کروا دیا۔مقدمہ درج ہونے پر سفاک مالک گھر سے فرار ہو گیا.

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے تاہم واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔