Baaghi TV

Tag: ملازمین

  • دراز کے بعد  ڈزنی کا بھی 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

    دراز کے بعد ڈزنی کا بھی 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

    ای کامرس پلیٹ فارم درازکے بعد معروف انٹرٹینمنٹ کمپنی ڈزنی نے 7 ہزار ملازمتوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرٹینمنٹ سے بھر پور ڈزنی نے بھی اپنے 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا کہہ دیا ہے ملازمین کی تعداد میں کمی ڈزنی اسٹریمنگ سروس کو منافع بخش بنانے اور بھاری رقم بچانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

    رپورٹس کے مطابق کمپنی کی جانب سے یہ فیصلہ گزشتہ سال کے آخری تین مہینوں میں ہونے والی مالی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے، ان برطرفیوں سے دنیا بھر میں ڈزنی کی ورک فورس کا حجم 3.6 فیصد کم ہوگا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019 میں ڈزنی ویڈیو اسٹریمنگ سروس کے لانچ ہونے کے بعد ڈزنی کے سبسکرائبر میں پہلے سے کمی آئی ہے۔

    باب ایگرکا کہنا ہےکہ ہم کمپنی میں تخلیقی صلاحیت کو ابھارنے کے لیےکام کر رہے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں گے اخراجات کم کرنا ہمارے کاروبار کے لیے پائیدار ترقی اور منافع کا باعث بنے گا، ہمارے لیے بہتر ہے کہ ہم مستقبل کے خلل اور عالمی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے سکیں اور شیئر ہولڈرز کے لیے ساز گار ماحول پیدا کریں۔

    قبل ازیں ای کامرس پلیٹ فارم دراز نے بھی اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتے ہوئے چھانٹی کر دی ہے علی بابا گروپ کے ذیلی ادارے دراز گروپ نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتے ہوئے 11 فیصد کو فارغ کر دیا۔

    دراز گروپ کے سی ای او بجارک مکلسن نے کہا کہ مارکیٹ کے مشکل ماحول، یورپ میں جنگ، سپلائی چین میں حائل رکاوٹوں، بڑھتی مہنگائی اور بڑھتے ٹیکس کی وجہ سے ملازمین میں کمی کرنے کا فیصلہ کیاانہوں نے کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ خط کے ذریعے ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا۔

    واضح رہے کہ ای کامرس پلیٹ فارم دراز گروپ پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں کام کرتا ہے۔

  • سال 2023 کا پہلا مہینہ ملازمین پر بھاری،68 ہزار افراد نوکریوں سے فارغ

    سال 2023 کا پہلا مہینہ ملازمین پر بھاری،68 ہزار افراد نوکریوں سے فارغ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سال 2023 کا پہلا مہینہ ہی ملازمین کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوا،

    دنیا بھر میں معاشی بحران کی وجہ سے ادارے نہ صرف ملازمین کو نوکریوں سے نکال رہے ہیں بلکہ انکی تنخواہوں میں بھی کمی کی جا رہی ہے، ایک رپورٹ کے مطابق سال 2023 کے پہلے مہینے جنوری میں اب تک 68 ہزار افراد نوکریوں سے محروم ہو گئے ہیں ، بڑی اور نامور کمپنیاں بھی ملازمین کو فارغ کر رہی ہیں، گوگل، مائیکرو سافٹ مے بھی ملازمین کو فارغ کیا ہے،رپورٹ کے مطابق جنوری میں دنیا بھرمیں تقریبا 219 کمپنیوں نے ملازمین کو نکالا ہے

    219 کمپنیوں نے اب تک ایک ماہ میں 68 ہزار سے زائد ملازمین کو نکالا ہے، جبکہ گزشتہ برس 2022 میں ایک ہزار سے زائد کمپنیوں نے ایک لاکھ چون ہزار 336 ملازمین کو فارغ کیا تھا، 2023 کا پہلا مہینہ ہی ملازمین پر بھاری رہا، ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ یہ پورا سال ہی ملازمین کے لئے ایسے ہی گزرے گا، اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ملازمین نوکریوں سے برطرف نہیں ہو رہے انکی تنخواہوں میں کمی کی جا سکتی ہے، نیشنل ایسوسی ایشن فار بزنس اکنامکس نے اس حوالہ سے ایک سروے کیا ہے جس میں صرف 12 فیصد ماہرین کا کہنا ہے کہ انکی کمپنیاں اگلے تین ماہ میں نئی ملازمتیں لائیں گی ،اس سے یہ ثابت ہو گا کہ نئی ملازمتوں کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے،

    نیشنل ایسو سی ایشن فار بزنس اکنامکس کی صدر جولیا کوروناڈو کا کہنا ہےکہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ رواں برس کا پہلا مہینہ ہی ملازمین کے لئے اچھا نہیں گزرا،اتنی بڑی تعداد میں برطرفیوں سے بے روزگاری میں انتہائی اضافہ ہو گا،

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ہ عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    ہتھکڑیاں لگے فواد چودھری کی عدالت پیشی،رات میری آنکھوں پرپٹی باندھی گئی،فواد کا بیان

    فواد چودھری کیخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی باغی ٹی وی کو موصول

     فواد چودھری کو گرفتار کر لیا گیا 

  • اسپاٹی فائی کا دنیا بھرمیں 6 فیصد ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    اسپاٹی فائی کا دنیا بھرمیں 6 فیصد ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    اسپاٹی فائی نے دنیا بھر میں کمپنی کے 6 فیصد ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:عالمی اقتصادی سست روی کے باعث حالیہ مہینوں کے دوران متعدد ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے.گزشتہ ہفتے گوگل کی جانب سے 12 ہزار افراد کو نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل ایمازون، مائیکرو سافٹ، میٹا اور ٹوئٹر کی جانب سے بھی ایسا کیا گیا تھا۔

    تاہم اب اسپاٹی فائی کے سی ای او ڈینئیل ای کے (Daniel Ek) نے ملازمین کے نام ایک میمو میں کمپنی کے 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے ،اس کمپنی کے دنیا بھر میں 9800 سےکچھ زیادہ ملازمین ہیں جس کا مطلب ہےکہ 600 کے قریب افراد کو ملازمتوں سے فارغ کیا جائے گا۔

    اسپاٹی فائی کے سی ای او نے میمو میں کہا کہ ادارہ جاتی تبدیلیوں کے لیے ملازمین کو نکالا جارہا ہے جس سے اخراجات کی مد میں بچت ہوگی جبکہ فیصلہ سازی تیز ہوسکے گی اخراجات کو کم کرنے کے لیے ہم نے ملازمین کی تعداد میں کمی کا مشکل مگر ضروری فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ ملازمین کو 5 ماہ کی تنخواہ کے برابر رقم دی جائے گی جبکہ اتنے مہینوں تک ان کے میڈیکل اخراجات بھی ادا کیے جائیں گے کمپنی کو موجودہ حالات پر پہنچانے والے اقدامات کی مکمل ذمہ داری وہ اپنے سر لیتے ہیں۔

  • مائیکرو سافٹ کا اپنے 10 ہزار ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    مائیکرو سافٹ کا اپنے 10 ہزار ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    مائیکرو سافٹ نے اپنے 10 ہزار ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: این ڈی ٹی وی نے عالمی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں آنے والی معاشی بدحالی نے کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ برطرفیوں میں تیزی لائیں۔

    وہ ارب پتی جنہوں نے 2022 میں اپنی دولت کھوئی یا کمی واقع ہوئی

    مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو ستیہ ناڈیلا نے ملازمین کے نام ایک میمو میں بتایا کہ معاشی غیریقینی صورتحال کے باعث کمپنی کے 10 ہزار ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے اور اب زیادہ توجہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے شعبوں پر مرکوز کی جائے گی، اس طرح کے فیصلے مشکل ہوتے ہیں مگر ان کو کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    ملازمتوں سے نکالے جانے کا سلسلہ 18 جنوری سے شروع ہوا اور اسے مارچ تک مکمل کیا جائے گا مجموعی طور پر کمپنی کے 5 فیصد کے قریب ملازمین کو فارغ کیا جائے گا۔

    بھارت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا

    کمپنی کی جانب سے یہ بتانے سے گریز کیا گیا کہ کن شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین زیادہ متاثر ہوں گے مگر میڈیا رپورٹس کے مطابق انجینئرنگ ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

    اس حوالے سے مائیکرو سافٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ برطرفی کے نتیجے میں مالی سال 2023 کی دوسری سہ ماہی میں $1.2 بلین کا چارج ہو گا جو فی شیئر منافع پر 12 سینٹ کے منفی اثر کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس سے قبل مائیکرو سافٹ نے اکتوبر 2022 میں 1000 کے قریب ملازمین کو فارغ کیا تھا ملازمین کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ مائیکرو سافٹ کی جانب سے اخراجات میں کمی لانے کے لیے مختلف منصوبوں پر بھی کام کیا جائے گا تاکہ 1.2 ارب ڈالرز بچانے میں مدد مل سکے۔

    واضح رہے کہ مائیکرو سافٹ سے قبل میٹا، ایمازون، ٹوئٹر اور متعدد ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا۔

    ٹوئٹر نے طالبان کے خریدے ہوئے تصدیق شدہ بلیو ٹک ختم کر دئیے

  • میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ

    میٹا اور ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ

    امریکا کی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون تقریباً 10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : روئٹرز کے مطابق کمپنی یہ برطرفیاں ایمازون کے الیکسا جیسے آلات، ریٹیل اور ہیومن ریسورس کے شعبوں میں کی جائیں گی یہ ایمازون کی جانب سے ملازمتوں میں سب سے بڑی کٹوتی ہوگی۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کے بعد کمپنی کے دیوالیہ ہونے کا امکان ظاہر کر دیا

    روئٹرز نے ایمازون ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 10 ہزار ملازمتوں کے خاتمے کا مطلب ہے ایمازون کے 3 فیصد کارپوریٹ ملازمین اور ایک فیصد سے کم عالمی ورک فورس کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ درست تعداد مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ ایمیزون کے اندر کاروبار اپنی ترجیحات کا جائزہ لیتے ہیں۔

    دنیا بھر میں ایمازون کے ملازمین کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہے کرسمس سے پہلے کا وقت ایمازون کے لیے انتہائی منافع بخش ہوتا ہے۔

    ذرائع نے اس کمی کی وجہ ایمیزون اور دیگر کمپنیوں کو درپیش غیر یقینی معاشی ماحول کو قرار دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کرسمس سے پہلے اتنے بڑے پیمانے پر نوکریوں کے خاتمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی معیشت کی سست رفتاری کی وجہ سے کامیاب کاروباری ادارے بھی دباؤ کا شکار ہیں۔

    دوسری جانب ایمازون نے ملازمین کو برطرف کرنے کے حوالے کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا۔

    میٹا کا 11 ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا فیصلہ

    یہ خبر ٹیکنالوجی کے شعبے میں برطرفی کی لہر کے بعد ہے، جو برسوں کی تیزی سے بھرتی کے بعد کساد بازاری سے محتاط ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی، فیس بک کی پیرنٹ میٹا پلیٹ فارمز انک (META.O) نے کہا کہ وہ اخراجات کو متوازن کرنے کیلئے11,000 سے زیادہ ملازمتیں، یا اس کی افرادی قوت کا 13 فیصد کم کرے گا جسے کمپنی کے سی ای او مارک زکربرگ نے مشکل ترین فیصلہ قرار دیا تھا۔

    یاد رہے کہ ٹوئٹر نے بھی مزید ہزاروں ملازمین کو ملازمت سے نکال دیا ہے۔سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر کے 4400 سے 5500 کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کردیا گیا ہے۔

    ان ملازمین کو ملازمت سے نکالنے سے قبل آگاہ بھی نہیں کیا گیا بلکہ انہیں اس کا علم اس وقت ہوا جب ٹوئٹر ورک سسٹمز تک رسائی ختم کردی گئی۔

    خیال رہے کہ اکتوبر کے آخر میں ایلون مسک نے ٹوئٹر کو 44 ارب ڈالرز میں خرید لیا تھا اس کے بعد سے ایلون مسک کی جانب سے کافی اقدامات کیے گئے ہیں اور 50 فیصد ملازمین کو بغیر نوٹس کے فارغ کیا گیا۔

    ٹوئٹر نے بھارت میں 90 فیصد سے زائد عملے کو نوکری سے فارغ کر دیا

  • وفاقی حکومت کے ملازمین کا کل اپنے حقوق کے لیے دھرنے کا اعلان

    وفاقی حکومت کے ملازمین کا کل اپنے حقوق کے لیے دھرنے کا اعلان

    وفاقی حکومت کے ملازمین نے 8 نومبر کو اپنے حقوق کے لیے دھرنے کا اعلان کر دیا ،اور ساتھ ہی دھرنے کا نوٹیفیکیشن حکومت کے آفیشل پیچ پر اپلوڈ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کے ملازمین نے کہا کہ وہ اپنے حقوق کے لئے کل 8 نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجا کریں گے ملازمین کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ آل پاکستان ایمپلائی یونین نے گزشتہ ماہ 13 اکتوبر کا دھرنا وزرا صاحبان کی اس یقین دہانی پر ختم کیا تھا کہ حکومت ملازمین کے مطالبات تسلیم کرے گی-

    کہا گیا کہ عہدیداران نے وزراصاحبان کو روں ماہ 7 نومبر تک کا ٹائم دیا تھا مطالبات تسلیم کر لئے گئے تو 8 نومبر کو یوم تشکر ورنہ مطالبات کی منظوری تک فائنل دھرنا ہو گیا-

    وفاقی حکومت کے ملازمین کا مطالبہ ہے کہ پے اینڈ پینشن کمیٹی کی سفارشات اور 150 فیصد ایگزیکٹیو الاؤنس کی طرز پر دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے ،ہاؤس رینٹ میڈیکل اور کنوینس الاؤنس 100 فیصد اضافہ کیا جائے-

    جھمپیر کے قریب گیس پائپ لائن دھماکے سے پھٹ گئی

    ملازمین کا کہنا ہے کہ 10 فروری 2021 کے حکومتی معاہدے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی سفارشات کے مطابق وفاقی ملازمین کے صوبائی طرز پر اپگریڈیشن کی جائے اور تمام ڈیلی ویجز ،کنٹریکٹ ،ایڈ ہاک،ٹی ایل اے، اور پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج کے تحت بھرتی ملازمین کو مستقل کیا جائے-

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ تما ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ مرکزی قیادت کے شانہ بشانہ مطالبات کی منظوری تک دھرنے میں شامل رہیں-

    سال 2022 کا آخری چاند گرہن کل ہوگا

  • کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر سات ملازمین نے ایک ساتھ زہر کھا لی

    کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر سات ملازمین نے ایک ساتھ زہر کھا لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کئی ماہ سے کام کے باوجودہ تنخواہ نہ ملنے پر سات ملازمین نے ایک ساتھ زہر کھا لی

    واقعہ بھارت کا ہے، بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک فیکٹری میں ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں، ملازمین مسلسل کام کے لئے آ رہے تھے اور کام کر رہے تھے لیکن فیکٹری مالک تنخواہ نہیں دے رہا تھا، ملازمین نے تنگ آ کر ایک ساتھ زہر کھانے کا پروگرام بنایا اور زہر کھا لی جس سے ملازمین کی حالت غیر ہو گئی،زہر کھانے والے ملازمین کو طبی امداد کے لئے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انکا علاج جاری ہے

    واقعہ کی اطلاع پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی ، پولیس کے مطابق پردیشی پورہ میں فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کو ایک طرف تنخواہیں نہیں دی جا رہی تھیں تو وہیں دوسری فیکٹری میں کام کے لئے بھجوایا جا رہا تھا،ملازمین تنخواہیں مانگ رہے تھے لیکن ان کی نہیں سنی جا رہی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اجتماعی خود کشی کی کوشش کی ہے،جن ملازمین نے زہر کھایا ہے ان میں جمنا دھر، دیپک، دیوی لال، راجیش،جتیندر، دھامینا اور شیکھر ہیں،

    پولیس کے مطابق زہر کھانے والے ملازمین کی حالت بہتر ہونے پر انکا بیان ریکارڈ کیا جائے گا اور فیکٹری مالک کے خلاف کاروائی کی جائے گی، سات افراد کے زہر کھانے کی اطلاع پر ان ملازمین کے اہلخانہ بھی ہسپتال پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے فیکٹری مالک کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے.پولیس کے مطابق ملازمین کے بیان کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی،

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

     دعا زہرہ کو عدالت نے دارالامان بھجوانے کا حکم 

  • نیب ملازمین اور  انکے اہلخانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب

    نیب ملازمین اور انکے اہلخانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے قومی احتساب بیورو کے تمام سابق اور موجودہ ڈائریکٹرز، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب کے سابق چیئرمین کہتے رہے اب تک 820 ارب روپے ریکور کر چکے ہیں لیکن سیکرٹری خزانہ نے قومی خزانے میں 15 ارب روپے جمع کرائے جانے کی تصدیق کی ہے.

    قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ایک اکاؤنٹ میں ریکوری کا پیسہ ہوتا ہے، کسی فریق کا کیس فائنل ہونے تک پیسے آفس فنڈ میں رکھے جاتے ہیں، اب بھی بینک میں کچھ ارب روپے موجود ہیں، آڈٹ کرانے کو تیار ہیں جو پیسے نیب سے آئے ان کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو بھی ریکوری ہو جائیں، اس کا آڈٹ ہو گا۔

    آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ قومی خزانے میں نیب کی ریکورکردہ رقم کا 2، 3 فیصد ہی جاتاہے۔ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا ملک میں اتنی کرپشن ہوئی ہے کسی نے تو کی ہے، اوپرسے تو نہیں آئی؟ ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کے تما م موجودہ اور سابق ڈائریکٹرز ، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات ایک ماہ میں طلب کرلیں۔

    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہاکہ اب احتساب کا بھی احتساب ہوگا، نیب حکام کے زیر استعمال گاڑیوں اور مراعات کی تفصیلات بھی دی جائیں، نیب حکام کا تحفہ قبول کرنا بھی کرپشن ہے، کوئی افسر اخلاقی طور پر اچھا نہیں ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھاکہ نیب کیس ثابت نہ کرنے پر کسی سے معافی نہیں مانگتا۔

    کمیٹی کی جانب سے نیب ملازمین کو پرفارما بھر کر دینے کے معاملے پر ڈی جی نیب کراچی کی نور عالم خان سے بحث ہوئی ہے۔ ڈی جی نیب کراچی نے کہا کہ آپ جو پرفارما بھیجنے کا کہہ رہے ہیں وہ ملزمان سے تحقیقات کیلئے ہوتا ہے، افسران کی ذلت ہوگی اور ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ نور عالم نے کہاکہ نیب یہ پرفارما سیاست دان کو بھرنے کیلئے بھی کہتا ہے، کیا اس کی عزت نہیں؟

    پی اے سی کی نیب بننے سے اب تک نیب کے تمام ملازمین،ان کے ماں باپ اوربہن بھائیوں کے تمام اثاثہ جات کا آڈٹ کرنے کی ہدایت کی اور ایک ماہ میں نیب ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات سمیت تمام تفصیلات پی اے سی کوجمع کروانے اور میڈیا کے ذریعے پبلک کرانے کی بھی ہدایت کی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس 7 اب جولائی کو دوبارہ ہو گا۔

  • جعلی ڈگری کے حامل 457 پی آئی اے ملازمین کیخلاف کاروائی کا آغاز

    جعلی ڈگری کے حامل 457 پی آئی اے ملازمین کیخلاف کاروائی کا آغاز

    جعلی ڈگری کے حامل 457 پی آئی اے ملازمین کیخلاف کاروائی کا آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے میں جعلی ڈگری کے حامل 457 ملازمین کے خلاف ایف آئی اے نے انکوائری شروع کر دی ہے

    پی آئی کے ملازمین جن کی ڈگری جعلی ہے اور وہ پی آئی اے میں ملازمت کرتے رہے، باغی ٹی وی نے ان جعلی ڈگری کے حامل افراد کی لسٹ حاصل کر لی ہے، ڈگری جعلی ثابت ہونے پرپی آئی ا ے کے ان ملازمین کے خلاف ایف آئی اے نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، ایف آئی اے ان محکموں کی بھی تحقیقات کرے گی جنہوں نے ان جعلی ڈگری کے حامل افراد کو بھرتی کیا اور ملازمتوں پر رکھا، باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے بعد ایف آئی اے کارپوریٹ سرکل کراچی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”501224″ /]

    تحقیقات کے مطابق جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کی تعداد 457 ہے،اور ان ملازمین کو 2008 سے 2017 کے مابین بھرتی کیا گیا تھا، ایف آئی اے کی جانب سے ان جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کے خلاف کاروائی کی جائے گی، ایف آئی اے نے جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کے خلاف کاروائی سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد کر رہی ہے، سپریم کورٹ نے پی آئی اے سے جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کے خلاف کاروائی کا حکم دیا تھا

    ایف آئی اے ان ملازمین کے خلاف بھی تحقیقات کر رہی ہے جن ملازمین نے ان جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کو بھرتی کیا تھا یا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے بھرتی کروانے میں کسی بھی طرح کی مدد کی تھی

    جعلی ڈگری کیس: ایف آئی اے نے حتمی انکوائری کے بعد 25 پائلٹوں کے خلاف مقدمات درج

    واضح رہے کہ جعلی ڈگری کی وجہ سے پی آئی اے کے کئی ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے، پی آئی اے ملازمین نے عدالت سے رجوع بھی کیا تاہم عدالت نے انہیں کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا، عدالت نے جعلی ڈگری کیسز میں پی آئی اے ملازمین کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں،

    کاش. پی آئی اے والے یہ کام کر لیتے تو PK8303 کا حادثہ نہ ہوتا، سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    ماشاء اللہ، پی آئی اے کے پائلٹ ماضی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ؟سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

    کراچی طیارہ حادثہ،طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

  • :15 فیصد بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری:سرکاری ملازمین وزیراعظم کودعائیں دینے لگے

    :15 فیصد بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری:سرکاری ملازمین وزیراعظم کودعائیں دینے لگے

    اسلام آباد::15 فیصد بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری:سرکاری ملازمین وزیراعظم کودعائیں دینے لگے ،اطلاعات کے مطابق سرکاری ملازمین کی موجیں لگ گئیں اوریکم مارچ سے تنخواہ 15 فیصد بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں فرق کم کرنے کا معاملہ طے ہوگیا اور 15 فیصد خصوصی الاؤنس دیا جائے گا۔

    وزارت خزانہ کے مطابق گریڈ 1 سے 19 کے سول ملازمین کو یکم مارچ سے الاؤنس ملے گا، پہلے سے ہی 100 فیصد یا زیادہ الاؤنس لینے والے مستفید نہیں ہوں گے۔تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے وزارت خزانہ نے تمام متعلقہ وزارتوں کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے وزیراعظم کے حکم پر حکومت نے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق گریڈ1سے 19 تک کے ملازمین کو 15 فیصد ڈسپیریٹی الائونس دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔

    وزارت خزانہ کے مطابق سرکاری ملازمین کو ڈسپیریٹی الائونس بنیادی تنخواہوں پر دیا جائے گا، ڈسپیریٹی الائونس کا اطلاق یکم مارچ سے ہوگا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ٹائم اسکیل پروموشن کی سمری پر غور کیا گیا، جو ملازمین لمبے عرصے سے ایک ہی گریڈ میں کام کر رہے ہیں ان کی ترقی کے لیے سمری پر غور کیا جا رہا ہے۔

    وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ملازمین کی طرز پر ملازمین کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ اپریل تک ہوگا۔ پے اینڈ پنشن کمیشن کی سفارش پر تمام ایڈہاک ریلیف اور الالائونسز کو تنخواہوں میں ضم کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ وفاقی حکومت نے صوبوں کو بھی سرکاری ملازمین کی اسی تناسب سے تنخواہیں بڑھانے کی سفارش کی گئی تھی۔