Baaghi TV

Tag: ملالہ

  • ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے پاکستانی طالبات کے لیے اسکالرشپ پروگرام کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ان کی خواہش تھی کہ وہ ان لڑکیوں کے لیے کچھ کریں جو تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اس اسکالرشپ کے تحت پاکستانی خواتین کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، خاص طور پر ان طالبات کو ترجیح دی جائے گی جو تعلیم کے ذریعے پاکستان میں مثبت تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جو پاکستانی خواتین آکسفورڈ میں ماسٹرز کرنے کا خواب رکھتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آ کر معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں، یہ پروگرام ان کے لیے بہترین موقع ہے،اسکالرشپ کے لیے درخواستیں آکسفورڈ پاکستان پروگرام کی ویب سائٹ oxpakprogramme.org کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں، ملالہ نے کہا کہ وہ نئی طالبات کو آکسفورڈ میں خوش آمدید کہنے کی منتظر ہیں۔

  • اسرائیلی و فلسطینی بچو ں کیلئے ملالہ کا جنگ بندی کا مطالبہ

    اسرائیلی و فلسطینی بچو ں کیلئے ملالہ کا جنگ بندی کا مطالبہ

    حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے اور اسرائیل کے جواب کو آج پانچواں دن ہے، نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ نے آج خاموشی توڑی ہے، پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل پر حملے کے بعد ملالہ اب کیوں خاموش ہے اور وہ کس کا ساتھ دے گی؟ اسرائیل کا یا فلسطینیوں کا ، تا ہم اب ملالہ نے پانچویں دن ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے مابین فوری جنگ بندی ہونی چاہئے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ جیسا کہ میں نے حالیہ دنوں میں دل دہلا دینے والی خبریں دیکھی ہیں اس دوران میرا دھیان فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کی طرف ہے جو جنگ کی صورتحال میں شدید متاثر ہوئے ہیں میں صرف 11 برس کی تھی جب میں نے اپنے ارد گرد دہشتگردی اور تشدد جیسا ماحول دیکھا صبح سویرے ہم مارٹر گولوں کی آوازوں سے بیدار ہوتے تھے اپنے اسکولوں اور مساجد کو بموں سے تباہ ہوتے دیکھا امن ایک ایسی چیز بن گئی جس کا ہم صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے جنگ ہمیشہ بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ اسرائیل کے گھروں سے اٹھائے گئے بچے ہوں یا غزہ میں فضائی حملوں کے ڈر سے چھپے ہوئے یا خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے بچے ہوں آج میں ان تمام بچوں اور لوگوں کے لیے غمزدہ ہوں جو مقدس سرزمین میں امن اور انصاف کے خواہاں ہیں

    واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین لڑائی کا آج پانچواں دن ہے، پانچ دنوں میں دونوں اطراف سے اموات ہوئی ہیں، اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں بے گھر افراد کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہو گئی ہے،غزہ پر اسرائیل کی جانب سے ہوائی، زمینی اور سمندری حملےکئے جا رہے ہیں، حملوں کی وجہ سے فلسطینی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

  • ملالہ یوسفزئی  21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    ملالہ یوسفزئی 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ پاکستانی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی دسمبر میں 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی جس سے وہ اس پروقار فورم پر خطاب کرنے والی اب تک کی سب سے کم عمر ترین شخصیت بن جائیں گی جبکہ واضح رہے کہ نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جسے منڈیلا نے 1999 میں سب کے لیے آزادی اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا تھا۔ سالانہ لیکچر کے سابقہ مقررین میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس، مائیکروسافٹ کے بانی اور عطیہ دہندہ بل گیٹس، آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو اور اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان سمیت دیگر شامل ہیں۔


    علاوہ ازیں فاؤنڈیشن نے اپنی ویب سائٹ پر بھی اس بات کا اعلان کیا کہ نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی 5 دسمبر 2023 کو جوہانسبرگ میں 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی جبکہ عالمی ادارہ کی خبر کے مطابق نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے قائم مقام سی ای ورن ہیرس نے واضح کیا کہ ملالہ یوسف زئی اس قسم کی قیادت کو مجسم کرتی ہیں جس کا ہمیں یقین ہے کہ دنیا کو معاشرے کی تمام سطحوں پر ضرورت ہے۔ موجودہ عالمی چیلنجوں کے پیشِ نظر جو نہایت مشکل لگ سکتے ہیں، وہ ایک منصفانہ اور مساوی مستقبل کے لیے امید کی ایک متأثرکن علامت کے طور پر کھڑی ہیں۔

    تاہم اس سال کے سالانہ لیکچر میں اہم سوالات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی بشمول یہ کہ مقامی اور عالمی سطح پر کس قسم کی قیادت کی ضرورت ہے، زیادہ منصفانہ مستقبل کے حصول کے لیے جس طرح کی قیادت کی ضرورت ہے اسے کیسے عملی شکل دی جائے اور زیادہ منصفانہ مستقبل کے لیے وژن کیا ہے۔ جبکہ خیال رہے کہ ملالہ نے دس سال کی عمر میں شمال مغربی پاکستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں زندگی کے موضوع پر بی بی سی کے لیے ایک گمنام ڈائری لکھنا شروع کی تھی۔ 2012 میں لڑکیوں کی تعلیم کی وکالت کرنے پر عسکریت پسندوں نے انہیں سر میں گولی مار دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس
    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا
    جبکہ 2014 میں وہ نوبل امن انعام جیتنے والی اب تک کی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں ہیں اور ان کی غیر منافع بخش تنظیم ملالہ فنڈ متعدد ممالک میں تعلیمی منصوبوں کو فنڈ دیتی ہے اور بین الاقوامی رہنماؤں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر زمین پر اختراعی حل میں سرمایہ کاری کرتی ہے اور عالمی سطح پر تمام لڑکیوں کے لیے معیاری تعلیم کی وکالت کرتی ہے۔

  • ملالہ یوسفزئی کی 26 ویں سالگرہ؛ آج ملالہ ڈے منایا جارہا

    ملالہ یوسفزئی کی 26 ویں سالگرہ؛ آج ملالہ ڈے منایا جارہا

    ملالہ یوسف زئی کی سالگرہ پر آج دنیا ملالہ کا عالمی دن منارہی ہے جبکہ پاکستان کی پہچان ملالہ کو نوبل انعام برائے امن سے بھی نوازا جاچکا ہے اور ملالہ یوسف زئی دنیا کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ شخصیت ہیں، پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرنے والی ملالہ یو سف زئی 1997ء میں سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہو ئیں تھیں۔


    سالگرہ کے موقع پر ملالہ یوسف زئی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ کہ اقوام متحدہ میں تقریر کے دس سال بعد مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آگے کیا ہوگا، وہ حیرت انگیز لوگوں سے ملیں گی، وہ کہاں جائیں گیں۔ وہ صرف لڑکیوں کی تعلیم کے لئے اپنی لڑائی جاری رکھنے کے لئے پرعزم تھیں۔ خیال رہے کہ 12 جولائی، 2013ء کو ملالہ کی 16 ویں سالگرہ تھی جب ملالہ یوسفزئی نے اقوام متحدہ سے عالمی خواندگی کے بارے میں خطاب کیا۔ اقوام متحدہ نے اس واقعے کو ملالہ ڈے یعنی یومِ ملالہ قرار دے دیا، اس کے بعد سے دنیا ہر سال ان کی سالگرہ کے دن کو بطور ملالہ ڈے کے طور پر مناتی ہے۔

    ملالہ یوسفزئی نے برطانیہ کی جامعہ آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے جبکہ تمام زندگی تعلیم اور محروم بچوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی ملالہ نے ہمیشہ اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دنیا بھر میں حقیقی تبدیلی صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ امن کے نوبل انعام سمیت ملالہ کو اب تک درجنوں ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ گل مکئی ملالہ کو اقوام متحدہ نے دو ہزار سترہ میں خیرسگالی سفیر برائے امن مقرر کیا تھا۔


    آج انکے جنم دن پر دنیا بھر کے عالمی رہنما انہیں مبارکباد پیش کررہے ہیں اور انتونیو گریترس نے بھی انکے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے ملالہ ڈے پر انہیں مبارک باد دی ہے. تاہم یاد رہے کہ تعلیم، امن اور لڑکیوں کی تعلیم کیلئے آواز بلند کرنے والی ملالہ کی آواز کو خاموش کرنے کیلئے دہشت گردوں نے ان پر 9 اکتوبر 2012ء کو حملہ کیا۔ انھیں اسکول سے گھر جاتے ہو ئے فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ وہ صحت یاب ہوئیں تو دنیا بھر میں خواتین اور بچوں کی تعلیم کی آواز بن گئیں، اس باہمت لڑکی کی آج دنیا بھر میں 26ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

  • ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    میرے لیئے ضیاء الدین یوسفزئی کا تعارف ذرا مختلف ہے ان لوگوں سے جنہوں نے افسانوی، پراسرار، متنازع یا غیر فطری قصے سن رکھے ہیں کیونکہ جہانزیب کالج میں ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی مجھ سے سینئر تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تمام ہمدردیوں کے باوجود ایک غیر تحریری نسل پرستانہ قوم پرستی کے غالب جزبات پر میرے شدید تحفظات تھے. کیونکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ رہا ہے کہ بہترین جزباتی تقریر اور بہترین شاعری کا بہاؤ ہر رہنما میں مشترک رہا مگر ساتھ ہی مجالس و مکالمے میں دلیل کی جگہ زور اور "پرتشدد” الفاظ کی ادائیگی تقریر و شاعری کو محض طاقت کا اظہار بنا دیتی تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی نے طلبہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تو ایک فرق نے مجھے فورا متوجہ کیا کیونکہ میری نظر میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں فٹ نہیں تھے اس لیئے کہ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور عدم تشدد کے قائل تھے جبکہ یہ اے این پی کے آئین کے عین مطابق اور عمل کے برعکس تھا. دوسرا ضیاء الدین کی ادائیگی میں لکنت تھی ہکاہٹ تھی مگر جب شعر ادا کرتے تھے تو اس روانی سے کہ پن ڈراپ خاموشی ہوتی اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ غیر سیاسی اساتذہ کرام دروازوں ، برآمدوں میں کھڑے ہوکے مدلل مقرر اور برجستہ شاعری سنانے والے کو سنتے تھے اور میری عقیدت ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ ان کی شخصیت کی عجیب پراسراریت کی وجہ سے تھی جس کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ انتہائی انکساری اور تہذیب سے رہتے جس کو میں ان کی عظمت یا احساس کمتری میں کوئی ایک سمجھنے سے قاصر رہا.

    وہ اساتذہ میں غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی رکھتے تھے جو کسی طالب علم رہنما کے لیے میں نے نہیں دیکھی تھی
    وہ بہت ترقی پسند اور لبرل تھے جبکہ تھیوکریسی کے مخالف تھے مگر روحانیت پسند ضرور سے تھے۔ وہ مذہب پر بات نہیں کرتے تھے مذہب پر تنقید نہیں کرتے تھے مگر تنقید کے بارے میں ہمیشہ غیر جانبدار رہتے چونکہ بائیں بازو کی سیاست زندہ اور سر گرم تھی اور ریاست کی طرف سے مذہبی استعمال اور اس استعمال میں استحصال غالب تھا اس لیے بائیں بازو کے نظریات کے عامل افراد کا استعمار کے ساتھ مذہبی تنقید فیشن کے اندر تھا. ضیاء الدین یوسفزئی ایک روایت پسند مذہبی شخص اور ایک حق تنقید کے حامی دوہری شخصیت کی طرح نظر آتے اور وہ مذہبی انتہا پسندی اور لا دینی انتہا پسندی کے دور میں اعتدال پر تھے جو اس کی جیسی شخصیت سے امید نہیں کی جا رہی تھی اور وہ خود شاعر اور لطیف احساسات کے مالک تھے .

    انگریزی ادب اور پشتو ادب پر ایک قابل ذکر عبور رکھتے تھے علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے سامع تھے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور پھر وہ ہمارے محلے میں بھی آکر رہنے لگے تھے جہاں کسی عام محلے دار کی طرح اسی لہجے میں گفتگو کرتے وہ نوجوانوں اور عام محلے داروں میں بہت مقبول تھے لہذا میں نے ایک چھٹی والے دن ضیاء الدین کو دیکھا جن کے ہاتھ میں چھوٹی سی سیڑھی ایک بورڈ تھا میں دور سے دیکھ رہا تھا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ضیاء الدین ہی ہے میرے ساتھ جو لڑکے تھے وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جو جانتے تھے شانگلے والا نیا کرایے دار اچھا لڑکا سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے تھے لہذا ہم خوڑ پار کرکے ان کے پاس پہنچے وہ کچھ شرمائے کچھ خوش ہوئے میں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں ؟

    بورڈ دیکھاتے ہوئے کہنے لگے ساجد ایک کوشش سی ہے "خوشحال پبلک سکول لنڈیکس” میں نے پوچھا کیا آپ واقعی انگلش میڈیم سکول کھولنے میں سنجیدہ ہو جس کا کوئی اچھا سٹینڈرڈ بھی ہوگا ؟ انہوں نے اعتماد سے جواب دیا یقیناً
    میں نے کہا نام کا انتخاب قطعی غلط ہے بورڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں ؟ میں کہا اگر انگلش میڈیم سکول کھولنے کا اردہ ہے تو خوشحال خان ، رحمان بابا قسم کا نام رکھنے کی جگہ شیکسپیئر ، سینٹ، لارنس ، کوین یا جان ، مارٹن ٹائپ نام رکھیں اور میں واقعی سنجیدہ تھا . وہ کھل کر ہنسے اور گلے لگے جس کا مطلب تھا وہ قطعی طور پر متفق نہیں ہے. وہ بورڈ ہم نے ملکر نصب کیا یہ تشہیری مہم تھی سکول کی جس کو ایک لمبے عرصے تک وہاں سے گزرتے ہوئے ہمدردی سے دیکھتا .

    انعام ہمارا دوست تھا اور اس نے نشاط چوک میں ایک کتابوں کی دوکان کھول لی۔ جس میں روایتی کتابوں کے علاوہ ترقی پسند ادب پر کتابیں اور رسائل بھی موجود ہوتے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی لوگوں کے لیے ایک جائے اطمینان اور پاک ٹی ہاؤس جیسی اہمیت حاصل کر گیا ۔ ضیاء الدین یوسفزئی بھی گاہے بگاہے وہاں آتے جہاں میں ، عثمان اولس یار اور دیگر نظام سے مایوس موجود ہوتے جزباتیت تو تھی ان دنوں میں چودہ اگست کی کاروباری سطح پر منانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ میری یاد میں پنجاب بیکری والے اپنی بیکری سجا کر کچھ اظہار کرتے ورنہ سکولوں میں ہی چودہ اگست کے نغمے سن کر چھٹی اور نہ چھٹی کا سا ماحول ہوتا ایک چودہ اگست کو بغیر کسی پیشگی مشورے کے ہم نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی۔ ضیاء الدین آیا تو ان کے بازو پر باندھ دیا اور ہم خود غیر اہم تھے ہمارے احتجاج کی اہمیت ہمارے علاؤہ کسی نے محسوس نہیں کی اور ہم خود نہیں جانتے تھے ہمارا کیا مقصد ہے ہاں نظام پر عدم اعتماد ایک وجہ ضرور تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی کے خلاف پچھلے سالوں میں چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا الزام لگا پڑھا تو بے اختیار ہنس دیا، ضیاء الدین یوسفزئی کی نظریات سے زیادہ ان کی شرافت اور دوستی کا احترام سیاہ پٹی کو ان کے بازو پر لے آیا تھا جو دہائی سے اوپر گزرنے کے بعد ان کے لیے طعنہ بن گیا جبکہ انعام اور ہم کئی پشتوں سے پڑوسی تھے عثمان اولس یار رشتہ دار ، کلاس فیلو ، دوست اور ہم نظریہ اور باقی دو تین دوست بھی ایسے ہی تھے عبداللہ یوسف زئی ، واجد علی خان کا بھی گزر ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتے. ضیاء الدین یوسفزئی نے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا تھا اور روخان صاحب و فضل ربی راہی صاحب کی قربت مل گئی تھی جس کی مجھے توقع بھی تھی اور ان کے اندر اہلیت تو تھی ہی کہ اس محفل تک پہنچتے۔

    ضیاء الدین یوسفزئی ایک با اعتماد ماہر تعلیم کی صورت میں ابھرنا شروع ہوئے ساتھ ہی ادبی سرگرمیوں کے سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے جبکہ انکی خواہش تھی کہ تعلیم سائنسی بنیادوں پر آسان ،سستی اور پر کشش ہو دوئم کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مالی مدد کا مستقل کوئی سلسلہ بھی بنائے اسی میں ہی سرگرم رہے اور میں بھی عملی زندگی میں آ کر سوات چھوڑ چکا تھا مگر ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطہ تھا جسکی وجہ ایک پچھلا تعلق دوسرا میرے بہنوئی احمد شاہ کے ساتھ ان کی دوستی ، میرے والد صاحب کے ساتھ ان کا تعارف اور اچھے الفاظ میں ذکر سمیت متعدد ۔۔

    دو ہزار آٹھ یا نو میں ضیاء الدین یوسفزئی کا ایک میسج آیا کہ وہ بیرونی ملک کسی ادبی سلسلے میں جا رہا ہے اور کچھ
    میں نے اس کا میسج ویسے ہی فیس بک پر لگا دیا میرے ایک فیس بک دوست اور سوات کے ایک رہائشی نے تبصرہ لکھا کہ وہ بہت خوش ہوگا اگر ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کروں اور اگر میں ان کا نمبر فراہم کر سکوں میں نے یوسفزئی سے پوچھا انہوں نے ہنس کر کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر ضیاء الدین نے واپسی پر میرا بڑا شکریہ ادا کیا کہ میری وساطت سے جو میزبانی ملی اس نے کافی مدد کی اور بہت کچھ دیکھنے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا چونکہ ضیاء الدین کو میں ایک خوددار ، شکر گزار اور قناعت پسند شخص کے طور پر بھی جانتا تھا مجھے بہت اچھا لگا۔ مذید باہر سے دوست کی جانب سے ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کا موقع فراہم کرنے اور تنگی وقت ملاقات کے ذکر نے اور بھی خوشی فراہم کی جو دراصل میزبان کی مہمان کے لیے خراج تحسین تھا.

    مجھے فخر ہوا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے ان کو گرویدہ کر لیا تھا 2009 میں جب حالات بہت خراب ہونے لگے تو مجھے ضیاء الدین کی بڑی فکر ہوتی تھی اور رابطہ بھی بہت رکھتا تھا ان کا احتجاج اور رد عمل میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ تھا شعوری آگاہی کی ان کی تمام کاوشیں بہت ہی خطرناک ہو سکتیں تھیں جس سے وہ متفق نہیں تھا یا آنے والے واقعات کا سب لوگوں کی طرح ان کو بھی صحیح ادراک نہیں تھا جبکہ ایک وقت آیا جب مجھے لگا کہ شاید میں ان کو زندہ پھر کھبی نہیں دیکھ پاونگا اور سوات سے ابادی کے انخلاء سے کچھ پہلے وقت پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوات چھوڑ رہے ہیں مگر دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میں نے فون پر رابطہ کیا تو سفر میں تھے دل برداشتہ تھے دو ہزار نو میں ہی نشاط چوک میں سیدوشریف کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے وہ سٹرک کنارے چلتے ہوئے نظر آیا ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا گاڑی پارک کرکے میں ان کو گلے ملا اور کہا کہ مجھے یقین تھا ہم کھبی دوبارہ زندہ نہیں مل پائیں گے سوات کا تاریخی ہجرت کا دور ختم ہو چکا تھا۔
    وہ مگر پر عزم تھا اور سوات کے حالات کو خراب کرنے کو منظم کوشش اور مجرمانہ فعل برملا کہہ رہا تھا اور ان کے عزم میں اور پختگی تھی شاید ہی کچھ لوگ اس طرح اظہار کرتے ہونگے جیسے وہ کر رہا تھا انخلا سے پہلے اور اب بعد میں وہ سوات قومی جدوجہد اور قومی بیداری پر زور دے رہا تھا جبکہ بعد میں سوات قومی جرگے کا اہم رکن بھی بن گیا.

    دہشت گردی ، کرفیو کی طوالت اور ریاستی ردعمل کی مایوس اظہار کا بہت بڑا ناقد تھا
    2009 کے واقعات اور ناخوشگوار تجربات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اعتدال پسند اور استقامت پسند ضیاء الدین کے اندر یہ دونوں صفات کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ دہشت گردوں کے خلاف شدید مزاحمت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے دوسری طرف ریاستی اداروں اور ریاست کی لاپرواہی اور غیر ضروری تاخیر کو بھی حدف تنقید بنا رہے تھے ساتھ ہی ان کے امدادی کاموں میں بھی باقاعدگی اور تیزی آ رہی تھی ایک طوفان تھا جو ان کے اندر ابل رہا تھا
    2010 کے سیلاب میں انہوں نے رابطہ کیا اور مجھے ایک بڑی رقم عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا. میں چونکہ ہمیشہ مالی غیر ہمواری اور معاشی بے ترتیبی کا شکار رہا ہوں مالی امداد سے معزرت کی۔ جس پر انہوں نے متاثرین کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں مدد کی درخواست کی اور پھر انکے امداد دینے کا طریقہ بہت ہی عجیب تھا ۔ میڈیا اور شہرت سے پردہ کرکے گھر گھر جاکر امداد پہنچائی وہ گراؤنڈ پر موجود رہا 2011 میں موثر طور پر وہ سوات کا کیس پیش کر رہا تھا ۔ مذاکرے ، سیمینار اور پریس کالموں کے ذریعے سوات میں استحصال کے خلاف ایک موثر آواز بنے رہے مسلسل دھمکیوں اور سیکورٹی رسک کے باوجود وہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھے اور واقعی ان کی فکر بہت بڑھ گئی تھی۔

    اکتوبر 2012:میں کم سن ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت سب نے ملالہ کے احتجاج اور ڈائری کو وجہ قرار دیا مگر نجانے کیوں مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ ضیاء الدین کو چھپ کرانے کے لیے سافٹ ٹارگٹ چنا گیا. بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں نے یہ موقف دیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘ اس وقت سوات قومی جرگہ پوری طرح سرگرم تھا اور تمام سربراہ ٹارگٹ کیے جا رہے تھے۔ اور اس ٹارگیٹنگ پر کھل کر جرگے کا موقف آ رہا تھا

    اس دن میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں میٹنگ میں تھا چائے کے وقفے میں ٹی وی آن کیا تھا تو ملالہ یوسفزئی پر حملے کی خبریں چل رہی تھیں میں نے انتہائی پریشانی میں اپنے بہنوئی احمد شاہ کو فون کیا انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا میں ساتھ ہوں وہ ہسپتال میں ہے اور ضیاء الدین پہنچ رہا ہے بعد میں ملالہ یوسفزئی کو شفٹ کرنا پڑا خیبرپختونخواہ کے ماہر نیورو سرجنوں کی ٹیم کی مدد کے لیے ملٹری ہسپتال کے نیورو سرجن پہنچے مگر زندگی اور موت کی جنگ جاری رہی اور ملالہ یوسفزئی کے لیے جدید علاج فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا. پہلے سے سوات بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے شکار کے طور پر نمایاں تھا سکول کے بچیوں پر حملے نے مغربی سول سوسائٹی کو کھل کر طالبان کی مذمت اور ملالہ کو فوری طور پر صحت کے بہترین مواقع دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ ہوگیا۔

    اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کو دہشت گردی کا بزدلانہ فعل قرار دیا اور ملالہ کو بہترین طبعی امداد دینے کا وعدہ اور اپیل کی اور ایک آئر ایمبولینس میں ملالہ کو انگلستان منتقل کیا گیا اور دنیا بھر سے لاکھوں بچوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ضیاء الدین یوسفزئی پاکستان میں رہ گیا وہ ، اس کے جزبات اور حثیت ثانوی ہوگیے
    مالی طور پر وہ اتنا مستحکم نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کا سفر اور وہاں رہائش کا بندوست کر سکے ساتھ ہی دیگر قانونی لوازمات کی تیاری میں موت سے لڑنے والی ایک بچی کے بے بس باپ کا درد روح پرور تھا ملالہ کے ایک سے اوپر ایک آپریشن کیے جا رہے تھے متفرق خبریں مل رہی تھی زندگی کے مطالق شہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں مستقل معزوری کی نوید دی جا رہی تھی.

    اور پھر وہ دن آیا کہ ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ ایک مہذب ملک پہنچ گیا جہاں اظہار تحریر و تقریر کی آذادی کے ساتھ بہترین طبی سہولیات حاصل تھے ملالہ رو بہ صحت ہوتی گئی مگر وہ چہرے کے ایک سائڈ کے اعصابی نظام کی مفلوجی کا شکار بحرحال ہوگئی۔ سپیچ تھراپسٹ اور فزیوتھراپسٹ نے ملکر نیورولوجی کے شعبے کے ساتھ ملکر طبی کرشمہ انجام دیا. ملالہ بولنے کی لائق ہوئی تکلیف سے ہی سہی مگر اس کی آواز نے ضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس نے اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور دہشت گردی کی مخالفت اور سختی سے کرنے کا اعلان کیا۔
    آصف علی زرداری صاحب نے دورہ انگلستان کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی ملکیتی ایک مکان بھی رہنے کو دیا.

    ضیاء الدین نے حکومت پاکستان کو درخواست دی کہ یہ مکان ان کی ضرورت سے کہیں بڑا ہے اور ویسے ہی دہشت گردی زدہ ملک پر بوجھ ہے اس لیے ان کو انکی چھوٹی فیملی کے حساب سے مکان دیا جائے 2014 تک ملالہ کی آواز دنیا کے ساتھ ارب سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال ان کو امن کے لیے عالمی ایوارڈ اور اگلے سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے تعلیم کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا واحد موثر ہتھیار قرار دیا کروڑوں لوگوں نے براہ راست انکی تقریر سنی اقوام متحدہ نے اپنے ایک فنڈ جو دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم اور بہتر صحت کے لیے سرگرم تھا کا نام تبدیل کرکے ملالہ فنڈ رکھ دیا برطانیہ میں ہی ضیاء الدین یوسفزئی کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے میں ملازمت مل گئی مگر وہ ایک طویل عرصے مالی دشواری کا شکار رہے.

    ملالہ ملنے والی انعامی رقم ملالہ نے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ سوات اور شانگلہ میں کئی پبلک و پرائیویٹ سکولوں کو فنڈز کی فراہمی شروع کر دی بے شمار طلباء تعلیمی وظائف حاصل کرنے لگے تور پکئ ایک گھریلو ناخواندہ خاتون نے پڑھنا شروع کیا اور ان کی شاعری وطن سے محبت ، یاد اور امن کے پیغام پر مبنی میڈیا پر سامنے آنے لگی عملی طور پر ایک وطن پرست اور محب وطن ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ وطن بدر ہوگیا ہے
    پچھلے سال ان کے لنڈیکس والے گھر پر کام کرنی والی خاتون کے لیے انہوں نے میرے نام پر کچھ امدادی رقم بجھوائی جو بینک کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے نکالے گیے اور پھر مجھے ایف آئی اے سے انکوائری کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

    مجھے کہا گیا کہ میرا نام کا اضافہ پہلے سے موجود مالی امداد لینے والوں کی فہرست میں ہوگیا ہے اور کہ میرا ضیاء الدین کے ساتھ کیا رشتہ ہے میں نے بتایا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ امداد میرے توسط سے ایک پرانی جاننے والی بزرگ خاتون کو بھجوائی ہے جو میں نے اسی دن ادا کر دی تھی اور بینک سے کئی مہینے بعد وصول کی ۔ بڑی مشکل سے ثبوتوں اور گواہیوں کے بعد یقین دلایا ہم نے ضیاء الدین یوسفزئی کو تسلیم نہیں کیا ان معنوں میں ہرگز نہیں جس کا وہ حق رکھتا تھا ۔

    ہم نے باچا خان کو تسلیم نہیں کیا، ہم نے بھگت سنگھ کی آذادی کی تحریک کا مذہب جائزہ لیکر مسترد کیا۔ ہم زمینی حقائق کے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ نیا کچھ نہیں کیا ۔۔
    دنیا بھر کے آذاد و مہذب ممالک نے ان کے سامنے سر نگوں کیے ۔ ضیاء الدین یوسفزئی آج بھی طالبان حاکمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی کے دن گن رہا ہے وہ شاید واحد موثر آواز ہے جو بلند ہے
    بے انصافی ، دہشت گردی ، لاقانونیت اور ریاستی عدم تعاون کے خلاف ، ریاستی نظر اندازی اور سرد مہری کے خلاف، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مجھے یقین ہے ضیاء الدین یوسفزئی تاریخ میں صحیح سمت کھڑا ہے وہ مختلف قسم کی جدوجہد میں ہے جس میں باچا خان، بھگت سنگھ ، رابندرناتھ ٹیگور ، مولانا عبیداللہ سندھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی مشترکہ جھلک نظر آتی ہے ۔

  • نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی لاہور پہنچ گئیں

    نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی لاہور پہنچ گئیں

    نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی 2 روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئی ہیں۔

    نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی2 روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملالہ یوسف زئی اپنے والد کے ہمراہ لاہور آئی ہیں، یہاں وہ مختلف سیمینارز میں شرکت کریں گی۔ اس موقع پر لمز یونیورسٹی میں ملالہ یوسف زئی کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی 16 دسمبر کو واپس جائیں گی۔
    ملالہ یوسف زئی نے اپنے ٹویئٹرپیغام میں بتایا کہ وہ بہت اچھا محسوس کر رہی ہیں اپنے آبائی گھر پاکستان آ کراوروہ لاہور میں قیام کریں گی.


    نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی لاہور پہنچ گئیں ھیں ملالہ یوسف زئی ورجن اٹلانٹک کی پرواز وی ایس 364 کے ذریعے لاہور پہنچیں، ملالہ یوسف زئی کی فیملی بھی ان کے ہمراہ ہے۔ ملالہ یوسف زئی دو روز پاکستان میں قیام کریں گی۔ دورہ کے دوران ماہرین تعلیم اور حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گی۔ پاکستان میں تعلیمی ڈھانچے میں بہتری بارے اپنی شفارشات دیں گی۔ ملالہ یوسف زئی وزیراعلی پنجاب پرویز الہی سے بھی ملاقات کریں گی۔

    یہ بھی پڑھیں؛ وزیر خارجہ کی ملالہ سے ملاقات، خواتین کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم زیربحث
    وزیراعظم شہبازشریف کی ملالہ سے ملاقات، لڑکیوں کی تعلیم زیر بحث
    ملالہ نے فلم جگت میں قدم رکھ دیئے
    ملالہ یوسفزئی فلم جوائے لینڈ کی ٹیم میں بطور پرڈیوسر شامل

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملالہ فنڈ کی شریک بانی ملالہ یوسفزئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملالہ یوسفزئی کی جانب سے سماجی مسائل بالخصوص بچیوں کی تعلیم پر عالمی سطح پر وکالت کو سراہا تھا۔

    وزیراعظم نے حالیہ موسمیاتی سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور تباہی پر روشنی ڈالی تھی جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، وزیراعظم نے سیلاب سے تعلیمی انفراسٹرکچر پر مرتب ہونے والے اثرات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    ملالہ یوسف زئی نے اس موقع پر تمام بچیوں کیلئے تعلیم کے حق کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے بہت سے سکول تباہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے پسماندہ بچوں بالخصوص بچیوں کی مدد کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیاتھا