Baaghi TV

Tag: ملزمان

  • کراچی:رینجرز کی کارروائی، لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

    کراچی:رینجرز کی کارروائی، لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

    کراچی:رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران مسافر بس میں جیب تراشی اور لوٹ مار کی متعدد وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا-

    ترجمان رینجرز کے مطابق بلدیہ ٹاؤن مواچھ موڑ کے قریب مسافر بس میں لوٹ مار کی اطلاع پر رینجرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے 4 موبائل فونز اور نقدی برآمد کرلی گرفتار ملزمان کا گروہ 10 سے 12 افراد پر مشتمل ہے جو پچھلے دو سال سے کراچی کے مختلف علاقوں سے موبائل فون چھیننے اور جیب تراشی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔

    ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان روزانہ کی بنیاد پر 5 سے 6 موبائل فونز چھین کر انھیں فروخت کے بعد رقم آپس میں تقسیم کرلیا کرتے تھے گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں پولیس کے معطل اہلکار انہیں چھڑوانے میں کردار ادا کرتے ہیں جس کے عوض اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر کچھ رقم فراہم کی جاتی ہےگرفتار ملزمان کو برآمد کیے جانے والے مسروقہ سامان کے ہمراہ مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف

    نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف

    لاہور:جوہر ٹاؤن سے نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف سامنے آگیا۔

    ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے مغوی عابد وزیر کو سی سی ڈی کے خوف سے رہا کیاملزمان نے عابد وزیر کو سی سی ڈی کو نہ بتانے کی شرط پر رہا کیا، اغوا کاروں نے کہا تاوان نہ دیں بلکہ ہم سے بھی پیسے لے جائیں اغوا کاروں نے بس پر بٹھا کر کرایہ بھی خود دیا، ملزمان نے کہا سی سی ڈی کو یہ بتائیے گا کسی نے اغوا نہیں کیا۔

    نجی کالج کے مالک عابد وزیر کو بدھ کے روز اغوا کیا گیا تھا، ملزمان نے مغوی کے ورثا سے 16 کروڑ تاوان کا مطالبہ کیا تھا،سی سی ڈی حکام کے مطابق وہ ملزمان کے قریب پہنچ گئے ہیں اور جلد گرفتار کرلیں گے، سی سی ڈی کی وجہ سے پنجاب میں سنگین جرائم میں 65 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    22 جنوری کو تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج ایف آئی آر کے مطابق عابد وزیر خان کو آفس سے جاتے ہوئے راستے سے اغوا کیا گیا تھا۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عابد وزیر خان اغوا کے وقت خاتون جنرل مینجر کے ساتھ فون لائن پر تھے، خاتون نے فون پر نامعلوم شخص کی آواز سنی۔ نامعلوم شخص نے مغوی کو کہا کہ تم نے میری گاڑی کا ایکسیڈینٹ کیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان مغوی کو لیکر ملتان روڈ سمیت مختلف علاقوں میں گھومتے رہے، مانگا منڈی کے قریب مغوی کی گاڑی کی لوکیشنز ٹریس ہوتی رہیں۔ ابتدائی تفتیش میں اغواء کاروں کی تعداد تین سامنے آئی، ملزمان بظاہر مغوی کو لیکر شہر سے باہر جانا چاہتے تھے، مانگا منڈی ملحقہ علاقوں میں پولیس کی چھ ٹیمیں روٹ ٹریکنگ کررہی ہیںعابد وزیر کو تاوان کے لیے اغواء کیا گیا یا وجہ کچھ اور ہے تفتیش جاری ہے، مغوی کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا، ملزمان کو جلد ٹریس کرکے گرفتار کرلیا جائے گا۔

  • غیر ملکی کرکٹ میچز پر جوا  کروانیوالا نیٹ ورک گرفتار

    غیر ملکی کرکٹ میچز پر جوا کروانیوالا نیٹ ورک گرفتار

    لاہور میں غیر ملکی کرکٹ میچز پر جوا کروانے والے نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا گیا۔

    چوکی انچارج ایل بلاک نے ٹیم کے ہمراہ خفیہ اطلاع پر نیٹ ورک کو گرفتار کیا، گرفتار ملزمان میں زاہد حمید اور محمد عاطف شامل ہیں،ملزمان آن لائن انٹرنیشنل کرکٹ میچز پر جوا کرواتے تھے، ملزمان مختلف موبائل ایپ اکاؤنٹس کے ذریعے گروپ جوابھی کرواتے تھے، ملزمان کے قبضے سے موبائل فونز، ایل سی ڈی، لیپ ٹاپ اور 1 لاکھ 15 ہزار روپے سے زائد رقم بھی برآمد کر لی گئی۔

    ایس پی صدر رانا حسین طاہر کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے، انہوں نے چوکی انچارج ذوالفقار علی و ٹیم کو شاباش دی۔

    ایران پرتشدد مظاہرے پروپیگنڈا یا حقیقت

    سوشل میڈیا پر من گھڑت الزامات بے نقاب، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کا دوٹوک مؤقف

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،14ویں سالگرہ

  • پشاور:انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث گروہ کو گرفتار

    پشاور:انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث گروہ کو گرفتار

    پشاور کی ایکسائز پولیس نے ایم ون جوائنٹ چیک پوسٹ پر کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث گروہ کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق گروہ کا سرغنہ شہزاد علی، ملتان کے رہائشی محسن اور راشد کو پشاور لایا تھا، جہاں ان کے گردے فرو خت کرنے کا معاہدہ طے پایا تھا ملزمان مجبور افراد کو نشانہ بنا کر ان کے گردے نکالنے اور فروخت کرنے کے کاروبار میں ملوث تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان 2لاکھ 80 ہزار روپے کے عوض گردے بیچنے جارہے تھے گرفتار ملزم شہزاد علی کے موبائل سے بے شمار متاثرہ افراد کی ویڈیوز بھی برآمد کی گئی ہیں، جو اس غیر قانونی کاروبار میں گروہ کی گھناؤنی سرگرمیوں کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔

    19 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری مجرم گرفتار

    ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک اور دیگر ممکنہ ساتھیوں کا سراغ لگایا جا سکے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی تجارت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    حکومت کی چیئرمین اوگرا کی مدت ملازمت میں توسیع

  • چوری شدہ کروڑوں مالیت کی موبائل اسیسریز مالکان کے حوالے کر دی،محمد نوید

    چوری شدہ کروڑوں مالیت کی موبائل اسیسریز مالکان کے حوالے کر دی،محمد نوید

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انویسٹی گیشن پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جو تقریباً اڑھائی کروڑ روپے مالیت کی موبائل اسیسریز کی چوری میں ملوث تھے۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں فضل عالم، ظاہر اسلام، ذاکر اللہ، اصغر علی اور زینور خان شامل ہیں۔ یہ ملزمان ایک گودام سے کروڑوں روپے مالیت کے موبائل اسیسریز کے 314 کارٹن چوری کر کے فرار ہو گئے تھے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں، ہیومن انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کی شناخت اور گرفتاری کی کارروائی کو کامیاب بنایا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ تمام چوری شدہ سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔ برآمد ہونے والے سامان میں موبائل چارجر کے 100 کارٹن، چارجنگ کیبل کے 75 کارٹن، پاور بینک کے 100 کارٹن، 30 عدد ہینڈ فری اور 9 کارٹن موبائل کورز شامل ہیں۔ یہ سامان برآمد کر کے اصل مالکان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    مدعی مقدمہ نے اپنے سامان کی واپسی پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور پولیس ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے مزید کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اس کامیاب کارروائی پر انویسٹی گیشن پولیس سول لائنز کی ٹیم کو بہترین کارکردگی پر تعریفی اسناد بھی دیں۔

    دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے وحشیانہ حملے کی حقیقت کا پردہ فاش

    ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

  • صفائی والی لڑکی کے ساتھ چار ملزمان کی اجتماعی زیادتی

    صفائی والی لڑکی کے ساتھ چار ملزمان کی اجتماعی زیادتی

    ملتان میں نجی بس اسٹینڈ پر چار ملزمان نے لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی ہے

    پولیس حکام کے مطابق لڑکی بس اسٹینڈ پر صفائی کا کام کرتی تھی، لڑکی کو ملزمان نے ورکشاپ میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے،زیادتی کا شکار لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ وہ چھٹی کر کے شام ساڑھے چھ بجے واپس جا رہی تھی کہ ایک بس ڈرائیور اسے نزدیکی ورکشاپ میں صفائی کرنے کا کہہ کر ساتھ لے گیا ،وہاں تین اور افراد بھی موجود تھے، چاروں نے ملکر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی، بعد ازاں اس کی طبیعت خراب ہوئی تو ملزمان نیم بے ہوشی کی حالت میں ورکشاپ کے باہر چھوڑ گئے، ہوش آنے پر اس نے بس اسٹینڈ آکر اسٹینڈ کے مینجر کے نمبر سے پولیس کو اطلاع دی۔

    پولیس نے موقع پر پہنچ کر لڑکی کے بیان پر چار افراد کے خلاف اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ،پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا،

    پی سی بی کا 2024ء کیلئے ہال آف فیم کرکٹرز کا اعلان

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

  • قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ میں واقع صدر تھانے کی حوالات میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 ملزمان ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ گزشتہ رات صدر تھانے کی حوالات میں پیش آیا، جہاں 3 ملزمان قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار تھے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 3 افراد کو قتل کیا تھا اور اس وقت حوالات میں بند تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ زیر تفتیش تھا اور انہیں تھانے کی حوالات میں رکھا گیا تھا کہ اچانک مسلح افراد تھانے میں داخل ہو گئے اور فائرنگ شروع کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں 3 ملزمان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک ملزم زخمی ہو گیا۔

    میڈٰا رپورٹس کے مطابق 6ملزمان تھانہ کی عقبی دیوار سے سیڑھیاں لگا کر داخل ہوئےتمام تھانیداروں کے کمروں کو باہر سے کنڈیاں لگائیں اور حوالات میں بند قیدیوں پر فائرنگ کردی، قتل ہونے والوں میں بلال، عثمان اور ناصر شامل ہیں جبکہ زیر حراست آصف نامی ملزم زخمی ہوا، مقتول ملزمان دو افراد کے قتل کیس میں زیر حراست تھے،فائرنگ مقتول ملزمان کے مخالفین کی جانب سے کی گئی، فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی سی پی او فیصل آباد کامران عادل موقع پر پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیا۔ سی پی او نے اس واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تحقیقات کی جائیں گی،سی پی او کامران عادل نے مزید کہا کہ تھانے کی سیکیورٹی میں غفلت کے ذمے دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ اس واقعہ کی مکمل تفصیل سامنے لائی جا سکے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔پولیس نے بتایا کہ زخمی ملزم کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلح افراد کس طرح تھانے میں داخل ہوئے اور انہوں نے فائرنگ کی۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعہ کا نوٹس لیکر آر پی او فیصل آباد سے رپورٹ طلب کرلی ہے، آئی جی پنجاب نے سی پی او فیصل آباد کو فائرنگ میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا،ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ایس پی انویسٹی گیشن فیصل آباد اور سی آئی اے ٹیموں نے فائرنگ میں ملوث 6 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا، قتل دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ ہے ، مقتولین پر کھرل برادری کے افراد کے قتل کا الزام تھا، مقتولین بلال، عثمان، ناصر اور کزن آصف کو تھانہ سٹی تاندلیانوالہ پولیس نےقتل اور دہشتگردی کے مقدمہ گرفتار کیاتھا۔

    اس واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور مقامی عوام میں تھانے کی سیکیورٹی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

  • سجاول: غیر ملکی سیاح جوڑے سے لوٹ مار کرنے والے ملزمان گرفتار

    سجاول: غیر ملکی سیاح جوڑے سے لوٹ مار کرنے والے ملزمان گرفتار

    سجاول میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ لوٹ مار کرنے والے دو ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقعہ پانچ روز قبل سجاول کے بائی پاس پر پیش آیا، جہاں پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک غیر ملکی جوڑے کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا تھا۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار، وزیرِ ثقافت و سیاحت ذوالفقار علی شاہ اور ڈی آئی جی حیدرآباد نے اس واردات کا سخت نوٹس لیا تھا۔ بعد ازاں، پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی اور دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان سے متاثرہ جوڑے کے دونوں موبائل فون برآمد کر لیے گئے ہیں۔ تاہم، ایک ملزم ابھی تک مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایس ایس پی سجاول نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور امید ہے کہ مفرور ملزم کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری اور متاثرہ غیر ملکی جوڑے کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    یہ واردات سجاول کے ایک مشہور سیاحتی مقام پر پیش آئی، جہاں غیر ملکی جوڑا تفریحی مقاصد کے لیے آیا تھا۔ لوٹ مار کے بعد، متاثرہ جوڑے نے فوراً پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش شروع کی۔ پولینڈ سے تعلق رکھنے والے متاثرہ سیاح جوڑے نے واردات کے حوالے سے ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سائیکلوں پر سجاول کی سڑکوں پر جا رہے تھے، جب اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار افراد نے انہیں گن پوائنٹ پر روکا اور ان سے موبائل فون چھین لیے۔ اس دوران ان کی تلاشی بھی لی گئی، جس سے وہ سخت پریشان ہو گئے۔ اس واردات کے بعد، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سجاول اور ٹھٹہ کے ڈی آئی بی انچارج کو معطل کر دیا تھا۔ ان کی معطلی کا فیصلہ اس بات پر مبنی تھا کہ اس کیس میں پولیس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی۔

    پولیس کے مطابق ملزمان کی تلاش جاری ہے اور اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے اس واردات کے پس منظر میں صوبے کے سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایات بھی دی ہیں تاکہ غیر ملکی سیاحوں کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

    وادی تیرا، خوارج کےجنسی تشدد کے باعث ساتھی دہشت گرد کی خودکشی

    معلوم ہے ملک دشمنوں کو کون سے ممالک سہولت فراہم کررہے ہیں،وزیراعظم

  • معافی مانگ کر رہائی  پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    راولپنڈی: آج رحم اور معافی مانگ کر رہائی پانے والے تحریک انصاف کے 9 مئی کے مجرموں کی رحم کی پیٹیشنز منظر عام پر آ گئی جیل سے باہر نکلنے کے بعد خرافات بکنے والے رحم کی اپیل میں کیا کیا بھیک مانگتے اور ناک سے لکیریں نکالتے رہے-

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سانحہ 9 مئی کی سزاؤں پر عمل درآمد کے دوران مجرموں نے قانونی حق استعمال کرتے ہوئے رحم اور معافی کی پٹیشنز دائر کیں، مجموعی طورپر67 مجرموں نے رحم کی پٹیشنز دائر کیں۔

    بیان کے مطابق 48 پٹیشنرز کو قانونی کارروائی کے لیے ”کورٹس آف اپیل“ میں نظرثانی کے لیے ارسال کیا گیا، 19مجرمان کی پٹیشنز کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق منظور کیا گیا دائر کی گئی دیگر رحم کی پٹیشنوں پر عملدرآمد مقررہ مدت میں قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 19 مجرمان جن کی سزائیں معاف کی گئی ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

    1۔ محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان
    2۔سمیع اللہ ولد میرداد خان
    3۔لئیق احمد ولد منظور احمد
    4۔امجد علی ولد منظور احمد
    5۔یاسر نواز ولد امیر نواز خان
    6۔سِعید عالم ولد معاذاللہ خان
    7۔زاہدخان ولد محمد نبی
    8۔محمد سلیمان ولد سِعید غنی جان
    9۔ حمزہ شریف ولد محمد اعظم
    10۔ محمد سلمان ولد زاہد نثار
    11۔ اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ
    12۔ محمد وقاص ولد ملک محمد خلیل
    13۔ سفیان ادریس ولد ادریس احمد
    14۔منیب احمد ولد نوید احمد بٹ
    15۔ محمد احمد ولد محمد نذیر
    16۔ محمد نواز ولد عبدالصمد
    17۔ محمد علی ولد محمد بوٹا
    18۔ محمد بلاول ولد منظور حسین
    19۔ محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم

    ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ سانحہ نو مئی کے واقعات میں ملوث جن مجرمان کو معافی دی انہیں ملٹری کورٹ نے 26 دسمبر کو 2، 2 سال قید کی سزا سنائی تھی ،ان مجرموں کو ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے، دیگر تمام مجرموں کے پاس بھی اپیل کرنے اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی ۔مضبوطی کا ثبوت ہے

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے، اس سے قبل اپریل 2024 میں قانون کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 مجرمان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

    فوج کی جانب سے معافی کے اعلان کے بعد گوجرانوالہ کی سینٹرل جیل سے 6 افراد کو رہا کردیا گیا، رہائی پانے والوں میں سفیان، محمد احمد، منیب، اشعر احمد، محمد نواز اور محمد وقاص شامل ہیں ،رہائی پانے والے تمام افراد 9 مئی واقعات میں تھانہ کینٹ کے مقدمے میں ملوث تھے۔

    آج رحم اور معافی مانگ کر رہائی پانے والے تحریک انصاف کے 9 مئی کے مجرموں کی رحم کی پیٹیشنز منظر عام پر آ گئی -‏جب پکڑے جاتے ہیں تو معافی مانگتے ہیں اور رحم کی اپیل کرتے ہیں۔ لیکن جب معافی مل جاتی ہے تو باہر آ کر ہیرو بنتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی، نومئی کے سزا ہفتہ مجرموں کی رحم کی اپیل دیکھ لیں ان سب نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے اور چیف آف دی آرمی سٹاف سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر معافی سزا کی درخواست کی
    9 may
    رہائی پانے واے ایک مجرم محمد بلاول ولد منظور حسین نے کہا گذارش ہے کہ میں رحم کی اپیل اور سزا معافی کی درخواست کرتا ہوں میں نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہو کر بڑی غلطی کی جس کی وجہ سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا جس پر میں بہت شرمندہ ہوں اور میں نے اس معاملہ پر بہت سوچا اور سمجھا کہ یہ میری ایک بہت بڑی غلطی تھی اور یہ مجھے سبق مل گیا ہے کہ کسی بھی ادارے کا نقصان نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ادارے بھی ہمارے ہیں اور ملک بھی ہمارا ہے لہذا میں چاہتا ہوں کہ مجھے ایک موقع فراہم کیا جائے کہ میں ملک پاکستان کا ایک مثبت شہری بن کر اس ملک و قوم کی خدمت میں اپنا حصہ ڈال سکوں کیونکہ میں اپنے اقدام پر بہت شرمندہ ہوں اور امید ہے کہ آپ میری اس درخواست کو قبول کریں گے اور میری سزا معافی کا حکم نامہ جاری کریں گے میں اور میرا خاندان پوری زندگی آپ کا شکر گزار رہے گا-
    9 may
    ایک اور مجرم محمد سلیمان ولد سعد غنی نے کہا کہ درخواست کرتا ہوں کہ میری معاملے میں حسن سلوک کیا جائے اور میں ریاست کے خلاف اپنے غلط کاموں پر معذرت خواہ ہوں جو مجھ سے 9 مئی 2023 کو ہوئے مجھے بعض افراد نےگمراہ کیا اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا، میں اپنی غلطیوں کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں ،میں ریاست اور عوام کے اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے حکام سے مکمل تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں ،لہذا میری رحم کی درخواست پر غور کیا جائے اور سزا معاف کی جائے-

    9 may

  • نیو ایئر نائٹ،لاہور سے 377 افراد گرفتار

    نیو ایئر نائٹ،لاہور سے 377 افراد گرفتار

    لاہور میں سال نو کے موقع پر پولیس کی فول پروف سکیورٹی انتظامات اور شہریوں کے تعاون کی بدولت نیو ایئر نائٹ پر پرامن ماحول قائم رہا۔ کسی بھی افسوس ناک واقعہ کا سامنا نہیں ہوا اور شہر بھر میں پولیس نے اپنی بہترین حکمت عملی سے امن قائم رکھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس دوران مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 377 افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس نے پیشگی کارروائیوں کے دوران ہوائی فائرنگ کرنے والے 58 ملزمان کو گرفتار کر کے حوالات میں ڈال دیا۔ ان کارروائیوں میں ملزمان سے 7 رائفلز اور 47 پسٹلز برآمد کیے گئے، جو کہ پولیس کی موثر حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ شہر بھر میں پولیس کی طرف سے کی جانے والی ناکہ بندی کے دوران 107 ملزمان سے اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ان ملزمان سے 12 رائفلز، 4 بندوقیں، 90 پسٹلز اور سینکڑوں گولیاں قبضے میں لی گئیں۔ فیصل کامران کا کہنا تھا کہ اسلحہ کی اس برآمدگی سے شہر کی امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہوئی۔پولیس نے منشیات کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کیں اور مجموعی طور پر 27 کلو چرس برآمد کی۔ اس کے علاوہ 1 کلو گرام ہیروئن، 4 کلو 220 گرام آئس، اور 1181 لیٹر شراب بھی برآمد کی گئی۔ فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس کی اس کامیاب کارروائی کے دوران 383 لیٹر کچی شراب کی ترسیل بھی ناکام بنائی گئی، جس کے نتیجے میں 17 ملزمان گرفتار ہوئے۔

    نیوز ایئر نائٹ کے دوران پولیس نے ون ویلنگ اور آتشبازی کرنے والے افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کی۔ ناکوں اور گشت کے دوران 63 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جو پابندی کے باوجود ون ویلنگ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ آتشبازی کرنے والے 27 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔نیو ایئر نائٹ پر خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور ہلڑ بازی کرنے والوں کے خلاف بھی پولیس نے سخت ایکشن لیا۔ اس دوران 16 افراد کو قانون کی گرفت میں لایا گیا۔ فیصل کامران نے کہا کہ پولیس کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی اقدامات کے باعث شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا گیا۔

    پولیس کی بہترین حکمت عملی اور سکیورٹی انتظامات کے نتیجے میں نیو ایئر نائٹ پر حادثات میں 88 فیصد کمی آئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ صرف تین افراد معمولی زخمی ہوئے، جن میں سے دو افراد کو طبی امداد فراہم کر دی گئی، جبکہ ایک شخص ابھی ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔فیصل کامران نے پولیس کی فیلڈ ٹیم کی محنت اور بہترین حکمت عملی کی تعریف کی اور کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت حادثات میں اتنی بڑی کمی پولیس کی شاباش کی مستحق ہے۔ لاہور پولیس کے سکیورٹی انتظامات کی بدولت نیو ایئر نائٹ پر امن و امان کی فضا قائم رکھی گئی، جس پر شہریوں نے بھی پولیس کے اقدامات کی ستائش کی۔

    نیو ایئر نائٹ پر لاہور پولیس کی طرف سے کئے گئے بہترین سکیورٹی انتظامات اور شہریوں کے تعاون سے لاہور میں سال نو کا آغاز محفوظ رہا۔ پولیس کی اس کامیاب حکمت عملی کے باعث شہر بھر میں امن قائم رہا اور کسی بھی بڑے حادثے یا افسوس ناک واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے