Baaghi TV

Tag: ملزمان

  • سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 کے دوران بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات پیش آئے، جس میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 28 ملزمان کو گرفتار کیا۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق، پشاور کے مختلف تھانوں کی حدود میں بی آر ٹی سروس کے دوران یہ وارداتیں رونما ہوئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پشاور کے 9 مختلف تھانوں میں بی آر ٹی میں چوری کی وارداتیں ہوئیں، جن میں سے سب سے زیادہ واقعات تھانہ خان رازق کی حدود میں پیش آئے جہاں پانچ چوری کے واقعات ہوئے۔ اس کے علاوہ، تھانہ ٹاؤن اور تھانہ مغربی میں ہر ایک تھانے میں 4 چوری کے کیس رپورٹ ہوئے، جب کہ تھانہ شہید گلفت میں 4 اور حیات آباد کی حدود میں تین چوری کی وارداتیں ہوئی ہیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق، ان چوری کی وارداتوں میں بی آر ٹی کے مسافر 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم سے محروم ہوئے، اور اس کے ساتھ ساتھ تقریباً ڈھائی تولہ سونا اور 18 موبائل فونز بھی چوری ہوگئے۔ یہ وارداتیں مسافروں کے لیے پریشانی کا سبب بنی اور ان کی حفاظت اور مال کی حفاظت کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پولیس نے چوری کی وارداتوں میں ملوث 28 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں 8 خواتین بھی شامل ہیں۔ ملزمان سے 3 لاکھ روپے سے زائد رقم اور 17 موبائل فونز برآمد کیے گئے ہیں۔پشاور پولیس کی جانب سے اس حوالے سے مزید کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں بی آر ٹی سروس کے دوران چوری کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی کے اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قیمتی اشیاء کی حفاظت کریں اور بی آر ٹی سروس میں سفر کرتے وقت محتاط رہیں۔

    پشاور میں بی آر ٹی سروس کے بڑھتے ہوئے مسائل، خاص طور پر چوری کی وارداتوں، نے عوامی سطح پر تحفظات پیدا کیے ہیں، اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائی گئی ہے،جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللّٰہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔بریگیڈیئر رجاوید اکرم کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائیں، سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں۔
    جناح ہاؤس حملہ
    • حسان خان نیازی: 10 سال قید بامشقت
    • میاں عباد فاروق: 2 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 6 سال قید بامشقت
    • ارزم جنید: 6 سال قید بامشقت
    • علی رضا: 6 سال قید بامشقت
    • بریگیڈیئر (ر) جاوید اکرم: 6 سال قید بامشقت
    • محمد ارسلان: 7 سال قید بامشقت
    • محمد عمیر: 6 سال قید بامشقت
    • نعمان شاہ: 4 سال قید بامشقت

    جی ایچ کیو حملہ
    • راجہ دانش: 4 سال قید بامشقت
    • سید حسن شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • محمد عبداللہ: 4 سال قید بامشقت

    اے آئی ایم ایچ، راولپنڈی حملہ
    • علی حسین: 7 سال قید بامشقت
    • فرہاد خان: 7 سال قید بامشقت

    پنجاب رجمنٹ سنٹر، مردان حملہ
    • زاہد خان: 2 سال قید بامشقت

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس، تیمرگرہ حملہ
    • سہراب خان: 4 سال قید بامشقت
    • محمد سلیمان: 2 سال قید بامشقت
    • اسد اللہ درانی: 4 سال قید بامشقت

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملہ
    • خرم لیاقت: 4 سال قید بامشقت
    • پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ: 3 سال قید بامشقت

    قلعہ چکدرہ حملہ
    • ذاکر حسین: 7 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 4 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 4 سال قید بامشقت
    • گوہر رحمان: 7 سال قید بامشقت

    بنوں کینٹ حملہ
    • امین شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • ثقلین حیدر: 9 سال قید بامشقت
    • عزت گل: 9 سال قید بامشقت
    • نیک محمد: 9 سال قید بامشقت
    • رحیم اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • خالد نواز: 9 سال قید بامشقت

    پی اے ایف بیس میانوالی حملہ
    • فہیم ساجد: 8 سال قید بامشقت
    • احسان اللہ خان: 10 سال قید بامشقت
    • محمد بلال: 4 سال قید بامشقت

    فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملہ
    • حمزہ شریف: 2 سال قید بامشقت
    • امجد علی: 2 سال قید بامشقت
    • محمد فرخ: 5 سال قید بامشقت
    • محمد سلمان: 2 سال قید بامشقت
    • فہد عمران: 9 سال قید بامشقت

    دیگر حملے
    • راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملہ: محمد احمد (2 سال قید بامشقت)، منیب احمد (2 سال قید بامشقت)
    • گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملہ: محمد ایاز (2 سال قید بامشقت)
    • تمام مقدمات آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے گئے۔
    • مجرموں کو اپیل اور دیگر قانونی حقوق حاصل ہیں۔
    • مسلح افواج، حکومت، اور عوام انصاف کے قیام اور ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔

    ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں ،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کے مطابق اِس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لئے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر
    چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے،تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے،قوم، حکومت اور مسلح افواج انصاف اور ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں

    سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں

    1۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت
    2۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت
    3۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    4۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت
    5۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت
    6۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت
    7۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت
    8۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت
    9۔ پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت
    10۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو4 سال قید مشقت
    11۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت
    12۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت
    13۔قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت
    14۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت
    15۔پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت
    16۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت
    17۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت
    18۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت
    19۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت
    20۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    21۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت
    22۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت
    23۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت
    24۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت
    25۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت
    26۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت
    27۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    28۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت
    29۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت
    30۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت
    31۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    32۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال قید بامشقت
    33۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال قید بامشقت
    34۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال قید بامشقت
    35۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت
    36۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت
    37۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت
    38۔چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت
    39۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت
    40۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت
    41۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال قید بامشقت
    42۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال قید بامشقت
    43۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال قید بامشقت
    44۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    45۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    46۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت
    47۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت
    48۔ راہولی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت
    49۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت
    50۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت
    51۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت
    52۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت
    53۔گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولدصاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    54۔چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت
    55۔ چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت
    56۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت
    57۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت
    58۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت
    59۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت
    60۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نوازولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

  • سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب میں 2024 کے دوران 330 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اضافہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی 2022 میں کی گئی اس یقین دہانی کے باوجود ہوا ہے کہ ان کے وژن کے مطابق مملکت میں موت کی سزا کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، سوائے قتل کے معاملات کے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے "ویژن 2030” کے تحت سعودی عرب کو ایک جدید اور کھلا ملک بنانے کی کوششیں تیز کیں، جہاں سیاحت اور تفریحی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب نے اپنے قدیم مذہبی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم، حالیہ برسوں میں سزائے موت میں اضافے نے ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔اس سال کی 330 سزائیں حقوقِ انسانی کی تنظیم "ریپریو” نے ریکارڈ کی ہیں، جسے رائٹرز نے تصدیق کیا۔ یہ تعداد گزشتہ برس کی 172 سزاؤں اور 2022 کی 196 سزاؤں سے بہت زیادہ ہے۔ "ریپریو” کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔

    حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اور دیگر عالمی ادارے سعودی عرب کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال 150 سے زائد افراد کو غیر مہلک جرائم میں سزائے موت دی گئی، جن میں زیادہ تر افراد کو منشیات کے اسمگلنگ کے الزامات میں سزائیں دی گئیں۔ ان الزامات کا تعلق شام سے نکلنے والی کپٹگون سے ہے، جو سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر اسمگل ہو رہی ہے۔سعودی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔ سعودی حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنے قانون کے مطابق، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    اس سال کی سزاؤں میں 100 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو بھی شامل کیا گیا، جن میں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان سزاؤں کے خلاف عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ ان میں اکثر افراد کو بغیر کسی وکیل یا مناسب دفاع کے موت کی سزا دی گئی ہے۔رائٹرز نے سعودی حکومت سے ان سزاؤں کی تفصیلات کے حوالے سے سوالات کیے، لیکن سعودی حکومت کی طرف سے کسی وضاحت یا جواب کا کوئی جواب نہیں آیا۔

    محمد بن سلمان نے 2017 میں اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد، سعودی عرب نے سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کیا۔ خاشقجی کو 2018 میں سعودی قونصلیٹ استنبول میں قتل کر دیا گیا تھا، جس پر سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    محمد بن سلمان نے 2022 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے سزائے موت کا خاتمہ کر دیا ہے، سوائے قتل کے مقدمات کے۔ تاہم، اس بیان کے باوجود سزائے موت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ ان کے اصلاحاتی دعوے اب زیر سوال ہیں۔سعودی عرب میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف سعودی ولی عہد ملک کو ایک کھلا اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں سزائے موت میں اضافے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹیں ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب بارے بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    ویڈیو:امریکی اداکارہ جینیفر لوپیز کی سعودی عرب میں بولڈ پرفارمنس،جلوے

  • عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    عوامی اعتماد بحال کرنے کیلیے ایمانداری سےکام کرنا ہو گا،ایس ایس پی محمد نوید

    لاہور:ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی زیر صدارت انویسٹی گیشن ہیڈکوارٹرز میں اہم کرائم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ٹاؤن شپ اور چوہنگ سرکل کے ڈی ایس پیز کے علاوہ انچارج انویسٹی گیشنز نے شرکت کی۔ میٹنگ میں مختلف مقدمات کی تفتیش کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے پینڈنگ اور زیر التواء مقدمات کی پراگریس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے انچارج افسران کو ہدایت دی کہ وہ زیر تفتیش مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کریں تاکہ مقدمات میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افسران سنگین نوعیت کے واقعات پر فوراً موقع پر پہنچ کر اپنی نگرانی میں شواہد اکٹھے کریں تاکہ ملزمان کے خلاف مضبوط چالان تیار کیا جا سکے۔ناقص کارکردگی پر متعدد انچارج افسران کو وارننگ دی گئی اور ان کی سرزنش بھی کی گئی۔ ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ "خواتین کے ساتھ زیادتی، ظلم و تشدد اور ہراسگی کے مقدمات کی تفتیش میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایسے مقدمات میں مضبوط چالان مرتب کر کے ملزمان کو قانون کے تحت سخت سزا دلوانا ضروری ہے تاکہ مجرموں کو عبرت کا نشانہ بنایا جا سکے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے فنانشل کرائمز کے مقدمات کی تفتیش کو بھی اہمیت دی اور افسران کو ہدایت کی کہ وہ ان مقدمات کے چالان جلد از جلد عدالتوں میں جمع کروائیں تاکہ انصاف کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ایس ایس پی محمد نوید نے اس بات کا اعادہ کیا کہ "میرٹ پر سمجھوتا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محنتی اور ایماندار افسران کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی اور ان کو انعامات دے کر ان کی کاوشوں کا اعتراف کیا جائے گا۔آخر میں، ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے افسران کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ترغیب دی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کو فوری طور پر حل کرنے میں پیش پیش رہیں۔ "ہمیں عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے سخت محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنا ہو گا، تاکہ ہر شہری کو انصاف مل سکے۔”

    شہری کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے والا اشتہاری ملزم منصور گرفتار
    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر کی ہدایت پر اشتہاری ملزمان کےخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،انچارج انویسٹی گیشن تھانہ باٹا پور صداقت علی نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کی،1سال قبل شہری کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے والا اشتہاری ملزم منصور گرفتارکرلیا،ملزم سے آلہ اقدام قتل پسٹل برآمد کر لیا گیا،ملزم منصور نے 1سال قبل بچوں کے لڑائی جھگڑے کی بناء نوید کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا اور موقع سے فرار ہو گیا تھا،
    ملزم کو جدید ٹیکنالوجی سمیت ہیومین انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم اب پولیس کی گرفت میں ہے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائےگی،اشتہاری ملزمان کے خلاف انویسٹی گیشن پولیس کی کارروائیاں جاری رہیں گی

    علاوہ ازیں اقبال ٹاؤن پولیس کا احسن اقدام سامنے آیا ہے،اقبال ٹاؤن پولیس نے گمشدہ 10 سالہ علی حسن اور 9 سالہ زنیرہ کو والدین سے ملوا دیا،دونوں بچوں کو سیف سٹی اور لوکل کیمرہ جات کی مدد سے تلاش کیا گیا،بچوں میں اپنے بچھڑے والدین سے مل کر خوشی کی لہڑ دوڑ آئی والدین نے پولیس کو دعائیں دیں،

    جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ریکارڈ یافتہ ہوٹل کی چھت سے گر کر ہلاک
    التاج ہوٹل مزنگ کے باہر ڈیڈ باڈی ملنے کا معاملہ ،پولیس حکام کے مطابق مزنگ پولیس بسلسلہ گشت التاج ہوٹل کے باہر سے گزر رہی تھی جنہیں اچانک بلڈنگ کی چھت سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی ،پولیس فوری موقع پر پہنچی تو انہیں وہاں ایک شخص کی باڈی ملی جس کی سانسیں چیک کرنے پر ہلاک پایا گیا ،ڈیڈ باڈی کی شناخت عون حیدر کے نام سے ہوئی جو جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ریکارڈ یافتہ تھا اور متعدد بار جیل جا چکا تھا،مزنگ پولیس نے فوری کاروائی عمل میں لاتے ہوئے شواہد اکٹھے کرنے شروع کر دیے ،عون حیدر ہوٹل کی پانچویں منزل پر کھڑکی سے ٹیک لگائے گھڑا تھا جسکا اچانک پاؤں پھسلا اور کھڑکی سے نیچے آ گرا،پولیس نے فوری کاروائی عمل میں لاتے ہوئے ایمبولینس بلائی اور باڈی کو مردہ خانہ منتقل کر دیا ،

    زہریلی شراب فروخت کرنے والے 222 ملزمان گرفتار
    صوبائی دارالحکومت میں پولیس نے زہریلی شراب فروخت کرنے والے 222 ملزمان کو گرفتار کر کے ہزاروں لٹر شراب برآمد کرلی۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا ہے کہ پولیس نے مشتبہ علاقوں میں چھاپے مار کر شراب بنانے والی متعدد بھٹیاں تباہ کردیں اور بڑی مقدار میں زہریلی شراب ضبط کرلی۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک 66 ہزار 505 لیٹر شراب برآمد کی جا چکی ہے، ملزمان کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں 3 ہزار 864 مقدمات درج کئے گئے، غیرقانونی شراب کے مکروہ دھندے میں ملوث 3 ہزار 966 افراد کو جیل بھجوایا گیا۔فیصل کامران نے بتایا کہ کچی شراب میں استعمال ہونے والے زہریلے کیمیکلز اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں، کرسمس اور سال نو پر غیر قانونی اور زہریلی شراب کی ترسیل میں اضافہ ہوتا ہے، غیر قانونی شراب کی ترسیل روکنے کے لیے اضافی ناکے اور چیک پوائنٹس لگائے گئے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز نے عوام سے اپیل کی کہ مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دے کر ہماری مدد کریں، عوام کا تعاون ہی معاشرتی برائیوں کے خاتمے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

  • خواتین سے زیادتی، ہراسگی مقدمات،   کوتاہی برداشت نہیں،ایس ایس پی  محمد نوید

    خواتین سے زیادتی، ہراسگی مقدمات، کوتاہی برداشت نہیں،ایس ایس پی محمد نوید

    لاہور: ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی زیر صدارت پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں کرائم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا،

    کرائم میٹنگ میں شہر کے تمام سرکل ڈی ایس پیز، ایس ایس او آئی یو انچارجز اور تفتیشی افسران نے شرکت کی۔ اس اہم میٹنگ کا مقصد شہر میں ہونے والے سنگین جرائم کی تفتیش کی رفتار کو بہتر بنانا اور پینڈنگ مقدمات کی پراگرس رپورٹ کا جائزہ لینا تھا۔میٹنگ کے دوران، ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے تمام تفتیشی افسران سے پینڈنگ اور زیر التواء مقدمات کی تفصیل دریافت کی اور ان کی پراگرس رپورٹ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مقدمات کی بروقت تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ایس ایس پی محمد نوید نے متعدد انچارجز اور تفتیشی افسران کی ناقص کارکردگی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے دو روز کی مہلت دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر افسران نے اپنی کارکردگی میں بہتری نہ لائی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

    میٹنگ کے دوران خواتین کے خلاف زیادتی اور تشدد کے واقعات کی رپورٹ پر ایس ایس پی نے ایس ایس او آئی یو افسران کو سخت ہدایات دیں کہ وہ فوری طور پر موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھا کریں اور مقدمات کی تفتیش میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث عناصر کو کسی صورت میں رعایت نہیں دی جائے گی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسران کو اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان ملزمان کو پکڑنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جا سکے۔ایس ایس پی نے چالانی تناسب میں بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل کو استعمال کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط چالان مرتب کر کے گناہگار کو سزا دلوانا ان کی اولین ترجیح ہے۔محمد نوید نے اس بات پر زور دیا کہ میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتا ہرگز نہیں کیا جائے گا۔ پولیس کے تمام افسران کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ اپنی تمام تفتیشی کارروائیوں میں قانون اور میرٹ کو ترجیح دیں۔ایس ایس پی محمد نوید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور پولیس عوام الناس کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سے زیادتی، ظلم و تشدد اور ہراسگی کے تمام واقعات کی مذمت کی جاتی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    بابر اعظم شادی کا جھانسا دے کر زنا کرتا رہا ،لاہور ہائیکورٹ میں خاتون پیش

    وزیرداخلہ محسن نقوی سے پرویز خٹک کی ملاقات

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

  • سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر ریاست مخالف شر انگیز پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانات کے ذریعے عوام میں اشتعال پھیلانے والے مزید سات افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد پھیلا کر لوگوں کے ذہنوں میں ریاست کے خلاف منفی تاثرات پیدا کر رہے تھے۔

    ذرائع کے مطابق ان ملزمان میں کراچی کے رہائشی محمد سہیل، محمد جنید، شیخ محمد احسان، طارق جمیل، سید رضوان، محمد احمد اور بابر عظیم شامل ہیں۔ یہ ملزمان مختلف واٹس ایپ گروپس اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست مخالف مواد اور جھوٹا بیانیہ نشر کر رہے تھے تاکہ لوگوں کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کی جا سکے۔قانونی ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، اور انہیں جلد گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ بھی واضح کیا گیا کہ گزشتہ روز ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث 12 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے، اور ان کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔ ان ملزمان کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے، اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لئے مکمل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ذرائع نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    پشاور: خیبرپختونخوا کے علاقے ڈی آئی خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے قریبی رشتہ دار ثقلین خان گنڈاپور جاں بحق ہوگئے۔

    واقعہ ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی میں پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ثقلین گنڈاپور کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔خاندانی ذرائع کے مطابق مقتول ثقلین گنڈاپور کے والد اسماعیل خان، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے رشتہ میں چچا ہیں۔ یہ واقعہ وزیراعلیٰ کے خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، اور پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔پولیس نے واقعے کے فوراً بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملہ ذاتی رنجش یا زمین کے تنازعے کے باعث ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات کے بعد ہی اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے قریبی رشتہ دار کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ واقعہ افسوسناک ہے اور ہم ہر ممکن اقدام اٹھا کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔”اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور مقامی لوگ اس قتل کو ایک بڑے جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔پولیس کی ٹیموں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ قاتلوں تک پہنچا جا سکے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • کراچی، بی ایل اے کے سات ملزمان اسلحہ،منشیات سمیت گرفتار

    کراچی، بی ایل اے کے سات ملزمان اسلحہ،منشیات سمیت گرفتار

    کراچی ویسٹ، تھانہ اقبال مارکیٹ کے علاقے طوری بنگش کالونی میں پولیس اور رینجرز نےمشترکہ کومبنگ،سرچ آپریشن کیا،

    سرچ آپریشن انٹیلیجنس اطلاعات پر جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش کے خلاف کیا گیا،سرچ آپریشن کے دوران علاقے کے داخلی و خارجی راستوں کو سیل کرکے گھر گھر تلاشی لی گئی، بائیومیٹرک تلاش ڈیوائس کی مدد سے مشتبہ اشخاص کی ویریفیکیشن،تصدیق کا عمل کیا گیا، جبکہ غیر ملکیوں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا،سرچ آپریشن میں ایس ڈی پی او پاکستان بازار کے زیر نگرانی ایس ایچ او اقبال مارکیٹ ہمراہ نفری اور سندھ رینجرز کے افسران و جوان لیڈیز اسٹاف و انٹیلیجنس اسٹاف نے اپنے فرائض سرانجام دیئے،

    دوسری جانب رینجرز اور پولیس نے پرانا گولیمار کے علاقے سے سرچ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سات ملزمان کو گرفتار کیا ہے،ترجمان رینجرز کے مطابق ملزمان ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتیوں، اسٹریٹ کرائمز اور منشیات فروشی میں ملوث ہیں، گرفتار ملزمان میں صابر، ولید، محمد عدنان، فیصل، محمد فہیم، سمیر اور احسان پٹھان شامل ہیں،ملزمان کے قبضے سے 8 عدد نائن ایم ایم پسٹل، 550 عدد مختلف اقسام کا ایمونیشن، 16 عدد موبائل فونز، 2700 گرام تنزانیہ، 1280 گرام آئس، 4 عدد وائی فائی ڈیوائسز، ایک عدد موٹر سائیکل اور نقد ی بھی بر آمد کر لی گئی،دوران تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ، منشیات فروشی، ڈکیتیوں اور سٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں،ملزمان کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی موجود ہے اور پولیس کو مختلف ایف آئی آرز میں مطلوب تھے، ملزمان کا تعلق کاشف ڈاڈا، نعیم ڈاڈا، کمال اور کاشف سندھی گروپس سے ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • لاہور ہائیکورٹ،فون کالز کی ریکارڈنگ کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ،فون کالز کی ریکارڈنگ کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ ،سیکورٹی اداروں کو شہریوں کے فون کالز کی ریکارڈنگ کی اجازت دینے کے خلاف متفرق درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے متفرق درخواست ابتدائی دلائل سننے کے بعد نمٹا دی ،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ آتا ہے تو جسٹس فاروق حیدر ایسے کیسز کی سماعت کریں گے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر پیش ہوئے ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی متفرق درخواست پر سماعت کی،درخواستوں میں 8 جولائی کے حکومتی نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ شہریوں کی کالز ریکارڈ کرنا آئین کے منافی ہے،عدالت نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں درج مقدمات کے چالان عدالتوں کو بھیجوانے کے کیس کی سماعت ہوئی
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پراسکیوشن کی جانب سے بھیجوائے گے کیسز اور سیشن ججز کی رپورٹس میں تضاد ہے،عدالت نے پراسکیوشن کو سیشن ججز کی رپورٹس کا جائزہ لیکر آئندہ اعدادوشمار سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ رپورٹس میرے آفس میں بھیج دیں تاکہ پھر اس کیس کو نمٹایا جائے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ 31 جولائی 2024 تک کے تمام مقدمات کے چالان عدالتوں میں بھیجوا دیے ہیں،عدالت نے کہا کہ اٹک ،ملتان ،قصور ،چکوال ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پراسکیوشن اور سیشن ججز کی رپورٹ درست ہے،باقی اضلاع میں اعداد شمار میں فرق آرہا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

  • مقدمہ درج کروانا کافی نہیں، منطقی انجام تک پہنچانا ہوتا ہے،عدالت

    مقدمہ درج کروانا کافی نہیں، منطقی انجام تک پہنچانا ہوتا ہے،عدالت

    لاہور ہائی کورٹ نے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمان کا ٹرائل 2 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی

    لاہور ہائیکورٹ میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ چالان ابھی تک عدالت کو کیوں نہیں بھجوایا گیا؟،پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ مقدمے کا تفتیشی افسر تبدیل ہونے کی وجہ سے چالان نہیں بھجوایا جا سکا تھا، اب چالان داخل ہو گیا ہے، دوران سماعت عدالت نے پراسیکیوٹر پر مقدمے کا چالان بر وقت نہ بھجوانے پر برہمی کا اظہار کیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہ چالان پیش ہوتا ہے اور نہ ہی آپ کے قانونی مشیر، آئندہ بر وقت چالان پیش نہ ہونے پر آپ کو شوکاز جاری کیا جائے گا، عدالت قانون کی پابند ہے، گواہوں کے پیش نہ ہونے پر ضمانت دینا ہوتی ہے،صرف یہاں نہیں بلکہ ٹرائل کورٹ میں بھی اپنے گواہوں کی پیشی کو یقینی بنائیں،صرف مقدمہ درج کروانا کافی نہیں ہوتا، اسے منطقی انجام تک پہنچانا ہوتا ہے،عدالت نے درخواست نمٹا دی