Baaghi TV

Tag: ملٹری کورٹ

  • 9 مئی  سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے  مزید 11 ملزمان جیل منتقل

    9 مئی سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان جیل منتقل

    لاہور: سانحہ 9 مئی میں ملوث ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان کو جیل منتقل کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : سانحہ 9 مئی میں ملوث ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے ملزمان کی جیل منتقلی کا عمل جاری ہے جس میں سزا یافتہ 11 مجرموں کو سینٹرل جیل لاہور منتقل کر دیا گیا، جیل منتقل ہونے والوں میں محمد عمران محبوب، علی شاہ، جان محمد، ضیا الرحمان، علی افتخار، عبدالہادی، داود خان، فہیم حیدر، محمد حاشر، محمد عاشق خان اور محمد بلاول شامل ہیں۔

    قبل ازیں 25 میں سے 12 مجرموں کو کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کیا گیا تھا اور اب مزید 11 کو لاہور سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پاک جنوبی افریقہ آخری ون ڈے ، اسٹیڈیم میں دو غیر معمولی …

    واضح رہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سانحہ 9 مئی میں ملوث 25 مجرموں کو سزائیں سنائی تھیں آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پہلے مرحلے میں 25 ملزمان کو سزائیں سنائیں، یہ سزائیں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور مناسب قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد سنائی گئی ہیں، سزا پانے والے ملزمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے تمام قانونی حقوق فراہم کئے گئے۔

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ نفرت اور جھوٹ پر مبنی ایک پہلے سے چلائے گئے سیاسی بیانیے کی بنیاد پر مسلح افواج کی تنصیبات بشمول شہداء کی یادگاروں پرمنظم حملے کئے گئے اور اُن کی بے حرمتی کی گئی، یہ پُرتشدد واقعات پوری قوم کے لئے ایک شدید صدمہ ہیں۔

    اسپتال میں علاج کیلئے آئی خاتون کے ساتھ سکیورٹی گارڈ کی زیادتی

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 9 مئی کے واقعات واضح طور پر زور دیتے ہیں کہ کسی کو بھی سیاسی دہشتگردی کے ذریعے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس یوم سیاہ کے بعد تمام شواہد اور واقعات کی باریک بینی سے تفتیش کی گئی اور ملوث ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد اکٹھے کئے گئے۔

  • غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں؟جسٹس مندوخیل

    غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں؟جسٹس مندوخیل

    سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس فیصلہ کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی، وفاقی حکومت کے وکیل خواجہ حارث نےدلائل دیئے ، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری کورٹ کے زیر حراست افراد کی ایف آئی آر کی نقول نہیں دی گئی۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری کورٹس کیس میں عدالتی فیصلہ دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک حصہ میں آرمی ایکٹ دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا۔دوسرے حصہ میں ملزمان کی ملٹری کورٹ میں کسٹڈی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس کا پورا کیس آرٹیکل 8 کے گرد گھومتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا پانچ رکنی بینچ نے آرمی ایکٹ دفعات کو آرٹیکل 8 سے متصادم قرار دیا۔ آرمی ایکٹ کی دفعات کو آرٹیکل 8 سے متصادم ہونے کا کیا جواز فیصلہ میں دیا گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جو شخص آرمڈفورسز میں نہیں وہ اس کے ڈسپلن کے نیچے کیسے آ سکتا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اگر قانون اجازت دیتا ہے تو ڈسپلن کا اطلاق ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک شخص آرمی میں ہے اس پر ملٹری ڈسپلن کا اطلاق ہوگا۔ایک شخص محکمہ زراعت میں ہے اس پر محکمہ زراعت کے ڈسپلن کا اطلاق ہوگا۔اگر کوئی شخص کسی محکمہ میں سرے ہیں نہیں اس پر آرمی فورسز کے ڈسپلن کا اطلاق کیسے ہوگا۔کیا غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مخصوص حالات میں سویلین پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے، عدالت کے پاس آرمی ایکٹ دفعات کو کالعدم کرنے کا اختیار نہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اس طرح تو اگر کوئی اکسانے کا سوچے تو آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا، کیا آرمی ایکٹ نے آئین کے آرٹیکل8کا سیکشن 1 غیرمؤثرنہیں کردیا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں بھی فیئر ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے موجود ہوتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا عہدہ صدر مملکت کا ہے، اگر صدرہاؤس پرحملہ ہو تو ملزم کا ٹرائل انسداد دہشتگردی عدالت میں ہوگا مگر آرمی املاک پر حملہ ہو تو ٹرائل ملٹری کورٹس میں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ فیصلہ قانون سازوں نے قانون سازی سے کیا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس کے زیر حراست افراد کی ایف آئی آر کی نقول نہیں دی گئیں، کیا ملٹری کورٹ ٹرائل میں وکیل کی اجازت ہوتی ہے؟ کیا ملٹری کورٹ میں ملزم کو تمام مواد فراہم کیا جاتا ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا جی ملٹری کورٹ میں ملزم کو وکیل اور تمام متعلقہ مواد فراہم کیا جاتا ہے۔،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا اگر ایک فوجی اپنے افسر کا قتل کردے تو کیس کہاں چلے گا؟ خواجہ حارث نے جواب دیا قتل کا کیس عام عدالت میں چلے گا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے کیس کی مزید کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    بہن کی عیادت کیلئے جانے والی 5 بہنیں ٹریفک حادثے میں جاں‌بحق

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    صدر زرداری سے بلاول ہاؤس میں چینی کاروباری وفد کی ملاقات

  • عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب

    عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب کر لیا

    عمران خان کے ممکنہ ملٹری حراست و ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ملٹری حراست میں دینا ہو تو طریقہ کیا ہوتا ہے؟ سیاست دانوں اور فوجی افسر کے بیانات کی خبریں ریکارڈ پر لائی گئی ہیں، اگر بیانات کسی افسر کی طرف سے آئیں تو وہ سنجیدہ ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزارت دفاع کے پاس آج دن تک ملٹری حراست و ٹرائل کی کوئی اطلاع نہیں ہے، وزارت دفاع کی طرف سے بیان دے رہا ہوں کہ ایسی کوئی چیز ابھی نہیں آئی، اگر کوئی درخواست آتی ہے تو پھر بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی درخواست قبل از وقت ہے؟ آپ کی درخواست پر میں نے نوٹس جاری نہیں کیا بلکہ بیان طلب کیا تھا، اگر جواب آتا کہ ہاں ملٹری ٹرائل ہونے جا رہا ہے تو پھر بات آگے بڑھتی، ہم آج ایک الگ دور میں ہیں، آج کے دور میں الفاظ کی جنگ ہوتی ہے، عدالت آپ کی بے چینی سمجھتی ہے ہماری حدود کو بھی سمجھیں ، میرے پاس اس کیس میں آگے بڑھنے کیلئے کچھ نہیں ہے ،وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت میں کہا کہ میں نے فیلڈ جنرل کورٹ میں 50 سے زائد کیسز کیے ہیں، جس پر عدالت نے پوچھا آپ کیسے سویلینز کوملٹری کورٹس میں لے جاتے ہیں؟ وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت میں کہا کہ متعلقہ مجسٹریٹ کو ملٹری اتھارٹی آگاہ کرتی ہیں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاستفسار کیا سویلین کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہے؟ آپ مجھے اس حوالے سے طریقہ کار فراہم کر دیں، عدالت کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق واضح جواب نہیں دیا جارہا،وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارا بڑا صاف ستھرا طریقہ کار ہے، ہم بھی قانون شہادت پر چلتے ہیں،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ نیب کے قانون کو سپریم کورٹ نے ڈریکونین قرار دیا لیکن اس میں بھی طریقہ کار موجود ہے، طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے سول عدالت چارج فریم کرے گی، ٹرائل کورٹ اگر کہے کہ کیس ملٹری کورٹ کو بھیجنا ہے تو پھر نوٹس دے کر بھیجا جا سکتا ہے،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب کر لیا جس پر وزارت دفاع نے مؤقف دینے کے لیے وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے آئندہ سماعت پر واضح مؤقف دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی۔

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان کو ملٹری کورٹ کا خوف کھا گیا، عمران خان عدالت پہنچ گئے،9 مئی مقدمات میں ملٹری کورٹ ٹرائل اور فوجی تحویل میں دینے کے ممکنہ امکان کیخلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان کی درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست میں آئی جی اسلام آباد ، آئی جی پنجاب ، ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی جیل خانہ جات کو بھی فریق بنایا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو سویلین کورٹ کے دائرہ اختیار میں رکھنے کو یقینی بنایا جائے اور فریقین کو عمران خان کی کسٹڈی ملٹری اتھارٹیز کو دینے سے روکا جائے۔عمران خان نے درخواست میں فیض حمید کا نام لیے بغیر ذکر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خدشہ ہے کہ چند ہفتے قبل گرفتار سینئر ریٹائرڈ فوجی افسر نو اور دس مئی کے مقدمات میں میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے اور اسی بنیاد پر فوجی تحویل میں دیا جائے گا،

    بات اُن کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں،عمران خان

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • اب ان کا پلان ہے میرے 9مئی کے مقدمات ملٹری کورٹ لے جائیں، عمران خان

    اب ان کا پلان ہے میرے 9مئی کے مقدمات ملٹری کورٹ لے جائیں، عمران خان

    190 ملین پاونڈ ریفرنس کی سماعت 26 جولائی تک ملتوی کر دی گئی

    سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، عمران خان، بشریٰ بی بی کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا،سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک اور زبیدہ جلال کے بیان پر جرح مکمل کرلی گئی،ریفرنس میں مزید ایک گواہ کا بیان قلمبند کرلیا گیا،پرویز خٹک نے اپنے بیان میں تصحیح کے لیے درخواست دی ،پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اپنی گواہی میں تصحیح کرنا چاہتا ہوں، کابینہ میٹنگ میں اس وقت کے وزیراعظم کے اصرار پر بند لفافے میں ایجنڈا منظور کیا گیا،مجھ سمیت ممبران کے انکار کے باوجود اضافی ایجنڈا منظور کیا گیا،عدالت نے کہا کہ آپ درخواست دائر کردیں، اس معاملے کو دیکھ لیں گے،کیس پر مزید سماعت 26 جولائی کو ہوگی

    میں جہاں رہتا ہوں اسکے ساتھ ڈیتھ سل ہیں اور وہاں دہشت گرد وں کو رکھا گیا ہے، عمران خان
    اس موقع پر عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا ہے ہم بھوک ہڑتال کرنے جا رہے ہیں جلد اعلان کروں گا،جی ایچ کیو کے باہر اپنی ممکنہ گرفتاری کے خلاف پر امن طور پر احتجاج کی کال دی تھی پرامن احتجاج کو انہوں نے بغاوت بنا دیا ،ڈاکٹر یاسیمن راشد نے کارکنان کو جناح ہاوَس میں داخل ہونے سے روکا،ہمارے 16 لوگوں کو شہید کیا گیا، 3 لوگوں کی ٹانگیں کاٹی گئیں اور ایک کو معذور کیا گیا، ہمارے 10 ہزار لوگوں کو اُٹھایا گیا اور ان کو سزا دی گئی، 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج چھپائی گئی، میرے خلاف تمام کیسسز ختم ہو رہے،اب ان کا پلان ہے میرے 9مئی کے مقدمات ملٹری کورٹ لے جائیں،‏باجوڑ میں سارا ووٹ پی ٹی آئی کا ھے لیکن ضمنی انتخابات میں اے این پی کا امیدوار جیت گیا ۔ہمارےُاداروں کو اپنی پالیسیز پر نظر ثانی کرنا ہوں گی ۔‏عطا تارڑ میں اگر اخلاقی جرت ہے تو وہ جگہ دکھائے جہاں زرداری اور نواز شریف کو رکھا گیا تھا ۔بڑے کمرے ،ائیر کنڈیشنر لگا ھوا ،اٹیچ باتھ روم ،آپکی آنکھیں کھل جائیں،‏عطا تارڑ جھوٹ بول رہا ہے، ۔اگر میں کسی صدارتی کمرے میں رہ رہا ہوں تو آپ تمام صحافیوں کو لے جا کر وہ جگہ دیکھا دے ۔یہاں سے صرف 3 منٹ دوری پر ہے،میں جہاں رہتا ہوں اسکے ساتھ ڈیتھ سل ہیں اور وہاں دہشت گرد وں کو رکھا گیا ہے،

    ان کا خیال تھا کہ مجھے گرفتار کیا جائے تو پارٹی ٹوٹ جائے گی ،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال نے بیان دیا کہ مجھے جیل میں رکھا جائے ،14 مارچ کو پولیس اور رینجرز نے میرے گھر پر دھاوا بولا ،،جب مجھے گولیاں ماری گئیں تب کسی نے جلاو گھیراو نہیں کیا ،میں نے کبھی اپنی جماعت کو جلاو گھیراو کے لیے نہیں اکسایا،ان کا خیال تھا کہ مجھے گرفتار کیا جائے تو پارٹی ٹوٹ جائے گی ،پرویز خٹک نے ہمارے لوگوں کو بتایا کہ عمران خان جلد گرفتار ہو جائے گا،نواز شریف مگرمچھ کے آنسو بہا رہا ہے، ان کی تصاویر پوری دنیا نے دیکھی جب ان کی جائیدادیں سامنے آئیں،آئی پی پیز کے ساتھ ان کی حکومت نے مہنگے معاہدے کیئے ،ان معاہدوں کی وجہ سے کیپیسٹی چارجز میں اضافہ ہوا ،،آئی پی پیز 30 فیصد کم ریٹ پر پوری دنیا میں لگے ،2018 میں سب سے بڑا خسارہ ساڑھے 19 ارب ڈالر تھا

    توشہ خانہ کا نیا ریفرنس،عمران ،بشریٰ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع
    علاوہ ازیں نئے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی، عدالت نے عمران خان و بشریٰ بی بی کا مزید 7 روز جسمانی ریمانڈ منظورکر لیا.تفتیشی حکام نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تا ہم عدالت نے سات روز کا ریمانڈ دیا،عدالت نے کیس کی سماعت 29 جولائی تک ملتوی کر دی

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی جانب دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواستگزار کے بیٹے حسان نیازی کے ملٹری اتھارٹی کے زیر حراست ٹرائل کو غیر آئینی قرار دیا جائے،آئین میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت نہیں،سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آرٹیکل 10اے کی خلاف ورزی ہے، درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی عدالت کی اجازت کے بغیر حسان نیازی کو ملٹری کورٹس ٹرائل کیلئے حوالے کردیا گیا ،سپریم کورت میں درائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ آرمی ایکٹ ترامیم 2023 کو آئین کے آرٹیکل 3,4,9,10,13,14,اور 24 کے برخلاف قرار دیا جائے،

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں ہیں،

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • حسان نیازی کیس،پولیس نے رپورٹ عدالت جمع کروا دی

    حسان نیازی کیس،پولیس نے رپورٹ عدالت جمع کروا دی

    حسان نیازی سے والد کی ملاقات ہو سکتی ہے؟ پوچھ کر بتائیں، عدالت

    حسان خان نیازی کی بازیابی سے متعلق درخواست کا معاملہ ،پولیس نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب جمع کروا دیا

    پولیس نے رپورٹ میں کہا کہ حسان خان نیازی جناح ہاؤس حملہ کیس میں نامزد ہیں حسان نیازی جناح ہاؤس حملہ کیس میں مرکزی ملزمان میں شامل ہیںحسان نیازی کو ٹرائل کے لیے ملٹری کے حوالے کردیا گیا ہے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی

    حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی کے لیے کمانڈنگ آفیسر نے انچارج انویسٹی گیشن تھانہ سرور روڈ کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حسان نیازی 9 مئی کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث ہیں اور پولیس کی حراست میں ہیں،ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حسان نیازی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی وجہ سے یہ یہ آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری اتھارٹی کا استحقاق ہے کہ کورٹ مارشل میں ان کا ٹرائل کیا جائے،اس لیے ان کو آرمی کے حوالے کیا جائے تاکہ مزید تفتیش کی جاسکے،کمانڈنگ آفیسر کی انچارج انویسٹی گیشن کو لکھے گئے خط کو عدالت میں جمع کروا دیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ میں حسان نیازی کی بازیابی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ حسان نیازی کو ملٹری کے حوالے کر دیا گیا،وکیل درخواست گزار نے حسان نیازی کو ملٹری کے حوالے کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیرقانونی اقدام ہے ، وکیل پنجاب حکومت نے عدالت میں کہا کہ حسان نیازی کی حراست قانونی ہے،درخواست گزار کے وکیل کے الزامات کو مسترد کرتا ہوں،جناح ہاؤس حملے میں حسان نیازی نامزد ملزم ہیں ،ان کو اشتہاری قرار دیا گیا ہتھا ،تمام قواعد وضوابط پورے کئے گئے ہیں،اب ٹرائل چل رہا ہے مزید تفتیش کیلئے حسان نیازی کو ملٹری کے حوالے کیا گیا ہے

    دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ بیٹے اور والد کی ملاقات کرانے کی اجازت دیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کہ کیا باپ بیٹے کی ملاقات پر سرکاری وکیل کو اعتراض تو نہیں،متعلقہ اتھارٹی سے پوچھ کر بتائیں کہ کیا باپ اور بیٹے کے درمیان ملاقات ہو سکتی ہے؟ عدالت نے سماعت 2 بجے تک ملتوی کردی ،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کیس میں نئی پیشرفت سامنے آئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق حسان نیازی کا کیس سول کورٹ کی بجائے ملٹری کورٹ میں چلے گا، حسان نیازی کو پنڈی سے لاہور منتقل کر دیا جائے گا، حسان نیازی لاہورپولیس کو مطلوب ہیں حسان نیازی پر جناح ہاؤس حملہ اور کور کمانڈر کے یونیفارم کی تضحیک کرنے کا الزام ہے،

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں ہیں،

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل،فل کورٹ کی تشکیل،فیصلہ آ گیا

    سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل،فل کورٹ کی تشکیل،فیصلہ آ گیا

    سپریم کورٹ: سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل کا معاملہ ،فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا

    چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔جو آج سنا دیا گیا ہے،سپریم کورٹ نے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی حکومت سمیت دیگر فریقین نے فل کورٹ بنانے کی استدعا کی تھی۔

    سپریم کورٹ کا موجودہ بینچ ہی سماعت کرے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے عدالت کو ملزمان اور ٹرائل کے حوالے کچھ یقین دہانیاں کروائیں تھیں، ملزمان کو مرضی کا وکیل ،سہولیات کی فراہمی ،اہلخانہ سے ملاقات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل درخواست گزار فیصل صدیقی کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے ہم نے آپس میں مشاورت کی ہے ،چیف جسٹس نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک قابل احترام وکیل ہیں انسانیت کیلئے آپکی خدمات کا میں خود گواہ ہوں
    براہ مہربانی اس طرح کی درخواستیں دائر نہ کریں ہم نے ماضی میں دیکھا ہے اس طرح کے حالات میں فل کورٹ تشکیل ہوئے مگر فعال نہ رہ سکے کچھ ججز کام کرہے ہیں کچھ چھٹیوں پر ہیں فل کورٹ ستمبر تک میسر نہیں اپنا کام جاری رکھیں گے کوئی پسند کرے یا نہ کرے، ملک میں کون سا قانون چلے گا یہ فیصلہ عوام کریں گے، ہم نے کام ٹھیک کیا یا نہیں تاریخ پر چھوڑتے ہیں، جہاں پر دلائل رکے تھے وہاں سے ہی شروع کردیں،

    سپریم کورٹ کے چھ رکنی لارجر بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیس کی سماعت شروع کردی ، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں پر دلائل رکے تھے وہاں سے ہی شروع کردیں،ہمیں اللہ کے سوا کسی کی مدد نہیں چاہیے، عدالت آئین اور قانون کے مطابق اپنا کام کرتی رہے گی،کسی کو پسند آئے یا نہ آئے یہ تاریخی معاملات ہیں، جو بھی صورتحال ہے اس حوالے سے فیصلہ عوام نے کرنا ہے، ہمارا کام مقدمات سننا اور فیصلے کرنا ہے، اس وقت جو کچھ ہورہا ہے تاریخ سب دیکھ رہی ہے، ہمیں تنقید کی کوئی پرواہ نہیں،

    وفاقی حکومت اور سول سوسائٹی کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی،وکیل فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے بنچ پر جو اعتراضات اٹھائے گے ہماری درخواست کا اس سے تعلق نہیں، پہلے میں واضح کرونگا کہ ہماری درخواست الگ کیوں ہے، سیاست دانوں اور وزراء کی جانب سے عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے،جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہئے،فل کورٹ کا بنایا جانا ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں،فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب ایف بی علی کیس میں ہے،

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے اگر ایک جج کیس سننے سے انکار کرے تو اسے وہ کیس سننے کا نہیں کہا جاسکتا ہے،عدالتی تاریخ میں ملٹری کورٹس کیسز فل کورٹ نے ہی سنے ہیں،حکومت کا سپریم کورٹ کیلئے توہین آمیز رویہ ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن تین ججز کی آپ بات کر رہے ہیں انہوں نے ملٹری کورٹس کیس سننے سے انکار نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جس انداز میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا حل نکالنا چاہیے، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دیگر درخواست گزاران کا بھی یہی موقف ہے، ،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں صرف اپنی بات کر رہا ہوں اگر کچھ ماہ کی تاخیر ہوجائے تو مسلہ نہیں،

    درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی ،سپریم کورٹ بار کے وکیل عابد زبیری نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ ہمیں اس بینچ پو مکمل اعتماد ہے ،عدالت نے تمام دستیاب ججوں کو بینچ میں شامل کیا تھا،دو ججوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ ایک طرح کا فل کورٹ بینچ ہی ہے، میں خود 1980 میں 80 دیگر وکلاء کے ساتھ گرفتار ہور تھا،ہم مارشل لاء کے خلاف کھڑے ہوئے تھے دو ججز اٹھنے سے کوئی تنازعہ موجود نہیں 102 افراد کو ملٹری کے بجائے جوڈیشل حراست میں رکھا جائے ،اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم نے بھی فل کورٹ کا کہا تھا مگر دو ججز بینچ چھوڑ گئے اور ایک پر اعتراض کیا گیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اعتزاز احسن کی حمایت کرتا ہوں کہ اس کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی

    سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی

    جسٹس منصور علی شاہ کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا

    فوجی عدالتوں کیخلاف سویلین کے ٹرائل کیخلاف کیس 23 جون کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا تحریری حکمنامہ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹ بھی شامل ہے ،جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں کہا کہ چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ بنچ تشکیل دیں، , نظام عدل کی ساکھ کی عمارت عوامی اعتماد پر کھڑی ہے، موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے،اس وقت ملک میں انتخابات کیلئے سیاسی ماحول کا منظرنامہ چارج ہے ،ایسے سیاسی چارج ماحول میں موجودہ عدالتی بنچ کے خلاف اعتراض کیا جاسکتا ہے، فوجی عدالتوں کیخلاف کیس سننے والے بنچ میں موجود ججز کے تحریری اعتراضات انتہائی سنجیدہ ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ایک سینئر جج کے اعتراض پر اس وقت مناسب نہیں ہے کہ رائے دوں

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں کہا کہ ایک سینئر جج کے اعتراض عدالت میں ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے مناسب اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور تمام درخواستگزاران کے وکلا کو کمیٹی روم بلا لیا،

    سپریم کورٹ میں درخواستوں پر دوبارہ ڈیڑھ بجے بینچ بیٹھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال آج ہی نیا بینچ تشکیل دیں گے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، منصور علی شاہ شامل جسٹس منیب اختر ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، لطیف کھوسہ سنئیر وکیل ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ روسٹرم پر آئیں کچھ کہنا چاہتا ہوں، عدالتوں کو سماعت کا دائرہ اختیار آئین کی شق 175 دیتا ہے، صرف اور صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے،ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت سماعت کرونگا، سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میں یہاں خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ کوئی سیاسی فورم نہیں،حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرونگا، آپ سیاسی بیان باہر جا کر دیں،قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے، اس قانون کے مطابق بنچ کی تشکیل سنئیر ممبران کی ایک میٹنگ سے ہونی ہے کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا، اس قانون کو بل کی سطح پر ہی روک دیا گیا،میرے سامنے آیا کہ حلف کی پاسداری کرکے بینچ میں بیٹھوں یا پہر میں نے حالات کو دیکھ کر چیمبر ورک شروع کیا۔ جب مجھ سے چیمبر ورک کے بارے میں پوچھا گیا تو پانچ صفحات کا نوٹ لکھ کر بھیجا ،اس وجہ سے چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہے ،میرے دوست یقینا مجھ سے قابل ہیں لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا،اس چھ ممبر بنچ میں اگر نظر ثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا،

    سپریم کورٹ کا 9 رکنی بینچ ٹوٹ گیا ، جسٹس قاضی فائز عیسی الگ ہو گئے ،نامزد چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا فیصلہ نہیں ہوتا کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا ، سوال یہ ہے پریکٹس بل پارلیمان اور عدالت کا معاملہ جسٹس صاحب نے پرسنل کیسے بنا لیا ؟ پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے متعلق فیصلہ کرے میں بینچ سے اٹھ رہا ہوں ‘ مگر سماعت سے انکار نہیں کررہا ،میں اس وقت تک کسی بنچ میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، میں معذرت چاہتا ہوں، ججز کو زحمت دی،میں اس بینچ کو بینچ نہیں تصور کرتا،

    جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں قاضی فائز عیسیٰ سے اتفاق کرتا ہوں ‘ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کےخلاف درخواستوں پر فیصلہ کرینگے، اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کیس میں بیٹھ کر سماعت کریں، یہ اہم کیس ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں مخلوق خدا کے حق میں فیصلے کے لئے بیٹھے ہیں وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر آپ کیس نہیں سنیں گے تو 25 کروڑ عوام کہاں جائیں گے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کیس سن لیجیئے، میری استدعا ہے قاضی صاحب سے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں ،یہ نہیں ہو سکتا ایک بار میں اپنے حلف کیخلاف ورزی کر دوں ، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اس معاملے میں تمام ججز کیس کو سنیں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اس دفعہ بیٹھے رہیں حلف توڑ کے ، مجھے شرمندہ نہ کریں دونوں وکلا میرے لئے قابل قدر ہیں ،اعتزاز احسن نے کہا کہ گھر کے اندر کشمکش ہے ایسی زبان استعمال نہ کریں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت گھر نہیں بلکہ سپریم کورٹ ہے جو آئین کے تحت چلتی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سینئر جج صاحبان نے بنچ پر اعتراض کیا ہے ، گزشتہ دو سماعتوں پر اٹارنی جنرل نے قانون میں بہتری لانے کا وقت لئے ہوا ہے ،تہ دل سے سب کا احترام ہے آئین کے تحت کیا جو بھی فیصلہ کیا ،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • کیسز ملٹری کورٹ میں چلانے کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ملتوی

    کیسز ملٹری کورٹ میں چلانے کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ملتوی

    9 مئی واقعات میں نامزد ملزمان کے کیسز ملٹری کورٹ میں چلانے کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس اسد اللہ کے دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ضروری پارٹی کو فریق ہی نہیں بنایا۔ ڈیفنس منسٹری اور وزارت داخلہ کو بھی فریق بنانا ضروری ہے۔ متعلقہ فریقین کو پارٹی بنانے کے بعد درخواست دوبارہ جمع کرائی جائے

    ملزمان کے خلاف درج مقدمات میں آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 3 کو شامل کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عام شہریوں کے خلاف مقدمات میں آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ سیکشن 3 کے تحت مقدمات درج کرنا غیر قانونی ہے شہریوں کے مقدمات ملٹری کورٹس میں چلانا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہے۔ شہریوں کے مقدمات ملٹری کورٹس میں چلانا انٹرنیشل قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔عدالت عام شہریوں کے خلاف درج مقدمات میں آرمی ایکٹ 1952 سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 3 دفعات کو ختم کرنے کے احکامات جاری کریں ,

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ،:9 اور 10 مئی کے واقعات پرجے آئی ٹی بنانے کےلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے کی ، پانامہ طرز کی جے ائی ٹی بنائی جائے جو ہر ہفتے عدالت میں رپورٹ جمع کرے عدالت نے آئی خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ،آئینی درخواست انصاف لائرز فورم صوبائی صدر قاضی محمد انور نے دائر کی ہے