Baaghi TV

Tag: ملک

  • مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    اختلافات مٹائیے مُلک بچائیے
    No Consensus – No Country
    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے
    قومیں اور مُلک یکجا ہو کر ترقی کرتے ہیں یا پھر اختلافات میں گِھر کر بِکھر جاتے ہیں۔ سوویت یونین، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستانی جب بھی متحد ہوئے،تو نا صرف مُشکلات پر قابو پایا بلکہ سُرخرو بھی ہوئے۔

    قیام ِ پاکستان ہو یا 1965کی جنگ،2005 کا زلزلہٰ ہو یا 2010 کا سیلاب،1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں دہشت گردی کے خلاف جنگ یا2019 میں بھارتی جارحیت، کووڈ 19ہو یا حالیہ غیر معمولی سیلاب،قوم نے متحد ہو کران چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ قران میں ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں اختلافات نہ کرو، ورنہ تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔

    قرآن میں مشاورت کا خصوصی ذِکر کیا گیا ہے کہ اپنے معاملات مشاورت سے حل کرو۔پاکستان میں ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام بھی موجود ہے۔ کوئی ایک شخص یا پارٹی پُورے پاکستان، علاقوں یا قومیت کی نمائیندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے حالیہ معاشی اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی وحدت اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

    پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کو عظیم تر ملک بنانا ہے تو یہ کام مشکل ضرور ہے تاہم ناممکن نہیں، بار اور بنچ اگر اکھٹے نہیں ہوں گے تو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بات کون کرے گا، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے ہم سب نے اپنا کردار اداکرنا ہوگا، اگر ہم نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی.

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کئے معاہدے کی پاسداری نہیں کی،75 سال بعد آج بھی کشکول اٹھائے پھر رہے ہیں اور ہمارے ہمسائے ہم سے معاشی اور سماجی اعتبار سے بازی کے گئے، وکلا کو الاٹمنٹ لیٹرز کے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، اگر ہم کمر باندھ لیں تو پاکستان ایک عظیم ملک بن جائے گا تاہم یہ تقاریر سے نہیں عمل اور عزم سے ہو گا، یہاں وسائل، اذہان، انسانی قوت موجود ہے، سردیوں میں گیس کے انتظام میں لگے ہیں، جب گیس سستی ترین تھی ہم نے پرواہ نہیں کی، دنیا نے طویل المدتی معاہدے کئے، آج 40 سنٹ میں گیس مہنگی مل رہی ہے، آپ ایسے پیشہ سے وابستہ ہیں جو باوقار ہے۔

    وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وکلاء کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے اور ایک مکمل ضابطہ کے تحت قرعہ اندازی کے بعد الاٹیز میں الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کئے گئے، اس ہائوسنگ کالونی میں پلاٹ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، وزیر قانون اور وزیر ہائوسنگ نے اس ضمن میں بھرپور کام کیا، اب یہ پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اس ہائوسنگ سکیم میں ترقیاتی کاموں کے حوالہ سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پورے ملک میں سیلاب نے ایک تباہی مچائی ہوئی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء نے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی شدید تباہی کا مشاہدہ کیا ہو گا، یہ قدرتی آفت ایک ایسے وقت میں آئی جب پہلے ہی ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا، حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اور معاشی عدم استحکام کو کسی حد تک کنٹرول کیا لیکن مہنگائی اپنے عروج پر ہے، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں، 11 اپریل کو جب حکومت تبدیل ہوئی تو ڈیڑھ ماہ ہم فیصلے کرنے میں شش و پنج کا شکار تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ میں یہاں سیاست نہیں قومی امور پر بات کرنے کیلئے آیا ہوں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی گذشتہ حکومت نے پاسداری نہیں کی اور بری طرح اس کی دھجیاں بکھیریں جس پر آئی ایم ایف نے گذشتہ حکومت کی طے کردہ شرائط پر عملدرآمد سے پروگرام کو مشروط کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وکلاء برادری کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ کیا آج 75 سال بعد پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے کیا پاکستان اس لئے معرض وجود میں آیا تھا اور قائداعظم جو ایک ماہر قانون دان تھے انہوں نے جس بصیرت اور وژن کے ساتھ علامہ اقبال کے ساتھ مل کر پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اس کیلئے عظیم تحریک چلائی تھی اور لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی ان قربانیوں کے طفیل پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا دورہ کیا، اس وقت بھی اس علاقہ میں پانی کھڑا ہے، پٹ فیڈر کینال کی بھل صفائی کیلئے اقدامات جاری ہیں، وہاں لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا، لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں سے بچھڑ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، آپ سے استدعا ہے کہ آپ ملک میں قانون کی حکمرانی اور پاسداری چاہتے ہیں اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں نظریہ ضرورت بھی دریافت ہوا، پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں وکلاء نے اپنی عظیم تحریک سے ججز بحالی کی تحریک چلائی، وکلاء کو یہ مقام جدوجہد سے ملا ہے، انہوں نے اس کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، ان تمام تر ترجیحات اور کامیابیوں کے بعد آج 75 سال بعد ہم ایک دائرے میں ہی چل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جوہری طاقت ہونے کے بعد پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے لیکن معاشی اعتبار سے بہت سے چھوٹے ممالک ہم سے آگے نکل چکے ہیں، آج 75 سال بعد بھی ہم کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس سے چولہے بھی جلتے ہیں، گاڑیاں بھی چلتی ہیں اس کی قلت کا سامنا ہے، قوم ہم سے یہ سوال پوچھتی ہے کہ قائداعظم کا خواب آج بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اور آج بھی ہم اس ملک کے اندر غربت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، بے روزگاری کے خلاف لڑ رہے ہیں، جن ممالک کے ساتھ ہمارا مقابلہ تھا، ہندوستان میں روپے کی قدر ہم سے کم تھی، آج وہ ہم سے بہت آگے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام طبقات جو تاریخ کا رخ موڑنے کی استعداد کے حامل تھے ان سے قوم یہ سوال پوچھتی ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے، سیلاب متاثرین کی زندگی مشکلات کا شکار ہے، 6 لاکھ متاثرہ علاقوں کی خواتین حاملہ ہیں، ان کیلئے کتنی مشکلات ہیں، یہاں بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں کر سکتے، سیلاب سے تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں، اس وقت موسم گرم ہے تاہم موسم سرما میں انہیں شدید مشکلات درپیش ہوں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت اب نہیں یا کبھی نہیں والی صورتحال ہے، اگر قوم کو ہم نے فائدہ نہ پہنچایا اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ نہ کیا تو قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ اگر اکٹھے نہیں ہوں گے تو انصاف اور قانون و آئین کی حکمرانی کی بات کون کرے گا، آئین پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف کون کھڑا ہو گا، وکلاء کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے، آج یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ہم سے بعد میں آزاد ہونے قومیں ہم سے آگے کیسے بڑھ گئیں بطور وزیراعظم اس کا جواب سب سے پہلے مجھے دینا ہے، وکلاء سیلاب میں گھرے ان لاکھوں لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جن کے گھر زمین بوس ہو چکے ہیں، جو کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، اس دکھی انسانیت کے بارے میں بھی ضرور سوچیں، اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر وکلاء کیلئے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر سینئر وکلاء میں الاٹمنٹ لیٹر بھی تقسیم کئے۔

  • پی ٹی آئی کے ہوتے پاکستان کو کسی ملک دشمن کی ضرورت ہے؟،اسحاق ڈار

    پی ٹی آئی کے ہوتے پاکستان کو کسی ملک دشمن کی ضرورت ہے؟،اسحاق ڈار

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کسی ملک دشمن کی ضرورت ہے؟.

    ان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی نے اوورسیز پاکستانیوں کو سیلاب متاثرین کی مدد سے روکا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان کوتکبراورخودپسندی کا ذہنی مریض ہونے کے سبب خطرناک ہیں کسی ادارے، اس کے سربراہ یا جج کو گالی دینے میں کوئی شرم نہیں عدالتوں کو پتہ چل جانا چاہئے کہ اِن کو ندامت ہے نہ شرمندگی بزدل ، اناپرست، خودپسند ی اور تکبر میں ڈوبا ہوا شخص خطرناک ہی ہوتا ہے .

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ شخص اپنی گھٹیا سیاست کے لئے سیلاب متاثرین کے لئے امداد رکوانا چاہتا ہے، یہ ہے بیمار ذہنیت کہ میں وزیراعظم نہیں ، اس لئے سیلاب متاثرین کی مدد نہ کرو،کبھی آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی رکواتا ہے.

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ کبھی سیلاب متاثرین کے لئے امداد رکوانے کی گھٹیا کوشش کرتا ہے، یہ وہی ذہنی بیمار ہے جو اپنی سیاست کے لئے شہدا کے خلاف سوشل میڈیا پر زہریلی مہم چلاتا ہے .

  • ملکہ الزبتھ دوم کے اصولوں پر عمل پیرا رہوں گا، شاہ چارلس سوم

    ملکہ الزبتھ دوم کے اصولوں پر عمل پیرا رہوں گا، شاہ چارلس سوم

    برطانیہ کے شاہ چارلس سوم نے پارلیمنٹ سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ ملکہ الزبتھ کی قائم کردہ مثال کی پیروی کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ جو جمہوریت کے زندہ رہنے اور سانس لینے کا ذریعہ ہے۔

    شاہ چارلس نے کہا کہ ملکہ برطانیہ نے اپنے ملک اور لوگوں کی خدمت کرنے اور آئینی حکومت کے زریں اصولوں کو برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آئینی حکومت سے وابستگی کے اصولوں پر عمل پیرا رہیں گے۔

    علاوہ ازیں نیوزی لینڈ نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پر 26 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے 14ستمبر کو لندن جائیں گی۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت ایڈنبرا میں موجود ہے، عوام کو آج سینٹ جائلز کیتھیڈرل میں ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

  • فوج بھی میری اور ملک بھی میرا ،عمران خان

    فوج بھی میری اور ملک بھی میرا ،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مخالفین کی کوشش ہے سب سے بڑی جماعت کو فوج، عدلیہ کے ساتھ لڑایا جائے، ان کا پروپیگنڈا سیل پروپیگنڈا کر رہا ہے۔

    پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب بیرونی سازش کے تحت حکومت کوگرایا تو پہلا جلسہ پشاورمیں کیا، پشاور والوں نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا، سندھ،بلوچستان، ڈی جی خان، راجن پور، ڈیرہ اسماعیل خان سیلاب سے متاثر ہوئے، اللہ نے ہمیں بہت بڑے امتحان میں ڈالا ہے، سندھ کے لوگ بڑی مشکلوں میں ہیں.

    انہوں نے کہا کہ میرے خلاف ایک بڑا منظم پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ نوجوانوں کو حقیقی آزادی اور کلمے کا مطلب سمجھانا چاہتا ہوں،ہم زنجیروں کی وجہ سے اوپر پرواز نہیں کر پا رہے، نبی ﷺ کی سنت پر چلتے ہوئے قوم کو جگانا چاہتا ہوں تاکہ یہ زنجیریں ٹوٹ جائیں،چوروں کا ٹولہ پروپیگنڈہ کر رہا ہے،امریکی سازش کے تحت چوروں کے ٹولے کومسلط کیا گیا، چوروں کے ٹولے کو پاکستان کو نیچے لیجانے کے لیے مسلط کیا گیا، ہم پاکستان کوعلامہ اقبالؒ کے خواب جیسا عظیم ملک بنانا چاہتے ہیں، ہم دنیا بھرمیں سبز پاسپورٹ کی عزت کرانا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چوروں کے ہوتے ہوئے سبز پاسپورٹ کی عزت نہیں ہو سکتی، آج کے جلسے میں آپ کی تربیت بھی ہو گی، جلسے میں بہت ساری ویڈیو بھی دکھانی ہیں، ہم پاکستان کی عزت کرانا چاہتے ہیں، چوروں کے ٹولے کو پتا چل گیا مجھے شکست نہیں دے سکتے، اب یہ مجھے کسی طرح ڈس کوالیفائی کرنے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ مجھے دہشت گرد بنا دیا گیا ہے، ان کا حال ایسا ہے جب کوئی ٹیم ہارنے لگے تو وکٹیں ہی اٹھا لیتے ہیں، پہلے کوشش ہے عمران خان کو نا اہل کروایا جائے، دوسری ان کی کوشش سب سے بڑی جماعت کو فوج، عدلیہ کے ساتھ لڑایا جائے، ان کا پروپیگنڈا سیل پروپیگنڈا کر رہا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ فوج بھی اور ملک بھی میرا ہے، فوج مضبوط ہو گی تو ہم کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، ہم مضبوط فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں، ہم اس ملک کے اداروں کو مضبوط کریں گے، اگر ہم فوج پر تنقید کرتے ہیں تو اس کی بہتری کے لیے تعمیری تنقید کرتے ہیں، مخالفین پروپیگنڈے اس لیے کر رہے ہیں کسی طرح تحریک انصاف اور فوج میں لڑائی ہو جائے، مہنگائی، معیشت ان کا مسئلہ نہیں تھا، انہوں نے اقتدارمیں آکر1100ارب معاف کرایا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ 6 ستمبر کا دن مجھے آج بھی یاد ہے، 6 ستمبر کو ساری قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی تھی۔26سال پہلے سیاست شروع کی تو آزاد عدلیہ کے لیے میں کھڑا ہوا، واحد سیاست دان تھا جو آزاد عدلیہ کے لیے جیل میں گیا، ہماری حکومت نے ججز کے لیے جوڈیشل کمپلکس بنایا، ہم نے ہمیشہ عدلیہ کی عزت کی ہے، مسلم لیگ ن کے لوگ سوشل میڈیا پر اسلام آباد کے چیف جسٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں، میں کبھی اپنے کسی ورکرز کو عدلیہ کے خلاف بیان دینے کا نہیں کہا، عدلیہ، لوئر کورٹس کی عزت کرتا ہوں، مجسٹریٹ صاحبہ کے خلاف اگرسخت زبان استعمال کی تو اس کی وجہ شہباز گل پر تشدد تھا، شہباز گل کو حوالات میں ننگا کر کے تشدد کیا گیا، میرا مطلب جج صاحبہ کو دھکمی دینا نہیں تھا۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور اداروں کو لڑانے کی سازش کی جارہی ہے، قوم سب سمجھ گئی ہے، چوروں کا ٹولہ مجھے دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہا ہے، سب سن لو جتنا مجھے دیوار سے لگاؤ گے اتنا ہی میں لڑوں گا،7ماہ سے میں عوام کوحقیقی آزادی کے لیے تیار کر رہا ہوں، پاکستانیوں جب کال دوں توآپ نے میرے ساتھ نکلنا ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق 17 سال بعد پہلی دفعہ معیشت ترقی کر رہی تھی، آج عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ معیشت سکڑ رہی ہے، آج ملک میں فیکٹریاں بند ہیں، بجلی اور ڈیزل (فضل الرحمان) کی قیمت مہنگی ہوگئی ہے، پاکستان کی تاریخ میں اتنی مہنگی بجلی نہیں تھی، ہمارے دور میں 18 روپے اور آج 50 روپے یونٹ تک بجلی پہنچ گئی، سندھ، بلوچستان میں گندم کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے، ہمارے دورمیں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں زیادہ تھیں، عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، آج بجلی، پٹرول سمیت سب کچھ مہنگا ہو گیا ہے، آئی ایم ایف کے مطابق معاشی حالات مزید خراب ہوں گے۔

  • آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا،احسن اقبال

    آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئندہ 6سے 8ماہ کے دوران ملک معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا، عمران خان کی حکومت قومی خزانہ خالی کرکے چلی گئی، ہم نے مشکل فیصلوں سے ملکی معیشت کو بچایا، پاکستان کو مشکلات سے نکال کر اصل مقام تک پہنچانا ہمارا مشن ہے،چین پاکستان کی معیشت کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔

    ریلوے کے پانچ بڑے اسٹیشنوں کی جدید خطوط پر ڈویلپمنٹ کا فیصلہ

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس کے عہدیداران و دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ چین دنیا بھر سے سوا دو ہزار ارب ڈالر کی درآمدات کر رہا ہے جبکہ پاکستان سے چینی درآمدات صرف تین ارب ڈالر ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی برآمدات کو کیسے بڑھا سکتے ہیں، ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ ہم برآمدات میں پیچھے کیسے رہ گئے، ہمیں برآمدات بڑھانے کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔

     

    وزیراعظم نے دکانداروں سے فکسڈ سیلز ٹیکس کی وصولی روک دی

     

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو ترقی کی طرف لے جانے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت چھوڑ کر گئے تو ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب تھا مگر اب ترقیاتی بجٹ ساڑھے پانچ سو ارب روپے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ نجی شعبہ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقی کرنے والے ممالک اپنی ایکسپورٹ کو بڑھاتے ہیں، پاکستان کو اگر آگے بڑھنا ہے تو ہمیں بھی اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔

     

    قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اورعمران خان کو ایک ساتھ بٹھاؤں گا،فاروق ستار

    انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت خزانہ خالی کرکے گئی مگر ہم نے پاکستان کو اس کھائی سے بچا لیا ہے جس میں ہم گرنے والے تھے،ہمارے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا ریاست بچائیں یا سیاست ،ہم نے اپنا گردہ کاٹ کر پاکستان کی معیشت کو بچایا۔انہوں نے کہاکہ رجیم چینج آج نہیں بلکہ2018میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان اور سی پیک کو تباہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا اناڑی پن پاکستان کو بہت مہنگا پڑا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے ، جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے حکومت سے تعاون کریں تا کہ ان لوگوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پندرہ سو ارب دفاع جبکہ پانچ سو تیس ارب روپے پینشن کا بجٹ ہے،پانچ ہزار ارب کا خسارہ پورا کرنے کیلئے مزید قرض لینا پڑتا ہے اس لئے ہمیں ٹیکس ریونیو کو مزید بڑھانا ہوگا۔

    انہوں نے کہاکہ بجلی کا بل دینے والوں پر بجلی چوری کرنے والوں کا بوجھ پڑتا ہے،حکومت کبھی بھی پرائیویٹ سیکٹر سے مقابلہ نہیں کرسکتی،ہمارے پاس ایک سال کا ٹائم فریم ہے،وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آخری سہ ماہی کیلئے ترقیاتی بجٹ کی قسط جاری نہیں کرسکتے۔احسن اقبال نے کہاکہ سیاسی استحکام اور اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل سے ہی ملک کی ترقی و خوشحالی ممکن ہے،پالیسیوں کا تسلسل رہے گا تو پاکستان ترقی کرسکتا ہے،ترقی کیلئے ضروری ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ہر قسم کی زنجیر سے آزاد کیا جائے۔

  • ہم ملک کی بیس سیٹوں پر جیت رہے ہیں،یاسمین راشد

    ہم ملک کی بیس سیٹوں پر جیت رہے ہیں،یاسمین راشد

    پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کی صدرڈاکٹر یاسمین راشد نے چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا پی ٹی ائی سنٹرل پنجاب کے جنرل سیکرٹری حماد اظہر سیکرٹری اطلاعات عندلیب عباس امیدواران ملک ظہیر عباس کھوکھر اور شبیر گجر کے ہمراہ پی پی 167 کے الیکشن آفس اللہ ھو چوک میں پریس کانفرنس کی ۔ چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادے حامد رضا کی پی ٹی آئی کو ضمنی انتخابات میں غیر مشروط سپورٹ کا اعلان کیا اور کہاکہ میں یاسمین راشد ،حماد اظہر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    شیخ رشید کے گرد گھیرا تنگ، اینٹی کرپشن نے طلب کر لیا

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کرتے ھوئے کہاکہ سید حامد نے ہماری سپورٹ کی بات کیوں کی کیوں کہ ہم ملک کو امن ترقی کی بات کرتے ہیں۔ ہم ملک کی بیس سیٹوں پر جیت رہے ہیں۔ اس وقت عوام کو پتا چل گیا ہے انکا ہمدرد کون ہے۔ چیف الیکشن کمشنر ہمیں کلیرنس دیں یہ الیکشن شفاف ہونگے۔یہ شوشل میڈیا کا ٹائم ہے جو کریں گے واضح ہو جائے گا۔ ایڈمنسٹریٹرز کو کوئی اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہنا ہوگا۔ ہر قسم کے دروازے سے ریکوسٹ کروں گی لوگ جان گئے ہیں دھندلی کیسے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسٹرا بیلٹ پیپرز کہاں جا رہے ہیں۔ میں امید کرتی ہوں سارے ادارے نیوٹرل رہیں گے۔

     

    دھاندلی حکمرانوں کو مہنگی پڑے گی،فواد چوہدری کی پرویز الہی سے ملاقات

     

    سید حامد رضا نے کہاکہ جھنگ کے حلقے سے 10000 ووٹوں کی لیڈ سے پی ٹی آئی کی جیت ہو گی۔ آپ نے جشن آج کرنا ہے یا 17 کو آپ کی مرضی۔ سیاست اور مذہب کا چولی دامن کا رشتہ ہے۔ہمارے کارکنان ہر پولنگ سٹیشن میں انکی سہولت کاری کریں گے۔ میں حمزہ شہباز کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا وہ برائے نام وزیر اعلیٰ ہے۔

    عمران نے جو اسلام کا انٹرنیشنل لیول پر کام کیا وہ قابل تعریف ہے ۔ اگر مذہبی رواداری کی بات کی جائے وہ سہرا بھی عمران کے سر ہے۔ ہم ثنا اللہ اور لوٹے راجہ ریاض کو وہی بتائے گے آپ کا انجام کیا ہو گا۔ گزشتہ رات جو ملک نواز اعوان کے حلقہ میں ہوا وہ سراسر غلط تھا ۔موجود وزیر داخلہ میرے حلقہ کا ہے۔ انکو کالعدم جماعتوں کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ امن کی طاقت سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ سیاست اور مذہب کا چولی دامن کا رشتہ ہے۔ عمران نے جو اسلام کا انٹرنیشنل لیول پر کام کیا وہ قابل تعریف ہے۔ اگر مذہبی رواداری کی بات کی جائے تو وہ سہرا بھی عمران کے سر ہے۔اللہ ہو چوک والی پریس کانفرنس میں مقبول گجر خالد گجر صاحبزادہ حامد رضا جبکہ سنی اتحاد کونسل سے پیر طارق ولی مفتی امان اللہ شاکر مفتی شفاعت علی ہمدانی مفتی عرفان نعیمی قاری عبدالرؤف مفتی نعیم احمد موجود تھے

  • ملک بنانا ریپبلک بن چکا،مجال ہےعدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس  لیا ہو،مصطفیٰ کمال

    ملک بنانا ریپبلک بن چکا،مجال ہےعدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس لیا ہو،مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عام آدمی کی حالت زار پر حکومت، اپوزیشن، کسی سیاسی جماعت، عدلیہ اور ادارے کا دھیان نہیں۔ سب کو صرف اپنی ذات کی پڑی ہوئی ہے۔ غریب پورا دن مزدوری کرکہ شام کو گھر واپس لوٹے تو 16 گھنٹے بجلی نہیں، صبح پانی نہیں، بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پیسے نہیں ، بیمار ہوجائے تو ہسپتال تک جانے کے پیسے اسکے پاس نہیں لیکن اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، سب حکومت سنبھالنے اور گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔

    کراچی ڈسٹرکٹ ایسٹ سے پی ایس پی کے بلدیاتی امیدواران سے خطاب کرتے ہوئےمصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک چلانے والوں کی بے حسی اور خود غرضی نے غریب طبقے کو خودکشیوں پر مجبور کردیا ہے۔ سنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ پاکستان میں اس وقت ریاست نام کی چیز نہیں ہے۔ جنگل کا قانون رائج ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، اس کا بدترین عملی نمونہ حالیہ بلدیاتی انتخابات اور این اے 240 کا ضمنی انتخاب ہیں جہاں ایک جانب حکومت، انتظامیہ، الیکشن کمیشن، پولیس اور ڈاکو مل کر پیپلز پارٹی کو جتانے کے لیے سرگرم تھے، ڈاکو بیلٹ باکس لے کر فرار ہو گئے، پولیس پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان پر ٹھپے لگاتی رہے وہیں این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں بدترین دھاندلی کی گئی.

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک بنانا ریپبلک بن چکا لیکن مجال ہے کہ عدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس تک لیا ہو۔ پہلے عمران خان کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی اب شہباز شریف کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کو سندھ میں کلین چٹ تھما دی گئی ہے۔ عام آدمی نااہل اور کرپٹ حکومتوں سے تو پہلے ہی مایوس تھا لیکن اب ریاست سے مایوس ہو رہا ہے، یہ تو الله کا شکر ہے کہ پاکستانی قوم محب وطن ہے بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوتے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اپنا مئیر لانے کی خواہشمند تمام سیاسی جماعتیں پچھلے کئی سالوں سے بلدیاتی نظام حکومت میں موجود ہیں، انکے چئیر میینز، وائس چئیر مینز، کونسلرز موجود ہیں لیکن کراچی اور حیدرآباد کے حالات بدترین ہوگئے۔ یہ تمام سیاسی جماعتیں فیل ہوچکی ہیں کیونکہ نعرے مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اہلیان کراچی و حیدرآباد کو سمجھنا ہوگا کہ اگر مسائل حل کرنے کا کسی کے پاس تجربہ، اہلیت اور کردار ہے تو وہ صرف ہمارے پاس ہے، ہم ہی کراچی کو ٹھیک کرسکتے ہیں.

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک چلانے والے پاکستان کی معاشی شہ رگ پہ رحم کریں اور مزید تجربات سے گریز کریں۔ پاک سرزمین پارٹی کے نمائندوں کو کامیاب بنائیں، قوم لسانیت اور فرقہ پرستی سے باہر نکلے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ایڈمنسٹریٹر کے باوجود کراچی کو رہنے کے لائق دنیا کے 7 بدترین شہروں سے 5 بدترین شہروں میں شامل کرا دیا ہے۔ انتخابات قریب آتے ہی ہر جماعت کو کراچی یاد آ جاتا ہے۔ کراچی والوں کو اب ان نعروں سے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

  • حکومت ملک نہیں چلا سکتی،عمران خان عوام کی آواز ہے،شیخ رشید

    حکومت ملک نہیں چلا سکتی،عمران خان عوام کی آواز ہے،شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کیلئے جولائی کا مہینہ بہت اہم ہے۔ پریڈ گراؤنڈ میں پی ٹی آئی جلسے سے خطاب میں شیخ رشید نے مقتدر حلقوں اور حکومت کو بھی مخاطب کیا اور کہا کہ یہ ملک نہیں چلا سکتے ہیں۔انہوں نےکہا کہ عمران خان عوام کی آواز ہے، ڈیزل اپنے بھائی کو خیبر پختونخوا میں گورنر لگانا چاہتا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ایک چور نے اپنے بیٹے کو وزیر داخلہ تو دوسرے نے وزیر مواصلات بنوایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر مواصلات بھی اُسے بنادیا گیا ہے، جس نے مسجد کا غسل خانہ تک نہیں بنوایا ہے۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ مقتدر حلقوں اور حکومت سے کہتا ہوں، یہ ملک نہیں چلا سکتے، امپورٹڈ حکومت کے لیے جولائی بہت اہم مہینہ ہے۔

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کی تشریح کے منتظر ہیں۔ ملتان میں کارکنوں سے خطاب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں پُرامن احتجاج کا حق ہے؟ اس حوالے سے سپریم کورٹ کی تشریح کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی عدالتِ عظمیٰ سے تشریح آتی ہے، پارٹی قائد عمران خان کی احتجاج کی کال بھی آئے گی۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ پُرامن احتجاج کر کے حکمرانوں کو گھر تک چھوڑ کر آئیں گے، حمزہ شہباز کی کرسی بچانے کے لیے نظام کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان اتوار کو لاہور اور 14 جولائی کو ملتان کا دورہ کریں گے۔

  • سابق حکومت نے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچایا،ہم نے بچا لیا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچایا،ہم نے بچا لیا،شہباز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی میں لوڈشیڈنگ بڑھے گی، تاہمعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ جلد طے پا جائے گا .وزیراعظم نے کہا کہ صاحب ثروت افراد سے 200ارب سے زائد جمع ہونے کی توقع ہے، عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، شمسی پروگرام کے حوالے سے پروگرام جلد لے کر آئیں گے،براہ راست ٹیکس انقلابی قدم ہے،پاکستان دیوالیہ پن ہونے سے نکل چکا ہے،آئی ایم ایف سے معاہدہ جلد ہونے والا ہے،آئی ایم ایف نے کڑی شرائط رکھی ہیں،مختلف شعبوں میں مالکان کی آمدن پر براہ راست ٹیکس لگایا گیا.

    وزیراعطم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو رفاعی ریاست دیکھنا چاہتے تھے، تبدیلی اور نئے پاکستان کی بات کرنے والی سابقہ حکومت یہ اقدامات نہیں کر سکی،ملک میں خوردنی تیل کی کوئی کمی نہیں ہے،پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے،پچھلی حکومت کو 3ڈالر میں گیس مل رہی تھی لآئی ایم ایف نے کڑی شرائط رکھیں.

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا،دنیا میں کوئلہ بہت مہنگا ہوچکا ہے،کوئلے کی امپورٹ پر اربوں ڈہم ان مشکلات سے ضرور نکل جائیں گے،الر خرچ ہو رہے ہیں،کاروباری لوگوں کواللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے نوازاہے،گزشتہ دور حکومت میں پاکستان دیوالیہ ہونےکےقریب تھا،خوردنی تیل کا بحران آنے والا تھا اس سےبھی پاکستان بچ گیا،گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی،جولائی سے کوئلہ افغانستان سے درآمد کرنا شروع کریں گے.