Baaghi TV

Tag: ملکہ

  • ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت ویسٹ منسٹر ہال پہنچا دیا گیا

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت ویسٹ منسٹر ہال پہنچا دیا گیا

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت بکنگھم پیلس سے ویسٹ منسٹر ہال پہنچا دیا گیا۔دعائیہ تقریب میں شاہ چارلس سوم اور شاہی خاندان کے دیگر افراد شریک ہوئے۔

    آج شام سے عوام ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرسکیں گے، عوامی خراج عقیدت کے لیے ملکہ کا تابوت چار دن تک یہیں رہے گا۔ملکہ کے تابوت کو گزشتہ روز ایڈنبرا سے لندن لایا گیا تھا، ملکہ کی آخری رسومات 19 ستمبر کو مکمل ہوں گی۔

    ملکہ برطانیہ کا تابوت بکنگھم پیلس سے نکلنے پر برطانوی افواج کے دستے نے خراج عقیدت پیش کیا، گن کیرج پر رکھے تابوت کے پیچھے چلنے والوں میں شاہ چارلس اور ان کے بہن بھائی شامل تھے۔

    پرنسس این، پرنس اینڈریو اور پرنس ایڈورڈ تابوت کے پیچھے چلتے رہے، جبکہ پرنس ولیم اور پرنس ہیری سمیت شاہی خاندان کے دیگر افراد بھی جلوس میں شامل تھے۔جلوس نکلنے پر ہائیڈ پارک سےتوپوں سے گولے داغےگئے اور بگ بین کی گھنٹیاں بجائی گئیں۔

    ملکہ کے تابوت کو دیکھنے کیلئے لاکھوں افراد سینٹرل لندن میں موجود ہیں جبکہ لندن کے مختلف مقامات پر بڑی اسکرینیں بھی لگائی گئی ہیں۔

  • ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ منایا گیا، اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا اور آنجہانی ملکہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ برطانیہ کی وفات پر یوم سوگ منانے کی منظوری دی تھی، اور پیر کا دن پاکستان میں یوم سوگ کے طور پر منایا گیا۔

    وزارت خارجہ نے وزیر اعظم کو ملکہ برطانیہ کی وفات پر سرکاری سطح پر یوم سوگ منانے کی تجویز دی تھی۔ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے کابینہ ڈویژن کو متعلقہ انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزیر اعطم کی ہدایت پر سوگ کے موقع پر تمام اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی دہائیوں پر محیط زندگی پاکستان کے ساتھ شاندار تعلقات پر محیط تھی وہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی داعی تھیں۔آنجہانی ملکہ نے 1997 میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ پاکستان کے ساتھ نیک خواہشات کی وجہ سے پاکستانی قوم بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور ان کی وفات پر افسردہ ہے۔ 70سال تک برطانیہ پر حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں جمعرات کو بیلمورل میں انتقال کر گئیں.

    الزبتھ1952 میں ملکہ بنیں اور اپنے دور میں انھوں نے بڑے پیمانے پر سماجی تبدیلی دیکھی۔ان کی موت کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے اور ویلز کے سابق شہزادے چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ اور دولتِ مشترکہ میں شامل 14ممالک کے سربراہ بن گئے ہیں۔ بادشاہ چارلس نے باضابطہ طور پر برطانیہ کے نئے بادشاہ کا منصب سنبھال لیا ہے اور ملکہ کنسورٹ کمیلا پارکر بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، وزیر اعظم محمد شہبازشریف ، چیئرمین سینیت اور اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کی وفات پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانوی شاہی خاندان، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جمعرات کو ملکہ الزبتھ کی وفات کے موقع پر ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری تعزیتی بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے جسے آنے والے وقتوں میں پر کرنا مشکل ہے ، وہ بہت چھوٹی عمر میں تخت نشین ہوئیں لیکن انہوں نے پختگی، کردار اور اعلی ترین عزم کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وہ دنیا میں طویل ترین حکمرانی کرنے والے حکمرانوں میں شامل ہوئیں۔

    صدر عارف علوی نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی ولولہ انگیز قائدانہ خوبیوں نے انہیں عظیم اور مہربان حکمران کے مرتبے تک پہنچایا جسے عالمی تاریخ میں سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مرحومہ کے لئے دعا کی اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ان کے احساسات شاہی خاندان کے افراد اور برطانیہ کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال پر برطانوی شاہی خاندان ، حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ ملکہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر انہیں گہرا دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ پاکستان ان کی وفات کے سوگ میں برطانیہ اور دولت مشترکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ شریک ہے۔ برطانیہ کے شاہی خاندان ، عوام اور برطانوی حکومت سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ سپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے برطانوی ہائی کمیشن کا دورہکیا اور برطانوی ہائی کمشنر سے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پراظہارافسوس کیا اور تعزیتی کتاب میں ملکہ کی زندگی سے وابستہ اہم پہلوں پر اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ سپیکرنے کہا کہ ملکہ برطانیہ کے انتقال پر شاہی خاندان اور عوام سے اظہارہمدردیکرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکہ کی دہائیوں پر محیط زندگی پاکستان کے ساتھ شاندار تعلقات پر مبنی تھی.

  • ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم ایک ناقابل فراموش کردار تھیں،آصف زرداری

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم ایک ناقابل فراموش کردار تھیں،آصف زرداری

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹریز کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ملکہ الزبتھ دوئم کی وفات پر تعزیتی پیغام کے لئے برطانوی قونصل خانے گئے.

    سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملکہ برطانیہ کی وفات پر سفارت خانے کی یاداشت میں اپنے تاثرات درج کئے. سابق صدر آصف علی زرداری نے قونصل خانے کی یاداشت میں تاثرات میں لکھا کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم ایک ناقابل فراموش کردار تھیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.

    دوسری طرف نیوزی لینڈ نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے انتقال پر 26 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے 14 ستمبر کو لندن بھی جائیں گی۔

    یاد رہے کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 8 ستمبر کو انتقال کر گئیں تھیں، ان کی آخری رسومات ویسٹ منسٹر ایبے میں 19ستمبر کو ادا کی جائیں گی۔ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کا تابوت اس وقت ایڈنبرا میں موجود ہے، عوام کو آج سینٹ جائلز کیتھیڈرل میں ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ملکہ کا تابوت کل لندن پہنچایا جائے گا جہاں آخری رسومات 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی۔

    علاوہ ازیں انیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں بھی یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آنجہانی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد وزارت خارجہ کی تجویز پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں یوم سوگ منانے کی منظوری دی ۔

  • پاکستان کا ملکہ برطانیہ کے انتقال پر یوم سوگ کا فیصلہ

    پاکستان کا ملکہ برطانیہ کے انتقال پر یوم سوگ کا فیصلہ

    اسلام آباد:پاکستان نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پر ایک روزہ یوم سوگ کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال پر 12 ستمبر کو یوم سوگ منانے منظوری دے دی۔

    برطانوی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پرپاکستان میں 12 ستمبر کو یوم سوگ منایا جائےگا۔

    وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 12ستمبر کو یوم سوگ کے موقع پر قومی پرچم سرنگوں رہےگا۔وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خارجہ کی سفارش پر یوم سوگ کی منظوری دی۔

    خیال رہے کہ 8 ستمبر کو ملکہ برطانیہ الزبتھ ثانی کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی آخری رسومات پیر19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی۔

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات ویسٹ منسٹر ایبےمیں دن 11 بجےشروع ہوں گی۔خیال رہے کہ 8 ستمبر کو ملکہ برطانیہ الزبتھ ثانی کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی آخری رسومات پیر19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی۔

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات ویسٹ منسٹر ایبےمیں دن 11 بجےشروع ہوں گی۔

     

     

    دوسری طرف ملکۂ برطانیہ الزبتھ دوم 8 ستمبر کو دار فانی سے کوچ کرگئیں اور ان کی آخری رسومات دس دن بعد ادا کی جائیں گی جس سے متعلق تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملکۂ الزبتھ دوم کو 18 ستمبر کو سپرد خاک کیا جائے گا اور آخری آرام گاہ سے متعلق فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ کن عزیز رشتہ داروں کے ساتھ دفنایا جائے گا۔

    ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کا آغاز 18 ستمبر کو صبح گیارہ بجے بگ بینگ کی گھنٹی بجاکر کیا جائے گا اور العربیہ نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ آنجہانی ملکہ کو شاہ جارج ششم کی لابی میں دفنایا جائے گا۔

     

    ملکہ برطانیہ کے والد جارج ششم کی لابی لندن سے 36 کلومیٹر کی دوری پر یارکشائر کے دیہی علاقے میں واقع ہے۔ اس لابی میں سابق بادشاہ برطانیہ اور ملکہ الزتبھ کے والد جارج ششم کی قبر بھی ہے۔

    ملکہ الزبتھ کو ان کے والد، والدہ، بہن اور شوہر کے قریب ہی دفنایا جائے گا۔ ملکہ برطانیہ کے والد کا انتقال 1952 میں ہوا تھا جب کہ والدہ اور بہن 2002 میں راہی عدم سدھار گئی تھیں اور ان کے شوہر شہزادہ فلپ گزشتہ برس داغ مفارقت دے گئے تھے۔

    خیال رہے کہ 97 سالہ ملکہ الزبتھ کی والدہ نے بھی طویل عمر پائی تھی ان کا انتقال 101 سال کی عمر میں ہوا تھا۔

    Queen elzebith

    یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ فروری 1952 میں لی گئی ایک تصویر میں ملکہ الزبتھ اپنے والد، والدہ، بہن اور شوہر کے ساتھ ایک تصویر میں کھڑی ہیں اور اب سب کا انتقال ہوچکا ہے اور ملکہ تدفن کے بعد تصویر میں موجود شاہی افراد کی قبریں بھی قریب قریب ہوں گی۔

  • ملکہ برطانیہ کا انتقال،لیڈی ڈیانا کا اہم خطاب ” پرنسس آف ویلز”شہزادی کیٹ میڈلٹن کا مقدرٹھہرگیا

    ملکہ برطانیہ کا انتقال،لیڈی ڈیانا کا اہم خطاب ” پرنسس آف ویلز”شہزادی کیٹ میڈلٹن کا مقدرٹھہرگیا

    لندن :ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن نے اپنی آنجہانی ساس لیڈی ڈیانا کا اہم اعزاز پالیا ہے۔ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد بادشاہ بننے والے کنگ چارلس نے اپنی آنجہانی اور ہر دلعزیز اہلیہ لیڈی ڈیانا کا دیا جانے والا پرنسس آف ویلز کا خطاب اپنی بہو کیٹ میڈلٹن کو دے دیا ہے اور اب 25 سال کے طویل عرصے کے بعد وہ پرنسس آف ویلز کہلائیں گی۔

     

     

    کنگ چارلس نے صرف بہو ہی نہیں بلکہ اپنے بڑے بیٹے اور کیٹ کے شوہر شہزادہ ولیم کو پرنس آف ویلز کا خطاب بھی دیا ہے جو ان کے پاس 1958 سے تھا تاہم ملکہ کی موت کے بعد بادشاہ بننے پر انہوں نے یہ اعزاز اپنے بڑے بیٹے کے نام کردیا۔واضح رہے کہ برطانیہ کی تاریخ میں اس سے قبل پرنسس آف ویلز کا خطاب صرف لیڈی ڈیانا کو دیا گیا تھا جو اپنی سماجی خدمات کے باعث دنیا بھر میں مقبول تھیں۔

     

     

    کیٹ مڈلٹن ہر دلعزیز شہزادی ڈیانا کے بعد پرنسس آف ویلز کا خطاب حاصل کرنے والی پہلی شاہی شخصیت ہیں۔ انہوں نے شہزادہ ولیم سے شادی کے بعد نہ صرف بڑی کامیابی سے شاہی خاندان میں ڈچس آف کیمبرج کے طور پر اپنی شناخت بنائی بلکہ اس کردار کو بھی بڑی خو بی سے نبھایا۔یہاں بھی کیٹ میڈلٹن نے اپنی آنجہانی ساس کی روایات کو تازہ کیا اور شاہی خاندان سے نہ ہونے کے باوجود شاہی خاندان میں اپنی انفرادی شخصیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔

     

     

    یاد رہے کہ چند دن قبل برطانیہ میں طویل ترین عرصے تک ملکہ رہنے والی الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ملکہ کے انتقال پر برطانوی حکومت نے ملک بھر میں 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس کا قوم سے پہلے خطاب میں آنجہانی ملکہ کو زبردست خراج عقیدت

    برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس کا قوم سے پہلے خطاب میں آنجہانی ملکہ کو زبردست خراج عقیدت

    لندن:برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس سوئم نے قوم سے اپنا پہلا خطاب کرلیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد برطانیہ کے نئے بادشاہ بننے والے چارلس سوئم نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ میں بہت زیادہ دکھی احساسات کے ساتھ آپ سے بات کر رہا ہوں، ملکہ برطانیہ الزبتھ ایک متاثرکن شخصیت تھیں، انہوں نے اپنی زندگی لوگوں کی خدمت کے لیے وقف رکھی۔

    ویڈیو خطاب میں بادشاہ چارلس نے آنجہانی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکہ نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے بہت قربانیاں دیں ، ان کی لگن اور محنت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

    انہوں نے کہا کہ ملکہ کو روایات سے پیار تھا،میں اپنی والدہ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتاہوں، میری والدہ کا ان کی قربانیوں، لگن کا بہت شکریہ۔ اس کے علاوہ بادشاہ چارلس نے بیٹے ولیم اور بہو کیٹ کو پرنس اینڈ پرنسس آف ویلز بنانے کا اعلان بھی کیا۔گزشتہ روز برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں۔ انہوں نے 70 سال تک برطانیہ پر حکمرانی کی۔

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ بنے ہیں۔

     

     

     

     

     

    یاد رہے کہ ملکہ کے انتقال کا اعلان بکنگھم پیلس نے پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے کیا۔بکنگھم پیلس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج دوپہر ملکہ الزبتھ سکاٹ لینڈ میں واقع بیلموریل پیلس میں انتقال کر گئیں۔‘ملکہ کے انتقال پر برطانوی حکومت نے ملک بھر میں 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔بی بی سی کے مطابق جمعرات کو ہی ملکہ کے خاندان کے افراد سکاٹ لینڈ میں واقع بلموریل پیلس میں کو جمع ہوگئے تھے۔ملکہ الزبتھ 1952 میں تحت نشین ہوئیں اور اس دوران انہوں نے کئی سماجی تبدیلیاں دیکھیں۔

     
    شاہی خاندان کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے صاحبزادے کنگ چارلس سوئم اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر جمعرات بیلموریل پیلس میں گزاریں گے اور جمعے واپس لندن آئیں گے۔
    واضح رہے کہ ملکہ گزشتہ کچھ عرصے سے سکاٹ لینڈ میں واقع بیلموریل پیلس میں مقیم تھیں۔
    ملکہ الزبتھ کے دور اقتدار کا دورانیہ جنگ عظیم دوم کے بعد کفایت شعاری کی مہم، بادشاہت سے دولت مشترکہ میں منتقلی، سرد جنگ کے خاتمے اور برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت اور پھر علیحدگی پر مشتمل تھا۔
    ان کے دوراقتدار میں ونسٹن چرچل سے لزٹرس تک 15 وزرائے اعظم آئے۔ چرچل 1874 میں پیدا ہوئے تھے جب کہ الزبتھ کے دور بادشاہت کے آخری وزیراعظم لز ٹر کی پیدائش 101 سال بعد 1975 میں ہوئی جن کو ملکہ نے رواں ہفتے وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ملکہ الزبتھ نے اپنے دور اقتدار میں وزائے اعظم کے ساتھ ہفتہ وار ملاقائیں جاری رکھیں۔
     
    ملکہ الزبتھ 21 اپریل 1926 کو مے فیر لندن میں پیدا ہوئیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ الزبتھ برطانیہ کی ملکہ بن جائیں گی لیکن دسمبر 1936 میں ان کے چچا ایڈورڈ ہشتم نے دو مرتبہ کے طلاق یافتہ امریکی خاتون ویلس سیمپسن سے شادی کے لیے تخت سے دستبردار ہوگئے۔ جس کے بعد الزبتھ کے والد جارج ششم بادشاہ بن گئے اور 10 سال کی عمر میں الزبتھ جو جو کہ اس وقت لیلیبٹ کے نام سے خاندان میں مشہور تھیں ولی عہد بن گئی۔
    اس کے تین سال بعد برطانیہ اور نازی جرمنی کے درمیان خلاف جنگ چھڑ گئی۔ جنگ کے دوران کا زیادہ عرصہ الزبتھ اور ان کی چھوٹی بہن پرنس مارگریٹ نے ونڈسر پیلس میں گزاریں جب ان کے والدین نے انہیں کینیڈا بھیجنے سے انکار کیا۔
    اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد الزبتھ نے آکزیلیری ٹیریٹوریل سروس سے بنیادی ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کی۔ملکہ الزبتھ  کے وفات پر برطانوی وزیراعظم لز ٹرس نے کہا کہ ملکہ نے ہمیں استحکام اور طاقت فراہم کی جس کی ہمیں ضرورت تھی۔’زندگی میں انہوں نے 96 سے زیادہ ملکوں کے دورے کیے اور کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدلیں۔‘

     

    وزیراعظم نے کہا کہ جیسا ایک ہزار سے زائد سالوں سے ہوتا آیا ہے آج تاج ہمارے نئے بادشاہ اور ریاست کے نئے سربراہ کنگ چارلس سوم کو منتقل ہوگا۔ ہم کنگ چارلس سے ان کی والدہ کی موت پر تعزیت کرتے ہیں۔‘دوسری جانب ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر دنیا بھر کے سربراہان حکومت اور اہم شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
  • ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کاانتقال، برطانیہ میں پوسٹل اور ریل ملازمین کی ملک گیرہڑتال موخر

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کاانتقال، برطانیہ میں پوسٹل اور ریل ملازمین کی ملک گیرہڑتال موخر

    لندن : برطانیہ میں پوسٹل اور ریل ملازمین نے ملکہ ایلزیبتھ کے انتقال پر ملک گیر ہڑتال موخر کردی۔اس حوالے سے غیرملکی خبرایجنسی نے کمیونیکیشن ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری ڈیو وارڈ کے حوالے سے بتایا کہ جمعہ کو بھی 48 گھنٹے سے جاری ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا تاہم ملکہ ایلزیبتھ کے انتقال پر باعث احترام ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی ہے۔

    ریل یونین کی جانب سے اگلے ہفتے اعلان کردہ واک آؤٹ کے اعلان کو واپس لے لیا گیا جبکہ ٹرانسپورٹ یونین کی جانب سے ستمبر میں ہڑتالوں کی کال بھی واپس لے لی گئی۔برطانیہ میں ریل کے نظام کے نگراں ادارے نیٹ ورک ریل کی جانب سے ہڑتالوں کو موخر کئے جانے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔برطانیہ میں مختلف سیکٹرز کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہڑتالوں کی کال دی گئی تھی۔

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں،اطلاعات کے مطابق ملکہ کے انتقال کا اعلان بکنگھم پیلس نے پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے کیا۔

    شاہی خاندان کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے صاحبزادے کنگ چارلس سوئم اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر جمعرات بیلموریل پیلس میں گزاریں گے اور جمعے واپس لندن آئیں گے۔
    واضح رہے کہ ملکہ گزشتہ کچھ عرصے سے سکاٹ لینڈ میں واقع بیلموریل پیلس میں مقیم تھیں۔

    ملکہ الزبتھ کے دور اقتدار کا دورانیہ جنگ عظیم دوم کے بعد کفایت شعاری کی مہم، بادشاہت سے دولت مشترکہ میں منتقلی، سرد جنگ کے خاتمے اور برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت اور پھر علیحدگی پر مشتمل تھا۔

    ان کے دوراقتدار میں ونسٹن چرچل سے لزٹرس تک 15 وزرائے اعظم آئے۔ چرچل 1874 میں پیدا ہوئے تھے جب کہ الزبتھ کے دور بادشاہت کے آخری وزیراعظم لز ٹر کی پیدائش 101 سال بعد 1975 میں ہوئی جن کو ملکہ نے رواں ہفتے وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ملکہ الزبتھ نے اپنے دور اقتدار میں وزائے اعظم کے ساتھ ہفتہ وار ملاقائیں جاری رکھیں۔

    ملکہ الزبتھ 21 اپریل 1926 کو مے فیر لندن میں پیدا ہوئیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ الزبتھ برطانیہ کی ملکہ بن جائیں گی لیکن دسمبر 1936 میں ان کے چچا ایڈورڈ ہشتم نے دو مرتبہ کے طلاق یافتہ امریکی خاتون ویلس سیمپسن سے شادی کے لیے تخت سے دستبردار ہوگئے۔ جس کے بعد الزبتھ کے والد جارج ششم بادشاہ بن گئے اور 10 سال کی عمر میں الزبتھ جو جو کہ اس وقت لیلیبٹ کے نام سے خاندان میں مشہور تھیں ولی عہد بن گئی۔

    اس کے تین سال بعد برطانیہ اور نازی جرمنی کے درمیان خلاف جنگ چھڑ گئی۔ جنگ کے دوران کا زیادہ عرصہ الزبتھ اور ان کی چھوٹی بہن پرنس مارگریٹ نے ونڈسر پیلس میں گزاریں جب ان کے والدین نے انہیں کینیڈا بھیجنے سے انکار کیا۔اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد الزبتھ نے آکزیلیری ٹیریٹوریل سروس سے بنیادی ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کی۔

    ملکہ الزبتھ کے وفات پر برطانوی وزیراعظم لز ٹرس نے کہا کہ ملکہ نے ہمیں استحکام اور طاقت فراہم کی جس کی ہمیں ضرورت تھی۔’زندگی میں انہوں نے 96 سے زیادہ ملکوں کے دورے کیے اور کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدلیں۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’جیسا ایک ہزار سے زائد سالوں سے ہوتا آیا ہے آج تاج ہمارے نئے بادشاہ اور ریاست کے نئے سربراہ کنگ چارلس سوم کو منتقل ہوگا۔ ہم کنگ چارلس سے ان کی والدہ کی موت پر تعزیت کرتے ہیں۔‘دوسری جانب ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر دنیا بھر کے سربراہان حکومت اور اہم شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم 96 سال کی عمر میں چل بسیں۔


    برطانوی میڈیا کے مطابق شاہی محل بکنگھم پیلس نے ملکہ برطانیہ کے انتقال کا اعلان کردیا ہے۔شہزادہ چارلس برطانیہ کے آئندہ بادشاہ بن جائیں گے۔

    برطانوی حکومت نے ملکہ برطانیہ کے انتقال پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات آج لندن میں اد ا کی جائیں گی.

    رپورٹ کےمطابق ان کے بچے پہلے سے ہی بالمورل کی طرف روانہ ہو چکے تھے، جن میں ولی عہد 73 سالہ شہزادہ چارلس، 72 سالہ شہزادی عینی، 72 سالہ شہزادہ اینڈریو اور 58 سالہ شہزادے ایڈورڈ شامل ہیں۔

    ان کے ہمراہ شہزادہ چارلس کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم، ان کے چھوٹے بیٹے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن بھی شامل ہیں، جو شاہی زندگی کو ترک کر کے امریکا جانے کے بعد غیر معمولی دورے پر برطانیہ آئے ہیں۔


    رائل فیملی کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ ملکہ الزبتھ کا انتقال ہو گیا ہے،برطانوی ملکہ اور بادشاہ فی الحال بالمورل میں رہیں گے، اور کل لندن روانہ ہوں گے۔

    اس سے قبل بکنگھم پیلس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملکہ برطانیہ طبیعت خراب ہونے کے باعث بیلمورل کاسل میں زیرِ علاج تھیں۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ملکہ کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد طبی نگہداشت میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مزید جائزہ لینے کے بعد ملکہ کے ڈاکٹر اُن کی صحت کے بارے میں فکرمند تھے اور انھوں نے ملکہ کو طبی نگہداشت میں رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے بتایا تھا کہ برطانیہ کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی 96 سالہ ملکہ برطانیہ گزشتہ اکتوبر سے صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، انہیں چلنے اور کھڑے ہونے میں مشکلات درپیش ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم لِز ٹرس نے کہا تھا کہ خبر کے باعث پورے ملک میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ میری اور پورے ملک کی نیک تمنائیں ملکہ اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

    ملکہ ایلزبتھ دوم کا مکمل نام ایلزبتھ الیگزینڈرا میری تھا، وہ مملکت متحدہ کی ملکہ اور دولت مشترکہ قلمرو کی آئینی ملکہ ہیں۔ ملِکہ ایلزبتھ 21 اپریل 1926 کو لندن میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ 1947 میں ان کی شادی شہزادے فلپ کے ساتھ ہوئی، جن سے 4 بچے ہیں۔ جب ان کے والد بادشاہ جارج ششم کا 1952 مین انتقال ہوا، تب ایلزبتھ دولتِ مشترکہ کی صدر اور مملکت متحدہ، کناڈا، اوسٹریلیا، نیو زیلینڈ، جنوبی افریقا، پاکستان اور سری لنکا کی حکمران بن کئیں۔ ان کی تاجپوشی سال 1953 میں ہوئی اور یہ اپنی طرح کی پہلی ایسی تاج پوشی تھی جو ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی۔ 9 ستمبر 2015 کو انھوں نے ملِکہ وِکٹوریا کے سب سے لمبے دورِ حکومت کے ریِکارڈ کو توڑ دیا اور برطانیہ پر سب سے زیادہ وقت تک حکومت کرنے والی ملِکہ بن گئیں۔ وہ پورے عالم میں سب سے عمردراز حکمران اور سب سے لمبے وقت تک حکومت کرنے والی ملِکہ ہیں۔

    1936ء میں جب ایلزبتھ کے والد پرنس البرٹ اپنے بھائی کے تخت چھوڑنے کے بعد بادشاہ بنے، تو ایلزبتھ ان کی ولی عہد بن گئی۔

    2 جون 1953ء کو ویسٹ منسٹر ایبے، لندن میں تخت نشینی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملکہ ایلزبتھ باقاعدہ طور پر مملکت متحدہ، کناڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، پاکستان اور سری لنکا کی حکمران بن گئیں۔

    6 فروری 1952 کو پاکستان کے بادشاہ جارج ششم کی موت کے بعد ان کی بیٹی شہزادی الزبتھ پاکستان کی نئی حکمران بن گئیں۔ ملکہ الزبتھ کو پاکستان سمیت اپنے تمام علاقوں میں ملکہ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان میں 8 فروری کو گورنر جنرل نے اعلان کیا کہ ملکہ معظمہ الزبتھ دوم اب اپنے علاقوں اور ریاستوں کی ملکہ اور دولت مشترکہ کی سربراہ بن گئی ہیں۔ انہیں پاکستان میں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

    مورخ اینڈریو میچی نے 1952 میں لکھا تھا کہ ملکہ الزبتھ برطانیہ کا تو چہرہ تھی ہیں ساتھ ہی وہ برابری سے پاکستان کا بھی چہرہ تھی، 1953 میں ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی کے دوران انہیں پاکستان کی ملکہ اور دولت مشترکہ قلمرو کا تاج پہنایا گیا۔ ملکہ نے تاجپوشی کے دوران یہ حلف لیا کہ وہ پاکستان کی عوام پر لوگوں کے متعلقہ قوانین اور رواج کے مطابق حکومت کریں گی۔

    ملکہ کے تاجپوشی گاؤن پر ہر دولت مشترکہ قوم کے نشانیاں سے کڑھائی کی گی تھی۔ شاہی گاؤن میں پاکستان کے تین نشانات نمایاں تھے: ہیرے اور سنہرے کرسٹل کے بنے گندم ، چاندی اور سبز ریشم اور پٹ سن سے بنا کپاس ، اور سبز ریشم اور سنہرے دھاگے سے بنا پٹ سن۔ پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے بھی اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ساتھ لندن میں تاجپوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ تاجپوشی کی پریڈ میں پاکستانی فوجیوں اور جہازوں نے بھی حصہ لیا۔

    23 مارچ 1956 کو جمہوریہ آئین کو اپنانے پر پاکستانی بادشاہت ختم کر دی گئی۔ تاہم پاکستان دولت مشترکہ کے ممالک میں ایک جمہوریہ بن گیا۔ ملکہ الزبتھ نے صدر مرزا کو ایک پیغام بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے ملک کے قیام کے بعد سے اس ملک کی ترقی کو گہری دلچسپی کے ساتھ پیروی کی ہے۔ میرے لیے یہ جان کر بہت اطمینان کا باعث ہے آپ کا ملک دولت مشترکہ میں رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مجھے یقین ہے پاکستان اور دولت مشترکہ کے دیگر ممالک ترقی کرتے رہیں گے اور ان کی باہمی رفاقت سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    ملکہ نے 1961ء اور بعد میں 1997ء میں پاکستان کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ شہزادہ فلپ ، ڈیوک آف ایڈنبرا بھی تھے۔

  • پی آئی اے کی ہفتہ کو اسلام آباد سے برمنگھم جانے والی پرواز منسوخ

    پی آئی اے کی ہفتہ کو اسلام آباد سے برمنگھم جانے والی پرواز منسوخ

    اسلام آباد:پی آئی اے کی ہفتہ کو اسلام آباد سے برمنگھم جانے والی پرواز منسوخ ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں اس وقت ملکہ برطانیہ کی تخت نشیسی کی 75 سالہ تقریبات منائی جارہی ہیں تو دوسری طرف برطانوی ایئر پورٹس پر بہت زیادہ رش دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی وجہ سے ایئرپورٹس پر افراتفری کا ماحول ہے

    بتایا جارہاہے کہ اس رش کے باعث برمنگھم اور مانچسٹر ائر پورٹ پر کئی سو میٹر لمبی مسافروں کی قطاریں لگ گئیں ، دوسری طرف برطانیہ سے ذرائع کے مطابق مانچسٹر اور برمنگھم ائیرپورٹس پر فلائیٹ آپریشن شدید متاثر ہورہا ہے

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ائیرپورٹ پر رش کے باعث مختلف ائر لائنز بشمول پی آئی اے کی برمنگھم کی پرواز ائیرپورٹ کے حالات کے باعث منسوخ کر دی گئی۔
    پی آئی اے حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پی کے 795 اب سوموار کے روز اسلام اباد سے برمنگھم جائے گی

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے نے مسافروں کی بکنگ کو سوموار پر منتقل کرنا شروع کردیا ،پی آئی اے کے کال سینٹر سے مسافروں کے دستیاب نمبرز پر اطلاع دینے کا کام شروع کردیا گیا ہے

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • ملکہ نے میگھن اور ہیری پر بڑی پابندی لگا دی

    ملکہ نے میگھن اور ہیری پر بڑی پابندی لگا دی

    میگھن مارکل اور ہیری ملکہ کی پلاٹینم جوبلی کی تقریبات کے لیے برطانیہ واپس آئیں گے

    شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے ترجمان نے کہا کہ ڈیوک اور ڈچس آف سسیکس اس جون میں ملکہ کی پلاٹینم جوبلی کی تقریبات میں اپنے بچوں کے ساتھ شرکت کرنے کے لیے پرجوش اور پرجوش ہیں۔

    اس سال ٹروپنگ دی کلر کے بعد ہیری، میگھن اور اینڈریو کے لیے محل کی بالکونی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی بکنگھم پیلس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ملکہ نے بالکونی کی ظاہری شکل کو شاہی خاندان کے کام کرنے والوں تک محدود کر دیا ہے

    اس سے قبل، یہ اطلاع ملی تھی کہ ہیری اور میگھن کو محل کی بالکونی میں آنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

    ماہرین  ہیری اور میگھن مارکل کی ملکہ الزبتھ کی پلاٹینم جوبلی کی تقریبات میں شاہی خاندان میں شامل ہونے پر خوش نہیں ہیں ،ہیری اور میگھن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے، سینئر شاہی ماہر اور سوانح نگار انجیلا لیون نے کہا، “جوبلی میں ہیری وغیرہ کے آنے سے ماحول مختلف ہو گا۔ ان پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ وہ کیسے برتاؤ کرتے ہیں جو جوبلی کے بارے میں نہیں ہونا چاہیے۔ سینئر ورکنگ رائلز سے توقع ہے کہ وہ خود کو ایک خوش چہرہ رکھنے پر مجبور کریں گے۔

    تاہم اگرچہ اب بھی اس بارے میں بہت ساری قیاس آرائیاں ہوں گی کہ کیا وہ شرکت کریں گے اور وہ کیا کریں گے

    ملکہ چاہتی ہے کہ خاندان ایک ساتھ کھڑا ہو، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خفیہ طریقے سے بڑی رقم خرچ کی گئی ہے۔96 سالہ بادشاہ کے فیصلہ کن اقدام میں صرف شاہی خاندان کے افراد شامل ہیں جو سرکاری عوامی فرائض انجام دیتے ہیں، جیسے کہ ہیری کے والد اور بھائی،

    محل کے ایک ترجمان نے کہا: ‘ملکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال روایتی ٹروپنگ دی کلر بالکونی میں جمعرات 2 جون کو پیشی صرف اس کی عظمت اور شاہی خاندان کے ان افراد تک محدود رہے گی جو اس وقت ملکہ کی جانب سے سرکاری عوامی فرائض انجام دے رہے ہیں

    امریکہ میں مقیم شاہی جوڑے نے گزشتہ ماہ انویکٹس گیمز کے لیے جاتے ہوئے ملکہ سے ملاقات کی تھی

    کیا شاہی محل نے میگھن اور ہیری کے نسل پرستی کے الزامات کا اعتراف کر لیا؟

    ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی شہزادے ہیری اور ان کی اہلیہ کے درمیان طلاق کی پیش گوئی کر دی

     شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کی زندگی پر مبنی ہیری اینڈ میگھن اسکیپنگ دی پیلس کا ٹریلر ریلیز 

     شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کی جانب سے بنائی جانے والی پہلی دستاویزی فلم کی تفصیلات