Baaghi TV

Tag: ملک ریاض

  • ملک ریاض کے قریبی ساتھی کرنل ریٹائر خلیل الرحمن گرفتار، نامعلوم مقام پر منتقل

    ملک ریاض کے قریبی ساتھی کرنل ریٹائر خلیل الرحمن گرفتار، نامعلوم مقام پر منتقل

    ملک ریاض کے قریبی ساتھی کرنل ریٹائر خلیل الرحمن کی رہائش گاہ پر چھاپہ ، کرنل خلیل کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا-

    اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس جب کرنل خلیل کے گھر گھسنے کی کوشش کرتی ہے تو انہیں فیملی اور ملازمین کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے گھر کی خواتین اور مردوں کے بولنے کی اوازیں سنائی دیتی ہیں جن میں خواتین کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ہم پاکستان میں نہیں انڈیا میں رہ رہے ہیں اور انہیں لیڈی پولس کے ساتھ مزاحمت کرتے اور بحث کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے بھی سنا جا سکتا ہے-

    https://x.com/ahmad__bobak/status/1948866772083372465

    سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعڈ صارفین کا کہنا ہے کہ،پولیس کارروائی میں رخنہ ڈالنے والوں کو بھی گرفتار کرنا چاہیے،مطلوب ملزم کو پولیس گرفتار کرنے آئی ہے ساتھ میں لیڈی پولیس ہے ۔ یہ دروازہ کھولے ، بچہ کارڈ کیوں کھیل رہی ہے فائلیں بیچتے ہوئے غیرت یاد نہیں آتی اب ڈیوٹی کرنے والے ملازمین کو بے غیرت بنارہی ہے،پی ٹی آئی کے دور میں جس ملک ریاض کے اجازت کے بغیر اس کے سوسائٹی میں پرندہ پر بھی نہیں مار سکتا تھا اس کا کوئی ملازم گرفتار کرنا تو ناممکنات میں سے تھا آج وہ خود روپوش اور اس کے لوگ گرفتار ہںورہے ہیں یہ سب کچھ خواب و خیال سا لگتا ہے

    اس سے قبل 13 جولائی کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر بڑی کاروائی کرتے ہوئے ملک ریاض کے بھائی فرحت اور ان کی بیوی زہرا فرحت اور دیگر سٹاف کو گرفتار کیا گیا تھا-

  • بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    قومی احتساب بیورو(نیب)سندھ کی بحریہ ٹاؤن کراچی کیخلاف جاری تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نیب کی جانب سے بحریہ ٹائون کراچی کیخلاف تحقیقات مزید تیزکردی گئی ہیں اور نیب نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی کو منجمد کر دیا ہے۔ڈی جی نیب سندھ جاوید اکبر ریاض کی جانب سے جاری لیٹر میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے ایک ہزار کمرشل کمرشل پلاٹس کو فوری منجمد کرنے کا حکم دیا گیا۔نیب نے بحریہ ٹائون کو الاٹ شدہ زمین کے علاوہ مزید زمین پر قبضے کے شواہد بھی اکٹھے کرلئے ہیں۔

    عمرایوب کوبلاول بھٹو پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے،شرجیل میمن

    واضح رہے کہاس سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔

    کم سن امریکی بچوں کی نازیبا وڈیوز بنانے والا ملزم کراچی سے گرفتار

    نیب نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر پشاور اور جام شورو میں زمینوں پر قبضے کیے، انہوں نے بغیر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی ہیں۔نیب کے مطابق ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے.

    یورپی یونین کا امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان

    یاد رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی اراضی کی الاٹمنٹ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ریفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور صوبائی وزیر شرجیل میمن کے نام خارج کرنے کی درخواست پر بڑا ریلیف دے دیا، آئینی بینچ نے دونوں رہنماؤں کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ان کی طلبی کے نوٹسز کو معطل کر دیا اور نیب کو ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    چین، روس اور ایران جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات ، بیجنگ میزبان

    ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والی 90 خواتین کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ مل گیا

  • ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کو دھمکی دینے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ مقدمہ بحریہ ٹاؤن کے ملازم اور وائس چیف ایگزیکٹو کرنل ریٹائرڈ خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔مقدمے کے مطابق، ملک ریاض کو ایک ای میل کے ذریعے دھمکی دی گئی، جس میں ایک ارب 42 کروڑ روپے کا بھتہ 50 بِٹ کوائن کی شکل میں مانگا گیا۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر یہ رقم ادا نہ کی گئی تو ملک ریاض، ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد کی زندگیوں کو نقصان پہنچایا جائے گا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ ابھی تک اس دھمکی دینے والے افراد کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    ملک ریاض کی جانب سے اس دھمکی کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور اس حوالے سے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے، ملک ریاض اس وقت دبئی میں ہیں اور پاکستانی حکومت ان کی پاکستان واپسی کے لئے کوشاں ہے.

    القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • سرکاری زمین پر قبضہ، ملک ریاض اور بیٹے  کیخلاف ریفرنس دائر

    سرکاری زمین پر قبضہ، ملک ریاض اور بیٹے کیخلاف ریفرنس دائر

    کراچی: بحریہ ٹاؤن کے 17 ہزار ایکٹر سرکاری زمین پر قبضے کے معاملہ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،

    نیب نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے زین ملک کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ اس ریفرنس میں پانچ فرنٹ مینوں اور سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کے نام بھی شامل ہیں۔نیب کے مطابق، بحریہ ٹاؤن نے سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضہ کر کے وہاں بڑے پیمانے پر تعمیرات کیں، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ اس غیر قانونی قبضے کے ذریعے نہ صرف سرکاری اراضی پر قبضہ کیا گیا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

    یاد رہے کہ ملک ریاض نے 2019 میں سپریم کورٹ میں 460 ارب روپے کی سیٹلمنٹ کی یقین دہانی کروائی تھی، تاہم اس سیٹلمنٹ کے مطابق صرف 24 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے، جو کہ بہت کم ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ملک ریاض  پر نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    اس ریفرنس میں ملک ریاض کے علاوہ ان کے فرنٹ مین اور دیگر افراد کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جنہوں نے اس دھوکہ دہی میں ان کا ساتھ دیا۔ نیب کی کارروائی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف قانونی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات مزید گہرائی سے کی جائیں گی۔یہ کیس ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، اور اس سے بحریہ ٹاؤن کے کاروباری معاملات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    القادر ٹرسٹ کیس، ملک ریاض، علی ریاض، شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بلاک

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

    پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی خورد برد کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد انٹرپول کے ذریعے انہیں پاکستان لانے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق، ملک ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر 190 ملین پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ یہ رقم مختلف کاروباری اور پراپرٹی معاہدوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے طور پر چھپائی گئی تھی۔ایف آئی اے نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملک ریاض کے خلاف موجود تمام شواہد کو انٹرپول کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ انہیں عالمی سطح پر مطلوب قرار دلوائیں اور پاکستان واپس لایا جا سکے۔

    ملک ریاض کا نام اس وقت مختلف قانونی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اس پیشرفت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ نیب کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا مقصد انہیں پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کرانا ہے۔

    ملک ریاض، جو پاکستان کے امیر ترین اور بااثر کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، پر القادر ٹرسٹ کیس میں مبینہ بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ملزم ہیں اور ان دونوں کو اس کیس میں سزا ہو چکی ہے، نیب (قومی احتساب بیورو) کے ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ نیب نے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا ہے، اور نیب کی منظوری کے بعد ایف آئی اے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر، بشمول انٹرپول کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔

    ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ القادر ٹرسٹ کیس کے سلسلے میں کر رہا ہے، جس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ شریک ملزم ہیں۔ اس سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کے تحت ملک ریاض کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

    رواں ماہ کے آغاز میں نیب نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ دبئی میں ملک ریاض کے نئے لگژری اپارٹمنٹ منصوبے میں سرمایہ کاری نہ کریں، کیونکہ یہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ نیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عوام اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو وہ مجرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    ملک ریاض نے نیب کے اس اقدام پر ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’جعلی مقدمات، بلیک میلنگ اور افسران کی لالچ نے مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ میں سیاسی مہرہ بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرا فیصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالا جائے، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا! پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں، ہر قدم پر رکاوٹوں کے باوجود، 40 سال کی محنت اور اللہ کے فضل سے پہلا عالمی معیار کا ہاؤسنگ پروجیکٹ پروان چڑھا۔‘‘

    القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ملک ریاض سے رشوت کے طور پر زمین حاصل کی اور اس کے بدلے میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔ اس مقدمے میں عمران خان کا موقف ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ صرف اس زمین کے ٹرسٹی تھے اور انہیں اس لین دین سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہوا۔

    ملک ریاض نے اس مقدمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی سے انکار کیا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات یہ ہیں کہ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے اعلان کیا تھا کہ ملک ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو برطانیہ میں منجمد کیے گئے تھے اور یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ پاکستان میں ملک ریاض اور عمران خان کے درمیان اس کیس کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کو پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض پر عائد غیر قانونی جرمانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا۔ ان جرمانوں کا تعلق کراچی میں زمینوں کی خریداری سے تھا، جو کم قیمتوں پر حاصل کی گئی تھیں۔اس کیس میں ملک ریاض اور عمران خان دونوں ہی اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی نہیں ہوئی۔ تاہم، نیب اور دیگر اداروں کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کی حوالگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، دونوں نےسزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے

    جیل میں قید”مرشد”،ملک ریاض کی پارسائی،حقیقت یا فریب؟.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    کیا عمران خان کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان 190 ملین پاؤنڈز کی وطن واپسی کے معاملے میں کوئی مدد فراہم کی تھی؟

    اثاثہ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر کے دستخط شدہ ’’معاہدہ رازداری‘‘ (ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی) کو دیکھیں تو اس میں حکومت کی براہِ راست مدد کی نشاندہی ہوتی ہے۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق معاہدے میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے اکاؤنٹ کا ذکر ہے اور معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت تک خفیہ رہے گا جب تک کہ قانوناً اسے افشاء کرنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ٹائیکون کے ساتھ حکومت کے تعاون پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ جس وقت اس کیس کا تصفیہ ہو رہا تھا، اس وقت ٹائیکون اور این سی اے کے درمیان ’’فریم ورک ایگریمنٹ‘‘ ہوا تھا، اسی معاہدے کے موقع پر ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی بھی ہوئی جس میں تصفیے کی شرائط کا خاکہ، ضبط شدہ رقم کی وطن واپسی اور غیر منقولہ جائیداد کی فروخت کے متعلق باتیں شامل تھیں۔ حکومت پاکستان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ معاہدے کی تفصیلات خفیہ رکھے گی اور افشاء نہیں کرے گی۔

    شہزاد اکبر کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں انہوں نے اور عمران حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا لیکن رازداری کے معاہدے کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ عمران حکومت مکمل طور پر اس میں ملوث تھی، حالانکہ وہ معاہدے میں کوئی کردار ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔ ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی کی نقل دی نیوز کے پاس موجود ہے۔ معاہدے کی شق 2.1.1 پر مرزا شہزاد اکبر کے دستخط ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ڈیڈ اور فریم ورک معاہدہ دونوں کی شرائط خفیہ رہیں گی۔ شق 2.4 میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان فریقین کی رضامندی کے بغیر فریم ورک معاہدے کی کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آر یو نہ صرف ڈیڈ کا حصہ تھی بلکہ اسے فریم ورک کی تفصیلات بھی معلوم تھیں۔ حالانکہ شہزاد اکبر نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ معاہدہ صرف پراپرٹی ٹائیکون اور این سی اے کے درمیان ہوا ہے اور حکومت نے کوئی مدد نہیں کی۔ شق 2.4 میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان کسی بھی شخص کو اس ڈیڈ، فریم ورک معاہدے کے بارے میں دیگر فریقین کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر، کوئی معلومات فراہم نہیں کرے گی۔

    شق نمبر 2.6 میں لکھا ہے کہ اگر کوئی فریق چاہے تو وہ فریم ورک یا معاہدے کے حوالے سے کسی طرح کی تصیح کرنا چاہے یا درست معلومات فراہم کرنا چاہے تو حکومت پاکستان اسے ایسا کرنے کی اجازت دے گی۔ شق نمبر 2.3.4 حکومت پاکستان کو عدالتی حکم، ریگولیٹری باڈی، یا قانونی معاملات میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے معلومات افشاء کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اسے ایسا کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں کو مطلع کرنے اور ان سے مشورہ کرنا ہوگا۔ معاہدہ رازداری کے علاوہ، عمران خان کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون کو بار بار بیرون ملک سفر کی اجازت دی ۔ مجموعی طور پر ٹائیکون کو 20؍ مرتبہ باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ 30 مارچ 2022 کو، عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے خان کی حکومت کا تختہ الٹنے سے چند دن پہلے، ٹائیکون کو بیرون ملک سفر کیلئے 8؍ ہفتوں کی اجازت دی گئی۔عمران حکومت کی ٹائیکون کیلئے مدد کی عکاسی شہزاد اکبر کے ٹائیکون کے ہمراہ برطانیہ کے دوروں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

    شہزاد اکبر نے اگست 2018ء سے دسمبر 2019ء کے درمیان 10 مرتبہ برطانیہ کا دورہ کیا، یہ وہ وقت تھا جب این سی اے ٹائیکون کے اثاثہ جات اور مالی معاملات کی تحقیقات کر رہا تھا۔ کئی مواقع پر شہزاد اکبر اور ٹائیکون ساتھ ساتھ برطانیہ میں تھے۔ یہ صورتحال حکومت کے ملوث ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔دی نیوز نے پی ڈی ایم حکومت کے دوران وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے رانا ثناء اللہ سے رابطہ کیا تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا شہباز شریف کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں اور تصدیق کی ضرورت ہے۔ دی نیوز نے شہزاد اکبر کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھیجا تاکہ ان سے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے موقف لیا جا سکے، تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن بعد میں جواب دیا کہ آپ نے اتوار کو سوالات بھیجے ہیں، میں فیملی کے ساتھ باہر ہوں، کل پڑھ کر جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

    26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    سیالکوٹ: محسن مرے کالج شیخ بشارت اقبال کا تاریخی مولوی میر حسن ہال کی بحالی کا منصوبہ

  • اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت اب ملک ریاض پر ہاتھ ڈالے گی، حکومت ملک ریاض کو عرب امارات سے واپس لائے گی اور ان پر تمام مقدمات چلائے جائیں گے، ریاست نے بالاخر تین دہائیوں کی چھوٹ کے بعد ان کے گریبان پر ہاتھ ڈال لیا ہے، اب سب کا احتساب ہو گا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نیب نے سب سے بڑی زیادتی کرنے والے شخص کے گریبان پر ہاتھ ڈالا ہے، نیب اب صحیح نیب بنا ہے پہلے سب 2 نمبر کام تھا، ملک ریاض صاحب کہتے تھے میں باہر کاروبار کرنے کو حرام سمجھتا ہوں، اب وہ کہتے ہیں میں دبئی میں چھا گیا ہوں لوگ کیسے اپنی زبان سے پھرتے ہیں،میں نے کئی بڑے اینکرز کے سامنے ملک ریاض پر سوالوں کے جواب دئیے جو بعد پروگراموں سے کاٹے گئے، ہم سیاست دان تو آپ کا سافٹ ٹارگٹ ہیں،میڈیا جن کا نام نہیں لے سکتا مقدس گائے سمھتا ہے، احتساب کا عمل اب وہاں تک پہنچ گیا ہے،ملک ریاض نے ان لوگوں کو بھی پیسے دیےجنہوں نےدہشتگردی کی بنیاد رکھی۔

    بحریہ ٹاؤن میں جو بھی زمینیں ہیں سب بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میں دیکھتا ہوں مجھے آج کتنی کوریج ملتی ہے ملک ریاض کا نام آجائے تو اسکرینز پر خاموشی چھا جاتی ہے،میڈیا مالکان اپنے اسٹوڈیو پر ایک پیسہ خرچ نہیں کرتے ان کے دفتروں میں انٹرویو دینے جائیں تو اسٹوڈیو ایسے ہیں جیسے فلموں کے آخر میں کوئی اسٹور دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو اور ولن کی لڑائی ہوتی ہے، اگر ملک ریاض سمجھتے ہیں کہ ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا تو وہ وقت اب چلا گیا۔ اب ریاست ان پر ہاتھ ڈالے گی، ان کو ہم دبئی سے واپس لائیں گے۔ اس مافیا کو ریاست کے اندر ریاست چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بحریہ ٹاؤن میں جو بھی زمینیں ہیں سب بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، اب ریاست سے ملک ریاض کا گریبان کوئی نہیں چھڑا سکتا۔ انصاف ہو گا اور احتساب ہوگا، ریاست پاکستانیوں کو خبر دار کرتی ہے کہ اگر آپ ان کے کاروبار میں پیسہ لگاتے ہیں تو آپ کا پیسہ ڈوب سکتا ہے،

    پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، بحریہ ٹاؤن کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کوئی یہ بتا دے کہ ریاست کا پیسہ ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں کیسے چلا گیا؟ القادر یونیورسٹی کو کالج کا درجہ دینا بھی کالج کی توہین ہے،پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، بحریہ ٹاؤن کی قومی سطح پر تحقیقات کی ضرورت ہے، جب ادارے حرکت میں نہ آئیں تو اللہ کی پکڑ آ جاتی ہے، میں جب بات کرتا ہوں تو میری بات کو روکنے کے لئے میڈیا پر دولت کی دیوار کھڑی کی جاتی ہے ،حکومت ملک ریاض کو عرب امارات سے واپس لائے گی، اس حوالے سے معاہدہ موجود ہے، القادر ٹرسٹ کو حسن نواز کے کیس سے جوڑا جا رہا ہے ، حسن نواز کی پراپرٹی کی بھی این سی اے نے تحقیقات کیں ، حسن نواز والے معاملے کی تحقیقات میں کچھ نہیں چھپایا گیا،

    میڈیا جن کے احتساب کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا ان کا احتساب ہو گا ، خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا جن کے احتساب کا نام لینے کی جرات نہیں کر سکتا ان کا احتساب ہو گا ، پاکستان میں دوغلا پن جاری رہے گا تو جمہوریت کا سلسلہ اصل روح کے مطابق نہیں آسکتا، صحافت، سیاست اور عدلیہ میں دوغلے پن کا خاتمہ ہونا چاہیے، آج کی پریس کانفرنس میں صحافی اور ان کے کیمرے بھی کم ہیں، معلوم نہیں میری بات سنائی بھی جائے گی، یا نہیں، میری بات چیت کہیں سیلف سینسر شپ کی نذر نہ ہوجائے۔

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار

    جتنا مرضی ظلم کرو، میں ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ملک ریاض

  • صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک ریاض اور پاکستان کی صحافت کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ آزادی صحافت کا نعرہ محض ایک دکھاوا ہے، کیونکہ حقیقت میں یہ آزادی موجود نہیں ہے۔انہوں نے نیب کے ملک ریاض سے متعلق تفصیلی بیان کو کوریج نہ دینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جب عمران خان حکومت میں تھے تو پاکستان کے میڈیا چینلز گھنٹوں تک نیب کے خلاف جعلی کیسوں کی کہانیاں نشر کرتے تھے، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بارے میں۔ آج جب ملک ریاض کی باری آئی ہے تو میڈیا نے ان کی مالی مفادات اور اشتہارات کی وجہ سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

    https://x.com/KhawajaMAsif/status/1882357340084846720

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ صحافت کے نام پر جو کاروبار کیا جا رہا ہے، وہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافتی تقدس اور آزادی کے دعوے صرف کاروباری حربے بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہزاروں صحافی جو محنت کر کے اپنے کام کو آگے بڑھاتے ہیں، ان کے بنیادی مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے صحافت کے بڑے سیٹھ صرف اپنے مالی مفادات کو اہمیت دیتے ہیں، جو کہ تمام پاکستانی عوام پر عیاں ہے۔

    عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار

  • 30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

    پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین نے کہا ہے کہ چاہے جتنا مرضی ظلم کرلو، ملک ریاض گواہی نہیں دے گا, میرا کل بھی یہ فیصلہ تھا، آج بھی یہی فیصلہ ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین جو ایک عرصے ے پاکستان سے دوبئی میں مقیم ہیں، گزشتہ روز پاکستان کے قومی احتساب بیورو کی طرف سے جاری کردہ ایک انتباہ کا جواب سماجی رابطے کی سائٹ’ ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دیا ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں ہے۔ قدم قدم پر رکاوٹوں کے باوجود 40 سال خون پسینہ ایک کرکے اللہ کے فضل سے بحریہ ٹاؤن بنایا اور عالمی سطح کی پہلی ہاؤسنگ کا پاکستان میں آغاز ہوا۔ مجھے اللہ نے استقامت دی۔ میں نے اپنے ممبرز سے کیے ہوئے وعدے وفا کیے۔ انگنت رکاوٹوں، سرکاری بلیک میلنگ نے بعض اوقات وعدوں کی تکمیل میں تعطل پیدا کیا، لیکن میرے رب نے ہمیشہ مجھے سرخرو کیا۔ میں نے سالوں کی بلیک میلنگ، جعلی مقدمے اور افسران کے لالچ کو عبور کیا، مگر ایک گواہی کی ضد کی وجہ سے بیرون ملک منتقل ہونا پڑا۔

    ملک ریاض نے کہا کہ مدتوں سے لوگوں کی خواہش تھی کہ پاکستانی برانڈ کو ورلڈ کلاس برانڈ بنایا جائے۔ اللہ تعالی نے مجھے اس کا سبب بھی بنایا اور دبئی میں BT Properties کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی کی ترقی کا راز ہز ہائی نس شیخ محمد بن راشد المکتوم کا وژن ہے اور یہاں نیب جیسے ادارے کا نہ ہونا ہے۔نیب کی آج کی بے سروپا پریس ریلیز دراصل بلیک میلنگ کا ایک نیا مطالبہ ہے، میں ضبط کررہا ہوں لیکن دل میں ایک طوفان لیے بیٹھا ہوں۔ اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو پھر سب کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔ یہ مت بھولنا کہ پچھلے 25، 30 سالوں کے سب راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں۔ اللہ کے فضل سے بحریہ ٹاؤن پاکستان کامیاب ترین پراجیکٹ بنا اور اب اللہ کے کرم سے بی ٹی پراپرٹیز دبئی بھی خوب کامیاب ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ ماشااللہ اب تک درجنوں ملکوں سے سرمایہ کار دبئی میں آنے والے BT Properties کے منصوبوں میں مثالی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ 25 کروڑ پاکستانیوں کو فخر ہونا چاہیے کہ کہ ان کی کمپنی کو دنیا کے سب سے شفاف، سب سے ایماندار نظام نے عالمی سطح کے مقابلے کے لیے ایک عالیشان منصوبے کے لیے چنا ہے۔اس عزم کے ساتھ کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا اور ہمیشہ رہے گا، اپنے پاکستانی بھائیوں بہنوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم نے پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کے قانون کی پاسداری کی ہے اور ہمشہ کرتے رہیں گے۔

    مریم ، ٹیریان ناجائز کہنے پرنعیم حیدر پنجوتھا اور اختیار ولی کی لائیو شو میں ہاتھا پائی

    حافظ نعیم کی حماس کے سربراہ سے ملاقات

    چیمپیئنزٹرافی:پنجاب پولیس کی ٹیموں کی سیکیورٹی تیاری

    الیکٹرک گاڑیوں کیلئے سستی بجلی حکومت کا کارنامہ ہے، چیمبرز آف کامرس

  • ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    ملک ریاض مفرور، بحریہ ٹاؤن دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، نیب

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا ہے کہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف دھوکا دہی اور فراڈ کے کئی مقدمات زیر تفتیش ہیں، عوام بحریہ ٹاؤن کے دبئی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں، حکومت قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔نیب نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر پشاور اور جام شورو میں زمینوں پر قبضے کیے، انہوں نے بغیر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی ہیں۔نیب کے مطابق ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں نے بحریہ ٹاؤن کے نام پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں زمینوں پر قبضے کیے.

    ملک ریاض نے سرکاری اور نجی اراضی پر ناجائز قبضہ کر کے بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرتے ہوئے لوگوں سے اربوں روپے کا فراڈ کیا ہے۔ ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں لوگوں سے دھوکا دہی کے ذریعے بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں، وہ اس وقت این سی اے کے مقدمے میں ایک عدالتی مفرور ہے۔نیب کا دعویٰ ہے کہ ملک ریاض نیب اور عدالت دونوں کو مطلوب ہیں، نیب نے بحریہ ٹاؤن کے پاکستان کے اندر بے شمار اثاثے ضبط کر چکا ہے، بحریہ ٹاؤن کے مزید اثاثہ جات کو ضبط کرنے کے لیے بلا توقف قانونی کارروائی کرنے جا رہا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ملک ریاض اس وقت عدالتی مفرور کی حیثیت سے دبئی میں مقیم ہے، بحریہ ٹاؤن کے مالک نے دبئی میں لگژری اپارٹمنٹ کی تعمیرات کے حوالے سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا ہے، عوام الناس اس حوالے سے مذکورہ پروجیکٹ کے اندر کسی قسم کی سرمایہ کاری سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ سرمایہ کاری کرنے والے منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئیں گے، سرمایہ کاری کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔نیب کے مطابق حکومت پاکستان قانونی طریقے سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر رہی ہے، نیب قومی احتساب ادارے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ دھوکا دہی اور جعلسازی کے ذریعے لوگوں سے ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پر نیب آگاہی دیتا ہے۔واضح رہے کہ 6 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے 6 شریک ملزمان کو اشتہاری اور مفرور مجرم قرار دے دیا تھا۔چند روز قبل (17 جنوری 2025) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنا دی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    سندھ اسمبلی میں طلبا یونین بحالی کی قرارداد مسترد

    حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے