Baaghi TV

Tag: ملک ریاض

  • سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ ،بحریہ ٹاؤن عدم ادائیگی کا معاملہ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کا فیصلہ لکھوایا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاون کے وکیل نے بتایا انہیں عدالتی فیصلے کی روشنی میں سولہ ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ملنا تھی، اکیس مارچ 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بحریہ ٹاون کی رضامندی پر تھا،بحریہ ٹاؤن نے سات سال میں 460ارب روپیے ادا کرنا تھے،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق زمین مکمل نہ ملنے پر ادائیگیاں روکی،وکیل بحریہ ٹاؤن کے مطابق جو زمین دی گئی اس پر ہائی پاور بجلی کی تاریں گیس پائپ لائنز، نالے اور کئی گوٹھ ہیں،سندھ حکومت نے لندن سے سپریم کورٹ کو موصول رقم پر بھی دعویٰ کردیا اور کہا کہ برطانیہ سے آئی رقم بھی سندھ حکومت کو دی جائے،سروے رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کا تین ہزار ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ ہے۔ بحریہ ٹاؤن نے یکطرفہ طور پر اقساط کی ادائیگی روک دی،بحریہ ٹاؤن نے اضافی زمین پر بھی قبضہ کررکھا ہے۔متعلقہ حکام کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔سرکاری حکام نے عوام اور صوبے کے مفاد کو سرینڈر کیا۔سرکاری حکام نے اپنے آفس کا غلط استعمال کیا۔سرکاری حکام کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ایڈوکیٹ جنرل یقین دہانی کروائی کہ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کی جمع کرائی گئی رقم حکومت سندھ کو دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے متفق ہیں یہ رقم سپریم کورٹ اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی درخواستیں مسترد کر دیں،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ کل 65ارب میں سے بیرون ملک سے آئے 35 ارب وفاقی حکومت کو ملیں گے،بحریہ ٹاون کی جانب سے جمع 30 ارب روپے سندھ حکومت کو ملیں گے،سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب سات سال میں ادا کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم برقرار رکھا، ترمیم کی بحریہ ٹاؤن کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی.

    بحریہ ٹاؤن کیس کے دوران 190ملین پاؤنڈز سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے خارج کر دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب پہلے ہی اس کیس کی انکوائری کر رہا ہے، عدالت کی آبزرویشن نیب تحقیقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے، نیب کو آزادانہ تحقیقات کرنے دیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ سے آئے 190 ملین پاؤنڈ ملک ریاض کے نہیں عوام کے ہیں،عوام کا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کا تعلق صرف 460 ارب روپے کی ادائیگی سے ہے،سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ جانے اور عدالت جانے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ درخواست گزار نے معلومات دینی ہیں تو نیب کو دے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ برطانیہ نے ملک ریاض کا ویزا منسوخ کرکے داخلے پر پابندی عائد کی، برطانیہ نے 140 ملین پاؤنڈ اور نو بنک اکاؤنٹ منجمند کیے،منجمند کیے گئے اثاثوں میں پچاس ملین پاؤنڈ کی جائیداد بھی شامل تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رقم جمع کرانے والوں کو نوٹس کر چکے ہیں،درخواست گزار کا حق دعوی نہیں بنتا، درخواست میں سپریم کورٹ کو معزز عدالت لکھا ہوا ہے،یہ معزز عدالت نہیں سپریم کورٹ آف پاکستان ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جج جج ہوتا ہے جج صاحب نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ساتھی جج لگتا ہے مجھے چھیڑ رہے ہیں،

    قبل ازیں سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی بینچ میں شامل تھے،سپریم کورٹ کی احکامات کی روشنی میں کمشنر کراچی کی سربراہی میں 10 رکنی سروے ٹیم نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے،مشرق بنک کے وکیل راشد انور روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے خط کے مطابق لندن کے ویسٹ منسٹر عدالت کے مجسٹریٹ نے اکاؤنٹ فریزنگ آرڈر کالعدم قرار دیے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اکاونٹ ہولڈر کون ہے؟ وکیل مشرق بینک نے کہا کہ اکاونٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک، ملک ریاض کی بہو ہیں، اکاؤنٹ ہولڈر مبشرہ علی ملک نے رقم نیشنل کرائم ایجنسی کے کہنے پر نہیں بلکہ خود سے پاکستان بھجوائی تھی،مبشرہ علی ملک نے مشرق بنک لندن برانچ سے 19 ملین سے پاونڈز سے زائد رقم سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں منتقل کرائی،وکیل راشد نور نے کہا کہ مبشرہ علی ملک نے 6 نومبر 2019 کو 19 ملین پاونڈ سے زائد رقم برطانیہ سے پاکستان بھجوائی، تفصیلات حاصل ہونے پر عدالت نے مشرق بنک کی حد تک معاملہ نمٹا دیا،عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ مشرق بنک کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی،متفرق درخواست 18 اکتوبر کے عدالتی حکمنامے کی روشنی میں دائر ہوئی، مشرق بنک کے وکیل نے عدالت کو بتایا لندن کے مجسٹریٹ کے حکم کی روشنی میں نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نے اکاؤنٹ بحال کیا،اکاؤنٹ بحالی کے بعد بنک نے 190ملین پاؤنڈ کی رقم مبشرہ علی ریاض کے اکاؤنٹ میں آئی، مبشرہ علی ریاض کے زریعے رقم رجسٹرار سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئی، مشرق بنک کے وکیل نے کہا بھیجی گئی 190ملین پاؤنڈ کی رقم بینک کا کوئی دعویٰ نہیں ہے،مشرق بنک کی مزید نمائندگی درکار نہیں ہے، عدالت نے مشرق بنک کو نوٹس دینے کی حد معاملہ نمٹا دیا

    بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پڑھ کر سنا دی ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سرکاری زمین کی بات کر رہے ہیں یا اس میں بحریہ ٹاؤن کی نجی زمین بھی شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نجی زمین بحریہ ٹاؤن کے پاس موجود بھی ہے یا نہیں،جو اضافی زمین ہے اس پر ڈپٹی کمشنر سے پوچھیں اس کی ملکیت کس کی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر آپ ریاست کے افسر ہیں سیدھا جواب دیں،ڈپٹی کمشنر صاحب صاف بتائیں کتنی زمین سرکاری ہے اور کتنی پرائیویٹ ، ڈی سی ملیر نے عدالت میں کہا کہ 1775 ایکڑ زمین سرکاری ہے جبکہ 37.2 ایکڑ نجی زمین اضافی زمین میں شامل ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کی زمین پر کوئی نشان لگے ہوئے ہیں کہ کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ ڈی سی ملیر نے کہا کہ باؤنڈری وال زمین پر موجود ہے،

    سروے آف پاکستان کے حکام عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں تکنیکی طور پر بتائیں سروےکیسے کرتے ہیں۔ حکام نے کہا کہ ہم گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم سے سروے کرتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس سروے ریکارڈ سے مطمئن ہیں؟ حکام نے کہا کہ جی ہم اس سروے سے مطمئن ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بحریہ ٹاون نے نیشنل پارک کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو مسئلہ ہی نہیں ہے، نیشنل پارک پر قبضہ کے خلاف درخواست دائر کرنے والے شہریوں کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین صاحب سروے کہہ رہا نیشنل پارک کی زمین پر کوئی قبضہ نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ میں اس سروے رپورٹ کا تقابلی جائزہ لوں گا،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان اسلم بٹ کو روسٹرم پر بلا لیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالت کے سامنے ایک غلط الزام لگایا تھا،آپ نے کہا کم زمین ملی لیکن آپ کے پاس تو زیادہ زمین نکلی ،آپ درخواست لائے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ کے پاس زیادہ زمین ہونے کی اس سروے رپورٹ کو کس بنیاد پر مسترد کریں،آپ کے پاس کیا شواہد ہیں کہ آپ کو کم زمین ملی،چیف جسٹس نے وکیل بحریہ ٹاؤن کی سرزنش کر دی

    وکیل بحریہ ٹاؤن نےمیمو گیٹ کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں سیاسی تقریر نہ کریں،ہم آپ سے بحث کرنے نہیں بیٹھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے شواہد فائل کرنے دیں گے تو کچھ کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین چار سال گزر گئے ہیں آپ کب فائل کریں گے، آپ اپنی جو درخواست لائے تھے اسے اب آگے چلائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اجازت دیں تو میں آپ کا آٹھ نومبر کا آرڈر پڑھوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اسلم بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو مرضی پڑھیں،اب اگر آپ نے جازت دیں کے الفاظ استعمال کیے تو میں جرمانہ کروں گا،ہم تھک گئے ہیں یہ الفاظ سن سن کر،ہم سن رہے ہیں آپ سنائیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مجھے اس سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی کم زمین دینے کی درخواست خارج کر دینگے، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ دلائل سنے بغیر درخواست کیسے خارج کی جا سکتی ہے؟رپورٹ پر اعتراض کرنا ہر فریق کا حق اور قانونی طریقہ ہے، میمو کمیشن رپورٹ پر بھی اعتراضات جمع ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی تقریر باہر جا کر کریں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ یہ سیاسی تقریر نہیں قانونی بات ہے،وکیل سلمان بٹ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ بول لیں پھر جواب دوں گا، آپ کا احترام کرتا ہوں اس لئے درمیان میں نہیں بولوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ احترام چھوڑیں قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائیں،

    وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عدالتی آڈرکے مطابق سرے 16 ہزار 8 سو ایکڑ کا ہونا تھا وہ ملی یا نہیں،رپورٹ کے مطابق وہ سروے تو کیا ہی نہیں گیا،میرا حق ہے مجھے سروے رپورٹ پر جواب کا وقت دیا جائے، میں نے ابھی رپورٹ پڑھی بھی نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے سامنے ہم نے یہاں رپورٹ پڑھی آپ کہہ رہے ہیں ابھی نہیں پڑھی، آپ خود اس کیس میں عدالت آئے تھے کہ ہمیں کم زمین ملی،آپ نے کوئی چیز فائل نہیں کی ہم نے اس پر سروے کروا لیا،اعلی سطح کی ٹیم نے وہ سروے کیا آپ اسکا حصہ تھے،دس حکومتی افسران نے رپورٹ پر دستحط کئے کیا ساری دنیا آپ کے خلاف ہے؟ آپ بس ہر چیز پر اعتراض کررہے ہیں،عدالت آپ کو کوئی اضافی وقت نہیں دے گی، بات ختم،کئی سالوں سے عملدرآمد کیس مقرر نہیں ہوا تو آپ نے جلد سماعت کی درخواست کیوں نہیں دائر کی؟ بحریہ ٹاون کو اس کیس کے مقرر ہونے میں کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ کئی ایسے کیسز جانتا ہوں جہاں سو سو جلد سماعت کی درخواستیں دائر ہوئیں لیکن مقرر نہیں ہوئے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ روز جلد سماعت کی درخواست کرتے تو بوجھ عدالت پر ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ حکومتی اداروں نے وقت لگا کر سروے کیا،آپ اس مشق کا حصہ تھے آپ نے تب اعتراض کیوں نہیں کیا؟اب ایک چیز آپ کے خلاف آگئی تو آپ اس پر اعتراض کررہے ہیں۔وکیل نے کہا کہ ایک رپورٹ آگئی ہے مجھے اس پر جواب کا وقت دیں صرف یہ گزارش ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں عدالت آپکو مزید وقت نہیں دے گی۔وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ آپ میرا فئیر ٹرائل کے تحت حاصل کیا ایک حق پھر ختم کردیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ضروری نہیں ہم اپ کی ہر بات سے اتفاق کریں۔وکیل نے کہا کہ میں نے چالیس سال وکالت میں ایسا واقع نہیں دیکھا،ایک رپورٹ آئی ہو اس پر اعتراضات داخل کرنے کا وقت بھی نہ دیا جائے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اعتراض بھی صرف اس پر کررہے ہیں کہ آپ نے نجی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔آپ کے پاس دستاویزات ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکاونٹس میں آئے پیسے مزید رکھے نہیں جا سکتے، اگر کوئی بھی فریق سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آئی رقم کا دعوی نہیں کرتا تو حکومت پاکستان کو ٹرانسفر کر دیں گے، پیسہ سرکار کے پاس جائے تو سرکار جانے اور بحریہ ٹاون جانے، سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاون کی مد میں آئے پیسے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اپنے اکاونٹ میں یوں پیسے رکھنا غیر آئینی عمل ہے.وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ یہ پیسہ زمین مالکان کو جانا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک مثال ہے جس کا آپ برا نہ منائیے گا، ایک ڈاکا پڑتا ہے اور ڈاکو پیسے بحریہ ٹاون کی جگہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں ڈال دیتا ہے،کیا سپریم کورٹ ڈاکے کے پیسے رکھ کر شریک جرم بن سکتی ہے؟ جو پیسے مشرق بنک کے ذریعے آئے وہ تو ضبط شدہ رقم تھی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ابھی تک کوئی جرم ثابت ہی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کی نہیں کر رہے ایک مفروضے کی بات کر رہے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن ے کہا کہ برطانیہ سے وہ رقم ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے لیے آئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ رقم آپ کی نہیں تھی وہ ضبط ہوئی تھی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ نہیں میں وہ آرڈرز پڑھ دیتا ہوں ایسا نہیں ہوا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےوکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ باتوں کو بار بار مت دہرائیں،آپ کسی چیز سے رنجیدہ ہیں تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں،آپ سینئر وکیل ہیں پیچھے بیٹھے جونیئر وکلا نے بھی آپ سے سیکھنا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں آپ جس فیصلے پر عملدرآمد کروا رہے ہیں وہ درست نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم عملدرآمد نہیں کروا رہے آپ خود اس معاہدہ میں شامل ہوئے تھے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس رضامندی سے ہوئے معاہدہ کو ختم کر دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے ایک لفظ کو بھی نہیں بدل سکتے،وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے وہ کسی بھی فیصلے کو واپس کرسکتی ہے، وکیل بحریہ ٹاون نے دوہزار پندرہ کے فیصلے کا حوالہ دیاجس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ نظرثانی کے دائرہ اختیار میں ہوسکتا ہے،وکیل نے کہا کہ کہیں کسی کےساتھ زیادتی ہورہی ہو تو عدالت خود فیصلہ واپس لے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی،آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے،پوری بات سن لیں،آپکے پاس کوئی شواہد نہیں کہ آپکے ساتھ زیادتی ہوئی،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں نے دستاویز لگا رکھے کہ معاہدے کے مطابق زمین ہمیں نہیں ملی،

    دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان بٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ آہستہ آواز میں بات کریں تو جواب دوں گا، مجھے یہ گوارا نہیں کہ عدالت سمیت کوئی بھی مجھ پر چلائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں چلانے پر مجبور کر رہے ہیں، ہم چلا نہیں رہے تحمل سے سوال پوچھ رہے ہیں، سینئر وکلاء کا یہ رویہ ہے تو وکالت کے شعبہ پر ترس آ رہا، جج پر انگلی اٹھانا آسان اور اپنی غلطی تسلیم کرنا سب سے مشکل کام ہے، بحریہ ٹاؤن نے کم زمین ملنے کا دعویٰ 2019 میں کیا تھا،درخواست کےساتھ جو شواہد دکھا رہے ہیں وہ 2022 کے ہیں،جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جو نقشہ آپ دکھا رہے ہیں اس پر کسی کے دستخط ہیں نہ ہی مہر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب نے کارروائی شروع کی تو بحریہ ٹائون 460ارب روپے پر آمادہ ہوا، بحریہ ٹائون نے 460 ارب پر رضامندی کچھ سوچ سمجھ کر ہی دی ہوگی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سرکار کے منظور کردہ نقشوں سے ثابت کر رہا ہوں کہ پوری زمین نہیں ملی، معاہدے کے تحت 16896 ایکڑ کا قبضہ ملنا تھا لیکن 11547 ایکڑ زمین ملی، انصاف کا تقاضا ہے کہ سروے رپورٹ پر موقف سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انصاف کی باتیں باہر میڈیا پر جا کر کریں، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میڈیا پر کبھی بولا نہ ہی کبھی میڈیا کیلئے عدالت میں بات کرتا ہوں، مناسب ہوگا کہ آج مزید سماعت نہ کی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت آج ہی مکمل کرینگے، اتنے عرصے بعد درخواستیں مقرر ہوئی ہیں تو کیس چلائیں،وکالت کے دوران سندھ میں مقدمہ مقرر ہونے پر ہی ہم بہت خوش ہوتے تھے، مقدمہ کا فیصلہ جو بھی ہو وہ بعد کی بات ہوتی تھی،مجھے قانون کے شعبے سے وابستہ ہوئے 41 سال ہو گئے ہیں،کچھ عزت دیں ،آپ ایسے ہی جاری رکھیں گے تو نتائج کیلیے بھی تیار رہیں،آپ کو ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کے آوٹ منظوری کا خط کب جاری کیا؟ وہ خط جاری نہیں کر رہے تھے تو آپ انہیں لکھ دیتے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ 16 ہزار ایکڑ زمین سے متعلق دوبارہ آرڈر کردیں اس کا جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اور کوئی آرڈر نہیں دیں گے،آج ہی کیس مکمل کریں گے،ہم رات تک بیٹھے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں مزید کھڑا نہیں رہ سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپکو کرسی دے دیتے ہیں،بیٹھ کر دلائل دے دیں،چیف جسٹس نے عدالتی اسٹاف کو وکیل سلمان اسلم بٹ کو کرسی دینے کی ہدایت دی،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کرسی کی آفر قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی کرسی نہیں چاہیے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے کہا کہ آپ یہاں قانون کی بات کریں،باقی باتیں کرنی ہیں تو باہر میڈیا پر جاکر کریں،سلمان صاحب پلیز دلائل دیں کیوں اس کو پیچیدہ بنارہے ہیں،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کیا جارہا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو بات سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق نہیں وہ ہم نہیں سنیں گے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ نہیں سننا چاہتے تو میں بند کر کے بیٹھ جاتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں بے شک، وہ زمانے گئے جب کیس اپنی مرضی سے چلایا جاتا تھا،آپ کہتے ہیں کسی اور کو زمین مفت دے دی تو آپ کو بھی حکومت مفت دے،آپ کو زمین مفت نہ ملی تو کیا یہ آپ سے غیر منصفانہ ہو گیا،وکیل نے کہا کہ درخواست ہے کہ باہر سے آئی رقم پر نیب تحقیقات کر رہا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جس معاملے پر نیب تحقیقات کر رہا ہے تو مناسب ہو گا اس پر ہم بات نہ کریں،وکیل نے کہا کہ بس میری بھی یہ ہی استدعا تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج آپ ایک سچ بول دیں کہ حکومت سندھ بہت کمزور ہے،کرپٹ عناصر مضبوط ،کرسیوں پر لوگ صرف مال بنانے بیٹھے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 16 ہزار ایکڑ سے زیادہ جس زمین پر تجاوز کیا گیا وہ آپ واپس لے لیتے،ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم قانون کیمطابق کارروائی کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سندھ میں ایک مختار کار بھی حکومت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہےکیا ہم اپنے بچوں کو یہ معاشرہ دینا چاہتے ہیں ،سندھ حکومت شاید لوگوں کی خدمت نہیں کرنا چاہتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا ریاست الیٹ کی خدمت کیلئے ہیں،

    عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے نمائندے کو روسٹرم پر بلا لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ جب کوئی پلاٹ خریدے تو اسے کیا دیتے ہیں،نمائندہ بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ الاٹمنٹ دیتے ہیں اور مکمل ادائیگی پر قبضہ بھی دیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیگل ایڈوائزر پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کسی چیز کی تنخواہ لیتے ہیں،؟ دنیا میں حکومتوں کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔یہاں حکومت کا مقصد شاید افسران کو امیر بنانا ہے، ایک شیخص پلاٹ خریدے اسے کاغذ کا ایک ٹکڑا ملتا ہے،کل کوئی دوسرا کہہ دے یہ پلاٹ میرا ہے سندھ حکومت اسے کیا تحفظ دے گی،جسٹس اطہرمن اللہ نے لیگل ایڈوائیزر ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہہمارے لیگل جسٹس سسٹم کی ریٹنگ 130 نمبر پر درست ہی ہوئی ہے،ہمارے ملک میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیا جاتا،بڑے آدمی کا گھر ریگولرائز ہوجاتا ہے عام آدمی کی جھونپڑی گرا دی جاتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی ڈویلپر ایک پلاٹ کی الاٹمنٹ دو سو لوگوں کو دے کر نکل جائے تو کیا تحفظ ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہاکہ بحریہ ٹاون الاٹمنٹ کا ایک کاغذ کا ٹکڑا دیتا ہے جس کا ریکارڈ بھی بحریہ کے پاس ہی ہوتا ہے،کئی لوگ پلازے پہلے بیچ دیتے ہیں،اور زمین پھر الاٹمنٹ سے حاصل پیسے سے بعد میں خرید رہے ہوتے ہیں،ججز مشاورت کیلئے کمرہ عدالت سے اٹھ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مشاورت کے بعد فیصلہ تحریر کریں گے

    بینک نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرادیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • عمران خان، فرح گوگی،زلفی بخاری،ملک ریاض کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

    عمران خان، فرح گوگی،زلفی بخاری،ملک ریاض کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

    وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ای سی ایل کا اجلاس ہوا

    وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی اور وزیر مواصلات و ریلویز شاہداشرف تارڑ نے اجلاس میں شرکت کی،اجلاس میں وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کے افسران نے بھی شرکت کی،اجلاس میں ای سی ایل سے متعلق مختلف نوعیت کے کیسز کا جائزہ لیا گیا ،ذیلی کمیٹی نے مختلف محکموں اور اداروں کی طرف سے بھیجے جانے والے 41 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی،نیب کی سفارش پر 190 ملین پاونڈ اسکینڈل میں چئیرمین پی ٹی آئی سمیت 29 افراد کو ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی گئی،13 مختلف نوعیت کےکیسز کو ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش بھی کی گئی،عدلیہ کی ہدایات پر 7 افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کی گئی۔نظر ثانی کےلئے پیش کی گئی اپیلوں میں سے 3 افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کی گئی۔ذیلی کمیٹی کی سفارشات حتمی منظوری کےلئے نگران وفاقی کابینہ کو ارسال کی جائیں گی

    کابینہ کمیٹی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شہزاد اکبر، ذلفی بخاری ، فرح گوگی،ملک ریاض، سمیت 29 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی.

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • ملک ریاض بھی "انٹرویو "دینے والے ہیں،صحافی کا دعویٰ

    ملک ریاض بھی "انٹرویو "دینے والے ہیں،صحافی کا دعویٰ

    صحافی و اینکر پرسن جاوید چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی جلد انٹرویو دینے والے ہیں، انکا انٹرویو ریکارڈ ہو چکا یا ہونے والا ہے

    جاوید چودھری نے ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ملک ریاض اپنے انٹرویو میں اہم رازوں سے پردہ اٹھائیں گے اور اہم انکشافات کریں گے،جاوید چودھری نے دعویٰ کیا کہ وہ ملک ریاض سے بات کرنے کے بعد انٹرویو کے مندرجات سامنے رکھ رہے ہیں،جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ملک ریاض نے پہلی مرتبہ زبان کھولنے کا فیصلہ کیا ہے یا انہوں نے زبان کھول لی ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو ریکارڈ ہوچکا ہے تاہم ملک ریاض سے رابطہ کیا تو نہ انہوں نے ہاں کی اور نہ ہی ناں کی،

    جاوید چودھری کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کا انٹرویو تین چیزوں‌پر ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی مد میں عائد کیے جانے 460 ارب روہے کے جرمانے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکا کیا کردار تھا اورانہوں نے ملک ریاض سے کیا کیا مراعات حاصل کی تھیں؟ 2014 میں عمران خان کے دھرنے میں ملک ریاض کا کیا کردار تھا اور یہ دھرنا کس کی پلاننگ تھی ، خوراک، ادائیگیوں کے لیے رقوم اور پیغامات کہاں سے آتے تھے؟دھرنے کے دوران ملک ریاض نے نواز شریف کو پیغام بھجوایا تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیں یا چھٹی لے کر ملک سے باہر چلے جائیں. عمران خان کے دور میں کس کا کیا کردار تھا؟ کس کے کہنے پر انہوں نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقاتیں بھی کروائی تھیں، اس دوران کچھ اداروں کو اندیشہ پیداہوگیا تھا کہ یہ دونوں اکٹھے ہوگئے تو عمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچ سکتا تھا

    جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ یہ اطلاع مکمل طور پر درست ہے کہ یا تو ملک ریاض نے یہ انٹرویو ریکارڈ کروادیا ہے، یا کروا ریے ہیں یا مواد تیار کرلیا گیا ہے بہرحال یہ اسی دائرے کے گرد گھومے گا،یہ انٹرویو کسے دیا گیا یا دیا جائے گا، کس چینل پر نشر ہو گا اس بارے جاوید چودھری نے کچھ نہیں بتایا،

    فرح گوگی اور محمد شاہ رنگیلے کی ہوش ربا داستان، نیا اسکینڈل، ملک ریاض گٹھ جوڑ بے نقاب

    ملک ریاض کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج 

    سپریم کورٹ نے ملک ریاض سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    آخر یہ القادر ٹرسٹ کیس ہے کیا؟

  • ملک ریاض کا بحریہ ٹاون کے دیوالیہ ہونے سے  متعلق خبروں پر ردعمل

    ملک ریاض کا بحریہ ٹاون کے دیوالیہ ہونے سے متعلق خبروں پر ردعمل

    کراچی: پاکستان کے پراپرٹ ٹائیکون ملک ریاض نے بحریہ ٹاون کے دیوالیہ ہونے متعلق خبروں پر ردعمل دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سینئر صحافی جاوید چودھری نے ملک ریاض سے ہونے والی گفتگو کو شیئر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے دیوالیہ ہونے سے متعلق تمام خبریں جھوٹی ہیں 1996 سے مختلف ادارے اور لوگ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں لیکن اللہ بہت بڑا ہےاللہ ہمیشہ ہمیں آگے لے کر گیا ہے اور اس کی حفاظت بھی اللہ کرے گا بحریہ ٹاون محفوظ ہے اور دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہا ہے۔ جو اس کی مخالفت کر رہے ہیں اللہ انہیں شکست دے گا ہمارا خون جان بحریہ ٹاون کے لیے ہے یہ پاکستان کو تبدیل کر دے گا۔
    https://x.com/CivilSupermacy/status/1723272716055396697?s=20
    اس حوالے سے جاوید چودھری نے کہا ملک ریاض پر پہلے بھی بہت مسائل ہیں اور وہ ہمیشہ کی طرح اس مسئلے سے بھی نکل جائیں گے۔

    قومی و صوبائی اسمبلی کی ہر نشست پر اپنا امیدوار کھڑا کریں گے،پی ٹی آئی

    https://x.com/CivilSupermacy/status/1723688883874140597?s=20
    https://x.com/Wabbasi007/status/1723327676176646347?s=20
    واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے کراچی کے سب سے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے اور یہاں تک دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پروجیکٹ کے مالک ملک ریاض کچھ دنوں میں بحریہ ٹاؤن کو دیوالیہ قرار دے دیں گے،یہ تمام معاملہ گزشتہ مہینے شروع ہوا جب کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے بحریہ ٹاؤن میں جائیداد کی خرید و فروخت اور اشتہاری مہم روکنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

    سیوریج کنکشن منقطع کرنے آئے واسا کے ملازمین کو بااثر شہری کی قتل …

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق میسرز بحریہ ٹاؤن کی فروخت اور اشتہاری مہم کا این او سی کینسل کر دیا گیا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک سیل اینڈ ایڈورٹائیزمینٹ نے بحریہ ٹاؤن پروجیکٹ کے این او سی کی منسوخی کا لیٹر جاری کر دیا ہےمیسرز بحریہ ٹاؤن نے سکروٹنی کی مد میں واجبات ادا نہیں کیے، بحریہ ٹاؤن کو متعدد شو کاز نوٹس جاری کرنے کے باوجود ایس بی سی اے کو ادائیگی نہیں کی گئی شو کاز نوٹس کا جواب نہ آنے اور سکروٹنی فیس کی مد میں واجبات ادا نہ کرنے کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن کا این او سی منسوخ کر دیا گیا ہے-

    قرضہ ایپس کے خلاف کارروائی ،111 ایپس بلیک لسٹ

    ایس بی سی اے نے مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن کے چیک باؤنس ہونے پر ملک ریاض اور علی ریاض ملک کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا،ایف آئی آر نمبر 681/ 23 میں ایس بی سی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور علی ملک ریاض کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہےایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ایس بی سی اے کو اپنے نمائندوں کے ذریعے سے پانچ پوسٹ ڈیٹڈ چیک دیے گئے تھے جن میں سے تین چیک باؤنس ہوئے ہیں۔

    ایس بی سی اے نے تمام ضروری دستاویزات کے ہمراہ پولیس سے مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی تھی۔

    شمالی وزیرستان:سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ، 2 جوان شہید

  • ملک ریاض اور بیٹے کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج

    ملک ریاض اور بیٹے کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج

    ملک ریاض کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج کر لیا گیا

    ملک ریاض کے خلاف مقدمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے درج کروایا ہے، مقدمہ شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال تھانے کی حدود میں درج کیا گیا ہے،مقدمہ چیک باؤنس ہونے پر درج کیا گیا،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق میسرز بحریہ ٹاؤن کے پبلک سیل اینڈ ایڈورٹائزمنٹ کے لیے این او سی کی مد میں دیئے گئے تین چیک باؤنس ہو چکے،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر بللک سیل نے ملک ریاض کے خلاف مقدمہ درج کروایا، مقدمے میں ملک ریاض کے بیٹے کو بھی نامزد کیا گیا ہے.

    درج مقدمے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے اسکروٹنی فیس کی مد میں پانچ چیک جمع کرائے ان میں سے 3 چیک باؤنس ہو گئے،مقدمہ 21 اکتوبر کو درج کیا گیا،

    سپریم کورٹ نے ملک ریاض سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    آخر یہ القادر ٹرسٹ کیس ہے کیا؟

  • بحریہ ٹاؤن کیس،درخواست تاخیر سے سماعت کیلئے مقرر،کاروائی کرینگے،چیف جسٹس

    بحریہ ٹاؤن کیس،درخواست تاخیر سے سماعت کیلئے مقرر،کاروائی کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اقساط جمع کرانے میں ایک سال کی رعایت دینے کی درخواست 2021 میں دائر کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اڑھائی سال سے درخواست مقرر کیوں نہیں ہوئی؟ کیا بحریہ ٹائون کی مقدمہ میں دلچسپی ختم ہوگئی تھی؟ کیا کوئی جلد سماعت کی درخواست دائر کی تھی؟ وکیل بحریہ ٹاؤن سلمان بٹ نے کہا کہ جلد سماعت کی کوئی درخواست دائر نہیں کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ تاخیر سے درخواست مقرر ہونے پر کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟ آپ متعلقہ آفس پر الزام لگائیں ہم تحقیقات کرینگے،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ مقدمات عدالت خود مقرر کرتی ہے وکیل کا کوئی کردار نہیں ہوتا، مقدمات مقرر کرنا عدالت کا اندرونی معاملہ ہے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حیرت ہے آپ کارروائی ہی نہیں چاہتے، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ کسی پر الزام نہیں لگا سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ہم اپنے طور پر کارروائی کرینگے،

    وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ قانونی طور پر بحریہ ٹائون کو 16896 ایکڑ زمین الاٹ ہونی تھی لیکن صرف 11 ہزار ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلے پر عملدرآمد مانگیں یا توہین عدالت کا موقف لیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ فیصلے پر یکطرفہ عملدرآمد نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری بات سن ہی نہیں رہے ،ہم توکوئی دروازہ کھول لیں توہین کا کھولیں یا نظرثانی کا کھولیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ تھا اس میں سے دروازہ کھلے گا،ومخالف فریق نے اپنے حصہ کا معاہدے کے تحت کام نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر ہم توہین عدالت کا دروازہ کھول دیتے ہیں،ہم آپ کو آپشن دے رہے ہیں اور آپ کوئی نہیں لے رہے،آپ ہمارے سامنے بےیارو مددگار کھڑے ہیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ مجھے کوئی ایک آپشن لینے کیلئے وقت دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ڈھائی سال کے بعد اور بھی وقت چاہیے،اب ایسا نہیں چلے گا،معاملہ اب ہمارے پاس آگیا ہے بتائیں بحریہ ٹاؤن نے ادائیگی کر دی یا نہیں،کیا آپ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کر لیا،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ جب تک دوسرا فریق عمل نہیں کرتا ہم نہیں کر سکتے،65 ارب روپے ادا کر چکے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں ٹوٹل اقساط میں سے کتنی ادا کی گئیں،وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ میں آپ کو چارٹ پیش کردوں گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آخری قسط کب ادا کی گئی،وکیل نے کہا کہ آخری قسط 2022 میں ادا کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کو کسی ریونیو آفیسر نے خط لکھا کہ ان کے پاس زمین نہیں،آپ اس خط کو ٹوکری میں پھینک دیں ،آپ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست لے آئیں،جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو بحریہ ٹاؤن کی نمائندگی کون کر رہا تھا،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اس وقت وکیل علی ظفر تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ ایک اور نام بھی لکھا ہوا ہے،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اعتزاز احسن بھی وکیل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا ملک کے دو بڑے وکیلوں کو فیصلہ سمجھ نہیں آیا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلہ پورا نہیں پڑھ رہے ،وکیل نے کہا کہ فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر فیصلے پر عمل نہ ہوا تو نیب ریفرنسز دائر کرے گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس راستہ یہ ہی ہے کہ نیب ریفرنس دائر کرے،ہم اب سپریم کورٹ کے فیصلے میں ترمیم کیسے کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹائون اس وقت ایک بات پر متفق ہوئے اب کہتے ہیں عمل نہیں کرنا،وہ خط کہاں ہے جس میں حکومت نے آپ سے کہا کہ وہ زمین نہیں لے سکتے،

    سماعت میں آدھا گھنٹہ کا وقفہ کر دیا گیا،بحریہ ٹاون ادائیگیوں پر عمل درآمد کیس کی سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں پھر بتا دیتا ہوں کہ اصل اسٹیک ہولڈرز سندھ کی عوام ہے،کیا ہم سندھ کی عوام کو ہار جانے دیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نقشہ سے دکھائیں کون سی زمین اب دستیاب نہیں، اپ ہر چیز زبانی بتا رہے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فیصلہ کے بعد ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے 16 ہزار ایکٹر کا پلان منظور کرنا تھا، اپ ہمیں وہ لے آوٹ پلان دیکھائیں جو منظور کروایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے قانون کے مطابق منظوری لینا نہیں یہ بتائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا کہ میں ہر بات پر میں بتا دونگا، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہاکہملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی زمین نہیں دے رہی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو پھر آپ کام کیسے کر رہیں ہیں،اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ بتا دونگا تو پھر آپ کی درخواستیں خارج ہو جائیں گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل بحریہ ٹاؤن سے سوال کیا کہ آپ کے کلائنٹ کدھر ہیں ان سے پوچھیں،اتنے اہم کیس پر آپ کے کلائنٹ کیوں نہیں آئے؟

    سپریم کورٹ نے برطانیہ سے ریکور رقم ادائیگیوں میں ایڈجسٹ کرنے پر سوال اٹھا دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بحریہ ٹاون نے جو رقوم جمع کرائیں وہ آئیں کہاں سے؟ کیا یہ درست ہے بیرون ملک ضبط رقم بھی سپریم کورٹ جمع کرائی گئی؟ وکیل نے کہا کہ وہ سب ایک معاہدے سے ہوا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وہ معاہدہ پیش کر دیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ اس معاملے پر نوٹس نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر ہم نوٹس کر دیتے ہیں ، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ادائیگیاں شئیر ہولڈرز نے کی تھیں، اجازت دیں پہلے میں ہدایات لوں پھر اس پر آگاہ کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیاآپ بحریہ ٹاون کے مالک کے بھی وکیل ہیں، ہم فریقین کو نوٹس کر دیتے ہیں اس معاملے پر بھی،ہو سکتا ہے آپ کا بھلا ہو جائے آپ کو وہ اس معاملے پر بھی وکیل کر لیں،وکیل ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منظوری دی یانہیں اسکا مجھے علم نہیں، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ منظوری کا سوال پہلی بار سامنے آیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تھانہ اور پٹواری کلچر کو ختم کرنا ہے ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک یہ الارمنگ صورت حال ہے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے نہ اس فیصلے پر عمل ہوا نہ قانون پر عمل ہوا، ابھی تک سندھ حکومت کو معلوم ہی نہیں کوئی ایکشن لیا گیا یا نہیں،کیا حکومت سندھ،سندھ کی عوام کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے،کراچی نسلہ ٹاور کے علاوہ کئی جھونپڑیاں گرائیں گئی ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہہ آئندہ سماعت پر مکمل تفصیلات فراہم کرونگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ نائیک صاحب یہ تصدیق کر لیجیے گا کہ ملیر ڈویلپمنٹ نے زمین سے انکار کیا ،پہلے زمین دینے کا کہا اب انکار کیسے کر سکتے ہیں ،بنیادی سوال ہمارے وہیں کھڑے ہیں سوال ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے بھی کریں گے ،

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ رقم حکومت سندھ کو ملنی چاہیے تھی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رقم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ملنی چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ قانون کے مطابق یہ زمین ایم ڈی اے نے خود ڈویلپ کرنا تھی یا کسی اورکو بھی دے بھی سکتی تھی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ خود بھی کر سکتی تھی کسی کو دے بھی سکتی ہے،ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت بحریہ ٹائون کی رقم حاصل کرنے کیلئے آمنے سامنے آگئیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے سندھ حکومت سے زمین لی، سندھ حکومت کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کی گئی تھی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا سندھ حکومت سے زمین خریدی تھی یا لیز پر لی؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایم ڈی اے نے زمین لیز پر لی تھی لیکن مدت مقرر نہیں کی گئی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ لیز پر لی گئی زمین ایم ڈی اے کسی دوسرے کو کیسے دے سکتی ہے؟ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے زمین کے عوض رقم نہیں لی،زمین سندھ حکومت کی تھی اس لئے پیسہ بھی سندھ حکومت کو ملنا چائیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بحریہ ٹائون سے پیسہ لیکر کرے گی کیا؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ فیصلے کے مطابق رقم کمیشن کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگی،کمیشن کا چیئرمین چیف جسٹس نامزد کرینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اگر نامزدگی نہ کرنا چاہے تو کیا ہوگا؟ عدالت نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ زبانی گفتگو کے بجائے سندھ حکومت کو ادائیگی کی تفصیلات فراہم کریں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن ہونے والا ہے منتخب لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں پیسے کا کیا کرنا ہے، آئین اور قانون کے مطابق ترقیاتی کاموں کیلئے بجٹ سپریم کورٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟

    بحریہ ٹائون کراچی کے الاٹیز کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،بحریہ ٹائون کے وکیل کی جانب سے الاٹیز کے وکیل کے پیش ہونے کی مخالفت کی گئی، وکیل بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ انفرادی کیسز کا 184/3 میں نہ سنا جائے،ماضی میں بھی بحریہ ٹائون کو بہت بلیک میل کیا جا چکا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے کا فائدہ الاٹیز کو ہی ہونا ہے، الاٹیز کے حوالے سے عدالتی حکم میں ذکر موجود ہے،

    سپریم کورٹ، بحریہ ٹاون کی ادائیگیوں کے معاملے پر بحریہ ٹاون کے بجائے رقم جمع کرانے والے دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کہا کہ یہ نوٹ کیا گیا کچھ رقوم بحریہ ٹاون نے خود ادا نہیں کیں،بحریہ ٹاون کے وکیل ہدایات اور معلومات لیکر اس پر جواب دیں، کیس کی آئندہ سماعت 8 نومبر کو ہو گی،سپریم کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز کیس کا بالواسطہ نوٹس لے لیا، بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمین کے عوض رقم ادا کرنے والوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

  • سپریم کورٹ،بحریہ ٹاؤن مقدمات کے فیصلوں پر عملدرآمد  کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،بحریہ ٹاؤن مقدمات کے فیصلوں پر عملدرآمد کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن پروجیکٹس کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا

    سپریم کورٹ کے 2018 میں دیے گئے بحریہ ٹاؤن کے مقدمات کے فیصلوں پر عملدرآمد اور نظرثانی کی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس امین الدین جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے،سپریم کورٹ 18 اکتوبر کو کیس کی سماعت کریگی ،رجسٹرار سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    بحریہ ٹاؤن کی جانب سے دائر درجنوں درخواستیں بھی ہیں جو بحریہ ٹاؤن کراچی، بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور بحریہ ٹاؤن مری کے مقدمات سے متعلق ہیں،ان مقدمات میں بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رقم کی ازسرنو سرمایہ کاری کا معاملہ بھی سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے،دو ارب 51 کروڑ روپے کی رقم کے ایک چیک کی درخواست بھی سماعت کے لیے لگائی گئی ہے جس کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کرایا گیا تھا،

    بحریہ ٹاؤن کراچی کے فیصلے کے حوالے سے 12 درخواستیں ہیں جبکہ بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے حوالے سے فیصلے پر چھ درخواستیں سُنی جائیں گی،

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    لندن میں بڑی کاروائی، پاکستانی شخصیت کی پراپرٹی منجمد، اثاثے ملیں گے پاکستان کو

    ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، سب کا پیسہ پاکستان آنا چاہئے، ملک ریاض بول پڑے

    بحریہ ٹاؤن میں جنسی زیادتی کا شکار 8 سالہ بچی دم توڑ گئی، پولیس کا ملزم کو گرفتار کرنیکا دعویٰ

  • بڑی خوشخبریاں ،عید پر بڑا کچھ ہو گیا۔ بشری بی بی کا نیا ٹوٹکہ، پرویز خٹک کا لشکر تیار

    بڑی خوشخبریاں ،عید پر بڑا کچھ ہو گیا۔ بشری بی بی کا نیا ٹوٹکہ، پرویز خٹک کا لشکر تیار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سوال و جواب ہوں گے اور سب کو جواب دینا پڑے گا، بشریٰ بیگم ہوں یا کوئی اور ،باپردہ لنگر خانوں کے دورے ہو سکتے ہیں تو عدالت پیشی کیوں نہیں ہو سکتی،پرویز خٹک تحریک انصاف سے الگ ہو رہے ہیں یہ بہت بڑا دھچکا تحریک انصاف کے لئے ہو گا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے عید باجماعت پڑھی پچھلی بھی اور یہ بھی ،لیکن جب وہ وزیراعظم تھے تو انہوں نے ایک عید بھی باجماعت نہیں پڑھی کیونکہ انکی بیگم کا ٹوٹکا تھا، جس طرح انکو کہا گیا کہ کسی جنازے والے گھر نہیں جانا،عمران خان کے قریبی دوست فوت ہو گئے عمران خان افسوس کرنے گھر نہیں گئے، صرف ٹویٹ کرتے تھے، عمران خان کے باجماعت عید پڑھنے سے مجھے حیرانگی ہوئی، یہ موقع ہوتا ہے جب سیاستدان اپنے آپ کو میڈیا میں ان رکھتا ہے،عوام میں جاتا ہے، اگر عمران بادشاہی مسجد چلے جاتے تو بہت بڑا ہجوم جمع ہو جاتا، میڈیا کوریج بھی ہو جاتی لیکن اسوقت گھر میں وہ اکیلے بیٹھے ہیں،عید کے فوری بعد عمران خان کو نیب بلا رہا ہے، گرفتاری کی طرف بات جا رہی ہے،انکی اہلیہ کو بھی، ملک ریاض کا بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، پہلی باری ملک ریاض مشکل میں آ رہے ہیں، القادر ٹرسٹ میں جو زمین دی گئی وہ ایک اوپن اینڈ شٹ کیس ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • نیب نے ملک ریاض کو طلب کر لیا

    نیب نے ملک ریاض کو طلب کر لیا

    القادر ٹرسٹ کیس ۔ نیب راولپنڈی میں ملک ریاض ریکارڈ سمیت طلب کر لئے گئے،

    نیب نے القادر ٹرسٹ کیس میں تحقیقات کے لئے ملک ریاض کو آج طلب کر رکھا ہے، نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ملک ریاض القادر ٹرسٹ کے حوالہ سے تمام ریکارڈ لے کر تحقیقات کے لئے پیش ہوں، اگر آج ملک ریاض پیش نہ ہوئے تو انکے خلاف سخت قانونی کاروائی ہوگی۔

    نیب نوٹس کے مطابق پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے غیرقانونی 190 ملین پونڈ کی رقم اپنے پاس رکھی اور اس وقت کی کچھ حکومتی شخصیات نے انہیں ناجائز مالی فائدہ دیا ،نیب نے دو روز قبل ملک ریاض کو نوٹس جاری کیا تھا ‘ ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے،

    القادر ٹرسٹ کیس میں نیب تحقیقات کر رہا ہے،عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی نیب نے طلب کیا تھا، عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں نیب میں پیش ہو چکے ہیں، اسی کیس میں عمران خان کو گرفتار بھی کیا گیا تھا مگر انہیں بعد میں ضمانت ملی،

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    آخر یہ القادر ٹرسٹ کیس ہے کیا؟

  • ملک ریاض نے سیلاب ذدگان کی بحالی کیلئے غیر مشروط تعاون کی پیشکش کر دی

    ملک ریاض نے سیلاب ذدگان کی بحالی کیلئے غیر مشروط تعاون کی پیشکش کر دی

    چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو غیر مشروط تعاون کی پیشکش کی ہے۔ایک بیان میں ملک ریاض نے کہا کہ ملک بھر میں حالیہ سیلاب کی صورتحال تباہ کن ہے، بحریہ ٹاؤن کے فلڈ ریلیف آپریشنز جاری ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میں، میری فیملی اور بحریہ ٹاؤن کی ٹیم ایک ماہ سے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کررہی ہے۔چیئرمین بحریہ ٹاؤن نے مزید کہا کہ صورتحال بتدریج خراب سے خراب ہوتی جارہی ہے، ریلیف سرگرمیاں پوری پاکستانی قوم سے مربوط کوششوں کی متقاضی ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ سندھ، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بے گھر افراد کو بنیادی اشیائے ضروریات بھیج رہے ہیں۔ملک ریاض نے یہ بھی کہا کہ ہم نہ صرف عوام کی بحالی بلکہ انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری مشینری کا فلیٹ دن رات کام کررہا ہے، ہم نے متاثرہ علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کی ہیں۔چیئرمین بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ ضرورت مندوں تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹرز، ٹرانسپورٹیشن اور تمام وسائل استعمال میں ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی غیرمشروط تعاون کی پیشکش کررہے ہیں، ریلیف آپریشنز میں شریک دوسری ایجنسیز سے بھی غیر مشروط تعاون جاری ہے۔ملک ریاض نے کہا کہ کسی کو کسی بھی علاقے میں ریلیف سرگرمیوں کی ضرورت ہو تو آگاہ کرے۔انہوں نے کہا کہ ہم دعا گو ہیں کہ اپنے پیاروں اور گھروں کو کھونے والوں کے درد کو اللّٰہ تعالیٰ دور کرے، آمین۔