Baaghi TV

Tag: ملیریا

  • سندھ میں  رواں برس ملیریا کے 13 ہزار  سے زائد کیس رپورٹ

    سندھ میں رواں برس ملیریا کے 13 ہزار سے زائد کیس رپورٹ

    رواں سال یکم جنوری سے 7 اپریل تک سندھ میں ملیریا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    محکمہ صحت سندھ کے ترجمان کے مطابق رواں سال یکم جنوری سے 7 اپریل تک سندھ بھر سے ملیریا کے 13 ہزار 560 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کراچی میں ملیریا کے 168 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 65 کیسز ضلع جنوبی سے رپورٹ ہوئے۔ضلع ملیر سے 55، ضلع غربی سے 26، ضلع کورنگی سے 15، ضلع شرقی سے 5 اور ضلع وسطی سے صرف 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ضلع کیماڑی سے جنوری سے اپریل تک کوئی ملیریا کا کیس سامنے نہیں آیا۔

    اسی طرح حیدر آباد ڈویژن سے 5 ہزار 543، لاڑکانہ ڈویژن سے 3 ہزار 843، شہید بینظیر آباد سے 1 ہزار 569، میر پور خاص ڈویژن سے 1 ہزار 175 اور سکھر ڈویژن سے 1 ہزار 262 ملیریا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق متعلقہ اضلاع میں ملیریا کی روک تھام اور مچھر مار مہم کو مزید مثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    کراچی سے گرفتار دہشت گردوں نے سنسنی خیز انکشافات کر دیے

    شدید گرمی کی لہر،کراچی اور سندھ میں بارش سے متعلق پیش گوئی

    کراچی، آگ 11 روز گزرنے کے باوجود شدت سے برقرار

    وزیراعظم سے ترکیہ،آذربائیجان اورعالمی شپنگ کمپنی کے وفود کی ملاقاتیں

  • چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا کے کیسزمیں تشویشناک حد تک اضافہ

    چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا کے کیسزمیں تشویشناک حد تک اضافہ

    چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا کے کیسزمیں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا،60 فیصد کیسز نجی اور سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں رپورٹ ہورہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین صحت نے بتایا کہ تینوں بیماریوں کی علامات اوران کے پھیلنےکی وجوہات میں مماثلت ہے، ساٹھ فیصد کیسز نجی اور سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں رپورٹ ہورہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مضر صحت پانی اور مچھروں کی افزائش حالیہ وباء پھیلنے کا سبب ہے۔سرکاری و نجی اسپتالوں میں صبح اور شام کے اوقات کی اوپی ڈی میں آنیوالے مریضوں میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں جبکہ اسپتال کی ایمرجنسی میں لائے جانے والے مریضوں میں زیادہ تعداد چکن گونیا میں مبتلا شہریوں کی ہوتی ہے۔ڈاکٹرز نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ چکن گونیا یا ڈینگی اور ملیریا کی صورت میں ازخود اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے پرہیز کریں اور صرف اپنے معالج کی ہدایت کے مطابق ہی ادویات کا استعمال کریں۔

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس،فضل الرحمان کی آئینی ترمیم کا بل مؤخر کرنے کی درخواست

  • مچھروں کی بہتات ،شہری ملیریا سمیت مختلف بیماریوں کا شکار

    مچھروں کی بہتات ،شہری ملیریا سمیت مختلف بیماریوں کا شکار

    قصور
    مچھروں کی بہتات،شہری ملیریا سیمت کئی خطرناک بیماریوں کا شکار،انتظامیہ نے عرصہ دراز سے مچھر مار سپرے نہیں کیا،شہری پریشان،انتظامیہ سے مچھر مار سپرے کرنے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور میں مچھروں کی بہتات ہو گئی ہے
    مچھروں کی افزائش میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث شہری ملیریا سمیت کئی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    ملیریا کے باعث لوگ بیمار ہو کر گھروں میں پڑے ہیں
    ضلعی انتظامیہ و ڈینگی سکواڈ کی بے حسی عروج پہ ہے
    عرصہ دراز سے مچھر مار سپرے نہیں کیا گیا جس کے باعث مچھروں کی افزائش دن بدن بڑھتی جا رہی ہے

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور و سی ای او ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ مچھر مار سپرے کیا جائے تاکہ مچھروں کی افزائش رکے اور لوگ مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رہ کر مختلف قسم کی بیماریوں سے بچ سکیں

  • سیلاب زدہ علاقوں میں ملیریا سےصورت حال بگڑ رہی ہے،کچھ کیا جائے:پاکستان کی یونیسیف کو درخواست

    سیلاب زدہ علاقوں میں ملیریا سےصورت حال بگڑ رہی ہے،کچھ کیا جائے:پاکستان کی یونیسیف کو درخواست

    اسلام آباد : پاکستان نے سیلاب زدہ علاقوں میں ملیریا کی بگڑتی صورتحال پر یونیسیف سے رابطہ کرکے ادویات فراہم کرنے کی درخواست کردی۔تفصیلات کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ملیریا کیسز میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔

    وزارت قومی صحت کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے سیلاب زدہ علاقوں میں ملیریا کی بگڑتی صورتحال پر یونیسیف سے رابطہ کیا اور بخار کی گولی پیراسٹامول اور ملیریا کی دوا فراہمی کی درخواست کی۔ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی درخواست پر یونیسیف نے بخار کی دوا پیراسٹامول کی پچیس لاکھ گولیاں جبکہ ملیریا کے علاج کی دس لاکھ گولیاں فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔

    سہ فریقی سیریز؛ قومی ٹیم نیوزی لینڈ پہنچ گئی

    ذرائع کے مطابق دس لاکھ گولیوں سے ملیریا کے چار لاکھ مریضوں کا علاج ممکن ہو سکے گا، یونیسیف کی جانب سے فراہم کردہ ادویات کی کھیپ سات اکتوبر تک پاکستان پہنچنے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کنٹرول پروگرام نے صوبوں کی مشاورت سے پیراسٹامول اور ملیریا دوا کی تقسیم کا پلان تیار ہے۔

    حکومت اورکسان اتحاد میں مذاکرات کامیاب،دھرنا ختم کرنے کا اعلان

    وفاق کی ہدایت پر صوبوں نے بخار اور ملیریا دوا سے متعلق اپنا ڈیمانڈ نوٹ بھجوا دیا ہے، ۔سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا حکومت کو ملیریا اور بخار کی دوا حسب ضرورت فراہم کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں مختلف بیماریوں کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں ڈائیریا ، ڈینگی، ملیریا سمیت دیگر امراض پھیل چکے ہی جس کے پیش نظر گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔محکمہ صحت سندھ کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بیماریوں کے سبب 2 افراد جان بحق ہوچکے ہیں ، دونوں افراد کا تعلق جامشورو سے تھا۔

    امریکی فلمی اداکار ، ہدایتکار ، پروڈیوسر ، کمپوزر۔ہرفن مولا

    محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ڈائیریا کے 9 ہزار 914 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ یکم جولائی تا آج تک ریلیف کیمپس میں ڈائریا کے 6 لاکھ 48ہزار 884 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران جلدی امراض کے شکار مزید 1 ہزار 362کیسز رپورٹ ہوئے البتہ یکم جولائی سے آج تک ریلیف کیمپس میں 7 لاکھ 14ہزار 666 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملیریا کے مشتبہ 7 ہزار 929 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ریلیف کیمپس میں آج تک ملیریا کے مشتبہ 3لاکھ 2 ہزار 442 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق مجموعی طور پر 3.2 ملین افراد کو ریلیف کیمپوں میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے جبکہ یکم جولائی سے اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 339ہوگئی ہے۔

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔

    ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

    مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔

    اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔

    2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

    مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

    لندن: ایک طویل تحقیق کے بعد کئی اداروں کی جانب سے بنائی گئی مچھر دانی پردوسالہ آزمائش کے بعد ماہرین نے اسے بہت امید افزا قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے لینسٹ میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق روایتی مچھردانیوں میں دوا لگی ہوتی ہے جو مچھروں کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے جبکہ مذکورہ مچھر دانی کی جالی میں مچھر پھنس کر بے بس ہوجاتے ہیں اوراور اڑنے کے قابل نہیں رہتے وہیں مرجاتے ہیں۔

    پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا…

    لندن اسکول ہر ہائجن اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ، کلیمنجارو میڈیکل یونیورسٹی کالج تنزانیہ اور کینیڈا کی جامعہ اوٹاوہ نے تنزانیہ میں دو برس تک اس مچھردانی کی آزمائش کی گئی ہے۔ مطالعے میں کل 39000 گھرانوں میں اسے لگایا گیا اور 6 ماہ سے 14 برس تک کے 4500 بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔ مچھر دانی میں دو طرح کی مچھر مار ادویہ یعنی کلورفیناپائر اور پائرتھروئڈ لگائی گئی تھیں۔ دونوں ادویہ لانگ لاسٹنگ انسیکٹی سائڈل نیٹ (ایل ایل آئی این)نامی مچھر دانی میں لگائی گئی تھی اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے اور روایتی طریقوں کے مقابلے میں ملیریا کے واقعات میں 44 فیصد کمی ہوئی جبکہ ملیریا پھیلانے والے مچھروں کو جکڑنے میں 85 فیصد کامیابی ملی۔

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    ملیریا اور مچھروں کے امراض سے اموات میں افریقہ سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن یہاں مچھردانی کو ہی ان سے بچاؤ کا کامیاب ذریعہ قرار دیا جاتا ہے اس کے باوجود بھی سالانہ 6 لاکھ سے زائد بچے ملیریا کا لقمہ بن کر مرجاتے ہیں دوسالہ تحقیق میں 72 ایسے گاؤں منتخب کئے گئے جہاں ملیریا کی وبا ہولناک ہوچکی تھی کیونکہ مچھر روایتی ادویہ سے مزاحمت پیدا کرچکے تھے بارشوں کے موسم کے بعد دو سے تین اقسام کی مچھردانیاں آزمائی گئیں جن میں نئی دوا والی مچھر دانی بھی شامل تھی۔

    فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    اب جن بچوں کے بستروں پر کلورفیناپائر ایل ایل آئی این والی مچھردانیوں پر رکھا گیا تو ان میں ملیریا کے واقعات 37 فیصد کم دیکھے گئے۔ پہلے 12 ماہ میں روایتی پائرتھروئڈ ادویہ والی مچھردانی سے ملیریا کے مرض میں 27 فیصد کمی ہوئی لیکن مچھروں نے خود کو بدلا اور دوا کی تاثیر بھی کم ہوگئی اور مچھردانی میں سوراخ بھی بننے لگے۔ جب ان دونوں ادویہ یعنی کلورفیناپائر اور پائرتھروئڈ کو استعمال کیا گیا تو بہترین نتائج سامنے آئے کیونکہ مچھر پرواز کے قابل نہ رہے تھے اور خون چوسنے والے مادائیں بھی نسل آگے نہ بڑھاسکیں جبکہ کلورفیناپائر ایل ایل این کی تیاری بہت کم خرچ ہے اور انسانی استعمال کے لیے یکسر مفید بھی ہے۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب