Baaghi TV

Tag: ممتاز اعوان

  • ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    پاکستان ،ان دنوں کئی مسائل کا شکار ہے، ایک طرف دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر ہے تو دوسری جانب مہنگائی، بے روزگاری نے غریب عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے، عوم سے غربت کے خاتمے کے وعدے کر کے حکومتیں کرنے والے عوام کے ساتھ ہر پانچ سال بعد وعدے ہی کرتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی توفیق نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے کسی بھی حکومت میں مسائل حل نہ ہوئے اور نہ ہی غربت، بے روزگاری میں کمی آ سکی،ایسے میں فلاح و رفاہی ادارے ، این جی اوز جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں انکی خدمات لائق تحسین ہیں،

    ہیلپنگ ہینڈ کا معذور افراد کی بحالی کا پروگرام
    گزشتہ دنوں لاہور سے محترم سید امجد بخاری کی قیادت میں لاہور کے صحافیوں کے ہمراہ سوات کا دورہ کیا، دورے کے دوران جہاں وادی سوات کو دیکھنے کا موقع ملا وہیں ایک فلاحی تنظیم "ہیلپنگ ہینڈ” کے کام کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ، تین روزہ دورے میں ہیلپنگ ہینڈ کے تین مختلف پروگراموں میں شرکت کی، سب سے پہلے تالاش میں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر کا دورہ کیا،معذوری رب کی طرف سے آزمائش،لیکن ہمارے معاشرے میں معذوری کو عیب سمجھا جاتا ہے ایسا ہر گز نہیں، میں خود دو ڈس ایبل بچوں کا والد ہوں، بڑے بیٹے نے سپیشل ایجوکیشن میں میٹرک کا امتحان رواں برس اے گریڈ میں پاس کیا ہے،چھوٹا بیٹا بھی زیر تعلیم ہے، سپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے تو وہ معاشرے کے کارآمد شہری ثابت ہوتے ہیں،ہیلپنگ ہینڈ بھی معذور بچوں کی فلاح کے لئے کام کر رہی ہے،تالاش میں وسیع و عریض مقام پر معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر میں نہ صرف بچوں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے بلکہ انکی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کیا گیا ہے،سنٹر میں موجود ڈاکٹر طاہر نے اس موقع پر صحافیوں کو انتہائی مختصر بریفنگ دی اور سنٹر کا وزٹ کروایا، ڈاکڑوں کی ٹیم کیسے معذور بچوں کا علاج معالجہ دیکھ بھال کرتی ہے؟ اسکا بھی معائنہ کروایا گیا، ڈاکٹر طاہر نے بریفنگ میں بتایا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام پاکستان کے سات شہروں میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں، سماعت سے متاثرہ بچوں کا بھی علاج معالجہ کروایا جاتا ہے تو وہیں ذہنی معذور،چل نہ سکنے والے بچوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے، تالاش،شہید بینطیر آباد، کراچی، کوئٹہ ، مانسہرہ ، لکی مروت بنوں، بہاولپور اور چکوال، مظفر آباد میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں جبکہ گلگت میں اگلے سال سنٹر بنانے کا پروگرام ہے جو جلد ہی کام شروع کر دے گا، ہیلپنگ ہینڈ کن علاقوں میں سنٹر بنا رہی ہے اس حوالہ سے ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ ہم نے وہ علاقے منتخب کیے جہاں معذوری کی ریشو ہائی ہے۔ کے پی میں لوئر دیر میں معذوری کی ریشو زیادہ تھی اسلیے یہاں سنٹر بنایا،انہوں نے شکوہ کیا کہ معذور افراد کو وہ سہولیات معاشرے میں نہیں دی جاتیں جو انہیں ملنی چاہیے،معذور بچوں کے ب فارم تو بن جاتے ہیں لیکن انکا معذوری سرتفکیٹ نہیں بنوایا جاتا، معذور بچوں کا نارمل بچوں کی طرح خیال نہیں رکھا جاتا ، جو انکا حق ہے، ڈاکٹر طاہر نے تالاش میں سنٹر بارے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 1650 بچے معذور ہمارے پاس رجسٹرڈ ہیں ہمارے پاس ڈاکٹر ہیں جو بچوں کے علاج انکی ضروریات کا خیال کرتے ہیں بچوں کو واکر، ہیئرنگ ایڈ، وہیل چیئر فراہم کرتے ہیں، تھراپی بھی کروائی جاتی ہے،برتھ سرٹفکیٹ اور شناختی کارڈ بھی بنواتے ہیں ہمارے پاس جو 1650 بچے تھے ان میں سے 10 فیصد کے پاس کارڈ تھے،ہم نے باقیوں کے بھی بنوائے اب سب بچوں کے پاس ڈس ایبل کارڈ ہیں،جو بچے پڑھ سکتے ہیں انکو فری پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتے ہیں یونیفارم بھی دیتے ہیں، کوالیفائیڈ میڈیکل ڈاکٹر موجود ہیں جو ان بچوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں،تالاش کے سنٹر میں 200 بچے ہیں، تمام سہولیات دیتے ہیں جو انکی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر طاہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں رہتے ہوئے اخروی زندگی بہتر کریں۔ ہیلپنگ ہینڈ اگر محدود وسائل کے ساتھ کام کر سکتا ہے تو حکومت کو بھی سوچنا چاہئے اور معذور افراد کی زندگی بہتر بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے، معذوری کیوں ؟ اس پر ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ معذوری کی ریشو مختلف ہیں کزن میرج بھی کہا جاتا ہے پانی کے ایشوز بھی ہو سکتے ہیں اس پر تحقیق کی ضرورت ہے،فیملی ان بچوں کو چھپا کر رکھتی ہے پڑھے لکھے لوگوں نے بچوں کو چھپا کر رکھا کیونکہ لوگ طعنے دیتے ہیں، جو بچے پڑھتے ہیں انکو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ،سکل کے ساتھ ٹول بھی دیتے ہیں کمپیوٹر کی سکل، الیکٹریشن ، سیلز مین جو بچہ جو کام کر سکتا ہے اسکو کروایا جاتا ہے،تالاش کے سنٹر میں بریفنگ کے بعد ڈاکٹر معذور بچوں کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ انکی تھراپی کیسے کی جاتی ہے؟ سب عملی طور پر صحافیوں کے سامنے کیا، سنٹر میں بچوں کے لئے تھراپی کے لئے مشینیں موجود ہیں ، ایکسرسائز بھی کروائی جاتی ہے، سماعت سے متاثرہ بچوں کو سپیچ تھراپی بھی کروائی جاتی ہے، سنٹر میں ایمبولینس بھی موجود ہے جو بچوں کو گھر سے سنٹر لانے اور واپس چھوڑنے کے لئے ہے، غرض معذور بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ مثالی کام کر رہی ہے

    جماعت اسلامی کے رہنما بھی ہیلپنگ ہینڈ کی خدمات کے معترف
    تالاش سے نکلے تو راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما ،سابق صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے ظہرانہ دیا اور وہ بھی ہیلپنگ ہینڈ کے کاموں کی تعریف کئے بنا نہ رہ سکے، جماعت اسلامی کی اگرچہ الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں کام کر رہی ہے تا ہم عنایت اللہ خان ہیلپنگ ہینڈ کے بھی مداح نظر آئے اور انکے کام کو سراہا، عنایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہیلپنگ ہینڈ اس علاقے میں بہت اچھا کام کر رہی ہے پانی کے منصوبوں پر کام جاری ہے ، انکا کام پھیلتا جا رہا ہے ، ہیلپنگ ہینڈ کے کوالٹی کے کام ہیں جن میں وسعت آ رہی ہے اس طرح کی آرگنائزیشن کو علاقے میں ویلکم کرتا ہوں ریاست ہر کام نہیں کر سکتی کچھ چیزیں کمیونٹی کو کرنی پڑتی ہیں پبلک ہیلتھ کی بڑی بڑی سکیمیں ہیں لیکن وہ فنکشنل نہیں۔ ہیلپنگ ہینڈ اور دیگر این جی اوز کے کام عوامی مدد سے ہوتے ہیں

    ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن پروگرام،شائننگ سٹارز
    ہیلپنگ ہینڈ یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کام کر رہی ہے،کالام سے واپسی پر مدین میں دریا کنارے قیام کیا ، وہاں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یتیم بچوں کے اعزاز میں مینگو پارٹی تھی، جس میں صحافی بھی شریک ہوئے، جب پارٹی میں پہنچے تو ہال میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں، اور معصوم بچے جن میں لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل تھیں،وہ کرسیوں پر ایک ترتیب سے بیٹھے تھے ،کوئی شور شرابا نہیں تھا، کوئی ہنگامہ نہیں تھا یہ ہیلپنگ ہینڈ کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ بچوں نے صحافیوں کے پہنچنے پر انکا پرجوش استقبال کیا اور پھر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے،اس موقع پر محترم سید عابد بخاری نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آج کی اس پارٹی میں موجود بچے صرف مدین کی ایک یونین کونسل سے آئے ہیں، مدین سے 200 یتیم بچوں کی کفالت ہیلپنگ ہینڈ کر رہی ہے، انکو شائننگ سٹار کہتے ہیں اور تین کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایج گروپ کے تحت انکی ایکٹوٹیز کی جاتی ہیں،بڑے بچوں کو سکل سکھاتے ہیں کورسز کرواتے ہیں وہ یونیورسٹی لیول پر جائیں تو بہتر سکل انکے پاس ہو،کچھ بچے حفظ بھی کر رہے ہیں دس ہزار چار سو بچوں کو پورے پاکستان میں سپانسر کر رہے ہیں ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن کا پروجیکٹ 50 سے زائد شہروں میں چل رہا ہے، بچوں کی تعلیم، خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے، یتیم بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ انکے گھر والوں کی مالی اعانت کرتی ہے اور انکی کفالت کرتی ہے،

    یتیم بچوں کی کفالت بلاشبہ نیک کام ہے اور اس نیک کام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے ہیپلنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،ہیلپنگ ہینڈ پاکستان میں قدرتی آفات میں بھی ریلیف و بحالی کے کام کر رہی ہے، بلوچستان سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر جاری ہے تو وہیں واٹر پروجیکٹ کے حوالے سے بھی منصوبے مکمل ہوئے ہیں، سوات میں بھی پانی کے منصوبے مکمل کئے گئے جس کی عنایت اللہ خان نے بھی تعریف کی،پاکستان کے دیگر دور دراز علاقوں جہاں شہریوں کو پانی کے مسائل ہیں وہان واٹر پروجیکٹ پر کام جاری ہے،

    ہیلپنگ ہینڈ کا غریب عوام کے لئے مفت بازار
    ہیلپنگ ہینڈ سفید پوش اور غریب عوام کے لئے ایک مال آف ہیومنٹی پروگرام بھی کرتی ہے، ایک ایسا بازار جہاں گاہک تو آتے ہیں خریدار تو ہوتے ہیں لیکن پیسے لینے والا کوئی نہیں ہوتا، سوات میں ہی ایک ایسا ہی بازار دیکھنے کو ملا، ایک سکول میں مہنگے کپڑے، جوتے، کھلونے موجود تھے، میزوں پر سامان موجود تھا ، بچوں کے لئے کھلونے بھی موجود تھے،اس بازار میں خواتین اور بچے آئے انہوں نے اپنی ضرورت کے مطابق کپڑے، جوتے، کھلونے لئے اور جاتے رہے، کوئی روکنے والا، کوئی پیسے لینے والا نہیں تھا بلکہ جو بھی آتا اپنی ضرورت کی چیز اٹھاتا اور ہیلپنگ ہینڈ کو دعائیں دیتا نکل جاتا، ٹوپی والے برقع میں آئی خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی مگر اس مفت کے بازار میں کوئی دھکم پیل نظر نہیں آئی، اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یہ بازار کئی شہروں میں لگایا جاتا ہے اور اسکے لئے علاقے میں سروے کیا جاتا ہے، مستحق خاندانوں کو سروے کے بعد ایک ٹوکن دیا جاتا ہے اور پھر انہیں بازار لگنے کی اطلاع دی جاتی ہے، شہری آتے ہیں اور ضرورت کی چیزیں لے کر چلے جاتے ہیں، لاہور کے بازاروں میں جو سوٹ،چھ سات ہزار کا مل رہا ہے وہ مفت بازار میں ہیلپنگ ہینڈ مفت دے رہی تھی

    ہیلپنگ ہینڈ کے رفاہی کام وسیع تر ہیں اور انکا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے، ہیلپنگ ہینڈ کے پاکستان میں میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ "ہیلپنگ ہینڈ خدمت کے جذبے کے تحت کام کر رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ غریب عوام کو خوشیاں دے سکیں انکے چہروں پرمسکراہٹ لا سکیں. ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام،یتیم بچّوں کی کفالت کا پروگرام، معذور افراد کی جامع بحالی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ایمر جینسی ریلیف، تعلیمی معاونت، معذور بچّوں کا علاج،اسکلز ڈویلپمنٹ اورہیلتھ کیئر پروگرامز،منصوبے جاری ہیں،”

    آئیے، ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کریں
    مہنگائی اور نفسا نفسی کے اس دور میں خدمت خلق کرنے والوں کو جہاں رب کریم اجر دے گا وہیں دنیا میں انہیں غریب عوام کی دعائیں بھی مل رہی ہیں ، حکومتیں تو صرف دعوے کرتی ہیں لیکن ہیلپنگ ہینڈ جیسی این جی اوز اپنی استطاعت اور عوام کے تعاون سے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، اس میں انکا کوئی ذاتی مفادنہیں نہ ہی انہیں ووٹ یا کرسی کا لالچ ہوتا ہے بلکہ صرف رضائے الہی مقصود ہوتی ہے،بلا شبہ ہیلپنگ ہینڈ کے رضاکار ملک و قوم کی خدمت کر کے اللہ رب العزت کے ہاں سرخرو ہو رہے ہیں ۔خدمت کے اس عظیم کام کو جاری رکھنے کے لئے پاکستانی قو م کو چاہئے کہ خدمت کے اس کام کو مزید وسیع تر کرنے کے لئے ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرے۔اہل پاکستان کو نیکی کے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہو گا،تا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے جو منصوبہ جات جاری ہیں انکو پورا کیا جا سکے۔

  • سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات کے علاقوں بحرین، مدین، کالام جانے کا اتفاق ہوا، دوستوں کے ہمراہ لاہور سے جمعہ کی شب تین بجے روانگی ہوئی، ناشتہ اسلام آباد میں کرنے کے بعد تالاش پہنچے وہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد کالام تک کا سفر کرنا تھا، راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کی جانب سے ظہرانے کے بعد سفر کا نئے سرے سے آغاز ہوا،محترم عابد بخاری صاحب "ہمسفر” تھے جن کا ہر تھوڑی دیر بعد "خطبہ” ہوتا تھا جس میں وہ سوات کی خوبصورت وادی کا تعارف کرواتے تھے اور علاقے کے عوام کو درپیش مسائل، کے ساتھ ساتھ خطبہ میں سیاسی تڑکا بھی لگاتے تھے، سیدو شریف ایئر پورٹ سے گزرے ،منزل کالام تھی، اورجب ہمیں بخاری صاحب نے بتایا کہ روڈ سیلاب کی وجہ سے خراب ہے مزید تین سے چار گھنٹے لگیں گے، یہ سن کر اپنے تو ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ رات تین بجے کے لاہور سے نکلے ہوئے تھے، کیا کرتے،بامر مجبوری، سیٹ پر بیٹھے، شیشے کے ساتھ سر لگایا اور سونے کی ناکام کوشش کی ، البتہ میری ساتھ والی سیٹ پر موجود بٹ صاحب نے تو شاید ایک ہفتے کی نیند ہی دوران سفر میں پوری کر لی

    گزشتہ برس شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے سوات بپھر گیا تھا، کالام میں معروف ہنی مون ہوٹل مکمل طور پر دریا میں بہہ گیا تھا تو اسکے علاوہ بھی املاک کو نقصان پہنچا تھا، اگست 2022 میں سیلاب آیا تھا اور نقصان ہوا تھا، اب تقریبا ایک برس بعد اس علاقے کی طرف گئے تو انتہائی المناک مناظر دیکھے، دریا کنارے ہوٹل،دکانیں، عمارتیں، سب کے نیچے سے پانی بہہ رہا، مکین چھوڑ چکے، سیلاب کے بعد سڑک کو کم ا ز کم دس فٹ اونچا کرنا پڑا، بحرین میں صورتحال یہ ہے کہ عمارتیں تباہ ہو چکیں، کسی بھی وقت گر سکتی ہیں ، ہوٹل ویران پڑے ہیں، سڑک کی حالت ایسی کہ بقول بخاری صاحب کے اگر سڑک صحیح ہوتی تو ہم دو گھنٹے میں پہنچ جاتے لیکن سڑک صحیح نہ ہونے کی وجہ سے چار گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا.

    سیلاب نے تو گزشتہ برس تباہی مچائی ہی مچائی، لیکن سڑک کی تباہی اور مرمت نہ ہونے میں کچھ سیاسی وڈیروں کا بھی ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو اونچا نیچا دکھانے کے لئے عوام کو ریلیف دلوانے کی بجائے پریشان کرتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں فوتگی ہوتے ہی جنازے پر پہنچ جاتے اور الیکشن ہو جائے تو اسکے بعد انکا باپ بھی مر جائے تو اسکے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوتے،بحرین، مدین سے کالام تک سڑک اگرچہ سیلاب سے بھی تباہ ہوئی تا ہم کچھ ایسے مقامات ہیں جہاں سیاسی چپقلش نے پل نہیں بننے دیئے، اگر ان مقامات پر پل بن جاتے تو راستے مزید آسان ہو جاتے، تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید جو حالیہ دنوں میں روپوش اور سیکورٹی اداروں کو مطلوب ہیں اور ن لیگی امیر مقام کے مابین سیاسی چپقلش سوات کے باسیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے تو وہیں آنیوالے سیاحوں کے لئے بھی کسی اذیت سے کم نہیں، اگر پل بنوانے کا کام امیر مقام کرواتے تو مراد سعید رکوا دیتے اور اگر مراد سعید کرواتے تو امیر مقام رکوا دیتے، کے پی میں اگرچہ تحریک انصاف کی نو برس حکومت رہی، مراد سعید وفاقی وزیر بھی رہے صوبے میں حکومت تحریک انصاف کی تھی لیکن مقامی بیوروکریسی میں زیادہ اثرورسوخ امیر مقام کا ہونے کی وجہ سے کام رکے رہے، یوں دونوں بڑی جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں،سیاح آتے تو ہیں لیکن ایک بار کالام تک سڑک پر سفر کر کے شاید دوبارہ نہ آنے کا دل میں ارادہ کرتے ہوں گے، سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو سہولیات دی جائیں انکی مشکلات میں اضافے کی بجائے کمی کی جائے، ایک بار چترال جاتے ہوئے ٹنل سے گزرے جو پرویز مشرف نے بنائی تھی اور پھر اسی وجہ سے وہ چترال سے الیکشن جیتے تھے کیونکہ انہوں نے وہاں‌کے مکینوں کی ایک بڑی مشکل حل کر دی تھی، سوات کے باسیوں کو بھی چاہئے کہ جو بھی عوامی مفادات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو انکو الیکشن میں سبق سکھانا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دس برس بھی سوات کے باسی اسی ایک سڑک کو روتے رہیں گے ،ابھی تک بھلا ہو پاک فوج کا، جو سیلاب کی تباہی کے بعد سڑک کی مرمت پر کام کر رہی ہے، دس پندرہ فٹ سطح زمین سے ،پچھلی سڑک سے مزید سڑک کو اونچا کیا گیا مٹی ڈالی گئی تب جا کر سڑک استعمال کے قابل ہوئی تا ہم ابھی بہت کام ہونا ہے اور یوں لگ رہا ہے آنیوالے ایک دو برس اس کی تکمیل کو لگ جائیں گے، افواج پاکستان کے جوان جہاں ملکی سرحدوں پر چوکس ہیں وہیں قدرتی آفات میں ہنگامی امداد ، ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف کا کام بھی کرتے ہیں، اب سڑک کی تعمیر و مرمت کیا یہ سول حکومت کا کام نہیں؟ بحرین سے کالام تک 34 کلومیٹر سڑک ہے مگر موجودہ حالت میں یہ سفر دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا تو اگلے دو سے تین برس مشکلات ہی رہتی ہیں ، سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہو جاتی اور کئی مقامات پر تو ایسے لگتا کہ شاید ابھی گاڑی گئی ،ایک طرف دریا ،اور انتہائی خطرناک سڑک، ایسے میں اس سفر میں سیاح لطف اندوز ہونے کی بجائے موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں

    دریا کے دوسری طرف کے باسیوں کی بحرین و دیگر علاقوں میں آمدورفت کے لئے چیئر لفٹ لگی ہوئی ہیں جو بہہ گئیں، جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ایک مقام پر عارضی پل بنایا تھا، اسی مقام پر پل بناتے ہوئے دو رضاکار دریائے سوات میں گر گئے اور انکی موت ہو گئی تھی،سیلاب نے خوبصورت وادی کی حالت ایسی کر دی کہ وہاں کے مکین بھی اب وہ علاقہ چھوڑ رہے کیونکہ جب بھی بارشیں ہوں "گٹے گٹے پانی” کی بجائے سیلاب ہی آتا اور ابھی پچھلی بحالی ہوئی نہیں ہوتی اور نئی تباہی پھر نئے سرے سے،

    گزشتہ برس سیلاب سے دکانیں، ہوٹل، مکان گرے، ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد مکانات، 50 کے قریب ہوٹلز تباہ ہوئے تھے ، اور ابھی تک وہ تباہ حال ہی ہیں، مکین علاقہ چھوڑ چکے، لاہور پریس کلب کے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد بھی ٹور میں ہمراہ تھے، انہوں نے جب سوات میں تباہی کے مناظر دیکھے تو کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ "یہ عذاب الہیٰ ہے” عابد بخاری چند منٹ کے وقفے سے مسلسل خطبہ دیئے جاتے رہے اور ہم سنتے رہے،امجد بخاری بھی عابد بخاری کا ساتھ دیتے رہے لیکن زیادہ نہیں، کالام میں ہنی مون ہوٹل دریائے سوات میں بہہ گیا تھا، کالام سے واپسی پر دن کی روشنی میں تباہی کے مناظر نظر آئے، ایک رپورٹ کے مطابق جب سیلاب آیا تو کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت تھی،اور تحریک انصاف کے ان حلقوں سے منتخب نمائندے ان ایام میں اپنے علاقوں میں ہونے کی بجائے بیرون ملک سیر کر رہے تھے جس کی وجہ سے مقامی لوگ نالاں نظر آئے، سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان تھے، جس میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے تھا، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود نہیں تھے دونوں غیر ملکی دورے پر تھے،میاں شرافت جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر لندن میں تھے، ۔سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، نہ تو سیلاب متاثرین کو ملے اور نہ ہی انکی مدد و ریلیف کے لئے کوئی اقدام اٹھایا تھا،یہی وجہ ہے کہ اب بھی سوات کے باسیوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھے جذبات نہیں ہیں،گزشتہ قسط میں سوات میں موجودہ حالات پر عوام کی رائے،،،تحریر کر چکا ہوں

    نوٹ، اگلی قسط "ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے،” ہو گی

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1683823400559726594