Baaghi TV

Tag: ممی

  • 800 سال پرانی ممی کو "روحانی گرل فرینڈ” بنانے والا نوجوان گرفتار

    800 سال پرانی ممی کو "روحانی گرل فرینڈ” بنانے والا نوجوان گرفتار

    پیرو میں ایک شخص کو اس کے کولر بیگ سے 600 سے 800 سال پرانی ممی ملنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ہفتے کو پنو شہر کے ایک پارک میں تین افراد شراب پیتے ہوئے پائے گئے جب ان کے پاس سے باقیات ملی تھیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کو ہفتے کی دوپہر کو پونو شہر کے ایک پرانے پارک میں شراب پینے والے تین نوجوانوں کی تلاشی کے دوران 26 سالہ جولیو سیزر کےکولر بیگ سے ممی ملی۔

    26 سالہ جولیو سیزر برمیجو نامی اس شخص نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ ممی شدہ باقیات تقریباً 30 سال قبل اس کےوالد گھرلائے تھے،اور جب سے یہ اس کے خاندان کا حصہ ہے۔

    گرفتار ہونے کے بعد جولیو سیزر نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس ممی کو اپنی ‘روحانی گرل فرینڈ’ قرار دیا، اس نے بتایا کہ وہ اسے ‘جوانیتا’ کے نام سے پکارتا ہے جبکہ وہ ممی کو اپنے ساتھ کمرے میں ہی رکھتا ہے،وہ میرے ساتھ سوتی ہے۔ میں اس کا خیال رکھتا ہوں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ ممی دراصل سیکڑوں سال قبل وفات پائے گئے 45 سالہ شخص کی ہے، پولیس نے ممی کو پیرو کی وزارت ثقافت کے حوالے کر دیا ہے جس نے ممی کو قومی ثقافتی اثاثہ قرار دیا ہے۔

    وزارت ثقافت کے مطابق، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ممی ایک بالغ مرد ہے، ممکنہ طور پر پیرو کے اسی علاقے سے ہے۔

    فرانس 24 کے مطابق وزارت کے ایک ماہر نے کہا کہ "یہ جوانیتا نہیں ہے، یہ جوآن ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ اس مرد کی عمر 45 سال سے زیادہ تھی۔

    برمیجو نے باقیات بیچنے کی کوشش سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ اس نے اسے پارک میں کولر بیگ میں رکھا تھا کیونکہ "میرے دوست اسے دیکھنا چاہتے تھے۔”

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اس سلسلے میں جولیو سیزر کے ساتھ اس کے دو نوں دوستوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

  • 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:”الجزیرہ کے مطابق” مصری ماہرین آثار قدیمہ نے دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک فرعونی مقبرہ دریافت کیا ہے، جس میں ملک میں اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم اور "سب سے مکمل” ممی موجود ہے۔

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق مصر کے علاقے سکارا میں زمین سے 20 میٹر نیچے موجود ایک کمرے سے تقریباً 25 ٹن وزنی تابوت میں ایک ممی ملی۔

    10 افراد پر مشتمل ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق جب تابوت کو کھولا گیا تو اس میں سونے کے پتوں میں لپٹی ہوئی ایک ممی ملی جس کے سر پر ایک بینڈ اور سینے پر ایک بریسلٹ موجود تھا جس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ کسی امیر انسان کی ممی ہے۔

    سونے کے پتے سے ڈھکی ہوئی ممی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 4 ہزار 3 سو سال پرانی ہے جس کی دریافت آثار قدیمہ کیلئےاہمیت کی حامل ہےممی کیساتھ مجسمے، مٹی کے برتن دیگر اشیاء بھی ملی ہیں، یہ ممی مصر میں اب تک پائی جانے والی سب سے قدیم اور مکمل غیر شاہی ممی ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق ایک اور مقبرہ راز کا محافظ اور محل کے عظیم رہنما کے معاون میری کا تھا،”خفیہ محافظ” کا پجاری لقب محل کے ایک سینئر اہلکار کے پاس تھا جس نے خصوصی مذہبی رسومات انجام دینے کی طاقت اور اختیار دیا تھا۔

    ہاؤس نے مزید کہا کہ تیسری قبر فرعون پیپی اول کے اہرام کمپلیکس کے ایک پادری کی تھی اور چوتھی قبر فیٹیک نامی جج اور مصنف کی تھی۔

    مصر کی قدیم نوادرات کی سپریم کونسل کے سربراہ مصطفیٰ وزیری نے کہا کہ فیٹیک کے مقبرے میں اس علاقے میں اب تک پائے جانے والے "سب سے بڑے مجسموں” کا مجموعہ شامل ہے۔

    مقبروں کے درمیان بے شمار مجسمے پائے گئے، جن میں سے ایک مرد اور اس کی بیوی اور کئی نوکروں کے ہیں۔

    بچوں کی مزید قبریں دریافت ہونے پرہرطرف خوف کی فضا

  • مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    قاہرہ: قدیم مصری تہذیب سے دریافت شدہ ایک ممی کو کھولے بغیر معلوم ہوا ہے کہ اسے 49 قیمتی تعویز گنڈوں سے سجایا گیا تھا-

    باغی ٹی وی: نوعمر لڑکے کو 2300 سال قبل ممی میں ڈھالا گیا تھا 1916 میں دریافت ہونے والی یہ ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں کھلے بغیر رکھی تھی اور 300 قبل مسیح میں بطلیموسی عہد میں بنائی گئی تھی-

    اب جامعہ قاہرہ کی سحرسلیم اورانکےساتھیوں نے اسے ڈجیٹل انداز میں پرت در پرت کھولا ہےاس میں ایکسرے، سی ٹی (کمپیوٹر ٹوموگرافی) کے ساتھ ساتھ ہائی ریزولوشن کے سینکڑوں ایکسرے لئے گئے تو معلوم ہوا کہ 21 اقسام کے 49 قیمتی تعویز اور گنڈے بھی جسم میں لگائے گئے ہیں۔

    ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری

    Mummy gold
    ممی کوایکسرے اور دیگر آلات سے دیکھا گیا ہے چونکہ مصری، بلیوں کی طرح بھنوروں کو بھی مقدس تصور کرتے تھے اور اسی وجہ سے ایک سونے کا بھنورا بنا کر اسے دل کے قریب لگایا گیا ہے اسے غالباً دوسرے دل کے طور پر نصب کیا گیا ہے۔

    لڑکے کے سینے کے جوف میں تین سینٹی میٹر سونے کا دل لگایا گیا تھاالٹی ران میں ایک چیرا لگا کر دو انگلیوں کی شکل کا ایک اور تعویز بھی رکھا گیا ہےجبکہ جسم کے دیگر مقامات پر سونے، قیمتی پتھر اور نیم قیمتی معدنیات وغیرہ کی بنی اشیا بھی موجود ہیں۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    پروفیسر سحر کے مطابق دل اور دیگر اشیا کو دوسری دنیا کے سفر اور تحفظ کے لیے پہنائے گئے ہیں اس لڑکے کے اہلِ خانہ نے لڑکے کے تحفظ کے لیے بہت خرچ کیا ہوگا اسے قیمتی سینڈل بھی پہنائے گئے ہیں تاکہ یہ تابوت سے باہرآکر بحفاظت سفر کرسکے۔

  • پراسرار جاپانی ’جل پری دیوی‘ کی ممی کیا ہے؟

    پراسرار جاپانی ’جل پری دیوی‘ کی ممی کیا ہے؟

    ٹوکیو: جاپانی سائنسدان آج کل ایک چھوٹی سی ممی پر تحقیق کررہے ہیں جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ’جل پری دیوی‘ کی ممی ہے جس کی پوجا کرنے والوں کو صحت، تندرستی اور لمبی عمر حاصل ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی: اس ممی کا دھڑ مچھلی کا اور سر انسان جیسا ہے جبکہ اس کی مجموعی لمبائی صرف 30 سینٹی میٹر (ایک فٹ سے بھی کم) ہے یہ پچھلے 40 سال سے آساکوچی پریفیکچر کے اینجوئن مندر میں بحفاظت رکھی ہے۔

    مشہور جاپانی اخبار ’آساہی شمبون‘ کے مطابق، یہ پراسرار ممی مختلف لوگوں سے ہوتی ہوئی، نامعلوم ذرائع سے اس مندر تک پہنچی ہے جو لکڑی کے ایک ڈبے میں بند تھی۔

    ڈبے میں اس کے ساتھ ایک تحریر بھی موجود تھی جس میں لکھا تھا کہ یہ جل پری ممی مبینہ طور پر 1736 سے 1741 کے دوران ایک مچھیرے کے جال میں پھنس گئی تھی جو صوبہ توسہ (موجودہ کوچی پریفیکچر) کے سمندر میں مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔

    جاپان کے بعض علاقوں میں آج بھی عجیب الخلقت دیوی دیوتاؤں کی پوجا ہوتی ہے جن میں مچھلی کے دھڑ اور انسان نما سر والی ’جل پریاں‘ بھی شامل ہیں۔

    کوراشیکی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آرٹس کے ماہرین نے اس مندر کے پجاری سے طویل مذاکرات کے بعد، بالآخر فروری میں یہ پراسرار ممی وہاں سے نکلوائی اور سی ٹی اسکین کیا تاکہ اس کی اندرونی تفصیلات معلوم ہوسکیں۔

    اگرچہ اب تک اس تحقیق کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن ابتدائی اندازوں سے معلوم ہوا ہے کہ جل پری کی یہ ممی کسی مچھلی کے دھڑ کو غالباً ایک نوزائیدہ بچے یا بندر کے بالائی جسمانی حصے کے ساتھ ملا کر بنائی گئی تھی۔

    جل پری دیوی کے بارے میں جاپان کی قدیم دیومالائی کہانیوں میں ایک واقعہ یہ بھی لکھا ہے کہ ’جل پری دیوی‘ کو کھانے والی ایک عورت اگلے 800 سال تک زندہ رہی۔

    اینجوئن مندر کے بڑے پجاری کا کہنا ہے کہ ویسے تو لوگوں کی بڑی تعداد صحت اور لمبی عمر کےلیے جل پری دیوی کی ممی کا دیدار کرنے وہاں آتی ہے لیکن کورونا وبا شروع ہونے کے بعد یہاں آنے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا اور لاک ڈاؤن کے باوجود، ہزاروں لوگ اس مندر میں آئے اور وبا کے خاتمے کےلیے جل پری دیوی سے منتیں مانگیں۔

  • رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    پیرو کے دارالحکومت لیما سے سینکڑوں سال پرانی رسیوں میں جکڑی ممی دریافت کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف سان مارکوس کے ماہرین نے لیما سے 25 کلو میٹر دور کاہا مورکیلا سے ممی کو دریافت کیا ہے جو رسیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔

    3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

    ملنے والے ممی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ رکھا ہے اور اسے اکڑوں بٹھایا گیا تھا ماہرین کا کہنا ہے کہ رسیوں میں جکڑنا اور اکڑوں بٹھانا مردے کی بےحرمتی یا تشدد نہیں بلکہ اس وقت دفنانے کا یہی طریقہ تھا اور اس وقت کی تہذیب میں عام تھا۔

    محتاط اندازے کے مطابق دریافت ہونے والی ممی 8 سو سے 12 سو سال پرانی ہے اور یہ ہسپانوی عہد سے پہلے کا دور تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والی ممی کسی 25 سے 30 سال کے نوجوان کی لاش ہے اور یہ اسی علاقے کی پہاڑوں میں رہتا تھا۔

    واضح رہے کہ ماہرین نے رواں سال اکتوبر میں یہاں دوبارہ کھدائی شروع کی تھی جس کے بعد یہاں سے کئی اہم اشیا برآمد ہوئیں اور ممی بھی اسی دوران دریافت ہوئی۔ جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم اتنے کامیاب ہوں گے۔

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    خیال رہے کہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کینیا کے ایک دور افتادہ غار میں 78 ہزار سال پرانی 3 سالہ بچے کی قبر دریافت کی تھی یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا ہے لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔

    عام پودا جیٹروفاکرکاس میں دریافت مرکب کینسر کیخلاف لڑائی میں نیا ہتھیار