Baaghi TV

Tag: منافع

  • پی آئی اے کا آپریٹنگ منافع میں ہونے کا انکشاف

    پی آئی اے کا آپریٹنگ منافع میں ہونے کا انکشاف

    پی آئی اے کا آپریٹنگ منافع میں ہونے کا انکشاف ہواہے، قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق جنوری سے ستمبر 2023تک پی آئی اے کو 9.9ارب روپے آپریٹنگ منافع ہوا ہے ،‏پی آئی اے کا کل قرض 429.267ارب روپے ہے ۔

    پیر کو اسمبلی میں وزارت ہوابازی کی طرف سے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کا کل قرض 429.267ارب روپے ہے۔بینکوں کا قرض 268.2ارب روپے اور حکومت پاکستان کا قرض 161.067ارب روپے ہے جو کل 429.267ارب روپے بنتا ہے ۔ پی آئی اے کا جنوری سے د سمبر 2023تک آمدن 186ارب 44کروڑ 94لاکھ 13ہزار روپے تھی اسی عرصے کے دوران آپریٹنگ اخراجات 176ارب 50کروڑ 60لاکھ 28ہزار تھے اس طرح 9ارب 94کروڑ33لاکھ 85ہزار روپے کا آپریٹنگ منافع ہوا ہے .اس دوران پی آئی اے نے ایک ارب روپے سے زائد لا ٹیکس ادا کیا ۔دیگر مد جن میں فنائنس کی لاگت ،ایکسچینج نقصانات مل کر 75ارب 75کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے ،

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    (پی آئی اے) کی نجکاری کا دوسرا اور انتہائی اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل

    پی آئی اے کی نجکاری سب سے پہلے ہو گی،وفاقی وزیر خزانہ

    پی آئی اے نے پچھلے پانچ سالوں میں پانچ سو ارب کا نقصان کیا، علیم خان

    عمان میں ہنگامی لینڈنگ کرنیوالے پی آئی اے طیارے کی فنی خرابی دور نہ ہوسکی،مسافر منتظر

    وزیراعظم نے پی آئی اے کی نجکاری پر عمل درآمد کیلئے حتمی شیڈول طلب کر لیا

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

    پی آئی اے کی نجکاری،وزیرہوابازی و نجکاری کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس

  • سوشل میڈیا پہ،پھلوں کا بائیکاٹ کرو،ٹرینڈ زور پکڑ گیا

    سوشل میڈیا پہ،پھلوں کا بائیکاٹ کرو،ٹرینڈ زور پکڑ گیا

    قصور
    اہلیان پاکستان کی طرف سے سوشل میڈیا پہ مہنگائی کے خلاف ٹرینڈ،26 مارچ سے پھل و چکن نا خریدنے کا ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جا سکے،پھلوں کا بائیکاٹ کرو،ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پہ مہنگائی کی ماری عوام کی جانب سے کل بروز اتوار 26 مارچ سے اشیاء خوردونوش کی ناجائز قیمتوں کے خلاف ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ 26 اپریل سے پھلوں اور چکن کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے تاکہ ان ناجائز منافع خوروں کو عبرت حاصل ہو سکے
    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر
    صرف 10 رمضان تک پھلوں کا مکمل بائیکاٹ کردیا جائے یا خرید بلکل محدود کر دی جائے تو بلیک مارکیٹنگ مافیا کو تنبیہہ ہو جائے گی
    اور وہ خود بخود قیمتیں کم کرنے پہ مجبور ہو جائیں گے

    واضع رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال بھی سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ایسا ہی ٹرینڈ چلایا گیا تھا جس کے باعث قیمتوں میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی تھی
    ،پھلوں کا بائیکاٹ کرو، ٹرینڈ زور پکڑتا جا رہا ہے

  • پاک سوزوکی کا سہ ماہی منافع 443 ملین روپے سے تجاوز کرگیا

    پاک سوزوکی کا سہ ماہی منافع 443 ملین روپے سے تجاوز کرگیا

    کراچی :پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اپریل-جون سہ ماہی کے لیے اس کی آمدنی 443 ملین روپے ہے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ ہے۔

    سٹاک فائلنگ سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنی نے تین ماہ کی مدت کے دوران 5.38 روپے فی حصص کی آمدنی ریکارڈ کی جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں 5.59 روپے فی حصص کے نقصان کے مقابلے میں۔

    "نتیجہ ہماری توقعات سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے دوسری آمدنی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ AKD سیکیورٹیز نے کہا کہ زیادہ حجم اور زیادہ قیمتوں کی وجہ سے سہ ماہی کے لیے آمدنی سہ ماہی پر سہ ماہی میں 36 فیصد بڑھ کر 64.9 بلین روپے تک پہنچ گئی۔

    کمپنی نے قلیل مدتی سرمایہ کاری اور نقد بیلنس سے مضبوط آمدنی کی وجہ سے 1 بلین روپے کی بڑی "دیگر آمدنی” پوسٹ کی۔

    ایک طرف کمپنی منافع کا دعویٰ‌ کررہی ہے تو دوسری طرف چند دن پہلے پیداواربند کرنے کا بھی اعلان کیا جس پرکاروباری حلقے حیران ہیں‌،

    پاک سوزوکی نے چند دن پہلے درآمدات پر پابندی کے باعث پاک سوزوکی موٹر کمپنی نے اپنی پیداوار روک دی۔ کمپنی کی طرف سے جاری ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی)کی منظوری نہ ملنے کی وجہ سے کمپنی مزید 5دن کے لیے اپنی پیداوار معطل کر رہی ہے۔

    اس نوٹیفکیشن کے مطابق کمپنی کی پیداوار 22سے 26اگست تک بند رہے گی۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے ’سی کے ڈی‘ کی درآمد کے لیے لیٹرآف کریڈٹ کی منظوری میں تاخیر کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے نئی گاڑیوں کی تیاری ممکن نہیں۔

  • منافع خور رب کے عذاب سے بے خوف

    منافع خور رب کے عذاب سے بے خوف

    قصور
    بلیک مارکیٹنگ اور منافع خور وبائی مرض سے بھی نا ڈرے سپرٹ کلوروکین اور ماسک نایاب مرضی کی قیمتوں پر فروخت جاری
    تفصیلات کے مطابق قصور میں منافع خوروں اور بلیک مارکیٹنگ افراد کو وبائی مرض سے متاثرہ افراد کی پریشانی سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا 100 ایم ایل سپرٹ کی شیشی کی قیمت جو کہ چند دن قبل 20 روپیہ کی تھی وہ اب 30 سے 40 روپیہ میں مل رہی ہے اسی طرح کلوروکین نامی دوا اور سرجیکل ماسک تو بلکل ہی نایاب ہو کر رہ گئے ہیں ضلع بھر کے کسی بھی سٹور پر کلوروکین گولی اور سرجیکل ماسک بلکل بھی دستیاب نہیں لوگ مجبور ہوکر سرجیکل ماسک کے متبادل کپڑے کا ماسک استعمال کر رہے ہیں جو کہ 50 روپیہ میں فروخت ہو رہو ہے
    گورنمنٹ نوٹس لیتے ہوئے منافع خوروں کے خلاف کاروائی کرے اور ضرورت کی اشیاء کی فراہمی یقینی بنائے

  • معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    موجودہ دور میں ہر جگہ بگاڑ ہے۔ عام آدمی سے لیکر اعلیٰ سطح تک ہر جگہ اور ہر کوئی ذاتی فرائض کی انجام دہی کی بجائے دوسروں کے کاموں میں مداخلت کو باعث ثواب سمجھتا ہے۔ کلینک میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے خدمت خلق پر ایک گھنٹہ لیکچر دیا۔میں متاثر ہوا ۔لیکن کلینک میں دوسروں کا چمڑا ادھیڑ لی جاتی ہے۔ بے جا ادویات کی لمبی چوڑی فہرست، مختلف ٹیسٹ، اور مخصوص سٹور سے ادویات کی خریداری کی تلقین بھی باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ تبلیغ میں دن رات گزارنے کے بعد امیر صاحب ‘دنیاوی’ کمائی کی خاطر ہر چیز کی اضافی قیمت وصول کر رہا تھا۔ استفسار پر بتایا کہ یہی تجارت ہے۔ مولوی صاحب فروٹ فروش ہیں۔ مسجد کے سامنے کھوکھا کھولا ہے۔ خوب دینی اور دنیاوی کمائی کررہے ہیں۔ بازار سے چالیس فیصد زیادہ قیمت پر فروٹ فروخت کرتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ غیر اسلامی ملک میں اس طرح کی تجارت کی اجازت ہے۔ (ان کے بقول پاکستان اسلامی ملک نہیں)۔ تاجر رہنما نے تاجروں کے حقوق پر لیکچر دیا۔جب ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمیں پہلے حقوق دیں تب ہم ٹیکس دیں گے۔ مولوی صاحب ہر جمعہ مساوات کا درس دیتے ہیں لیکن بچوں کو قاعدہ پڑھاتے وقت توجہ صرف امیر بچوں کو دیتے ہیں۔ اساتذہ کرام کلاسز میں صرف سیاسی باتیں کرتے ہیں۔ اور کلاس کے آخر میں ٹیوشن سنٹر کا پتہ بتاتے ہیں۔ٹیوشن سنٹرز سے پڑھائی کی صورت میں بہترین رزلٹ جبکہ سکول میں پڑھائی پر بدترین رزلٹ ۔سوزوکی سٹاپ پر سارے ڈرائیورز اور کنڈکٹروں کو ایک سوزوکی میں بیٹھا کر دن کا آغا ز کیا جاتا ہے۔ جب ٹریفک پولیس والے اور لوڈنگ اور غلط سٹاپ پر جرمانہ کریں تو حلال روزی اور محنت کی باتیں۔ اڈے پر اے سی گاڑی میں لگا کر سواریوں سے اے سی کا کرایہ وصول کرکے تین کلومیٹر بعد اے سی بند کرکے نعتوں کی کیسٹ لگا کر سواریوں کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کو چند ہزار روپے پر رکھ کر سات کلاسز کی پڑھائی کرائی جاتی ہے۔ صبح اسمبلی میں بچوں سے پہلے اساتذہ کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔ اور انھی چند ہزار روپے میں امتحانات میں نقل کی درآمد وبرامد کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے۔ المختصر ہر شعبہ زندگی میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے۔حقوق وفرائض کی تجدید نو کی جائے۔تاکہ انسانیت کو نئی روح و زندگی دی جائے۔