Baaghi TV

Tag: منجمد اثاثے

  • منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر جاری کرنے پر دستخط ہو گئے ،باقر قالیباف

    منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر جاری کرنے پر دستخط ہو گئے ،باقر قالیباف

    پاکستان کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے امریکا ایران امن مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کے لیے دستخط ہوگئے ہیں جبکہ ایران اپنے یورینیم کو باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی شرح کم کرنے پر راضی ہوگیا ہے جس کے بعد امریکا نے بھی ایران پر عائد پابندیا ں 60 دنوں کے لیے ہٹا دی ہیں،جس کی تصدیق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی کر دی ہے-

    باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اقدام کا مقصد کسی بھی قسم کے تصادم یا کشیدگی سے بچنا ہے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی بنیاد پر لبنان کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کی ضمانت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    واضح رہے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے ہیں دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے لیے ایک اہم جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے محدود مدت کے لیے ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی ہے اس فیصلے کے تحت ایران 21 اگست تک عالمی منڈی میں خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت جاری رکھ سکے گا تاہم شمالی کوریا ، کیوبا اور یوکرین پر ایرانی تیل خریداری پر پابندی تاحال برقرار ہے۔

  • امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلےایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، ایرانی میڈیا

    امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلےایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، ایرانی میڈیا

    تہران: امریکا کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ایرانی میڈیا مہر نیوز ایجنسی نے پیر کو رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر مذاکرات کے آغاز سے قبل جاری کر سکتا ہے۔

    مہر نیوز ایجنسی نے ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جس میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں تاہم اس دستاویز کی تاحال کسی بھی فریق نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے اس رقم کا نصف، یعنی 12 ارب ڈالر، مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ایران کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمت میں پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت شامل ہو سکتی ہے تاہم ابھی تک ایران یا امریکا کی جانب سے اس دستاویز کی صداقت یا اس میں شامل نکات کی سرکاری توثیق نہیں کی گئی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے-

    دوسری جانب اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے کہا ہے کہ وہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ان ملکوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’ہم ایران کی جانب سے اپنے ایٹمی پروگرام پر واضح اور قابل تصدیق اقدامات کے جواب میں متعلقہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھانے، اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور ایک طویل مدتی سفارتی تصفیہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور کام کریں گے ہم اس مقصد کے لیے امریکہ، ایران اور آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو بتایا کہ ان کا چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ میں ایران امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کا ارادہ ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جائیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تقریب میں شریک ہوں گے، جس کے بارے میں ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی تو وینس نے فاکس نیوز کو بتایا ’میرا یقینی طور پر وہاں جانے کا ارادہ ہےلیکن یہ ممکن ہے کہ صدر خود وہاں موجود ہوں۔