Baaghi TV

Tag: منجمند اثاثے

  • امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں،امریکی جج

    امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں،امریکی جج

    مین ہٹن: امریکی جج نے کہا ہے کہ افغانستان کے امریکا میں منجمد اثاثے وہاں کے عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی حق نہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یک امریکی جج نے سفارش کی ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین کو طالبان کے خلاف حاصل کیے گئے عدالتی فیصلوں کو پورا کرنے کے لیے افغانستان کے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو ضبط کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    وکی لیکس کے بانی نے امریکا حوالگی کے خلاف برطانیہ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی

    اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں نے افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا۔، جن کی کل تعداد تقریباً 10 بلین ڈالر تھی۔ اس میں سے تقریباً 7 بلین ڈالر امریکہ میں رکھے گئے تھے اور دیگر ممالک میں تقریباً 2 بلین ڈالر ہیں امریکی صدر نے ان میں نصف افغان عوام اور نصف نائن الیون متاثرین کو دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مغربی حکومتوں نے طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے مرکزی بینک کے منجمد اثاثوں پر اس کی ملکیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

    افغانستان کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے امریکی ریاست مین ہٹن کی مجسٹریٹ جج سارہ نیٹ برن نے سفارش کی ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین کو طالبان کے خلاف حاصل کیے گئے عدالتی فیصلوں کو پورا کرنےکےلیے افغانستان کے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کی اجازت نہ دی جائے

    لیبیا میں دومسلح گروہوں کے درمیان خونی تصادم ،23 افراد ہلاک،140 زخمی

    جج مین ہٹن نے اپنی سفارش میں لکھا کہ نائن الیون حملے کے امریکی متاثرین انصاف، احتساب اور معاوضے کے لیے برسوں سے لڑ رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے لیکن قانون عدالت کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے کسی دوسرے ملک کے اثاثوں کے استعمال سے روکتا ہے۔

    امریکی جج نے اپنے سفارش میں مزید لکھا کہ چنانچہ دا افغانستان بینک کو عدالتوں کے دائرہ اختیار سے استثنیٰ حاصل ہے اور اگر اثاثوں کو ضبط کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس کامطلب طالبان حکومت کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا اور ایسا صرف امریکی صدر ہی کرسکتے ہیں۔

    ایشیا کپ 2022: پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ آج کھیلا جائے گا

    "طالبان کے متاثرین انصاف، احتساب اور معاوضے کے لیے برسوں سے لڑ رہے ہیں۔ وہ کسی سے کم کے حقدار نہیں ہیں،” جج نیٹ برن نے لکھا لیکن قانون محدود کرتا ہے کہ عدالت کس معاوضے کا اختیار دے سکتی ہے، اور یہ حدود ڈی اے بی کے اثاثوں کو اس کے اختیار سے باہر کر دیتی ہیں-

    مین ہٹن کی جج کی اس سفارش کا جائزہ مین ہٹن میں ہی امریکی ڈسٹرکٹ جج جارج ڈینیئلز کریں گے، جو قانونی چارہ جوئی کی نگرانی بھی کرتے ہیں اور فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آیا اس کی سفارش کو رد کریں یا قبول کیا جائے۔

    واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹراور پینٹاگون کی عمارت سے جہاز ٹکرائے گئے تھے جس کے نتیجے میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکا نے حملے کا ذمہ دار القاعدہ کو قرار دیتے ہوئے طالبان پر معاونت کا الزام عائد کیا تھا۔

    یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

  • افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    کابل: افغانستان میں حالیہ بدترین زلزلے کے بعد طالبان حکومت نے بین الاقوامی حکومتوں سے پابندیاں ختم کرنے اور مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ملک کے مشرق میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے سے تقریباً 10 ہزار مکانات تباہ اور 2 ہزار افراد زخمی ہوئے گئے تھے۔ زلزلے میں ایک ہزار افراد بھی جاں بحق ہوئے جس کے بعد افغانستان کے نازک صحت کے نظام پر مزید دباؤ بڑھا ہے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    اس حوالے سے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ امارت اسلامیہ دنیا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ افغانوں کو ان کا بنیادی حق دیا جائے اور وہ بنیادی حق پابندیاں ہٹانے اور ہمارے منجمد اثاثوں کی بحالی سے مشروط ہے۔

    واضح رہے کہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو فنڈ میں افغانستان کے 7ارب ڈالر موجود ہیں جنھیں جو بائیڈن انتظامیہ نے منجمد کررکھا ہے۔ یہ اثاثے اس وقت منجمد کیے گئے تھے جب طالبان نے افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا ۔طالبان مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے ملک کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گزشتہ برس اگست کے وسط میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا میں موجود 7 ارب ڈالر کے افغان فنڈ پر بظور حکومت ہمارا حق ہے جب کہ اس فنڈز کے حصول کے لیے نائن الیون متاثرین نے بھی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا-

    دوسری جانب نائن الیون حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کے لواحقین، زخمیوں اور متاثرین نے گزشتہ برس نومبر میں ایک احتجاجی مظاہرے میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا افغانستان کے منجمد فنڈز سے معاوضہ دیا جائے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    امریکا نے افغانستان کے منجمد اثاثوں کو اپنی ترجیحات کےمطابق استعمال کرنے کی منظوری دی تھی جس کے تحت واشنگٹن ان اثاثوں کو دو حصوں میں برابر تقسیم کیے جائیں گے امریکی صدر نے افغانستان کے امریکا میں منجمد اثاثوں میں سے نصف نائن الیون حملوں کے متاثرین کو دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔

    امریکا کےصدر جوبائیڈن نے منجمد اثاثوں کو تقسیم اور استعمال کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیئے تھےجس کے مطابق افغانستان کے امریکا میں منجمد سات بلین ڈالرز میں سے نصف افغانستان میں انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے خرچ کی جائے گی جس کے بعد افغانستان سمیت دنیا بھر سے تنقید کی گئی تھی۔

    جبکہ نصف رقم نائن الیون دہشت گردانہ حملوں میں متاثر ہونے واافغنا لوں میں تقسیم کی جائے گی۔ افغان شہریوں نے امریکی صدر کے حکم کی مذمت کی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثاثے افغانوں کے ہیں۔ امریکی صدر انہیں چرا رہے ہیں۔

    امریکا کا افغانستان کے اثاثے ضبط کرنا افغانیوں کے حق پر ڈاکہ ہے،چین

    صدر جو بائیڈن کے حالیہ فیصلے پر قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے ٹویٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے فنڈز پر قبضہ کرنا ’چوری‘ ہے اور ’انسانی اور اخلاقی انحطاط‘ کے سب سے نچلے درجے پر گرنے کی نشانی ہے۔

    جبکہ ماضی میں طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا ’مسائل‘ کا باعث بن سکتا ہےجس کےباعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے اگست 2021 میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے ملک کی معاشی حالات مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ نے خدشہ کا اظہار کیا کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے-

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

  • نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

    نائن الیون کے متاثرہ خاندان نے امریکا کے پاس موجود افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کے طور پردینے کا مطالبہ کر دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے وہ وفاقی عدالت کو کابل کو رقم واپس دینے یا اسے متاثرین کے اہلِ خانہ میں تقسیم کرنے سے قومی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات سے آگاہ کرے گی۔

    جوبائیڈن کا 9/11 حملوں سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنےکا حکم

    رپورٹ کے مطابق ’امریکا کا محکمہ انصاف نائن الیون مدعیان کے وکلا کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ اگر حکومت افغانستان کو رقم واپس نہ کرے تواسے متاثرین میں تقسیم کرنے کا معاہدہ کیا جاسکے تجویز پر غور کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل، حکومت کے اداروں سے رابطہ کر رہی ہے-

    نائن الیون کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان ،پاکستان کو ہوا، رحمان ملک

    واضح رہے کہ 20 سال قبل 9/11 کے واقعے کے بعد کم و بیش 150 متاثرہ خاندانوں نے اپنے نقصان کے معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، واقعے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھےاس قانونی دعویٰ میں القاعدہ اور طالبان کو نامزد کیا گیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی اس لیے انہیں معاوضے کی بھی ادائیگی کرنی چاہیے۔

    نائن الیون کے سازشی نظریات پر یقین رکھتا ہوں آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ…

    برسبین میں جہاز نے شہریوں کو نائن الیون یاد کرا دیا

    ایک دہائی قبل عدالت نے مدعا علیہان کو واقعے میں ملوث پایا اور انہیں 7 ارب ڈالر مالیت کا زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم فیصلہ علامتی ظاہر ہوا کیونکہ نائن الیون کے فوری بعد امریکا نے افغانستان پرحملہ کیا اور طالبان کا تخت الٹتے ہوئے القاعدہ کو ختم کردیا تھا۔

    رواں سال 15 اگست کو طالبان واپس اقتدار میں آئے اور دعویٰ کیا کہ نیویارک میں امریکی وفاقی ذخائر میں منجمد افغان مرکزی بینک کے تقریباً 7 ارب ڈالرز کے اثاثوں پر ان کا حق ہے۔

    امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو رہائی مل گئی